0
Wednesday 18 Jan 2012 20:14

انقلاب یمن، ایک سال بعد

انقلاب یمن، ایک سال بعد
تحریر: سعداللہ زارعی
گذشتہ ایک ماہ سے یمن کی سیاسی صورتحال نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تین ہفتے قبل، 20 دسمبر کو یمن کے انقلابی عوام نے تعز سے دارالحکومت صنعاء کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔ انہوں نے اپنے اس 250 کلومیٹر احتجاجی لانگ مارچ کا نام "نجات انقلاب لانگ مارچ" رکھا اور یمن کے موجودہ سیاسی نظام کو سرنگون کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران یمن کے باقی شہروں میں بھی اسی طرز کے لانگ مارچ شروع ہو گئے اور یمن کے مغرب میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع حدیدہ شہر کے عوام نے بھی صنعاء کی جانب 300 کلومیٹر لمبا لانگ مارچ شروع کر دیا۔ یہ افراد چند روز قبل ہی حجہ اور عمران صوبوں سے ہوتے ہوئے صنعاء پہنچے ہیں۔ عوام کا بنیادی نعرہ یہ ہے کہ نہ صرف علی عبداللہ صالح بلکہ پورا سیاسی نظام سرنگون ہونا چاہئے۔ یمن کی انقلابی تحریک کے بارے میں کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. علی عبداللہ صالح جو ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہو کر سعودی عرب بھاگ گیا تھا، مصر میں حسنی مبارک کے خلاف عدالتی کاروائی شروع ہونے کے بعد یمن واپس آ گیا۔ وطن واپس لوٹنے سے عبداللہ صالح، سعودی عرب اور امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ مصر میں حسنی مبارک کی سرنگونی اور پھر انکے خلاف عدالتی کاروائی کو ایک استثنائی واقعہ قرار دے کر اپنی کٹھ پتلی آمر حکومتوں کی پریشانی کو دور کیا جائے۔ لہذا سعودی عرب میدان میں کود پڑا اور اس نے "خلیج تبادلہ منصوبہ" کے نام سے ایک منصوبہ پیش کر دیا۔
اس منصوبے کی رو سے علی عبداللہ صالح اور اسکی حکومت میں مرکزی کردار کے حامل 400 ساتھیوں کو عدالتی استثناء حاصل ہو سکے گا اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا کہ انکے خلاف کسی الزام کے تحت عدالتی کاروائی کا مطالبہ کر سکے۔ اسی طرح انکے مالی اثاثے بھی ضبط نہیں کئے جائیں گے اور انکے خاندان کے افراد بھی ہر طرح کے گزند سے محفوظ ہوں گے۔ خلیج تبادلہ منصوبے پر کافی بحث و گفتگو کے بعد آخرکار علی عبداللہ صالح، عرب لیگ کے رکن ممالک، حاشد قبیلے کے بعض افراد جیسے اس قبیلے کے سربراہ شیخ صادق اور عبداللہ صالح کے کزن علی محسن الاحمر جو ظاہری طور پر اسکے مخالفین کی صف میں شامل ہیں، نے دستخط کر دیئے۔ اسکے بعد علی عبداللہ صالح نے بظاہر اقتدار کو خداحافظ کہتے ہوئے ملک کی باگ ڈور منصور عبد ربہ کے حوالے کر دی۔ لیکن ساتھ ہی حکمران جماعت "حزب الموتمر" جو حکومت کے بنیادی فیصلوں میں مرکزی کردار کی حامل ہے، کی سربراہی اپنے ہاتھ میں لے لی۔ ایسی صوتحال میں بالکل واضح ہے کہ یمن کی سیاسی اسٹرکچر میں کوئی واضح تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔
2. جس وقت خلیج تبادلہ منصوبے پر سب نے دستخط کئے، شیخ صادق الاحمر نے قبیلے کا سربراہ ہونے کے ناطے، جنرل علی محسن الاحمر یمن کے سابق آرمی سربراہ اور عبداللہ صالح کی بعض حلیف جماعتوں نے جو بظاہر انکے مخالفین کی صف میں شامل ہو چکی تھیں، یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے اپنی فورسز کو میدان سے باہر نکال لیا اور حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے جواز اور مشروعیت کو دھچکا پہنچانے کی کوشش کی۔ اسکے بعد عبد ربہ کی کابینہ نے جو 34 وزراء پر مشتمل تھی اور یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ اس میں سے 17 وزیر حکومت مخالف ہیں کام شروع کر دیا جبکہ یہ 17 وزیر شیخ صادق، علی محسن اور عبداللہ صالح کی حلیف جماعتوں سے ہی وابستہ تھے۔ یہ ہتھکنڈہ کچھ عرصے کیلئے تو فائدہ مند ثابت ہوا لیکن اسکے بعد شیخ صادق نے ہر قسم کے حکومت مخالف اجتماعات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے فوج کو حکم دیا کہ ہر قسم کی بدامنی کو ختم کرنے کیلئے میدان میں اتر آئے۔ اسکے بعد مظاہرین اور فوج میں بڑے پیمانے پر جھڑپیں ہوئیں۔
3. صنعاء میں انقلابی فورسز کے درمیان پھوٹ پڑنے کے بعد تعز انقلاب کا مرکز بن گیا اور یمن آرمی نے بھی تعز پر زمینی اور ہوائی حملوں میں اضافہ کر دیا۔ مغربی یمن کے عوام نے فیصلہ کر لیا کہ صالح حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں لہذا 20 دسمبر کے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ یہ لانگ مارچ 6 دنوں تک جاری رہا اور جب عوام صنعاء کے دروازے پر پہنچے تو فوج کے شدید حملوں سے روبرو ہوئے۔ یمن آرمی نے اتوار 25 دسمبر کو مظاہرین پر دھاوا بول کر 13 افراد کو شہید اور سو سے زیادہ افراد کو زخمی کر ڈالا۔ فوج کا یہ اقدام ایک طرف قبیلہ حاشد اور حکمران جماعت حزب الموتمر اور دوسری طرف سے سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے مکمل حمایت سے برخوردار تھا۔ یمن میں امریکی سفیر نے اظہار نظر کرتے ہوئے کہا:
"خلیج معاہدے کے بعد حکومت کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ شرپسند عناصر کا قلع قمع کر دے، کیونکہ اب وہ باغی طاقتوں سے روبرو ہے"۔
سعودی حکام نے بھی انتہائی واضح انداز میں عوام کے خلاف فوج کے اس اقدام کی کھلی حمایت کا اعلان کیا۔ لیکن ساتھ ہی عوام کی جانب سے امریکہ اور سعودی عرب کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ فوج کی جانب سے طاقت کا یہ کھلا استعمال 25 جنوری کو مظاہرین کے منتشر ہونے کا باعث بنا لیکن عام شہریوں کی قتل و غارت نئی حکومت مخالف قوتوں کا میدان میں کود پڑنے کا سبب بن گئی۔ قبیلہ حاشد کے سربراہ نے ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
4. حکومت کی جانب سے منصور عبد ربہ کے وزیراعظم ہونے پر اصرار اور عبداللہ صالح کا کردار واضح ہونے کے بعد یمن کے مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ صوبہ صعدہ، صوبہ حجہ اور صوبہ عمران میں حوثی فورسز نے حکومت مخالف قوتوں کی حمایت کا اعلان کر دیا جو اب تک انقلابی تحریک میں نمایاں کردار کے حامل نہیں تھے۔ ایک بر پھر مغربی یمن سے دارالحکومت کی جانب عوامی لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے۔ ساحلی شہر حدیدہ کے عوام نے بھی دوبارہ 4 جنوری کو بحیرہ احمر سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا اور مختلف صوبوں اور شہروں سے گذرتے ہوئے ایک لاکھ افراد پر مشتمل قافلہ تین سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے صنعاء کے دروازے پر پہنچ گئے۔ اس دوران حکومتی عناصر، فوج، حزب موتمر اور الاحمر قبیلے کے افراد نے عمران اور حجہ شہروں اور اسی طرح دارالحکومت صنعاء کے قریب احتجاج کرنے والے عوام پر دھاوا بول کر کئی افراد کو زخمی کر دیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے ریلے نے امریکہ، سعودی عرب اور عبداللہ صالح رژیم کو خوفزدہ کر دیا۔ وہ جان چکے ہیں کہ عوام کی قتل و غارت سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان دو عظیم لانگ مارچ نے ثابت کر دیا کہ خلیج تبادلہ منصوبہ اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ الاحمر خاندان میں تزلزل اور ان میں بظاہر پھوٹ پڑ جانا ظاہر کرتا ہے کہ عربی مغربی سازش بند گلی میں پہنچ چکی ہے اور انکے پاس حقیقت کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
5. عبداللہ صالح کی حکومت نے تین ماہ قبل "جمعہ کرامت" سے لے کر انقلابی قوتوں کی جانب سے "نجات انقلاب" اسٹریٹجی کے اعلان تک ان میں موجود اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کے منصوبے کو ایک حد تک عملی جامہ پہنایا ہے لیکن اب اس منصوبے کا وقت گزر چکا ہے۔ الحوثی گروپ کے افراد نے حدیدہ سے صنعاء کی جانب عوامی لانگ مارچ میں انکے ساتھ بہت زیادہ تعاون کیا ہے جو یمن کے عوامی انقلاب میں ایک انتہائی اہم موڑ تصور کیا جاتا ہے۔
6. یمن میں نجات انقلاب فرنٹ کی تشکیل نے انقلابی فورسز میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور تازہ نفس افراد کو میدان میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس فرنٹ نے کافی حد تک قیادت کے فقدان کو پورا کیا ہے۔ یہ فورسز جو شروع میں حکومت کے ساتھ مسلحانہ جنگ کا ارادہ رکھتے تھے اور ایسے نعرے لگانے سے گریز کر رہی تھیں جو امریکہ اور سعودی عرب کی تشویش کا باعث بن سکتے تھے، اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ بیرونی قوتیں عبداللہ صالح کی حکومت کی بقا میں بنیادی کردار کی حامل ہیں۔ یہ مسئلہ باعث بنا ہے کہ عوام امریکہ اور سعودی عرب کے خلاف میدان میں کود پڑیں اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسکے بعد سعودی عرب کافی دباو کا شکار ہو جائے گا۔ اس اقدام کی وجہ سے انقلابی قوتوں کے حوصلے جو خلیج معاہدے کے بعد پست ہو چکے تھے دوبارہ بلند ہو گئے ہیں۔
7. انقلابی فورسز گذشتہ گیارہ ماہ کے دوران انتہائی مظلومیت کے عالم میں آزادی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، کیونکہ ایک طرف حکومت کی جانب سے شدید اقدامات سے دوچار ہیں اور دوسری جانب سے مغربی اور عرب ممالک بھی علی عبداللہ صالح حکومت کی کھلی حمایت کا اعلان کرنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت فوج، حزب موتمر اور آل احمر قبیلے کی فورسز علی عبداللہ صالح کے ساتھ ہیں اور ملک کی 6 بڑی سیاسی جماعتیں بھی اسی کی حمایت میں مصروف ہیں جبکہ انقلابی عوام قیادت کے فقدان کے باوجود زبردست انداز میں ایک سال سے حکومت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ انقلابی فورسز آہستہ آہستہ ایک قیادت کے گرد اکٹھی ہو رہی ہیں اور ابھی واحد قیادت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
8. اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ سعودی عرب یمن میں ایک انٹی انقلاب تحریک شروع کروانے کی سازش کر رہا ہے، جیسا کہ سعودی عرب نے لیبیا، عراق اور مصر میں بھی مشابہ اقدامات انجام دیئے ہیں۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ وھابی فورسز، عبداللہ صالح کے وفادار قبائل اور محسن الاحمر کی کمانڈ میں آرمی کی بعض فورسز پر مشتمل ایک ایسی قوت تشکیل دے جو انقلابی فورسز کو پسپائی پر مجبور کر سکیں۔ 20 دسمبر اور 4 جنوری کو انجام پانے والی عوامک لانگ مارچ کے موقع پر ہونے والے شدت پسندانہ اقدامات اسی سازش کا حصہ تھے۔ وہ فورسز جنہوں نے حجہ، عمران اور صنعاء شہروں میں داخل ہوتے وقت انقلابی عوام پر پتھروں سے حملہ کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو زخمی کر دیا اس سازشی ٹولے کا حصہ تھے۔ اسی سلسلے میں ایک رپورٹ کے مطابق یمن کے ایک گاوں "دماج" میں واقع وہابی دینی مدرسے "دارالحدیث" کے طلاب کو اس مقصد کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس مدرسے میں جو سعودی عرب کے مالی تعاون سے چل رہا ہے، مختلف عرب ممالک سے 6 ہزار طالب علم دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ان طلاب کو حکومت مخالف مظاہرین سے مقابلہ کرنے کیلئے خصوصی ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے۔
9. عراق، لیبیا، مصر، بحرین، تیونس اور یمن میں جاری سیاسی تبدیلیاں مغربی دنیا اور سعودی عرب جیسے ممالک کے نقصان میں جا رہی ہیں۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی جانب سے امریکہ کے خلاف تازہ ترین بیانات اور تیونس اور مصر میں اسلام پسند قوتوں کی جیت اسکا واضح ثبوت ہیں۔ دوسری طرف امریکہ، سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک اس کوشش میں مصروف ہیں کہ دہشت گرد اقدامات اور بم دھماکوں کے ذریعے سیاسی حالات کو مشکوک بنا کر پیش کریں۔
خبر کا کوڈ : 131383
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے