0
Sunday 19 Sep 2021 00:36

اجتہاد کے تاریخی پس منظر کی ایک جھلک(1)

اجتہاد کے تاریخی پس منظر کی ایک جھلک(1)
تحریر: محمد حسن جمالی

پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے درمیان آپ کی جانشینی کے مسئلے میں اختلاف ہوا، وہ دو گروہ میں بٹ گئے۔ بعض مسلمان اس بات کے معتقد ہوئے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کا تعین کوئی پیچیدہ کام نہیں، معاشرہ اسلامی کے اہل علم بزرگان اس ذمہ داری کو بوجہ احسن سرانجام دینے کی اہلیت رکھتے ہیں اور وہ بیعت کے ذریعے خلیفہ نبی منتخب کرسکتے ہیں۔ چنانچہ اسی عقیدے کی بنیاد پر انہوں نے خلیفہ اول و دوم کو پیغمبر اکرم کے جانشین کے طور پر تسلیم کرلیا، جبکہ بعض دیگر مسلمان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ پیغمبر اسلام کی جانشینی کوئی ایسا سادہ مسئلہ نہیں، جو غیر معصوم اہل حل و عقد کے تبادلہ خیالات اور مشورے سے حل ہو جائے بلکہ اسلامی تعلیمات خصوصاً قرآنی نصوص کے مطابق خلافت انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے، یہ مسلمانوں کے لئے سرنوشت ساز مسئلہ ہے، بلا تردید مسلمانوں کی سعادت اور نجات اسی سے جڑی ہوئی ہے۔ لہذا پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کا تعین انتصابی ہے نہ انتخابی۔ یعنی جس طرح خود پیغمبر اکرم (ص) کی نبوت کا تعین غیر انتخابی، امر الہیٰ و مشیت الہیٰ کے مطابق ہوا ہے، بالکل اسی طرح آپ کے جانشین کا بھی معین ہونا ضروری ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد پر اس گروہ کے نزدیک آنحضرت (ص) کے خلیفہ بلافصل حضرت علی ابن ابی طالب (ع) ہیں۔

تاریخی نقل کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت سے قبل ہی مسلمانوں کے درمیان خلافت و جانشینی کے مسئلے کا اختلاف جڑ پکڑ چکا تھا، جو بعد میں تناور درخت کی شکل اختیار کرگیا۔ علی ابن ابی طالب (ع) کے پیروکاروں نے پیغمبر اکرم (ص) سے وارد ہونے والی نصوص سے تمسک کیا۔ جن میں سے ایک واقعہ غدیر میں بیان ہونے والی حدیث ہے۔ واقعہ غدیر کا اجمال یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے آخری حج (جو حجۃ الوداع سے معروف ہے) کے سفر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جب مقام (غدیر خم) پہنچے تو آپ نے قافلے کو روکا۔ جب سارے جمع ہوگئے تو آپ نے طویل خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس کا اصلی محور حضرت علی (ع) کی خلافت و امامت کا اعلان تھا۔ متواتر نقل کے مطابق حضرت علی (ع) کی خلافت کے تعیین کے لئے جو صریح جملہ آپ کی زبان اقدس سے نکلا وہ یہ ہے: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" جس جس کا میں مولا ہوں، اس اس کا یہ علی مولا ہے۔ آپ نے طویل خطبے کے ضمن میں سورہ مائدہ کی تیسری آیت بھی پڑھ کر لوگوں کو سنائی، جس کا ترجمہ یہ ہے: "آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کر دیا اور اسلام کو تمہارے لئے دین منتخب کر دیا۔"

شیعہ مذکورہ حدیث غدیر سمیت دیگر نصوص پر استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم (ص) کی رہبری و جانشینی کا مسئلہ ایک ایسا الہیٰ و واقعی امر ہے، جو نہ قابل تغییر ہے اور نہ ہی لوگوں کو خلیفہ انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضور اکرم اپنی حیات مبارکہ میں ہی حکم الہیٰ سے حضرت علی (ع) کو اپنا جاشین منتخب کرچکے ہیں، لہذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ حضرت علی (ع) کی متابعت و پیروی کریں۔ اہل تشیع کے مقابلے میں اہلسنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر کی جانشینی کا مسئلہ انتخابی ہے، جس کا انتخاب اہل حل و عقد کرتے ہیں۔۔۔ بہرحال اس اختلاف نے استباط و استخراج احکام کی روش سمیت دینی مقررات پر کئے جانے والے عمل کو بھی متاثر کیا۔ یعنی اہلسنت نے حضرت علی (ع) کو خلیفہ اول کے طور پر قبول نہیں کیا، جس کی وجہ سے ان کے ہاں احکام خدا اخذ کرنے کے دو ہی منبع رہ گئے، یعنی کتاب خدا و سنت پیغمبر اکرم(ص)۔ جب بہت سارے ایسے مسائل پیش آئے، جن کے جوابات وہ نہ قرآن میں پاسکے اور نہ ہی سنت پیغمبر میں تو اب مجبوری کے پیش نظر کتاب و سنت کے علاوہ وہ ایک اور منبع سے بھی متمسک ہوئے، جس کا نام ہے "اجتہاد فی الرای" جو قیاس، استحسان اور مصالح مرسلہ کی شکل میں مشہور ہوا۔

اس کی تاریخی توجیہ میں بطور سند وہ کچھ روایات پیش کرتے ہیں، جن میں سے اہم روایت معاذ بن جبل کی ہے، اس کا لب لباب یہ ہے: معاذ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجتے وقت رسول خدا (ص) نے اس سے پوچھا کہ اے معاذ آپ کس بنیاد پر حکم دوگے؟ معاذ نے جواب دیا کتاب خدا کے مطابق۔ رسول خدا (ص) نے دوبارہ سوال کیا اگر مطلوبہ حکم  قرآن میں نہیں پایا تو کیا کروگے؟ معاذ نے کہا سنت رسول خدا (ص) کے مطابق حکم بیان کروں گا۔ پیغمبر نے پھر پوچھا اے معاذ اگر سنت پیغمبر میں بھی اس حکم کو نہیں پایا تو کیسے حکم کروگے؟ معاذ نے کہا اس صورت میں اپنے اجتہاد کے مطابق حکم بیان کروں گا۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "الحمد للہ الذی وفق رسول اللہ بما یرضاہ۔۔۔" اس روایت کی صحت و سقم کے بارے میں بحث ہے۔ شیعہ فقھآء و محقیقین کے مطابق معاذ بن جبل موثق افراد میں شمار نہیں ہوتا، اس کی لمبی داستان ہے، ذوق تحقیق رکھنے والے تحقیق کریں۔

شیعہ مکتب فکر میں شیخ طوسی اور شیخ مفید (جو شیعوں کے بے مثال بزرگ علماء میں سے تھے، جنہوں نے بہت سارے اسلامی علوم کی بنیاد مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا) کے زمانے میں اجتہاد جدید معنی و مفہوم میں ظاہر ہوا۔ شیعوں کی نظر میں اجتہاد، حکم شرعی اخذ کرنے کے لئے کی جانے والی انتھک کوشش کو کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک کی کچھ آیات احکام شرعیہ سے مخصوص ہیں۔ البتہ آیات قرآن میں احکام کلی طور پر بیان ہوچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سے احکام کی جزئیات کا اخذ کرنا غیر متخصص و غیر مجتہد کے لئے جو رموز قرآن سے نا آشنا ہے، کوئی آسان کام نہیں۔ احکام شرعیہ کے کچھ حصے سنت پیغمبر اکرم (ص) میں موجود ہیں۔ مکتب تشیع کے ہاں سنت کا مفہوم بہت وسیع ہے، یعنی سنت سے مراد قول، فعل اور تقریر معصوم ہے (رسول خدا (ص) و ائمہ ھدیٰ (ع))۔۔۔ غرض شیخ طوسی و شیخ مفید کے زمانے میں منابع فقہ سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کے لئے قواعد و اصول منظم ہونا شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ اس میں تکامل و ارتقاء پیدا ہوا اور وہ قواعد تاریخ اسلام میں قواعد علم اصول فقہ کے عنوان سے معروف ہوئے۔

یاد رہے کہ منابع فقہ کے منابع و مآخذ سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کا عمل بتدریج اجتہاد کے نام سے مشہور ہوا ہے۔ بنابر ایں شیعہ اجتہاد اور اہلسنت کے اجتہاد فی الرای کے درمیان واضح فرق یہ ہوا کہ شیعوں کے ہاں اجتہاد، کتاب و سنت کے مقابلے میں احکام شرعیہ اخذ کرنے اور قوانین وضع کے لئے مستقل منبع نہیں ہے۔ اجتہاد قانون سازی و تشریع کے لئے منبع نہیں بلکہ یہ اصلی منابع سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کے سلسلے میں کی جانے والی انتھک کوشش کا نام ہے، جبکہ اہلسنت کے نزدیک اجتہاد فی الرای کتاب و سنت کی مانند مستقل فقہی منبع شمار ہوتا ہے۔ بہ تعبیر دیگر اہلسنت اجتہاد کو تقنین و تشریع کے معنی میں لیتے ہیں اور جس مورد میں کتاب و سنت سے مجتہد یا مفتی کوئی حکم دریافت نہیں کرتا، اس مورد میں وہ اپنی آزاد فکر سے مصالح و جہات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم وضع کرسکتے ہیں۔

یہ نکتہ بھی حائز اہمیت ہے کہ اہلسنت کے ہاں اجتہاد کا باب بطور کلی بند ہے۔ وہ معتقد ہیں کہ مسلمانوں کو ہمیشہ ان چار شخصیات میں سے کسی ایک کی تقلید و پیروی کرنا ضروری (ابوحنیفہ)، (مالک بن انس)، (شافعی)، (احمد بن حنبل)۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت میں چار مکاتب فقہی معرض وجود میں آئے۔ شیعہ مکتب فکر کے یہ افتخارات میں شمار ہوتا ہے کہ امامیہ نے راہ وسط اختیار کی، انہوں نے ہر طرح کی افراط و تفریط سے خود کو دور رکھتے ہوئے کسی بھی زمانے میں باب اجتہاد کو اپنے اوپر بند نہیں کیا اور نظریہ اہلسنت کے برعکس انہوں نے مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہنے کو روا نہیں سمجھا۔

شیعہ مکتب میں باب اجتہاد کھلا رہنے سے دو بنیادی فائدے حاصل ہوئے (اول) فقہ امامیہ میں زندہ موجود کی مانند روز بروز تکامل و ارتقاء پیدا ہوا، جس میں بڑے فقہاء جیسے شیخ طوسی، علامہ حلی اور شیخ اعظم انصاری وغیرہ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ (دوم) باب اجتہاد کھلا ہونے کی بدولت ہر دور اور ہر زمانے میں شیعہ فقہاء نے جدید مسائل (خصوصاً قضائی، خانوادگی، اقتصادی، مدنی) کے جوابات منابع اولیٰ سے اخذ کئے۔ انہوں نے شیعہ مسلمانوں کو فقہی مسائل کے حوالے سے کسی طرح کی پریشانی و حیرت میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 954570
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش