0
Friday 28 Oct 2011 21:52

یمن پر سلامتی کونسل کی قرارداد کا جائزہ

یمن پر سلامتی کونسل کی قرارداد کا جائزہ
تحریر:ثاقب اکبر
گذشتہ دنوں سلامتی کونسل میں قرارداد نمبر2014 منظور کی گئی ہے جس کا مقصد خلیج تعاون کونسل کی تجویز کے مطابق یمن میں انتقال اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ قرار داد 21 اکتوبر کو منظور کی گئی جو اقوام متحدہ میں برطانیہ نے فرانس اور امریکہ کے تعاون سے پیش کی۔ اس قرارداد میں صدر علی عبداللہ صالح پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خلیج تعاون کونسل کی طرف سے تیار کیے گئے منصوبے پر دستخط کر کے اقتدار سے الگ ہو جائیں، جس کے بدلے میں انھیں ہر قسم کی قانونی کارروائی سے استثناء حاصل ہو جائے گا۔ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے فارمولے کے تحت صدر علی عبداللہ صالح حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد 30 دن کے اندر اقتدار اپنے نائب صدر عبدالربہ منصور ہادی کے حوالے کر دیں گے اور ایک اپوزیشن لیڈر کو عبوری کابینہ کی قیادت کے لیے نامزد کریں گے۔ علی عبداللہ صالح کے مستعفی ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے ایک بل منظور کروایا جائے گا جس کے تحت ان کا، ان کے خاندان کے افراد کا اور قریبی معاونین کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور انھیں عام معافی دے دی جائے گی۔
اس قرار داد کی منظوری کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے اسے یمنی عوام کے روشن مستقبل کے حصول کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طویل عرصے سے یمنی عوام کو آفاقی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور بہت سارے یمنی ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے حکومت یمن سے مطالبہ کیا کہ پرامن مظاہرین پر تشدد کی چھان بین اور ان جرائم میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے۔ اس بیان سے امریکا کی دو عملی اور منافقت پوری طرح سے آشکار ہوتی ہے۔ قرارداد میں اصل مجرموں کو عام معافی دینے اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور بیان میں مظاہرین پر تشدد میں ملوث افراد کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گویا کارندوں اور ملازمین کو تو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور حاکموں کو لوٹا ہوا مال سمیٹ کر عزت و آبرو سے رخصت ہونے کی اجازت دی جائے۔
یمنی عوام نے اقوام متحدہ میں منظور کی گئی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد سے یمن کے دور دراز علاقوں خاص طور پر بڑے شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد 25 اکتوبر کو یمن میں آمریت کے خلاف عوام نے ملین مارچ کیا۔ یہ مظاہرے جو صبح سویرے شروع ہوئے ان میں مظاہرین نے علی عبداللہ صالح کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسے کسی بھی قیمت پر کوئی تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ مظاہروں کے دوران یمن کے انقلابیوں نے عوام کے خلاف مظالم ڈھانے اور ان کا قتل عام کرنے کی بنا پر علی عبداللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دیے جانے کامطالبہ کیا ہے۔ ان مظاہرین پر یمنی فوج کی طرف سے ہر طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ 
مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے پاس ہونے کے بعد یمنی سیکورٹی فورس کے ہاتھوں عوام پر تشدد کے عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت کے مسلح کارندے مظاہرین کو کچلنے کے لیے غیر قانونی ہتھیاروں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ یمنی سکیورٹی فورس حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والوں پر فاسفورس بموں کا کھل کر استعمال کر رہی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب کی فوج بھی اس قتل عام میں یمنی فوج کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب علی عبداللہ صالح کی حمایت میں کئی برس سے اپنی فوج استعمال کر رہا ہے۔ طویل عرصے سے جاری حوثیوں کی تحریک کے خلاف یمنی فوج کے کریک ڈاﺅن میں سعودی فضائیہ تک شریک رہی ہے۔
یمنی عوام 1978ء سے برسر اقتدار علی عبداللہ صالح کی آمرانہ حکومت کے خلاف جو انقلاب برپا کیے ہوئے ہیں ان کے نزدیک اقوام متحدہ کی قرارداد ان کے مقاصد کو ہائی جیک کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یمن کی معروف خاتون رہنما توکل کرمان جسے رواں مہینے کے اوائل میں لائبریا کی دو خواتین کے ہمراہ امن کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا، نے صدر صالح کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نہ صرف اُس کے تمام اثاثے منجمد کیے جانے چاہئیں بلکہ اُس کے کیس کو بین الاقوامی عدالت انصاف کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ خبر رساں ادارے رائٹر نے اقوام متحدہ کی قرار داد کو اس سے کہیں کم قرار دیا ہے جس کا مطالبہ یمن کی خاتون راہنما نے نیو یارک میں کیا ہے۔
جمعرات 27 اکتوبر کو یمن کے دارالحکومت صنعاء اور دوسرے بڑے شہر تعز میں ایک مرتبہ پھر عظیم الشان مظاہرے ہوئے، جن میں شریک مظاہرین نے امریکا اور سعودی عرب کے خلاف نعرے لگائے۔ یمنی فضائیہ نے مختلف مقامات پر مظاہرین پر بمباری کی ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اور اس کے حواری اپنے تمام تر ظلم و ستم کے باوجود یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ غریب اور پسماندہ ملک یمن کے عوام کسی صورت بھی موجودہ حالات کو جاری رکھنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے چہرے کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کا تجربہ وہ کئی دیگر ملکوں میں بھی کر چکے ہیں۔ مصر میں امریکہ کو بالآخر حسنی مبارک کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا اور اقتدار فوج کے حوالے کرنا پڑا۔ امریکہ، سعودی عرب اور ان کے ہم نوا ایک عرصے سے علی عبداللہ صالح کی حکومت کو سہارا دیے ہوئے تھے، لیکن اب انھوں نے اقتدار اپنے کسی اور قابل اعتماد شخص کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یمن کے نائب صدر عبدالربہ منصور ہادی کا وہ اس سلسلے میں امتحان لے چکے ہیں۔ جس عرصے میں علی عبداللہ صالح زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب میں رہے ہیں ان کے نائب نے یمنی عوام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ امریکا اور سعودی عرب کے اطمینان کے مطابق کردار ادا کر سکتے ہیں۔ منصور ہادی نے یمنی عوام پر ظلم و ستم کا وہی سلسلہ جاری رکھا، جو علی عبداللہ صالح نے اختیار کر رکھا تھا۔
دوسری طرف یوں محسوس ہوتا ہے کہ یمن کے عوام بھی اس عالمی سازش کے تانوں بانوں کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے پوری قوت سے سلامتی کونسل کی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ جہاں ان کے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے وہاں حکومتی سیکورٹی فورسز کے تشدد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرف میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، لیکن کیا برسراقتدار گروہ اپنے تازہ حیلوں میں کامیاب ہو سکے گا، اس سوال کے جواب کا انحصار یمنی عوام کے اجتماعی شعور اور قوت برداشت کو دینا ہے۔ تیونس اور مصر کے عوام جس طرح سے اپنے انقلاب کو اس کی حتمی منزل تک پہنچانے کے لیے آج بھی پورے عزم اور شعور کے ساتھ کھڑے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یمنی عوام بھی اپنے انقلاب کو اغوا کیے جانے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس سلسلے میں اگر کئی برسوں سے جاری حوثیوں کی جرات مندانہ جدوجہد پر نظر ڈالی جائے تو اعتماد سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بالآخر یمنی عوام ضرور کامیاب ہوں گے۔
جہاں تک خلیج تعاون کونسل کے متحرک ہونے کا تعلق ہے تو اس سے پہلے وہ بحرین کے عوام کے خلاف ایک بھرپور کریک ڈاﺅن کر چکی ہے۔ خلیج تعاون کونسل اس خطے میں امریکی مفادات کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے، جس میں سب سے اہم ریاست سعودی عرب شامل ہے۔ سعودی عرب کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر اس کے اوس پڑوس میں انقلابی تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں تو اس کے بلاواسطہ اثرات خود سعودی عرب کے اندر پڑیں گے۔ جہاں پہلے سے سعودی شاہی خاندان کو بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔ خاص طور پر حجاز اور تیل سے مالا مال علاقے کے عوام سعودی عرب میں تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ امریکا کی بھی خواہش یہ ہے کہ کسی طرح سے خطے میں آنے والی بیداری کی لہر کو روکا یا منحرف کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں اسے خاص طور پر اسرائیل کے مستقبل سے دلچسپی ہے کیونکہ تمام انقلابی تحریکوں کے راہنماء اسرائیل کی صہیونی حکومت کو اپنا دشمن جانتے ہیں۔
یمن تزویراتی لحاظ سے بہت اہم ملک ہے اسی کی سمندری گزرگاہ مختلف براعظموں کو آپس میں ملاتی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے بھی یہ ایک بڑا ملک ہے، جہاں ڈھائی کروڑ سے زیادہ نفوس آباد ہیں۔ تاریخی اعتبار سے بھی یمن بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی سرزمین زرخیز ہے۔ بدقسمتی سے اس کے حکمرانوں نے یہاں کے عوام کو نہایت پسماندہ رکھا ہے۔ یہاں آنے والی کوئی بھی تبدیلی خطے میں بڑی تبدیلیوں کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یمن میں موجود زیدی مسلک کے مسلمان جو کئی صدیاں اس خطے میں حکمران رہے ہیں امریکی اور سعودی بالادستی کے خلاف پہلے ہی نبردآزما ہیں۔ اب دیگر قبائل بھی ان سے ہم آہنگ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری اور رجعت پسند قوتوں کو یمن کی انقلابی تحریک ایک بڑے خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 109973
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

متعلقہ خبر