0
Saturday 24 Jul 2021 14:45

طالبان یا تباہی آ رہی ہے؟؟؟

طالبان یا تباہی آ رہی ہے؟؟؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ہر طرف یہ شور و غوغا ہے کہ طالبان آ رہے ہیں، طالبان آ رہے ہیں؟ اس موضوع پر بہت بحث ہوچکی ہے اور ہو رہی ہے کہ طالبان کے آنے کے خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟ خطے کے ممالک درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے دن رات اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح تمام ممالک اپنے سکیورٹی مفادات کے پیش نظر طالبان اور کابل حکومت سے بیک وقت ڈیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ وہ کابل حکومت سے تعلقات کو خراب نہ ہونے دے، اسی طرح انہیں یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ طالبان دن بدن افغانستان پر قابض ہوتے جا رہے ہیں۔ اب مشکل صورتحال یہ ہے کہ طالبان سے تعلقات اور رابطہ پر نہ صرف افغان حکومت سیخ پا ہوتی ہے بلکہ اسے افغان معاملات میں مداخلت سمجھتی ہے۔ افغان حکومت جو مرضی سمجھے، طالبان افغانستان کی ایک بڑی حقیقت ہیں، جس سے کوئی ریاست چشم پوشی نہیں کرسکتی۔ افغانستان کے پڑوسیوں کے لیے تو خیر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ طالبان سے رابطہ نہ کریں، کیونکہ بڑے شہروں کو چھوڑ کر دیہی افغانستان کا بڑا حصہ اور بین الاقوامی بارڈرز اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ کوئی بھی ملک لمبی مدت تک طالبان سے کٹا نہیں رہ سکتا۔ موجودہ حکومت کو وجود بخشنے والا اور خطے کو دو دہائیاں آگ و خون میں نہلانے والا امریکہ بہادر بھی جب اس خطے کی عزت افزائی کے بعد نکلنے لگا بقول شاعر
بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

امریکہ بہادر نے بھی افغان گورنمنٹ کو علم میں لائے بغیر ہی طالبان سے روابط بنائے تھے اور انہی کے ساتھ معاہدہ کرکے وہ افغانستان سے نکل رہے ہیں۔ اس طرح امریکہ نے ناصرف انہین دہشتگردوں کی فہرست سے نکالا بلکہ ان کے ساتھ مسلسل مذاکرات کیے۔ یہ مذاکرات دوحا میں ہوئے اور خطے میں قطر کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ یہ بات قطر کے عرب پڑوسیوں بالخصوص سعودی عرب کے ناقابل برداشت تھی، کیونکہ وہ خطے میں خود کو ا مریکی مفادات کا چمپئن اور تیل کی دولت سے خود کو دوسروں سے سے برتر سمجھتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے قطر کے خلاف ناکہ بندی کے نام پر ایک اقتصادی جنگ بھی شروع کر رکھی ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ ایمرٹس کے مقابلے میں نئی سعودی ائرلائن اسی کا شاخصانہ ہے۔ قطر کا یوں آگے بڑھ جانا سعودی عرب کے لیے قابل قبول نہ تھا کہ دنیا بھر کی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز دوحا بنے۔ اب سعودی عرب نے افغان گروہوں اور پاکستان سے وفد کو مدعو کیا، جس میں ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا مگر بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔ موتمر اسلامی کے زیراہتمام اس پروگرام میں لوگ تو اچھے خاصے اکٹھے کر لیے، مگر ویژن اور صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے کچھ خاص نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔

افغانستان کے عام عوام طالبان کی اس پیش قدمی کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟ اس حوالے رائے عامہ کافی منقسم ہے۔ طالبان  کو کافی عرصہ پہلے سے اس بات کا اندازہ تھا کہ امریکہ نکلنے والا ہے، اس لیے انہوں نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں چند جوہری تبدیلیاں کیں ہیں اور کوشش کی ہے کہ وہ خود کو افغانستان میں بسنے والے تمام گروہوں کا نمائندہ کہہ سکیں۔ سب سے پہلے انہوں نے شمال کی طرف توجہ دی ہے، یہی وجہ ہے تاجکستان کے ساتھ بارڈر پوسٹوں پر اور ایران کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر ان کا قبضہ پہلے ہوا ہے اور ان کے گڑھ سمجھے جانے والے چمن اور طور خم بارڈر پر قبضہ بعد میں ہوا ہے۔ طالبان  پختون علاقوں سے اٹھنے والا پختون گروہ ہی تھا، اس بار انہوں نے دیگر اقوام کے لوگوں کو کمانڈر سطح کے عہدے دیئے، کچھ عرصہ پہلے ایک ہزارہ طالبان کمانڈر کی رپورٹ بین الاقوامی میڈیا پر آئی تھی۔

طالبان نے مسلکی شناخت پر اصرار کیا تھا اور دیگر مسالک کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، بالخصوص افغانستان کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام کیا گیا تھا۔ اس بار طالبان بار بار مسلکی تعصبات سے نکلنے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ اس پر کس حد تک عمل کرتے ہیں؟ اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا، مگر کئی مقامات پر داعش کے درندوں کے حملوں سے شیعہ کمیونٹی کو بچانے میں طالبان نے اہم رول ادا کیا اور جہاں بھی ایسے واقعات ہوئے، اس سے اظہار لاتعلقی کیا گیا۔ طالبان خواتین کی تعلیم اور بین الاقوامی سفارتکاروں، این جی اوز کے حوالے سے ایک خاص سوچ رکھتے ہیں۔ ان کا ماضی اس حوالے سے سیاہ ہے کہ انہوں نے تمام بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے ایرانی سفارتکاروں کو شہید کر دیا تھا۔ اس لیے سفارتی عملہ پریشانی کا شکار ہے اور امریکہ نے تو کچھ فوجی صرف سفارتی عملے کے تحفظ کے لیے رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس پر طالبان کا ردعمل کافی واضح اور غیر لچکدار تھا کہ کسی بھی غیر ملکی فوجی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ سفارتی عملے، خواتین اور این جی اوز کے حوالے سے طالبان بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہر کسی کا تحفظ کیا جائے گا اور ہمیں افغانستان کو ترقی دینے کے لیے این جی اوز اور بین الاقوامی اداروں کی ضرورت ہے، تاکہ ہسپتال اور تعلیمی ادارے چل سکیں۔

طالبان نے ماضی کے برعکس اس بار بین الاقوامی طاقتوں سے مذاکرات کے لیے بہترین مذاکراتی ٹیم بنائی اور اس محاذ پر کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں، سب سے بڑی کامیابی تو خود امریکہ سے تسلیم کرانا ہے کہ وہ افغانستان سے نکل جائے گا۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ افغانستان سے نکل جائے گا۔ طالبان کے یہ سب وعدے محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے ہیں یا وہ واقعی اب دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوچکے ہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات طے ہے کہ چار لاکھ افغان فوج اور انڈیا جیسے ممالک کا مذاکرات کی بجائے لڑنے پر اصرار گولہ بارود کی بھرپور مدد طالبان کے سامنے بڑے چیلنجز  ہیں۔ طالبان بھی ماضی کی نسبت طاقتور ہیں اور افغان حکومت کو بین الاقوامی سپورٹ حاصل ہے۔ یہ تمام حالات بتا رہے ہیں کہ افغانستان میں یہ جنگ و تباہی کا طوفان جاری رہے گا اور خطے میں خون بہتا رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 944883
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش