0
Thursday 19 Apr 2012 15:00

واعتصموا بحبل اللہ

واعتصموا بحبل اللہ
تحریر: قمر رضوی

پرانے وقتوں کی ایک حکایت ہے جس سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو، کہانی میں ایک قریب المرگ شخص اپنے بکھرے ہوئے خاندان کو اکٹھا کرنے کے لئے لکڑیوں کے ایک ڈھیر کی مثال کا سہارا لیتا ہے کہ جدا جدا لکڑیوں کو ایک معمولی سے موڑ سے بھی توڑا جا سکتا ہے اور یہی لکڑیاں اگر ایک گٹھے کی صورت میں اکٹھی کر دی جائیں تو کسی بھی صورت میں انہیں نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اس کہانی سے جو سبق اخذ ہوا تھا، وہ تھا اتحاد و اتفاق کی قوت اور برکت۔

اتحاد ایک ایسا مظہر ہے جو منتشر اکائیوں کو یکجا کرکے ایک خوبصورت اور قابلِ استعمال صورت میں ڈھالتا ہے۔ مثلاً لوہے کی چند کڑیوں کو یکجا کر دیا جائے تو ایک اٹوٹ زنجیر بنتی ہے۔ چند موتیوں کو ایک دھاگے میں پرو دیا جائے تو خوبصورت ہار یا حسین تسبیح کا روپ دھار جاتے ہیں۔ بکھرے ہوئے اوراق میں سے دھاگہ گزار کر گرہ بندی کر دی جائے تو ایک قابلِ استفادہ کتاب بن جاتی ہے۔ وغیرہ۔ لیکن ایک بات قابلِ غور ہے کہ اتحاد و اتفاق ہمیشہ ایک جیسی چیزوں کے درمیان ہی قائم ہو سکتا ہے۔ دو مختلف اقسام کی اشیاء کسی بھی صورت میں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ اور اگر بفرضِ محال یکجا ہو بھی جائیں تو نتیجتاً بننے والی نئی شے میں استحکام اور حسن باقی نہیں رہتا۔
 
مثال کے طور پر اگر ایک زنجیر میں لوہے کے ساتھ ساتھ کسی اور دھات کی کڑیاں استعمال کرلی جائیں تو زنجیر تو بن جائیگی، لیکن اس میں وہ قوت نہیں رہے گی جو خالص آہنی زنجیر میں ہوتی۔ یا موتیوں سے بنے کسی ہار میں مصنوعی پتھر جڑ دیئے جائیں تو ہار تو بن جائیگا مگر حسن سے خالی ہو گا۔ انہی اکائیوں کو یکجا کرنے والا دھاگہ یا ٹانکا ٹوٹ جائے یا کسی اور عمل کے نتیجے میں یہ اکائیاں منتشر ہو جائیں تو اس عمل کو "شیرازہ بکھرنا" کہتے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور سائنسی مظہر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایک منفعت بخش نتیجہ حاصل کرنے کے لئے دو مخلتف اشیاء کو اس صورت میں یکجا ہونا پڑتا ہے کہ ایک شے کو دوسری میں سما کر خود کو ختم کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً سادہ پانی کو فرحت بخش شربت میں ڈھالنے کے لئے شکر کو قربانی دینا پڑتی ہے۔ شکر خود تو گھل جاتی ہے لیکن پانی کو شربت کی صورت دیکر بھی اپنی پہچان اور تاثیر برقرار رکھتی ہے۔

متعدد اکائیوں کے اتحاد یا اننتشار اور بقا و فنا کی مثال بعینہ فرد و ملت پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ کسی معاشرے کی اکائی ایک فرد ہوتا ہے اور چند افراد کی جمعیت ایک نظریئے کی رسی تھام کر ایک قوم کو تشکیل دیتی ہے۔ افراد کے پاس اگر جینے کے لئے کوئی نشانِ راہ یا کوئی عقیدہ و نظریہ نہ ہو تو انکی اور بے زبان جانوروں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں رہتا اور جانوروں کی ایک خصلت ہے کہ اگر کسی جانور کو کوئی فائدہ یا نقصان ہو رہا ہو تو دیگر جانوروں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بصد افسوس یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طویل عرصے سے ملتِ تشیعِ پاکستان کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور یہ خوبصورت ملت، افراد اور گروہوں میں منقسم ہو کر نہ صرف اپنی پہچان کھو بیٹھی تھی، بلکہ اتفاق کی برکت اٹھ جانے کی وجہ سے ہر قسم کی سازش کا بھی باآسانی شکار ہو جاتی تھی۔ اسی نااتفاقی کی نحوست کی وجہ سے تشیع کی تسبیح جو بکھری تو موتیوں کی صورت میں کچھ سنگریزے بھی موتیوں کے ڈھیر میں آ شامل ہوئے، جسکے باعث موتی بھی اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ 

یہ ایک ایسی گھناؤنی سازش تھی جسکے نتیجے میں ملت سے اسکا نظریہ چھین کر اسے افراد اور ٹولیوں میں بانٹ دیا گیا اور عقائد پر حملہ کر کے تشیع کا وقار پامال کرنے کے لئے اسکی صفوں میں کالی بھیڑوں کو چھوڑ دیا گیا۔ جب عقائد و نظریات سے عاری کرکے ملت کے باعزت افراد کو جانوروں سے بھی بدتر مقام پر پہنچا دیا گیا تو ایسا قتلِ عام کیا گیاجس کی تفاصیل سے سب آگاہ ہیں۔


ملتِ تشیع کے بیٹوں کے اس بیہمانہ قتلِ عام سے جو نقصان ہوا ہے اسکی تلافی تو ممکن نہیں، لیکن اپنے آپ کو فنا کرنے والے بقا کے سمندر سے متصل ہوگئے۔ شہداء کے خون کے ان چھینٹوں سے خوابیدہ امت کے افراد میں بیداری کی ایک لہر دوڑ گئی۔ قوم کے باعزت افراد نے اپنی قربانی پیش کی اور ملت کے افراد کے لئے اتحاد و اتفاق کے سبق کا شیریں شربت پیش کرگئے۔ اور چشمِ فلک نے دیکھا کہ اس ملک کے منتشر شیعہ عوام اپنے حقوق کے مطالبے کے لئے متحد ہونا شروع ہوگئے۔ ملک کے چپے چپے پر ہزاروں مؤمنین دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ متحد ہو کر احتجاج کیا گیا اور دنیا بھر کے اربابِ اختیارکے سامنے اپنے آپ کو ایک قوم کی مانند پیش کیا۔
 
صرف یہی نہیں، ملت کے جوانوں کے سرپرست کل جس صورت میں اکٹھا ہوئے اور حکومت کے سامنے اپنا دو ٹوک مؤقف پیش کیا وہ یقیناً قابلِ ستائش و تقلید ہے۔ ہمارے اتفاق کے مظاہرے نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کالی بھیڑوں سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں جو ہمارے ہی روپ میں ہماری ہی صفوں میں گھس کر عقائد اور جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور اپنے آقاؤں سے بھی اجرت وصول کرتے ہیں۔ اتحاد و اتفاق کے اس مظاہرے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق اور خدا سے اسکی مدد کی مشکور ہے۔

دوستو! ہمارا یہ اتحاد و اتفاق ایک سرمایہ ہے، جسے کسی بھی صورت میں ضائع نہیں ہونے دینا۔ خدا کا صد شکر ہے کہ ہمارا وارث بھی زندہ ہے اور اسکے نمائندے بھی ہماری رہنمائی کے واسطے موجود ہیں۔ یہ منزل نہیں، آغازِ سفر ہے۔ ہمیں اسی طرح شانہ بشانہ باطل کا مقابلہ کرنا ہے۔ ابھی قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم کرنا ہے۔ فتح ہماری امید اور شہادت ہماری میراث و آرزو ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ فقط یہ ملک ہمارا ہے۔ نہ اسکی حکومت، نہ اسکی عدلیہ، نہ اسکی انتظامیہ اور نہ اسکے ذرائعِ ابلاغ ہمیں امید دلا سکتے ہیں۔ 

ہماری امید صرف اللہ اور اپنے امام (عج) سے وابستہ ہے۔ ہم اگر اسی طرح متحد رہے تو دنیا کی کوئی طاقت نہ ہمیں سرنگوں کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی سازش ہمارے درمیان پھوٹ ڈال سکتی ہے۔ لیکن خاکم بدہن اگر ہم نے حبلِ اللہ کو چھوڑ دیا اور پھر تفرقہ بازی میں پڑ گئے تو دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی ختم ہو جائیں گے۔ خدا سے اسکے حبیب (ص) اور آپ کی آلِ اطہر (ع) کے صدقے میں یہ دعا ہے کہ اس قوم کو اتفاق و اتحاد کی دولت سے مالا مال رکھے اور باطل کے ساتھ ایسے ہی نبردآزما رکھتے ہوئے اپنے وارث کے لشکر کا حصہ بنا دے۔ آمین۔
خبر کا کوڈ : 154765
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
متعلقہ خبر