0
Friday 6 Apr 2012 23:06

بغداد میں عرب لیگ کا اجلاس اور نئے افق کی پیدائش

بغداد میں عرب لیگ کا اجلاس اور نئے افق کی پیدائش
تحریر: سعداللہ زارعی
اسلام ٹائمز- حسنی مبارک، زین العابدین بن علی اور عبداللہ صالح کی سرنگونی کے بعد سعودی عرب کے فرمانروا ملک عبداللہ اور بحرین کے بادشاہ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی غیرموجودگی میں بغداد میں منعقد ہونے والا عرب لیگ کے تئیسویں اجلاس نے ایک نئی سیاسی فضا کا تجربہ کیا اور ساتھ ہی ایک نئے مستقبل کی تصویر پیش کی۔ لہذا بغداد میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کو عرب لیگ کے ۲۲ عضو ممالک کیلئے ایک نیا "نکتہ آغاز" قرار دیا جا سکتا ہے جو ڈیڑھ کروڑ مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہیں اور اپنے اندر چالیس کروڑ آبادی کو لئے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. عرب لیگ 1945 میں یعنی اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر رسمی قبضے سے تین سال قبل معرض وجود میں آئی۔ اس تنظیم کی بنیاد اسرائیل کے خلاف مزاحمتی محاذ کی فرنٹ لائن پر قرار پائے چار ممالک یعنی مصر، اردن، لبنان اور شام نے رکھی اور سعودی عرب اور عراق بھی انکے حامی ممالک کے طور پر اس میں شامل تھے۔ عرب لیگ کی تشکیل کا بنیادی مقصد برطانیہ کی آلت دست ایجنسی کی جانب سے فلسطین پر قبضہ کرنے کو روکنا تھا۔ یہ ایجنسی یورپی ممالک سے یہودیوں کو فلسطین منتقل کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی تھی۔ کچھ عرصہ بعد افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا کے عرب ممالک بھی اس میں شامل ہو گئے اور اس طرح عرب لیگ سب سے بڑی عرب تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مسئلہ فلسطین اور اسکی آزادی عرب لیگ کی کامیابی یا ناکامی کو جانچنے کا اہم ترین معیار سمجھا جاتا ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ: گذشتہ 67 سال کے دوران عرب لیگ اور نتیجتا اسکے عضو ممالک اور اس پر حکمفرما آئیڈیالوجی اور اسکی اسٹریٹجی اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ نکتہ بھی توجہ کے قابل ہے کہ عرب لیگ نے چونکہ ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پیش ہونے والے ہر راہ حل کو اپنے تک محدود رکھنے کی کوشش کی ہے لہذا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے عرب اقوام سے بہت سے مواقع اور فرصتیں چھین لی ہیں اور حتی بعض اوقات خاص طور پر گذشتہ چند سال کے دوران اسرائیل مخالف منصوبوں کی مخالفت بھی کی ہے۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عرب لیگ اپنے ہی فلسفہ وجودی کے خلاف سرگرم عمل ہو چکی ہے جبکہ فلسطینی عوام کے حالات میں بھی کوئی خاص مثبت تبدیلی نہیں لا سکی۔
2. اگرچہ بغداد میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے اس اجلاس میں طرابلس اور دوحہ میں منعقد گذشتہ دو اجلاس کی نسبت عرب رہنماوں اور عرب سفارتی وفود کی زیادہ تعداد نے شرکت کی لیکن اسکے باوجود یہ اجلاس عرب ممالک کے درمیان اہم اختلافات کا شاخسانہ تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے بغداد میں 27، 28 اور 29 مارچ کو منعقد ہونے والے اس اجلاس کا انتہائی سردمہری سے استقبال کرنا اور حتی اسکا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنا عرب دنیا میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں پر اسکے ناراضی ہونے اور ان تبدیلیوں کو اپنی مرضی کی سمت میں لے جانے میں اسکی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی حکومت سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اس اجلاس میں سعودی عرب کی طرف سے بھرپور شرکت نہ کرنے کی وجہ پیش کرتے ہوئے اسے عرب عوام میں عرب لیگ کی عدم مقبولیت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ سعودی اخبار عکاظ اس بارے میں لکھتا ہے: "عرب عوام عرب لیگ کے رہنماوں کے اجلاس کیلئے زیادہ اہمیت کے قائل نہیں کیونکہ یہ اجلاس ہمیشہ سے ہی انتشار کا شکار رہے ہیں"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اور خاص طور پر پچھلے ایک سال میں عرب ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے بہت زیادہ کوششیں انجام دی ہیں اور بڑی مقدار میں پیسہ بھی خرچ کیا ہے لیکن اپنے دو بڑے رقیب یعنی مصر اور عراق کا اپنے اندرونی مسائل میں مشغول ہو جانے کے باوجود عرب دنیا میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو حکومتی اور عوامی سطح پر کنٹرول نہیں کر پایا۔ بغداد میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے اس اجلاس میں سعودی فرمانروا ملک عبداللہ کی غیرحاضری اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر کی حد تک اس میں شرکت اسکی ناتوانی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب "خلیج تعاون کونسل" کا کارڈ استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے اس 6 رکنی کونسل کے کردار کو 22 رکنی عرب لیگ کے کردار سے زیادہ بااہمیت ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
3. سعودی عرب کی محوریت میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک جو بغداد میں عرب لیگ کا اجلاس منعقد ہونے سے روکنے اور اس میں عرب سفارتی وفود کی اکثریت کی تعداد میں شرکت نہ کرنے کی اپنی کوششوں میں بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکے تھے نے اس اجلاس کی منعقدی سے پہلے اور منعقدی کے دوران اپنا تمامتر دباو اس اجلاس کے ایجنڈے پر متمرکز کر دیا۔ انکا مقصد ایک طرف اس اجلاس میں عرب ممالک میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریکوں کی حمایت کو محدود کرنا تھا اور دوسری طرف وہ چاہتے تھے کہ عربی اسلامی انقلابات کے بارے میں بحث و گفتگو صرف 4 یا 5 ممالک تک ہی محدود رہے۔ ماہرین کی میٹنگ تقریبا چار روز قبل منگل 27 مارچ کے دن متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے خلیج فارس کے جنوب میں واقع عرب ممالک کی جانب سے عراقی حکام کے نام ایک خط پہنچایا جس میں ان ممالک کی جانب سے بغداد میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کی کچھ شرائط بیان کی گئی تھیں۔ ان میں سے بعض شرائط یہ تھیں: شام کے صدر بشار اسد کو شرکت کی دعوت نہ دی جائے، عراق شام کی حکومت کے عدم جواز کے حق میں ووٹ دے، اجلاس میں بحرین کا موضوع پیش نہ کیا جائے،عراق طارق ہاشمی کا کیس اجلاس میں پیش کرنے کی اجازت دے اور اسکے خلاف ہر قسم کی کاروائی کو سب کی متفقہ رائے پر موکول کیا جائے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عرب دنیا کی تشویش کا اظہار کیا جائے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی جانب اس پیغام کے بعد عراقی حکام انتہائی پیچیدہ صورتحال کا شکار ہو گئے کیونکہ اس خط کے مقابلے میں جو خلیج تعاون کونسل کے نام سے انکے پاس پہنچا تھا سخت موقف اختیار کرنے سے عرب ممالک کی بڑی تعداد اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتی تھی اور اسکے علاوہ عرب لیگ کے وزرای خارجہ اور صدور مملکت کی میٹنگ بھی شدید تناو کا شکار ہو سکتی تھی۔ لہذا عراقی حکومت نے ایک درمیانہ راستہ انتخاب کیا اور شام کے صدر بشار اسد کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دی لیکن ساتھ ہی اجلاس میں شام کے مسئلے کو پیش کرنے کی مخالفت کر دی اور اسی طرح بحرین اور ایران کے جوہری پروگرام کا موضوع بھی اجلاس میں پیش نہ ہونے دیا۔ اسکے علاوہ عراقی حکومت نے سابق عراقی نائب صدر طارق ہاشمی جس پر 123 دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام ہے کے معاملے میں بھی عرب ممالک کا دباو مسترد کر دیا۔
اسی طرح اجلاس میں کویت کے امیر اور عمان کی جانب سے اعلی سطحی وفد کی شرکت ظاہر کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی جانب سے عراقی حکام کو دیا گیا خط خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک کے متفقہ موقف کو بیان نہیں کر رہا تھا۔ دوسری طرف عرب لیگ کے اس اجلاس میں بعض مقررین جیسے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل جناب نبیل العربی اور امیر کویت کی تقاریر میں ایران کے جوہری پروگرام کی جانب بہت ہلکا سا اشارہ کیا گیا جبکہ عراق کے وزیراعظم نوری مالکی نے بھی اپنی تقریر کے دوران، جسے قطر کے الجزیرہ نیوز چینل اور سعودی عرب کے العربیہ نیوز چینل نے مکمل طور پر سینسر کر دیا، ضمنی طور پر بحرین کے مسئلے کو مطرح کرتے ہوئے عرب سلطنتی حکومتوں پر اصلاحات کے نفاذ کیلئے زور دیا۔
اسکے علاوہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل اور بعض رکن ممالک کے وفود نے بغداد اجلاس کی 9 نکاتی قرارداد کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے شام کے مسئلے کو شدت سے مطرح کیا جسے مغربی ذرائع ابلاغ اور عرب کنزرویٹو پارٹیز نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اس طرح درحقیقت عرب لیگ کے 22 اراکین کی جانب سے متفقہ طور پر کئے گئے فیصلوں کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ طارق ہاشمی کو بھی سعودی حمایت یافتہ عرب حکومتوں نے کرد اقوام کی مدد سے عراق سے بھگا کر قطر پہنچا دیا۔ مجموعی طور پر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب کی مرکزیت میں عرب بادشاہی حکومتوں کا بلاک چونکہ شمالی افریقہ کے ممالک میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے اور جنوب مغربی ایشیا میں بھی بہت سے اسٹریٹجک پوائنٹس اسکے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اور اس وقت عرب دنیا میں اسلامی بیداری کی تحریک جیسے بڑے چیلنج سے روبرو ہے لہذا اس کوشش میں مصروف ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے غبارے میں ہوا بھر کر عرب لیگ کے رکن ممالک کے درمیان اپنی بڑھتی ہوئی گوشہ گیری کا ازالہ کر سکے۔ اسی راستا میں کچھ عرصے سے سعودی عرب کی جانب سے مراکش اور اردن کی دو عرب سلطنتی حکومتوں کو بھی اس کونسل میں شامل کرنے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو عرب دنیا دو پولز، ایک سلطنتی بادشاہی اور دوسرا جمہوری میں تقسیم ہو جائے گی۔ البتہ خطے میں جاری سیاسی تبدیلیاں امریکہ کی کٹھ پتلی حکومتوں، چاہے وہ سلطنتی ہوں یا جمہوری کی سرنگونی کی نوید دلاتی ہیں۔
4. بغداد میں عرب لیگ کا اجلاس خاص حالات میں منعقد ہوا ہے لہذا خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف تو یہ اجلاس مغرب کی کٹھ پتلی چار عرب حکومتوں تیونس، مصر، لیبیا اور یمن کی سرنگونی اور ان ممالک میں نئی حکومتوں کی تشکیل اور چار دوسری کٹھ پتلی عرب حکومتوں یعنی سعودی عرب، بحرین، مراکش اور اردن میں مشابہ انقلاب کے زلزلے شروع ہونے کے بعد منعقد ہونے والا پہلا اجلاس ہے اور دوسری طرف مغرب کی جانب سے نوری مالکی کی اسلام پسند حکومت کو قبول کئے جانے اور عراق کے نیو آرڈر کے معنا میں "خودمختار عراق" میں منعقد ہونے والا پہلا اجلاس بھی ہے۔ درحقیقت ان تمام حقائق اور الجزائر، سوڈان، شام، لبنان، کوموروس اور موریتانیہ کی جانب سے سعودی عرب اور اسکے عرب بلاک کے مقابلے میں واضح موقف نے عرب لیگ کی 11-11 کمپوزیشن کو انتہائی واضح انداز میں ظاہر کیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عراق عرب لیگ کے 11 اراکین کے موقف کی نمائندگی کر رہا ہے جو عرب لیگ پر ڈکٹیٹر حکومتوں کے تسلط کے خاتمے کی نوید دلاتی ہے۔ البتہ عرب لیگ کے انقلابی اسلامی تشخص کے احیاء تک ابھی کافی فاصلہ باقی ہے لیکن اسکی جانب سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے عرب لیگ کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا اور سعودی حکام کی جانب سے عرب لیگ کو نامعتبر قرار دینا اسکی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عرب لیگ کا اپنے انقلابی تشخص کی بازیابی کی جانب پہلا قدم ہے۔
5. اس اجلاس میں عراق کے تمام سیاسی دھڑے، حکومتی طالبانی، مالکی اور نجیفی شامل ہوئے اور اس طرح یہ اجلاس آبرومندانہ انداز میں منعقد ہوا۔ سیکورٹی حوالے سے بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ عراق کے سیاسی اور سیکورٹی سیٹ اپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ضروری سیاسی اور سیکورٹی صلاحیت اور توانائی کا حامل ہے۔ اگرچہ امریکہ اور برطانیہ کے کٹھ پتلی میڈیا ذرائع جیسے بی بی سی، ڈورجے ولے، وی او اے اور ریڈیو فردا جمعرات 29 مارچ کے سربراہی اجلاس تک امن و امان کے قیام میں عراق کے سیکورٹی اداروں کی ناکامی اور کمزوری کا تاثر دینے میں مصروف تھے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ عراق کے نئے سیاسی سیٹ اپ کو پسند نہیں کرتے اور اسکے ساتھ ساتھ عراق کی خودمختار کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اس اجلاس میں دو بڑے عراقی رہنما مسعود بارزانی اور ایاد علاوی غیرحاضر بھی تھے جسے مغربی اور سعودی ذرائع ابلاغ نے بہت بڑھا چڑھا کر بھی بیان کیا۔ مسعود بارزانی بغداد میں عرب لیگ کے اجلاس کی منعقدی کے قریب کردستان کی خودمختاری پر مبنی بیانات بھی دیتا رہا تاکہ یہ تاثر دے سکے کہ عراق میں خانہ جنگی ہونے والی ہے۔ ایاد علاوہ بھی العراقیہ پارٹی کا سربراہ ہونے کے ناطے اس اجلاس کے آستانے پر نوری مالکی کی کابینہ سے اپنے تمام وزرا کو نکال لینے پر مبنی بیانات دینے لگا تاکہ یہ تاثر دے سکے کہ عراقی حکومت کسی بڑے بحران کا شکار ہونے والی ہے۔ لیکن ان تمام سازشوں کے باوجود عراق کے نئے سیاسی نظام نے نہایت کامیابی سے اس اجلاس کو منعقد کروایا۔ بغداد میں عرب لیگ کے اجلاس کے خاتمے کے صرف تین دن بعد ہی طارق ہاشمی کا قطر منتقل ہونا نہ صرف ظاہر کرتا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی اور کردستان کی خودمختاری جیسی سازشوں کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے بلکہ ان مذموم سازشوں کے مکمل طور پر ناکام ہو جانے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سب پر یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران عراق کے بیگناہ اور مظلوم عوام کے خلاف ہونے والے تمام بم دھماکوں اور دہشت گردانہ اقدامات کے پیچھے سعودی عرب اور قطر کا ہاتھ تھا۔ ہمیں اس نکتے سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے کہ عراق میں بدامنی اور انارکی پھیلانا امریکہ، یورپ، سعودی عرب، قطر اور اندرونی علیدگی پسند قوتوں کا مشترکہ منصوبہ ہے یا دوسرے الفاظ میں ایک امریکی صیہونیستی سازش ہے۔ آئندہ چند روز، ہفتوں یا مہنیوں میں اس ناپاک سازش کے تحت عراق میں مزید دہشت گردانہ اقدامات انجام پانے کا بھی قوی امکان موجود ہے۔
خبر کا کوڈ : 150001
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب