0
Friday 2 Mar 2012 16:54

تیونس میں کیمپ ڈیوڈ کا احیاء

تیونس میں کیمپ ڈیوڈ کا احیاء
تحریر: سعداللہ زارعی
اسلام ٹائمز- گذشتہ جمعے کے روز امریکہ، یورپی یونین اور کئی عرب ممالک کے وزرائے خارجہ تیونس کے دارالحکومت میں جمع ہوئے تاکہ عوام کی غیرموجودگی میں شام کے نئے سیاسی نظام کا تعین کر سکیں۔ اس اجلاس کا نام "فرینڈز آف شام" رکھا گیا تھا۔ لیکن گذشتہ ایک سال سے مغربی ممالک اور انکے ہمنوا عرب ممالک کی جانب سے شام پر مسلسل سیاسی دباو ڈالے جانے سے آگاہ افراد نے اس اجلاس کا نام "شام دشمن عناصر کا اجلاس" رکھا ہے۔ اس ایک روزہ اجلاس میں امریکہ نے سب سے زیادہ سرمایہ گذاری کر رکھی تھی۔ امریکی صدر، وزیر خارجہ اور آرمی چیف نے انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا شام کے صدر بشار اسد پر انکی جانب سے سیاسی دباو ڈالے جانے کا مقصد انہیں استعفا دینے پر مجبور کرنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ وہ شام کے حکومت مخالف گروپس کو مسلح کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ لیکن اس اجلاس کا اختتامی بیانیہ 60 سفارتی وفود کے اکٹھا ہونے اور امریکہ کے سخت موقف سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ اس اجلاس کے بارے میں چند اہم نکات قابل ذکر ہیں:
1. جمعہ کو برگزار ہونے والا شام مخالف اجلاس ہر چیز سے زیادہ انسان کے ذہن میں "کیمپ ڈیوڈ" کی یاد تازہ کر دیتا ہے کیونکہ عرب ممالک کے درمیان کوئی بھی ملک شام کی طرح فلسطین کاز کی حمایت نہیں کرتا اور دمشق اسرائیل کے خلاف حزب اللہ لبنان کی 33 روزہ اور حماس کی 22 روزہ جنگ میں فتح کا ایک اہم اور بنیادی عامل تھا اور اسی طرح فلسطین اور لبنان میں اسلامی مزاحمت اور خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک جنم لینے میں بھی دمشق بنیادی کردار کا حامل رہا ہے۔ لہذا یہ بات انتہائی واضح ہے کہ مصر میں کیمپ ڈیوڈ کی حامی حکومت کی سرنگونی کے بعد اب شام میں یہ کوشش کی جارہی ہے کہ انور سادات اور حسنی مبارک جیسی رژیم کو برسراقتدار لا کر اس نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مصر کے بعد شام ہی وہ تنہا عرب ملک ہے جو اسرائیل کے خلاف مصر جیسا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم گذشتہ ایک سال کے دوران مجبور ہو گئی ہے کہ اپنی آرمی کا ایک حصہ مصر اور اردن کے بارڈر پر لگا دے۔ جبکہ گذشتہ 30 برس کے دوران یعنی کیمپ ڈیوڈ سے لے کر عرب دنیا میں اسلامی انقلابات کے آغاز تک اسرائیل نے ان دو طولانی بارڈرز جو مقبوضہ فلسطین کے مشرقی، جنوبی اور جنوب مغربی حصے میں واقع ہیں پر آرمی بھیجنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور انہیں سفید بارڈر قرار دے چکا تھا۔ تیونس میں اس اجلاس کا اصل مقصد غزہ کی شمالی اور شمال مشرقی سرحدوں کو سیکورٹی فراہم کرنا اور اس طرح سے مصر اور اردن پر سیکورٹی معاملات میں تعاون کرنے پر زور دینا ہے۔
اگر ایسا ہو جاتا ہے، اگرچہ ایسا ہونا بہت مشکل ہے، تو فلسطینیوں کی مشکلات میں انتہائی اضافہ ہو جائے گا اور وہ شدید خطرات سے دوچار ہو جائیں گے۔
2. اس اجلاس کیلئے تیونس کا انتخاب خاص معنا رکھتا ہے۔ اس سے قبل تین ایسے ہی اجلاس ترکی میں برگزار ہو چکے ہیں لیکن ان میں خطے اور دنیا کے دوسرے ممالک نے رسمی طور پر شرکت نہیں کی تھی۔ اسی طرح گذشتہ کئی ماہ کے دوران لندن اور پیرس بھی اسی جیسے کئی اجلاس کے میزبان بن چکے ہیں جن میں شام کے حکومت مخالف مسلح گروپس کے سربراہان بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس بار اجلاس میں کچھ خاص ممالک اور شام کے حکومت مخالف گروپس کے سربراہان شریک ہوئے ہیں۔ اجلاس کا تیونس میں برگزار ہونے کے بارے میں کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں لیکن گذشتہ کئی ماہ کے دوران شام حکومت کے خلاف عربی اور مغربی منصوبوں کی ناکامی کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھا جا سکتا ہے کہ حالیہ اجلاس کیلئے تیونس کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ ایک طرف امریکہ کے پٹھو آمر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور امریکی اور یورپی منصوبوں کو خاک میں ملا دینے کے نتیجے میں جنم لینے والے اس ملک کے چہرے سے سوء استفادہ کیا جائے اور دوسری طرف چونکہ تیونس وہ پہلا ملک تھا جہاں سے اسلامی بیداری کی لہر کا آغاز ہوا لہذا اس سے مشابہت دینے کے ذریعے شام کی طاقتور حکومت کے مٹھی بھر مخالفین کے حوصلے بلند کر سکیں۔ البتہ یہاں ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ چونکہ النھضہ تنظیم کے سربراہان اخوان المسلمون شام کے ساتھ ہم عقیدہ تھے لہذا شام کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سادہ لوحی کا شکار ہو گئے جسکا مغرب نے اچھی طرح سوء استفادہ کیا۔
3. تیونس کا اجلاس ایک لحاظ سے شکست کا اعتراف بھی تھا کیونکہ سعودی عرب اور قطر نے اجلاس سے ایک دن قبل جمعرات تک یہ اعلان کر رکھا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں اس اجلاس میں شرکت کریں گے کہ شام کے حکومت مخالف گروہوں کو رسمی طور پر اسلحہ فراہم کیا جائے اور شام آرمی کے ایک بھگوڑے لیفٹیننٹ کرنل برھان غلیون کی سربراہی میں تشکیل پانے والی شام نیشنل کونسل کو موجودہ صدر بشار اسد کی حکومت کی جگہ رسمی طور پر قبول کر لیا جائے لیکن ان میں سے کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہوا۔ البتہ جو بات انتہائی واضح ہے وہ یہ کہ شام نیشنل کونسل کو وجود میں لانے والے یہی امریکی، فرانسوی، برطانوی اور سعودی ہی ہیں اور ہر روز اسکی مالی اور فوجی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن سعودی عرب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اخراجات کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر پایا۔ اس اجلاس میں سعودی عرب کی کوشش یہ تھی کہ شرکت کرنے والے 60 ممالک کو اس بات پر مجبور کرے کہ شام نیشنل کونسل کو رسمی حیثیت دے دیں اور اسکی فوجی مدد کی ذمہ داری اٹھا لیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک ہارے ہوئے گھوڑوں پر شرط لگانے پر راضی نہیں۔ اس بنیاد پر حتی امریکہ کے چیف آف جوائنٹ آرمی اسٹاف نے بھی اجلاس سے ایک روز قبل اعلان کیا کہ صدر بشار اسد کے مخالف گروہوں کو رسمی طور اسلحہ کی فراہمی جلدبازی ہے جسکے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے بھی اے بی سی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر بشار اسد کے مخالفین کو رسمی حیثیت دینا فی الحال جلدی ہے۔ آخرکار اس اجلاس کا بیانیہ صرف اس نکتے پر زور دینے تک محدود رہا کہ شام کے حکومت مخالف گروہ بین الاقوامی سطح پر رسمی حیثیت حاصل کرنے کی جانب گامزن ہیں۔
4. تیونس میں برگزار ہونے والے اس اجلاس میں شریک ممالک کے درمیان گروپنگ انتہائی واضح تھی۔ ایک طرف امریکہ، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی شام کی نیشنل کونسل کو رسمی حیثیت دینے اور رسمی طور پر انکی فوجی امداد پر مصر تھے تو دوسری طرف شریک ممالک کی اکثریت جن میں میزبان ملک تیونس بھی شامل تھا شدت سے اسکے مخالف تھے اور اسے شام میں فوجی مداخلت کا مقدمہ قرار دے رہے تھے۔ درحقیقت اس اجلاس میں شریک اکثر ممالک کو یہ تشویش لاحق تھی کہ مغربی ممالک اور سعودی عرب شام کی عوام کی مدد کے بہانے ایک خطرناک رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جو دوسرے ممالک میں بھی انکی سلسلہ وار مداخلت کا زمینہ فراہم کر سکتا ہے۔ اگر ہم لیبیا میں مغرب کی فوجی مداخلت پر ایک نظر دوڑائیں اور شام کے مقابلے میں مغرب کے اقدامات کا بھی ایک جائزہ لیں تو بخوبی اس حقیقت کو درک کر سکتے ہیں کہ مغرب مختلف ممالک کے قانونی جواز کو دو حصوں "اندرونی قانونی جواز" اور "بیرونی قانونی جواز" میں تقسیم کرنے میں مصروف ہے تاکہ وہ کسی بھی اندرونی جواز کے حامل ملک کے خلاف یہ بہانہ بنا کر کہ وہ بیرونی قانونی جواز سے عاری ہے فوجی مداخلت کر سکے۔ یہ مطلب امریکی صدر اور وزیر خارجہ کے بیانات میں بھی واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔ براک اوباما نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی برادری کی نظر میں بشار اسد ایک باغی ہیں جو کسی بین الاقوامی وارننگ پر توجہ نہیں دیتے لہذا بین الاقوامی برادری کو یہ حق حاصل ہے کہ اسکے خلاف عملی اقدام انجام دے۔
5. تیونس کا یہ اجلاس ایسے حالات میں برگزار ہوا کہ شام کے کم از کم تین ہمسایہ ممالک نے اس میں شرکت نہیں کی اور اسکے خلاف موقف اپنایا۔ یہ تین ممالک عراق، لبنان اور اردن ہیں۔ دوسری طرف شام نے گذشتہ کئی ماہ کے دوران ترکی کے ساتھ اپنے مشترکہ بارڈر بر سیکورٹی کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مسلح افراد کے غیرقانونی داخلے کو تقریبا ناممکن بنا دیا ہے۔ جہاں تک لبنان کے ساتھ شام کے بارڈر کا تعلق ہے تو لبنان نے وہاں اپنی سیکورٹی فورسز کو بھیج کر اپنی شمال مشرقی سرحدوں کو بھی شام کیلئے محفوظ بنا دیا ہے۔ اسی طرح شام نے گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران اپنے اہم صوبے حمص جو تین ممالک لبنان، اردن اور عراق کے بارڈر پر واقع ہے میں بدامنی کو کنٹرول کر لیا ہے۔ شام کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے حمص آپریشن کے دوران حکومت مخالف مسلح گروپس کے تقریبا 5 ہزار افراد نے ہتھیار ڈال کر خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ اس وقت اس صوبے پر حکومتی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے اور شام کے حالات روز بروز بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ درحقیقت تیونس میں برگزار ہونے والا یہ اجلاس صدر بشار اسد کے مخالفین کو مصنوعی سانس دینے کی ایک کوشش ہے جبکہ ان میں بھی گروپنگ ہو چکی ہے۔ بشار اسد کے مخالفین کے ایک بڑے گروہ نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے اور اسے اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس میں شرکت نہیں کی۔
6. ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بشار اسد کے مخالفین کا مسئلہ اسلحہ کی کمی یا رسمی حیثیت کا نہ ملنا نہیں بلکہ انکا اصلی مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلح تحریک کے ذریعے شام کے اندر اپنا مقام کھو دیا ہے کیونکہ کوئی بھی گروپ دہشت گردی کے ذریعے معاشرے میں مقام پیدا نہیں کر سکتا۔ جہاں تک ان مسلح گروپس کو رسمی حیثیت دینے کا تعلق ہے تو یہ گروہ بنیادی طور پر امریکہ، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک کی پیداوار ہیں۔ بعض ممالک کی جانب سے ان دو مطالبات پر اصرار کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس طرح شام کے اندر ایک رعب اور دبدبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ اصل کھیل اب شروع ہونے والا ہے۔ شام کے عوام بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک عرصے سے بدنظمی صرف ایک شہر حمص تک محدود ہے اور حمص کے حالات بھی ماضی کی نسبت بہت بہتر ہو چکے ہیں۔
ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ تیونس کا منظرنامہ ایسے افراد کے منظرنامے کی مانند ہے جو اپنا کھیل ختم کر چکنے کے بعد تماشائیوں کی طرف سے کسی قسم کی حوصلہ افزائی اور داد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب جوکنگ اور مسخرا کھیل کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ابھی انکا تماشا جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 140874
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب