1
Thursday 6 Jan 2022 20:49

امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینے میں ایران کی کامیابی

امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینے میں ایران کی کامیابی
تحریر: حیدر علی (کالم نگار الاخبار)
 
دو سال پہلے انہی دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اس بات پر خوشیاں منانے میں مصروف تھے کہ انہوں نے خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی نشوونما کرنے والی اہم اور جامع شخصیت یعنی شہید قاسم سلیمانی کو قتل کر کے اس بلاک کو ٹوٹ پھوٹ اور زوال کا شکار کر دیا ہے۔ لیکن حقیقت کی دنیا میں جو واقعہ رونما ہوا وہ یہ تھا کہ ایران نے نہ صرف شہید قاسم سلیمانی کی بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ سے پہنچنے والے شدید دھچکے کو برداشت کر کے اس کا ازالہ کیا بلکہ اپنے جوہری اور میزائل پروگرامز سے بھی پیچھے نہ ہٹا جس کے نتیجے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو درپیش خطرات کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
 
اگرچہ شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ خود امریکہ کی بھی پہلی ترجیح تھی، لیکن صہیونی حکمران اپنے مفادات کی روشنی میں اس پر بہت زیادہ اصرار کرنے میں مصروف تھے۔ امریکہ نے چند وجوہات کے باعث صہیونی رژیم کا یہ مطالبہ قبول کر کے اس پر عمل کیا۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ یہ اقدام امریکہ کی مداخلت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ دوسری وجہ اسرائیل کو ایسے اقدام کے ممکنہ وحشت ناک نتائج سے محفوظ رکھنا تھا۔ شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ پر مبنی اقدام کئی پہلووں پر مشتمل ہے۔ اس اقدام کے ماسٹر مائنڈز نے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد خطے میں بنیادی تبدیلی کی امید لگا رکھی تھی۔ وہ اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ ایسی جامع اور اہم شخصیت کو نشانہ بنا کر وہ نہ صرف خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک بلکہ ایران پر بھی کاری ضرب لگا دیں گے۔
 
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے خلاف شہید قاسم سلیمانی کی سرگرمیاں بہت اہم تھیں۔ انہوں نے لبنان اور فلسطین میں اسلامی مزاحمت کو حاصل ہونے والی تمام کامیابیوں میں اہم اور براہ راست کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے اسلامی مزاحمتی گروہوں کی صلاحیتیں بڑھانے اور ان کی ترقی کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی۔ شہید قاسم سلیمانی نے خطے میں غاصب صہیونی رژیم کے خلاف مضبوط دشمنانہ فضا قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ وہی چیز ہے جس کی جانب صہیونی رژیم کے وزیراعظم نیفتالی بینٹ نے بھی اشارہ کیا ہے اور میزائلوں کے ذریعے اپنے گھیراو کی بات کی اور کہا کہ یہ امر اسرائیل کی تزویراتی گہرائی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی نے علاقائی سطح پر صہیونی مخالف سرگرمیوں کا زمینہ فراہم کیا اور اس میدان میں سرگرم قوتوں کا حوصلہ بڑھایا۔
 
غاصب صہیونی رژیم کے چیف آف آرمی اسٹاف ایویو کاخاوی نے شہید قاسم سلیمانی کی بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ سے 9 دن پہلے ایک کانفرنس کے دوران تقریر میں کہا تھا کہ اسرائیل کے اردگرد کے خطے میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ہمیں درپیش خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور اسرائیل زیادہ دشمنوں اور محاذوں کے ذریعے گھیرے میں آ چکا ہے۔ کاخاوی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کی فوجی صنعت خطے میں برتر فوجی صنعت ہے جبکہ تل ابیب کو درپیش مشکل اس فوجی صنعت کا براہ راست خطے کے دیگر حصوں خاص طور پر حزب اللہ لبنان تک انتقال ہے۔ کاخاوی نے کہا کہ حزب اللہ لبنان ماضی کی طرح دروں میں کلاشنکوف اور راکٹ لانچرز سے لڑنے والا گروہ نہیں رہا بلکہ اب اس کے پاس فضائی دفاع کا نظام، ریڈار سے بچنے سسٹم اور جدید قسم کے میزائل موجود ہیں اور سپاہ پاسداران کی قدس فورس بھی شام میں ایسے ہی ہتھیاروں سے لیس ہے۔
 
شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی ٹارگٹ کلنگ کا مقصد اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے مطالبات کی انجام دہی اور اس بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ کو خطے میں اسلامی مزاحمت کو کمزور کرنے کی سنگ بنیاد قرار دینا تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ان شخصیات کی شہادت اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے بڑا نقصان ہے اور کوئی اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا لیکن یہ ٹارگٹ کلنگ خطے میں جاری فوجی ٹکراو اور کشمکش کے تناظر میں اتنی غیر متوقع بھی نہیں تھی۔ کیونکہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں اسلامی مزاحمت کو حاصل ہونے والی عظیم کامیابیوں کے باعث اس بزدلانہ اقدام کی ضرورت محسوس کر رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے اسلامی مزاحمتی بلاک کے باہمی اتحاد کو نقصان پہنچا سکے اور ایران کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکے۔
 
اگرچہ ایران نے ابھی تک شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کا پوری طرح بدلہ نہیں لیا لیکن عراق میں امریکی فوجی اڈے عین الاسد پر بیلسٹک میزائل حملہ بھی دشمنوں کو خبردار کرنے اور انہیں مزید گستاخانہ اقدامات سے باز رکھنے میں انتہائی موثر اور مفید واقع ہوا ہے۔ دوسری طرف سیاسی اور فوجی شعبوں میں ایران نے انتہائی کامیابی سے امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم کے سامنے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ ایران اپنے ملک اور خطے کی تاریخ میں اس فیصلہ کن موڑ پر حالات کنٹرول کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اپنی جوہری، میزائل اور علاقائی سطح سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کی بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد سیاسی اور فوجی شعبوں نیز مذاکرات کی میز پر بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 972300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش