0
Saturday 28 Jan 2012 00:00

لاشیں اور لاشیں اٹھانے والے ہاتھ

لاشیں اور لاشیں اٹھانے والے ہاتھ
تحریر: تصور حسین شہزاد
 
دشمن کا نشانہ ایک بار پھر کراچی ہے، شہر قائد نہ جانے کیوں دشمن کو زیادہ آسان ٹارگٹ دکھائی دیتا ہے اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ سکیورٹی ادارے دشمن کی سازش سے آگاہ ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر سکے۔ اس پر وزیر داخلہ سمیت اہم اعلٰی شخصیات کو مستعفی ہو جانا چاہیے، تاکہ میرٹ پر بھرتی کر کے باصلاحیت افراد کو آگے آنے کا موقع ملے۔ دشمن کی شہر قائد کے امن کو ایک بار پھر نظر لگ گئی ہے جبکہ اس سے پہلے حالات قدرے پرسکون تھے۔ ٹارگٹ کلنگ اور روڈ کرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ کراچی میں امن کی اس فضا کو برقرار رکھنے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ دوسری جماعتوں نے بھی اہم کردار نبھایا، مگر اچانک یہ کیا ہوا کہ روشنیوں کا شہر ایک بار پھر لہو لہو ہو کر اندھیروں میں ڈوب گیا، صرف 24 گھنٹوں میں 5 وکلا سمیت 10 افراد کو بیدردی سے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ 

واقعہ کی تفصیلات میں صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے وکلا کی گاڑی کو روک کر قریب سے فائرنگ کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شہر کی سڑکیں لہو رنگ ہو گئیں۔ اس واقعہ پر گزشتہ روز وکلا تنظیموں نے ملک گیر ہڑتال کے ساتھ عدالتی بائیکاٹ کیا اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ اس ملک میں عدلیہ کی بحالی اور قانون کی حاکمیت کیلئے انہوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ آمریت کے خلاف جب بھی تاریخ رقم کی جائے گی وکلا کے کردار کو سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔ آئندہ بھی اگر کوئی قوت انصاف اور قانون کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے یا کوئی آمر شب خون مارنے کی کوشش کرے گا تو ایسے میں وکلا برادری جمہوری قوتوں کے ساتھ ہو گی اور آمریت کے راستے کی دیوار بن جائے گی۔ 

تاہم وکلا نے اس بات پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا کہ اب قانون کی پاسداری کرنے والوں کو ہی گولیوں سے بھونا جا رہا ہے اور اگر یہ روش چل نکلی تو اس کے بہت خطرناک اثرات مرتب ہونگے۔ اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون منظور وسان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ربیع الاول کے موقع پر بعض شرپسند اور دہشتگرد کراچی کے امن کو ایک بار پھر تہہ و بالا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے ماضی میں کراچی اور سندھ کو انسانی سلاٹر ہاؤس بنا دیا تھا اور ایک تسلسل کے ساتھ ٹارگٹ کلرز نے کراچی اور پورے صوبے کو آگ کے شعلوں کی نذر کر دیا تھا مگر اس وقت بھی حکومت دہشتگردوں کے خلاف رینجرز کی مدد سے کارروائی کر کے ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور اب جبکہ ایک بار پھر شہر قائد کے امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، صوبائی حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دے گی۔

وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں خون خرابہ کرنے کیلئے گلگت اور میران شاہ سے کالعدم تنظیموں کے کچھ عناصر کو کراچی بھیجا گیا ہے۔ رحمن ملک نے کہا کہ تین ماہ قبل ہی انہوں نے ان واقعات کی نشاندہی کی تھی اور اس سلسلے میں خصوصی اقدامات بھی کئے تھے مگر اس قسم کے اقدامات اور کوششیں تب ہی کامیاب ہوتی ہیں کہ جب تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ جب بھی ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوئی سازش کی جاتی ہے تو اس کی ابتداء کراچی سے ہی کی جاتی ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ شہر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔
 
اگر وہاں کے معاشی اقتصادی اور تجارتی معاملات میں کوئی رکاوٹ یا خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر پورے ملک کی معیشت پر ہوتا ہے اس کے علاوہ کراچی کو ایک بین الاقوامی شہر کا درجہ حاصل ہے اور یہاں ذرہ برابر بھی کوئی ہلچل ہوتی ہے تو پوری دنیا الرٹ ہو جاتی ہے۔ یہ بات شاید ملک دشمن اور دہشت گرد عناصر بھی خوب سمجھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بھی دہشت گردی کیلئے وہ بار بار اسی شہر کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ بالخصوص محرم الحرام اور ربیع الاول کے مقدس مہینوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کیلئے وہ بڑے منظم طریقے سے ملک دشمن کارروائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اب بھی ان عناصر کی یہی کوشش ہے کہ ربیع الاول کے اجتماعات اور جلوسوں کی آڑ میں مختلف مذہبی فرقوں کے خلاف تفرقہ ڈالا جائے۔

امر باعث اطمینان ہے کہ کراچی میں دہشتگردی کے تازہ ترین افسوسناک واقعہ پر حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے قائدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور شہر کی تمام مذہبی و سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ ربیع الاول کے مبارک مہینے میں وہ ایسے عناصر کی شرانگیزیوں سے چوکس اور خبردار رہیں۔ خاص طور پر ایک ایسے موقع پر جبکہ ملک میں بعض عناصر سیاسی عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے پیچھے کچھ بیرونی قوتوں کا بھی ہاتھ ہے، جو نہیں چاہتے کہ ملک میں استحکام آئے اس کی آزادی، خود مختاری، قومی سلامتی کو دوام ملے اور یہاں کے عوام ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہوں۔ 

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بقول وزیر داخلہ رحمن ملک اگر اس قسم کے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں دو تین ماہ پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا تو پھر ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کیلئے قبل از وقت حفاظتی اقدامات کیوں نہ کئے گئے؟ تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں دہشتگردی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کی روک تھام اور ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی مہیا کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں، جس کیلئے سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ سماجی، فلاحی اور مذہبی تنظیموں کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ ان شرپسند عناصر کی یہ پوری کوشش ہو گی کہ وہ ربیع الاول کے مبارک مہینے میں اپنے مکروہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ رحمن ملک اگر پاکستان پر احسان کریں اور مستعفی ہو جائیں تو ممکن ہے ملک میں امن قائم ہو جائے۔

اس کے علاوہ کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں میں خود پولیس افسران بھی ملوث پائے گئے ہیں، جس کی مثال پاسبان جعفریہ کے رہنما عسکری رضا کی شہادت میں ایس ایس پی چودھری اسلم کو معطل کیا گیا اور ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہے، جب پولیس کے افسر ایسے کام کریں گے تو دشمن کو تو آسانی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی خبریں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں کہ دہشتگردوں کے ساتھ بھی پولیس افسران کے تعلقات ہوتے ہیں اور باقاعدہ وہ دہشتگردوں سے حصہ لے کر موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان واقعات کے تسلسل سے تو پنجابی کی یہ مثال واضح ہوتی ہے کہ ’’کتی ہی چوروں سے ملی ہوئی ہے‘‘ جب تک کتی کو چوروں کے ’’الحاق‘‘ سے الگ نہیں کیا جائے گا کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
 
یہ اقدام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں اور ریاست امن کے قیام کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے لئے تیار ہوتی ہے، اس حوالے سے ریاست کو یہ انتہائی قدم ضرور اٹھا لینا چاہیے، اسی میں عوامی اور حکومتی بقا ہے۔ بصورت دیگر لاشیں گرتی رہیں گی، لوگ مرتے رہیں گے، پولیس پاس کھڑے ہو کر بھی تماشہ دیکھتی رہے گی، اور دن گزرتے رہیں گے پھر ایک دن لاشیں اٹھانے والے ہاتھ حکمرانوں کی گردنوں تک پہنچ جائیں گے پھر اور قسم کی لاشیں ان کے کندھوں پر ہوں گی، لیکن اس بارے یہ لاشیں ان کے پیاروں کی نہیں، ملک کے غداروں کی ہوں گی، جو حکمرانوں کے روپ میں ان پر حکمرانی کر رہے ہوں گے۔ 
خبر کا کوڈ : 133433
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے