0
Friday 16 Sep 2011 16:05

اسلامی جمہوریت

اسلامی جمہوریت
اسلام ٹائمز- اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم کونسل کے اجلاس میں قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا خطاب اور خطے میں اسلامی و عربی تحریکوں کیلئے اسلامی جمہوریت کا نسخہ پیش کرنا باعث بنا کہ یہ نظریہ فراموشی کا شکار نہ ہو۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس خطاب میں فرمایا:
"وہ چیز جو ان ممالک کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اسلامی جمہوریت کا نظریہ ہے۔ اسلامی جمہوریت کا نظریہ جو امام خمینی رہ کا عظیم کارنامہ ہے ان سب ممالک کیلئے بہترین نسخہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں جمہوریت بھی ہے اور اسکی بنیادیں بھی دین پر استوار ہیں"۔
حقیقت یہ ہے کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کا منشاء عرب عوام کے حریت پسندی، عزت خواہی، خودمختاری اور عدالت خواہی پر مبنی افکار ہیں اور انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی رہ کی پیروی کرتے ہوئے ان میں یہ ایمان اور یقین پیدا ہوا اور روز بروز بڑھتا چلا گیا کہ یہ اھداف صرف اور صرف اسلامی خواہی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔
لیکن گذشتہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ انقلاب کے ثمرات کی حفاظت اور پاسداری خود انقلاب برپا کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ آج تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں عوامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہو چکے ہیں لیکن ان انقلابات کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟۔ بھیڑیا صفت طاقتوں نے خطے میں جنم لینے والے بے سرپرست انقلابات کو چیر پھاڑنے اور اپنے حقیقی اھداف سے منحرف
کرنے کیلئے دانت تیز کر رکھے ہیں۔
دشمن ہر وہ اقدام انجام دینے کیلئے تیار ہے جسکے ذریعے عوام کو انکے حقیقی اھداف تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ خطے کی دشمن قوتوں نے اسلامی اور عوامی انقلابی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جو سازشیں تیار کر رکھی ہیں ان میں سے ایک جوانوں میں انقلابی اھداف کے حصول کی نسبت ناامیدی اور مایوسی پیدا کرنا ہے۔ یہ اسلامی تحریکیں جن خطرات سے دوچار ہیں ان میں سے ایک مغربی قوتوں کے ساتھ وابستگی کا جاری رہنا ہے۔ مغربی قوتیں خطے پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی خاطر اپنے مہروں کی تبدیلی اور نئے چہرے سامنے لانے کا حربہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس طرح سے چاہتی ہیں کہ حسنی مبارک، بن علی، معمر قذافی، علی عبداللہ صالح وغیرہ کی کارکردگی کو محفوظ بنائے۔
اس جھولتے پنگوڑے اور ان خطرناک حالات میں وہ چیز جو عربی و اسلامی تحریکوں کے اس نئے جنم لینے والے شیرخوار بچے کو مختلف بلاوں اور خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے ایسے ماڈل کو اپنانا ہے جو گذشتہ دور میں اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ خطے میں رونما ہونے والے انقلابات کی بقاء کی ضمانت وہ چیز مہیا کر سکتی ہے جو ان انقلابی تحریکوں کے منشاء کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہو۔ اسلامی جمہوریت وہ کامیاب ماڈل ہے جس نے گذشتہ 32 سال کے دوران ملت ایران کے اسلامی انقلاب کے اھداف کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آج عرب ممالک کے انقلابی جوان یہ جاننے کے مشتاق ہیں کہ ملت ایران
نے کس طرح گذشتہ تین عشرون کے دوران امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے انتہائی خطرناک اور مہلک سازشوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور روز بروز اپنے انقلابی اھداف و مقاصد سے زیادہ سے زیادہ وفادار ہوتی چلی گئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین کن قواعد اور بنیادوں پر استوار ہے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ گذشتہ 32 سال کے دوران ایرانی معاشرے کی ضروریات کو پورا کیا ہے۔ ملت ایران کی جوہری ٹیکنالوجی، سپر کمپیوٹرز، نینو ٹیکنالوجی، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور اسٹم سیلز (Stem cells) جیسے اہم میدانوں میں علمی ترقی کا راز کیا ہے؟۔
خطے کی انقلابی اقوام کو ان تمام سوالات کا جواب اسلامی جمہوری نظام میں مل سکتا ہے۔ ایسا نظام جو مکمل طور پر جمہوری اور دین مبین اسلام پر استوار ہے۔ خطے میں انقلابی تحریکیں سکولاریزم پر دین کے غلبے کا نتیجہ ہیں نہ برعکس۔ این انقلابات میں جو آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ارادوں کی جنگ کا مظہر ہیں کامیابی کا راز صرف اور صرف خطے کی مسلمان اقوام کی جانب سے اسلام خواھی جیسی مضبوط بنیاد پر تکیہ کرنا ہے۔
آج عرب انقلابی تحریکوں کا اندرونی آمریت اور بیرونی استعمار پر غلبہ کرنے کیلئے روڈ میپ صرف اور صرف اسلامی سیاسی نظام جیسے اسلامی جمہوریت ہے۔ اسلامی جمہوریت درحقیقت ان انقلابات کی بقاء کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے اور خطے کے مسلمان انقلابی جوانوں کی محنت اور قربانیوں کے ثمرات کی حفاظت کیلئے مضبوط
ڈھال ثابت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ یہ دعوا نہیں کیا جا سکتا ہے اسلامی جمہوری نظام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے بعض امراض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پیش کئے گئے نسخوں کی مانند وسیع ہے لیکن کسی کو بھی اس تجربے سے سبق سیکھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ عالمی اسلامی جمہوری نطام کے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے۔ ایسا نطام جو انسانی فطرت پر استوار ہے اور لبرل ڈموکریسی جیسے کافرانہ ماڈل کی نسبت جو آج بھی اپنے گھر میں مزاحمت سے روبرو ہیں کہیں زیادہ گلوبلائزیشن کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ یہ گلوبلائزیشن خود بخود انجام پانے والا عمل نہیں جیسا کہ لبرل ڈموکریسی پر مبنی گلوبلائزیشن بھی خود بخود محقق ہونے والا عمل نہیں۔
آج ہم اسلامی گلوبلائزیشن کیلئے محققین اور دانشوروں کی جانب سے زیادہ تگ و دو اور سیاستدانوں کی جانب سے زیادہ دلسوزی کے محتاج ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جب سنہ 6 ہجری میں یہ فیصلہ کیا کہ دین مبین اسلام کو عالمی سطح پر پھیلا دیں تو اس دوران کے بادشاہوں کو خط لکھے۔ تاریخی ذرائع کے مطابق ان خطوط کی تعداد 6 تھی اور تمام خطوط کو ایک دن روانہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے بعض افراد کو پیغمبر اکرم ص کا یہ اقدام پسند نہیں آیا تھا اور اسکے سرانجام سے خوفزدہ تھے لیکن آنحضور ص نے انہیں تاکید کی کہ وہ حضرت عیسی ع کے قاصدوں کی مانند عمل نہ کریں بلکہ ایمان کامل اور مکمل طور پر اطاعت کا مظاہرہ کریں۔
مصنف :
خبر کا کوڈ : 97952
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے