0
Sunday 22 May 2022 07:47

امید انقلاب، تاسیس، تنظیم، خدمات(2)

50 ویں یوم تاسیس پر پاکستان میں کاروان ِامید انقلاب کو خراج عقیدت(دوسرا حصہ)
امید انقلاب، تاسیس، تنظیم، خدمات(2)
تحریر: ارشاد حسین ناصر

ارض مقدس فلسطین کی اسلامی تحریکوں، لبنان کی مزاحمت اسلامی، انقلاب اسلامی ایران، بحرین، یمن، عراق، شام، نائیجیریا، حجاز مقدس، کشمیر اور مختلف اسلامی ممالک میں اسلام حقیقی کی ترویج و تبلیغ کیلئے کوشاں تحریکوں کی جدوجہد اور مزاحمتی کردار اس امید انقلاب کے کارکنان کیلئے نظریاتی کشش کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کے بینر تلے ان عالمی اسلامی تحریکوں کی جدوجہد سے اظہار یکجہتی اور ان کی طرف سے سامنے لائے گئے مسائل کے عنوان سے بھی پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ فلسطین یعنی قبلہ اول بیت المقدس الشریف کا مسئلہ تو امت مسلمہ کا سب سے پرانا مسئلہ ہے، جس پر صیہونیوں نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ آئی ایس او پاکستان ہی وہ واحد طلباء تنظیم ہے، جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں ملک گیر سطح پر یوم القدس منایا جاتا ہے، اس کے بینر تلے ہی امریکہ مردہ کا دن 16مئی کو منایا جاتا ہے، جبکہ فلسطین میں اٹھنے والی ہر تحریک کی بھی بھرپور انداز میں حمایت کی جاتی ہے۔

اسی طرح آئی ایس او پاکستان ہمیشہ سے اپنے کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کی حامی رہی ہے، جبکہ کشمیر کی آزادی کیلئے اہل کشمیر کے جذبہ جہاد و حریت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کشمیری مسلمان بھائی بھی اہل فلسطین کی طرح طویل عرصہ سے ہندوستان کے ظلم و جبر کا شکار چلے آرہے ہیں، جن کی مذمت اور اس حوالے سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نیز اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اس مسئلہ کے حل کیلئے اپنی آواز پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے عالمی سطح کی کشمیر کانفرنسز کا انعقاد اور سیمینارز بھی کروائے جاتے رہے ہیں اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، امامیہ نوجوان کشمیر کے ستم رسیدہ مسلمان بھائیوں کی آوازبن کر ضمیر عالم کو دستک دیتی رہے گی۔ اس لئے کہ ہم ہر ظالم کے خلاف ہیں، چاہے وہ شیعہ ہی کیوں نہ ہو۔

بہت سے لوگ اس کاروان الہیٰ، اس امید انقلاب اسلامی پر اعتراضات اور اشکالات اور الزامات لگاتے ہیں، ان سب کے الزامات، اعتراضات اور الزامات کا فقط ایک ہی جواب ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور اس کاروان الہیٰ نے کیا کچھ کیا ہے، اس کاروان الہیٰ کے کریڈٹ پر اگر اور کچھ نہ بھی ہو تو سب سے بڑی بات شعور و فکر اور سوچ و نظریات، احساس و درد کے حاملان، قوم و ملت کی تنظیم و تقویٰ سے سرشار ہزاروں نوجوانون کو اس معاشرہ و سوسائٹی کو دینا ہی کافی ہے۔ یہ دین شناس، آگاہ، درد مندان ملت، فکر و سوچ اور شعور و آگہی کے حامل نوجوان اس معاشرہ کو ایک الہیٰ و فکری و نظریاتی معاشرہ بنانے اور ملت کی تعمیر و تنظیم اور مضبوطی کے لئے جس بھی جگہ گئے ہیں، اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر کاموں اور کارہائے نمایاں کو گننے بیٹھیں تو شمار مشکل ہے۔

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی تنظیم یا تحریک نظریاتی بنیادوں پر کام کرتی ہے تو اسے ان گنت ان دیکھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک قدم اٹھائو تو دسیوں روڑے اور رکاوٹیں پہاڑ بن کر سامنے آجاتے ہیں اور پھر اس راہ میں سب کچھ برداشت کرنا پرتا ہے۔ جیلیں، تشدد، کیسز، الزامات، لاٹھی چارج، گولیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اپنے بہترین قائدین و کارکنان کی جانیں بھی پیش کرنا پڑتی ہیں۔ آئی ایس او پاکستان بھی ان مراحل سے گزر کر ہی پچاس برس کا سفر طے کرکے آئی ہے۔ اس کو یہ سعادت حاصل ہے کہ اس کی بنیادوں میں اس کے بانی ڈاکٹر محمد علی نقوی کا خون بھی شامل ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر قیصر عباس سیال، راجہ اقبال حسین، سید تنصیر حیدر، اعجاز حسین رسول نگری ایڈووکیٹ(گوجرانوالہ)، پروفیسر نزاکت علی عمرانی، برادر اختر عباس و برادر ذوالقرنین (ڈی آئی خان)، برادر ناصر صفوی، برادر اسرار حسین جھنگ اور بہت سے گم نام شہداء کے نام جان کی قربانیاں پیش کرنے والوں میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

اس کے اسکائوٹس، رضا کاروں اور ورکرز نے بھی ملکی آفات، زلزلہ، سیلاب، ہنگامی حالات میں اپنی خدمات پیش کی ہیں اور جان و مال کی پروا کئے بنا میدان میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ تنظیم ہمیشہ کربلا کے جذبہ شہادت و ایثار سے سرشار جوانان تیار کرتی آئی ہے، جو کسی بھی مشکل میں اپنی جانوں کی پروا کئے بنا اگلے محاذ پر پہنچتے ہیں۔ 1980ء کا اسلام آباد دھرنا و مارچ ہو یا ڈیرہ اسماعیل خان کے روٹس کی بحالی کیلئے گولیوں کی برسات میں نکالے جانے والے ماتمی جلوس، اس کے کارکنان و رضاکاروں نے قوم کو مایوس نہیں کیا۔ اسی طرح شہید قائد کی شہادت کے بعد ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے جتنا احتجاج اس کاروان امامیہ نے کیا، وہ بھی ایک تاریخ ہے، جسے بھلایا نہیں جا سکے گا۔ فیض صاحب کی زبانی
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے


اس طویل سفر کے دوران قربانیاں پیش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کئے بنا اس سفر کی داستان کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس تمام عرصہ میں جس جس نے بھی اپنا قیمتی وقت دیا، جس نے اپنا سرمایہ لگایا، جس نے اپنی جان دی، جس نے اسارتیں برداشت کیں، جس نے زحمات اٹھائیں، جس نے تشدد سہا، جس نے جیلیں کاٹیں، جس نے مجبور ہو کر ہجرتوں کی سنت ادا کی، وہ سب ہمارے ہیرو ہیں، ہمارے رہنماء ہیں، ہمارے محسن ہیں۔ ہاں اگر تنظیم کے مسئولین نے انہیں شکوہ و شکایت کا موقعہ دیا تو ان سے دلی معذرت کی جاتی ہے، مگر ایک نظریاتی، ایک فکری، ایک باشعور فرد ہونے کے ناتے انہیں بھی اس کا احساس ضرور ہوگا کہ ان کی قربانی خالص اسلام و اللہ کی آخری حجت کے انقلاب کی زمینہ سازی کیلئے تھی، اس کا اجر و ثواب بھی ادھر سے ہی ملنا ہے، پروردگار زحمات برداشت کرنے والے دوستان کو حجت خدا، امام العصر (عج) کے سپاہیوں میں شمار کرے۔

اس برس 22 مئی کو تنظیم کا پچاسواں یوم تاسیس منایا جا رہا ہے، جبکہ اس سے قبل مرکزی تنظیمی کنونشن کو اس کاروان کے شایان شان منعقد کیا جاچکا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پچاس برس کی خدمات اور معاشرہ سازی کیلئے کردار کو بیان کرنے کیلئے یہ صفحات ناکافی ہیں۔ ہمیں پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ اس کی آخری حجت امام مہدی (عج) کے انقلاب کی زمینہ سازی کیلئے اس پاک سرزمین پر امامیہ نوجوانوں کا یہ الہیٰ کاروان وجود رکھتا ہے، ہماری تمام تر کاوشیں، کوششیں اور کام اسی آخری حجت کے ظہور میں تعجیل کیلئے ہی مخصوص ہیں، اگر وہ اسے اپنی بارگاہ میں قبولیت سے نواز دیں تو ہم سرخرو ہونگے۔ اس پچاس سالہ سفر کی تکمیل پر ہم تجدید عہد بھی کرتے ہیں، اپنا عزم بھی دہراتے ہیں اور آگے بڑھنے کی جہد مسلسل کے لئے اپنے قدم بھی اٹھاتے ہیں۔ کاروان میں شامل ہر دوست، چاہے وہ محب ہے یا ممبر، کارکن ہے یا اسکائوٹ، سابق ہے یا امامینز، اس کا ہمدرد ہے یا مربی، اس کے سرپرست روحانی یا غیر از روحانی سب کی خدمت میں پچاسویں یوم تاسیس کے عظیم موقع پر ہدیہ تبریک پیش ہے۔
خبر کا کوڈ : 995161
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش