0
Thursday 23 Sep 2021 13:29

مدافعان ِحرم کا راستہ اپنایئے، توہین نہ کیجئے!

مدافعان ِحرم کا راستہ اپنایئے، توہین نہ کیجئے!
تحریر: ابو ضحاک

گذشتہ دنوں بزرگ عالم دین نے مجلس عزاء میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم کربلا میں نہیں تھے، اب ہم کلنا عباس، نعوذ باللہ من ذلک وہ بھی کس سے کہہ رہے ہیں یا زینب نعوذ باللہ من ذلک یعنی حضرت عباس علیہ السلام نعوذ باللہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حفاظت نہیں کرسکے، ہم کریں گے۔ یہ نعرہ لگانے والے بے معرفت ہیں، جاہل ہیں، ڈوب کر مر جائیں۔" افسوسناک بیان جب سوشل میڈیا سے وائرل ہوا تو شہدائے مدافعین حرم کے ورثاء نے بھی دُکھی دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ شہیدِ مدافع حرم سرتاج حسین خان کی والدہ نے مولانا کے نام پیغام میں کہا ہے کہ"اگر آپ لوگ میرے بیٹے کی حمایت نہیں کرسکتے تو خدارا توہین بھی نہ کریں، ایک شہید کی ماں کی حیثیت سے آپ سے دست ادب جوڑ کر کہہ رہی ہوں، خدا کی قسم میرا بیٹا مولا عباس (ع) کا فدائی تھا، اس کی زبان پر ہمیشہ یہی نعرہ رہتا تھا، "کلنا عباسک یا زینب" کبھی اس کا یہ ارادہ نہیں تھا کہ وہ مولا عباس (ع) کی جگہ پر قرار پائے، وہ بی بی زینب (س) کے غلاموں کا بھی غلام نہیں، اسی نعرہ کی حرارت سے اسے یہ مقام ملا۔ آپ کے جملے نے میرے احساسات کو مجروح کیا۔"

کلنا عباسک یازینب دراصل ملت تشیع کے جوانوں کا شعار ہے اور اسی شعار کے تحت غیبت امام زمانہ میں نوجوان حضرت عباس علمدار کو اپنا آئیڈیل قرار دیکر امام مہدی کے عالمگیر انقلاب کیلئے کوشاں ہیں۔ شقی القلب داعشیوں کے مدمقابل مدافعان حرم بھی خود کو مولا عباس کا نوکر اور مولا عباس علمدار کا بازو بن کر سیدہ زینب کے حرم کے محافظ اور مدافع بنے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ مدافعین حرم نے کلنا عباسک یازینب کا شعار بلند کرکے مولا عباس کو آئیڈیل قرار دیکر شجاعت، وفا اور پاکدامنی جیسی خصوصیات والا اپنا عملی کردار ادا کیا۔ کلنا عباسک یا زینب یعنی ہم سارے تیرے عباس کے نوکر ہیں اور ہم سیدہ زینب کو دوبارہ اسیر نہیں ہونے دیں گے، یہ کربلائی شعار ہے۔ کلنا عباسک یازینب، یزیدانِ وقت کی جانب سے حرم مطہر اہل بیت کے خلاف دست درازی کے جواب میں عملی اقدام کے ساتھ صدائے لبیک ہے، یہ ان جانبازوں کا شعار ہے، جن کے کانوں میں صدیوں سے صدائے ہل من گونج رہی ہے، جن کیلئے ہر دن عاشورہ اور ہر ارض کربلا ہے۔

حرم اہلبیت علیھم السلام کے دفاع کی غرض سے جو نوجوان اپنی سرزمین سے ہزاروں کلومیٹر دور دشمن کے مقابے کیلئے حاضر ہوئے، انہوں نے اہلبیت علہھم السلام سے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیا۔ ان نوجوانوں کی اہم ترین خاصیت یہ تھی، یہ اس راستہ میں اخلاص اور قربت الی اللہ کی نیت کے ساتھ حاضر ہوئے۔ یہ نوجوان اپنی جوانیوں کو خاطر میں لائے بغیر حضرت زینب کبریٰ سلام علیھا، بنتِ علی، بنتِ رسولﷺ کے دفاع میں میدان میں حاضر ہوئے اور اسی وجہ سے انکا شعار کلنا عباسک یا زینب، یعنی اگر آج اے بنت رسول آپ کی حرمت پر کوئی آنچ آئے تو میں اپنی جوانی کا کیا کروں؟ میں اپنی اہل بیت سے محبت کے دعویٰ کی کیا دلیل دوں؟ میں کل میدان حشر میں آپ کے نانا رسول خدا کو کیا منہ دکھاوں؟ جس طرح کربلا میں اپنے بھائی حضرت عباس علمدار پہ بھروسہ تھا، اسی طرح ان کی سیرت پر عمل پیرا ہوکر اور ان کو آئیڈیل قرار دیکر آپ کے دفاع کیلئے میدان میں حاضر ہیں۔

ان شہداء کی یاد کو زندہ رکھنا درحقیقت اس راستہ کو زندہ رکھنا ہے، ان شہداء کی یاد کو زندہ رکھنا، آج کے مسلمان اور مومن جوان کیلئے فخر کا باعث ہے کہ اکیسویں صدی میں جب یزیدیت اور یہودیت دونوں ایک ساتھ میدان میں آئے تو ایسے حسینی اور پیروان عباس نوجوان زندہ تھے کہ جنہوں نے ان کے ارادوں کو مٹی میں ملا دیا۔ فرض کیجئے اگر ان دہشت گردوں کو عراق اور شام میں شکست نہ دی جاتی تو آج ہم انکا مقابلہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کی سرزمین پر کرنے کی تیاری کرتے۔ لہذا مدافعین حرم ہی وہ ہیروز ہیں کہ جنہوں نے پوری دنیا کو  دہشت گرد گروہ سے نجات دلائی۔ اس لئے ایسے علمائے کرام جو مدافعین حرم کے بارے میں عوام الناس میں شک و شبہات پیدا کرتے ہیں، ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ مدافعین حرم کی لازوال قربانیوں کی قدر کیجئے اور منبر سے ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیئے جو شہداء کے ورثاء کی دل آزاری کا باعث بنیں، جو قومیں اپنے محسنین اور ہیروز کی قدر نہیں کرتیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بن جاتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 955347
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش