?> امریکی ڈرون گرائے جا سکتے ہیں - اسلام ٹائمز
0
Wednesday 14 Dec 2011 14:36

امریکی ڈرون گرائے جا سکتے ہیں

امریکی ڈرون گرائے جا سکتے ہیں
تحریر:طاہر یاسین طاہر

 ملک ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے کر کے ہی اپنے درمیان تعلقات کی نئی نئی جہات تلاش کرتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ عالمی سیاست میں یہ ممکن نہیں کہ اقوام عالم ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو صرف اس وجہ سے ختم کر دیں کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز یا غیر ریاستی قوتیں کسی قوم کو بوجوہ ناپسند کرتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری میں زندہ رہنے کیلئے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی برادری کے ساتھ بھی بنا کر رکھنا پڑتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟ کیا عالمی قوتوں کے سامنے اس لیے سرنگوں ہو جایا جائے کہ ان کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے؟ کیا عالمی طاقتوں کی اس لیے چاکری کی جائے کہ وہ ہمارا معاشی و اقتصادی ناطقہ بند کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟ یا پھر کیا عالمی طاقتوں کی صرف اس لیے ہر بات تسلیم کر لی جائے کہ وہ ہمارے اقتدار کو دوام دینے کی ضمانت دیتے ہیں؟ اور دوام بھی کتنا؟ معدودے چند برس۔
 
ملک اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد جذبات پر نہیں ہوتی، عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے بیرونی قوتوں کے حمایت یافتہ حکمران خطے میں ان قوتوں کے بیورو چیف کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے قومی اور ملکی وقار و مفادات کو دیکھنے کی بجائے اپنے آقا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس امر میں کلام نہیں کہ خارجہ تعلقات کی تمام تفصیلات منظر عام پر بھی نہیں لائی جا سکتیں۔ مگر یہ بھی درست نہیں کہ قوم کو اس بارے بالکل علم ہی نہ ہو کہ اس کا ملک خارجہ تعلقات میں کس سمت محو سفر ہے؟ بڑھتے ہوئے امریکی ڈرون حملے اور پھر نیٹو کی پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بمباری، آئندہ کے امریکی مقاصد کا پتہ دیتے ہیں۔ بالخصوص خطے میں بھارت کا چین کے مقابلے میں بڑی طاقت بننے کا خواب بھی اس خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات اور پھر خطے کے ممالک کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
 
بدقسمتی اگر کسی قوم کا مقدر ہو جائے تو اس پر سوائے نوحہ کرنے کے کیا کیا جا سکتا ہے؟ لیڈر قومیں پیدا نہیں کیا کرتے، بلکہ بہترین قومیں عمدہ لیڈر پیدا کرتی ہیں، جو آگے چل کر اپنی قوم اور اپنے ملک کے وقار کیلئے ایسے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہیں کہ دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ تاریخ عالم نے ایسے بوریانشین بھی دیکھے، جنہوں نے عالمی طاقتوں کی نفی کرتے ہوئے الٰہی نظام کی بات کی۔
 
9/11 کے ہولناک ڈرامے کے بعد جب امریکہ مشرق وسطٰی میں اپنے تیار کرداروں کی جانب بڑھا تو اس نے پاکستان کو ایک فون کال پر رام کر لیا۔ ممکن ہے جنرل (ر) پرویز مشرف یہ سمجھتے ہوں کہ ایک فتنے کو دوسرے بڑے فتنے کے ذریعے ختم کرنے کا وقت آ گیا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور پاکستان کو ڈبل گیم کی طعنہ دینے والے امریکہ نے ازخود خطے میں ڈبل گیم شروع کر دی اور اپنے طالبانی جنگجوﺅں کو نیٹو کی مدد سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داخل کر کے نئے فتنوں کی آبیاری کرتا رہا۔ 

جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کے کچھ ”انتہائی مطلوب“ دہشتگرد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ہیں تو اس نے رفتہ رفتہ اپنے ڈرون اڑانے شروع کر دیئے۔ یہ وہی ڈرون طیارے ہیں جو انتہائی جدید آلات سے لیس ہیں اور ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ریڈار میں نظر نہیں آتے۔ مگر آفرین ہے ایران والوں پر کہ جنہوں نے اسے بحفاظت اتار لیا اور ہم سوائے احتجاج کے اور کچھ نہ کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا ڈیفس سسٹم کمزور ہے یا ہمت کی کمی؟ یا یہ کہ باہمی معاہدوں نے ہمارے ہاتھوں میں زنجیر ڈال رکھی ہے؟
 
ہم علی الاعلان ایٹمی قوت ہیں، مگر حالت یہ ہے کہ امریکی ڈرون طیارے ہمارے ہی شمسی ائیر بیس سے اڑ کر ہمارے ہی سرحدی علاقوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ امریکیوں کو اس حرکت سے باز کرنے کی بجائے ہم ڈرون حملوں پر ایسا احتجاج کرتے رہے، جس سے قوم کو صریح دھوکہ دینے کی بو آتی ہے۔ امریکہ و نیٹو کی جرات بڑھی تو انہوں نے پاکستانی چوکی کو نشانہ بنایا۔ قیادت نے عوامی دباﺅ پر نیٹو کی سپلائی لائن بند کر دی۔ بون کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور شمسی ائیر بیس خالی کرنے کا نوٹس دیا۔ 

پاکستان کی جانب سے یہ اقدام خطے میں امریکی مفادات کیلئے شدید دھچکا ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کیلئے مزید پریشانی والی بات یہ ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے حکومت سے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تمام معاہدوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ یقیناً طلب کی جانے والی تفصیلات کا تعلق دہشتگردی کیخلاف جاری نام نہاد جنگ میں دو طرفہ تعاون سے ہے۔
 
تجزیہ کار اس حوالے سے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ کیا نیٹو حملے اور بالخصوص امریکی ڈرون حملوں کے بارے قوم کو پتہ چل سکے گا کہ حکومت پاکستان کا اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ تھا؟ اگر معاہدہ تھا تو پھر حکومت نے پاکستانی قوم کے سامنے ڈرون حملوں پر مگرمچھ کے آنسو کیوں بہائے؟ اور اگر اس حوالے سے پاک امریکہ معاہدہ نہیں تو پھر پہلی بات تو یہی کہ امریکی ڈرونز کو شمسی ائیر بیس سے اڑنے ہی کیوں دیا گیا؟ اور اگر ڈرونز نے اڑان بھر ہی لی اور حملہ آور ہوئے تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ 

کیا برادر اسلامی ملک ایران نے امریکہ کے جدید ترین جاسوسی طیارے RQ-170 کو، کم ترین نقصان پہنچائے بغیر اپنی مشرقی سرحد پر لینڈ نہیں کرا لیا؟ اور اس کی سرکاری ٹی وی پر نمائش نہیں کر دی؟ بہت بلندی پر پرواز کرنے اور انتہائی مشکل سے نظر آنے والے اس ڈرون کو دوسرے ممالک کی خفیہ جگہوں کی نگرانی کیلئے بہترین تصور کیا جاتا ہے، جبکہ امریکہ اپنے ڈرون کو کھونے کے بعد خطے میں نئی مشکل کا شکار ہو چکا ہے اور فوجی ماہرین ایران کی جانب سے امریکی ڈرونز طیارے پر قبضے کی اصل وجہ ایران کے ڈیفنس سسٹم کو قرار دے رہے ہیں۔ 

کیا ہمارا ڈیفنس سسٹم کمزور ہے۔؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ جو قومیں جرات مند قیادت رکھتی ہیں وہ کبھی بھی عالمی طاقتوں کی سینہ زوری کے سامنے سرخم نہیں کرتیں، جبکہ ایک ہم ہیں کہ دنیا کی بہترین آرمی اور بہتر دفاعی نظام کے باوجود یکسو نہیں، اللہ پر توکل کرنے کی بجائے امریکی خوشنودی کے طالب، کس طرح قومی وقار کا تحفظ کر پائیں گے۔؟ یقیناً مختلف معاہدات کے ذریعے اقتدار میں آنے والوں نے عالمی استعمار سے معاہدات کئے ہوں گے، قوم جاننا چاہتی ہے کہ اسے غربت اور دہشتگردی کی کھائیوں میں دھکیل کر حکمرانوں نے کیا کیا مفادات سمیٹے ہیں۔؟
خبر کا کوڈ : 122125
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش