1
Tuesday 14 Sep 2021 21:39

امریکی سازشوں کے مقابلے میں حزب اللہ لبنان کے اہم اقدامات

امریکی سازشوں کے مقابلے میں حزب اللہ لبنان کے اہم اقدامات
تحریر: امین محمد حطیط (عرب سیاسی ماہر اور تجزیہ نگار)
 
امریکہ نے خطے خاص طور پر شام میں اسلامی مزاحمتی بلاک سے اسٹریٹجک اور عبرتناک شکست کھانے کے بعد اس بلاک میں شامل اقوام سے انتقام لینے کیلئے ان کے خلاف اقتصادی دہشت گردی شروع کر دی۔ اسلامی مزاحمت میں شامل اقوام کے خلاف اس امریکی اقتصادی جنگ کے تین بنیادی اہداف تھے۔ پہلا مقصد ان اقوام کو امریکہ کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابی کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے سے روکنا تھا، دوسرا مقصد ان ممالک میں زندگی معمول پر نہ آنے دینا اور تیسرا مقصد بدامنی اور تکفیری دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو انجام پانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا تھا۔ اسی پالیسی کے تحت امریکی کانگریس میں شام کے خلاف "قانون قیصر" منظور کیا گیا۔ قانون قیصر کا مقصد شام کی معیشت کو تباہ کرنا تھا۔
 
دوسری طرف امریکہ نے لبنان کے خلاف بھی بھرپور اقتصادی جنگ کا آغاز کر دیا اور اس سلسلے میں امریکہ کے سابق سیکرٹری خارجہ مائیک پمپئو نے پانچ مراحل پر مشتمل روڈمیپ پیش کیا جس پر موسم بہار 2019ء سے عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا۔ اس امریکی منصوبے کا پہلا مرحلہ لبنان میں طاقت کا خلاء پیدا کر کے شدید سیاسی بحران پیدا کرنے پر مبنی تھا۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں لبنان میں شدید اقتصادی اور مالی بحران پیدا کیا جانا تھا۔ یوں لبنان شدید سکیورٹی بحران کی لپیٹ میں آنا تھا اور اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان نے اس بحران میں الجھ کر رہ جانا تھا۔ اسی امریکی منصوبے کی تکمیل کیلئے لبنان کے سابق مغرب نواز وزیراعظم سعد حریری نے خزاں 2019ء میں استعفی دے دیا تھا۔
 
2019ء میں سعد حریری کا استعفی اس امریکی سازش کا پہلا قدم تھا جس کے بعد مڈٹرم پارلیمانی الیکشن کے انعقاد کیلئے دباو ڈالنے کا آغاز ہو گیا۔ اس دوران امریکہ اور اس کے اتحادی لبنان میں ایسی حکومت برسراقتدار لانے کی بھرپور کوشش میں مصروف رہے جس میں حزب اللہ لبنان کی نمائندگی نہ ہو۔ اس مقصد کیلئے امریکہ اور لبنان کے مغرب نواز حلقوں نے ملک کو دو سال تک حکومت سے محروم رکھا اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے رہے۔ یوں لبنان کے خلاف امریکی سازش اپنے ابتدائی مراحل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اس ملک میں طاقت کے خلاء کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور معیشتی بحران نے بھی جنم لے لیا۔ اس سے اگلا مرحلہ لبنان کو شدید سکیورٹی بحران سے روبرو کر کے اسے جہنم میں تبدیل کرنا تھا۔
 
لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ نے امریکہ کی اس گہری سازش کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف قسم کے اقدامات انجام دیے جن کے نتیجے میں یہ سازش ناکام ہو گئی اور امریکہ اور اس کے اتحادی مطلوبہ اسٹریٹجک اہداف حاصل نہ کر پائے۔ حزب اللہ لبنان کی حکمت عملی چند بنیادی ارکان پر مشتمل تھی۔ پہلا بنیادی رکن لبنان کے اندر امریکی ایجنٹوں کی جانب سے اشتعال آمیز اقدامات کے مقابلے میں اسٹریٹجک صبر کا مظاہر کرنا تھا۔ یوں حزب اللہ لبنان اس جال میں پھنسنے سے محفوظ رہی جو شیطان بزرگ امریکہ نے لبنان میں شدید بدامنی اور سکیورٹی بحران پیدا کرنے کیلئے بن رکھا تھا۔ دوسرا بنیادی رکن دشمن کی جانب سے اقتصادی اور معاشی دباو کا مقابلہ کرنے کیلئے مناسب راہ حل تلاش کرنے پر مشتمل تھا تاکہ یوں لبنانی عوام کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔
 
لبنان میں اسلامی مزاحمت کی حکمت عملی کا تیسرا بنیادی رکن ملک میں طاقت کے خلاء اور سیاسی بحران کے اثرات کا مقابلہ کرنے پر استوار تھا۔ اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان میں ملک میں نئی حکومت کی تشکیل میں ہر ممکنہ تعاون پیش کیا اور صدر اور وزیراعظم کا بھرپور ساتھ دیا۔ دوسری طرف ملک میں موجود مغرب نواز سیاسی حلقوں کی جانب سے منفی اقدامات کے نتیجے میں لبنان تقریباً تیرہ ماہ تک حکومت سے محروم رہا۔ حزب اللہ لبنان نے ملک کے خلاف شروع کی گئی اقتصادی جنگ کا بھی بہت اچھے انداز میں مقابلہ کیا۔ اس سلسلے میں اسلامی مزاحمت سے وابستہ تاجر برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے شدید بحرانی حالات میں عوام کا سہارا بنی۔ حزب اللہ لبنان سے وابستہ تاجروں نے ایران سے پیٹرول اور ڈیزل درآمد کرنے کیلئے اخراجات قبول کر لئے۔
 
لہذا وہ اسلامی مزاحمت جسے امریکہ اور اس کے پٹھو سیاست دان اپنی سازش کے ذریعے دیوار سے لگانے کے درپے تھے، اپنی شاندار اور ذہانت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے مزید ابھر کر سامنے آئی اور نہ صرف لبنانی عوام میں اس کی محبوبیت میں شدید اضافہ ہوا بلکہ سیاسی میدان میں بھی اس کا اثرورسوخ چند گنا ہو گیا۔ اگرچہ اس وقت لبنان میں جو حکومت برسراقتدار آئی ہے وہ مکمل طور پر امریکہ مخالف نہیں ہے لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ ملک میں موجود طاقت کے خلاء اور سیاسی بحران کا خاتمہ ہے۔ ملک میں سیاسی بحران کا خاتمہ اسلامی مزاحمت کی بہت بڑی فتح ہے جو مستقبل قریب میں امریکہ کی دیگر سازشوں کی ناکامی کا بھی باعث بنے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی بحران برطرف ہونے کے بعد دھیرے دھیرے اقتصادی بحران بھی ختم ہونے کی جانب گامزن ہو جائے گا۔ 
خبر کا کوڈ : 953838
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش