0
Thursday 16 Sep 2021 17:36

امریکہ ایک ناقابل اعتبار اتحادی

امریکہ ایک ناقابل اعتبار اتحادی
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ممالک کے تعلقات مفادات پر مبنی ہوتے ہیں، جن ممالک کے مفادات مشترک ہو جاتے ہیں یا جو اپنی خارجہ پالیسی کو یوں ترتیب دیتے ہیں کہ اپنے مفادات کو دوست ممالک کے ساتھ مشترک کر لیں، ان کے تعلقات میں استحکام آجاتا ہے۔ یہ بھی ہوتا کہ طاقتور ممالک کمزور ممالک ان کے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی کے نام پر استعمال کرتے ہیں اور جب ان ممالک کو  کوئی مشکل پیش آتی ہے تو یہ بڑے ممالک منہ موڑ لیتے ہیں۔ آج سے چالیس سال پہلے کی دنیا امریکی اور سوویت بلاکس میں تقسیم ہوچکی تھی۔ ہر ملک اس بات پر ایک طرح سے مجبور ہوچکا تھا کہ اگر اسے ان طاقتوں کے شر سے بچنا ہے تو کسی ایک بلاک کا حصہ بن جائے۔ اس صورتحال نے آزاد اقوام کو بہت پریشان کیا، جو دونوں کو یکساں دنیا کے مسائل کا ذمہ دار سمجھتی تھیں، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں  غیر جانبدار ممالک کی ایک تحریک شروع ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مفادات کے اسیر ہو کر ہی آج وہی غیر جانبدار بھی جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے امام خمینیؒ نے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ "لا شرقیہ ولا غربیہ سلامیہ اسلامیہ۔" اس وقت امریکہ و سوویت یونین کا طوطی بول رہا تھا، ایسے میں ایک مرد درویش کا یہ نعرہ دنیا کی آزاد اقوام میں بہت پسندیدہ قرار پایا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جیسے ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، آزادی کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے، جو انقلاب اسلامی ایران نے ادا کی۔ خیر بات ملکوں کے مفادات کی ہو رہی تھی، ہر ملک کو اپنا مفادا عزیز ہوتا ہے، دنیا بھر کے ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقوام، تنظیمیں اور شخصیات سے روابط قائم کرتی ہیں اور ان کی باقاعدہ سرپرستی کرتی ہیں، تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔ اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ امریکہ ناقابل اعتبار اتحادی ہے، جس نے بھی اس پر بھروسہ کیا، اس نے دھوکہ کھایا اور جب اس کو امریکہ کی ضرورت پیش آئی، امریکہ کبھی بھی مدد کو نہیں آیا۔

پاکستان نے لیاقت علی خان کے دورے سے لے کر سیٹو اور سینٹو معاہدات تک ہمیشہ امریکہ کا ساتھ دیا، مگر جب اکہتر میں پاکستان کو امریکہ کی ضرورت پیش آئی تو امریکہ نے منہ موڑ لیا اور پاکستان کو تاریخ کا تکلیف دہ ترین دن دیکھنا پڑا، جس نے وطن عزیز کو دو لخت کر دیا۔ اس کے بعد دیکھیں تو سوویت یونین کو ایک جن بنا کر پیش کیا گیا کہ جیسے وہ زمین نگلنے والی بلا ہے، جو ہر کسی کو کھا جائے گی۔ دنیا بھر سے جہادی جمع کرکے ہماری زمینوں کو استعمال کیا گیا، ہمارا معاشرہ فرقہ واریت اور کلاشنکوف کلچر کا شکار ہوا، رہی سہی کسر مہاجرین نے نکال دی۔ جب سوویت یونین کو شکست ہوگئی تو امریکہ بڑی شان بے نیازی سے خطے سے چلا گیا اور ایک جنگجو نسل کو ہمارے گلے ڈال گیا۔ پاکستان بار بار اسے افغانستان یاد کراتا رہا مگر مفاد پورا ہونے کے بعد امریکہ نے افغانستان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ یہ دوسری بار امریکہ نے ہمارے ساتھ بے وفائی کی۔

ابھی تازہ خبر یہ ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب میں یمنی بارڈر پر قائم اپنا دفاعی نظام ہٹا لیا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ خطے میں امریکی مفادات کی حفاظت کی، یہاں تک کہ اپنے مذہبی تشخص کا بھی خیال نہیں کیا اور ہر اس تبدیلی کے لئے تیار ہوگیا، جو شائد امریکیوں نے اشاروں کنایوں میں ہی کہی ہو۔ یہاں تک مدینہ منورہ میں دیسیوں سینما گھروں کا اعلان کر دیا، جس پر سعودی عرب کے قریب سمجھے جانے والے مفتی تقی عثمانی بھی خاموش نہ رہ سکے اور ٹویٹ کے ذریعے اس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اسی طرح نصابی تبدیلیاں بھی ملک کو سیکولرزم کے طرف لے جا رہی ہیں۔ عمرہ اور حج تو محدود پیمانے پر ہو رہے ہیں، مگر بڑے کنسرٹ ہو رہے ہیں،  جن میں ہزاروں لوگ شریک ہو رہے ہیں۔ ان تمام تر فرمانبرداریوں کے باوجود امریکہ نے سعودی عرب کو یمنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اب جب سعودی عرب ایک جنگ لڑ رہا تھا، ایسے وقت میں اس نے دفاعی نظام کو ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ ویسے یہ نقطہ بھی قابل غور ہے کہ یمنیوں کے ڈرون اس نظام کی موجودگی میں سینکڑوں کلومیٹر سعودی عرب کے اندر آکر ریاض اور آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے، ایسے میں خود اس نظام کی آفادیت پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہو رہے تھے کہ اربوں ڈالر کی یہ تنصیبات وسائل کا ضیاع ہیں۔

یہی کچھ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیا ہے، کچھ لوگوں کو تو  ساتھ لے گئے، مگر اکثریت افغانستان میں ہی رہ گئی۔ افغانستان چھوڑنے سے پہلے یقیناً اشرف غنی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ جس امریکہ نے انہیں یقین دہانیاں کرائیں اور جس پر بھروسہ کرکے وہ پڑوسیوں کی امن کوششوں کا بھی حصہ نہ بنے، اس نے ان کے لیے فرار کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ اب امریکہ مشرق وسطیٰ کے پیادوں کو چھوڑ دے گا، اب اسے ایک نیا محاذ درپیش ہے، جس میں اسے چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہے، اسی لیے کل ہی جاپان، آسٹریلیا، انڈیا اور امریکہ کی میٹنگ ہوئی ہے، جس میں چین کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کی  گئی۔ لگ یوں رہا ہے اب خطے میں انڈیا امریکہ کا واچ ڈاگ ہوگا، جس کے ذریعے چین پر نظر رکھی جائے گی۔ خیر انڈیا بھی اعتماد کرکے دیکھ لے، ایک روز اسے بھی امریکہ خطے میں چین سے لڑا کر خود ہزاروں میل دور چلا جائے گا اور انڈیا دیکھتا رہ جائے گا، کیونکہ ابھی تک کی تاریخ کے مطابق امریکہ قابل اعتبار اتحادی نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 954186
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش