1
Tuesday 19 Oct 2021 20:46

23 سالہ جدوجہد اور سرور کا انقلاب نبوی(1)

23 سالہ جدوجہد اور سرور کا انقلاب نبوی(1)
تحریر: مہر عدنان حیدر

تاریخ عالم میں یہ بات حقیقت ہے کہ رسالت مآب نے اپنی 23 سالہ جدوجہد میں ایک عالمگیر کارنامہ انجام دیا ہے۔ ایک عام انسان اتنی عمر میں حق اور سچ کی محض پہچان ہی کرتا ہے، اتنی عمر میں رسول معظم نے انقلاب لایا ہے۔ آج بھی اگر کوئی صحابہ کرام کی فہرست مرتب کرے تو صحابہ کا شمار بھی لاکھوں میں کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چہرہء رسالت کی زیارت کی تھی۔ اگر ان لوگوں کا تذکرہ کیا جائے جنہوں نے فقط سیرت محمدی کا تذکرہ  "سنا" تھا اور پھر وہ سرور کے خالق پر یقین کر گئے، ان کا شمار میں لانا بھی ناممکن ہے۔ مگر عادل خدا کا بھی کیا کہنا کہ اس نے ان کے لئے بھی اجر عظیم کا وعدہ کر لیا اور اعلان فرمایا کہ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں اور آخرت پر بلغیب یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

خیر ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں کہ 23 سالہ تبلیغ رسالت بذات خود ایک معجزہ ہے کہ یہ سعادت کسی نبی یا رسول کے حق میں نہیں آئی کہ اتنی کم مدت میں وہ اتنا انقلاب لائے۔ اب حضرت نوح کو ہی لے لیں کہ نو سو سال تبلیغ دین کی تو نتیجتاً وہی لوگ مسلمان ہوئے جن کو لے کر نبی ِخدا کشتی میں سوار ہوئے۔ اسی طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام کے حالات ہیں کہ ایک عمر تبلیغ دین کی، مگر وہ نتیجہ حاصل نہ ہوا، جس کی توقع ان کو تھی، مگر سرور کائنات نے جہاں یہ معجزہ دکھلایا کہ 23 سالہ ظاہری حیات میں کائنات کا نقشہ تبدیل کر دیا، وہیں سرور پر مشکلات کے انبار بھی اتنے آئے کہ کسی نبی پر نہیں آئے۔ یقیناً وہ وقت کسی عاشق رسول کے بھلانے کا نہیں کہ جب سرور نے اعلان نبوت کیا تو کافروں نے رسول کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ خصوصاً وہی لوگ جو رسول کو صادق اور امین کہتے تھے، رسول کو جادوگر اور دیوانہ کہہ رہے تھے۔

میں نے چند دن پہلے سیرت کی ایک کتاب میں پڑھا کہ رسول اللہ کی بعثت سے  پہلے بھی عرب حج کرتے تھے اور جب رسول مبعوث برسالت ہوئے تو عرب آنے والے حاجیوں سے کہتے تھے کہ ہمارے قبیلے میں ایک دیوانہ ہے، جو ہمارے خداؤں کو نہیں مانتا، طرح طرح کی باتیں کرتا ہے اور رسول جب ان لوگوں کو دعوت حق دینے کے لئے ان کے خیموں میں جاتے تو یہ لوگ رسول معظم کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کو برا بھلا کہتے تھے۔ جس کے جواب میں رسول یہی کہتے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہیں پر کفار کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوا کفار نے اپنے بچوں کو یہ ترغیب دی کہ رسول پر پتھر پھینکیں اور عورتوں کو ہدایت کی کہ محمد مصطفیؐ پر کوڑا ڈالیں اور ساتھ بزرگوں کو یہ کام سپرد کیا کہ رسول کو ذہنی اذیت دیں۔ مگر پھر بھی رسول صادق نے اپنے مشن کو جاری رکھا اور مختلف اوقات میں مختلف صدمات اور مشکلات سہی۔

شعب ابی طالب سے لے کر فتح مکہ تک رسول کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ادھر اپنے ناراض ہوتے تو ادھر بیگانے خوش ہوتے۔ اس عرصے میں کفار کا کوئی دن بھی ایسا نہ گزرتا، جس میں وہ رسول صادق کے خلاف سازشیں نہ کرتے۔ آج جب معاشرہ روشن فکر اور آزاد خیال بن چکا ہے تو بھی لوگوں کے منہ سے ہم یہی سنتے ہیں کہ حق کی تبلیغ کرنا مشکل ہے تو ان لوگوں کو رسول معظم کی تبلیغ دین کو یاد کرنا چاہیئے۔ خصوصاً امت کو اس وقت کو نہیں بھولنا چاہیئے جب سرور کائنات تبلیغ دین کرتے اور امت کے لیے اشک فشانی کرتے اور اوپر سے آیت آتی کہ آپﷺ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی حد تک ہے۔ اب اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپﷺ ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 959546
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش