0
Saturday 22 Sep 2012 00:29

خیبر پختوا میں اے این پی

خیبر پختوا میں اے این پی
تحریر: رشید احمد صدیقی 

عوامی نیشنل پارٹی اصل میں پختون قوم پرست پارٹی ہے، لیکن اسے کبھی بھی قبائلی اور بلوچستان کے پختونوں میں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کی سیاست کا مرکز و محور خیبر پختونخوا اور اس میں بھی وسطی اضلاع پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، نوشہرہ رہے ہیں۔ 1988ء میں طویل عرصہ بعد پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو پہلی بار الیکشن میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اس الیکشن میں کسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کیا تو اسے قومی اسمبلی میں صرف دو نشستوں پر کامیابی ملی۔ ایک خان عبدالولی خان کی نشست چارسدہ سے اور دوسری عبدالخالق خان کی نشست صوابی سے تھی۔ 

اس کے فوراً بعد اس جماعت نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور مرکز و صوبہ کی حکومتوں میں شامل ہوئی۔ بعد میں پی پی پی کے ساتھ اختلاف پیدا ہوا اور مسلم لیگ ن کی اتحادی بنی۔ اس کے بعد اس قوم پرست جماعت نے ہمیشہ اتحادی سیاست کی۔ انتخابی سیاست میں اسے کافی کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ اس کے باوجود اسے فاٹا اور بلوچستان کے پختون حلقوں میں رسائی حاصل نہ ہو سکی۔ پختونوں کے حقوق اس جماعت کا ہمیشہ نعرہ رہا ہے۔ صوبے کے لیے پختونخوا کا نام اور بجلی کی رائلٹی اس کے منشور کے بڑے نکات رہے ہیں۔ 

آخری انتخابات میں صوبہ میں امن و امان کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ تھا، چنانچہ اس قوم پرست جماعت نے پختونوں کو امن دینا اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہر جماعت کے منشور کا ناگزیر حصہ ہوتا ہے، اس طرح کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا بھی اچھا سیاسی نعرہ ہوتا ہے، چنانچہ اے این پی کے لیے یہ خوش کن نعرے بھی موجود تھے۔ اب پانچ سال گزرنے کو ہیں۔ یہ اچھا موقع ہے کہ جائزہ لیا جائے کہ اے این پی نے اپنے منشور اور نعروں پر کتنا عمل کیا ہے اور اگلے انتخابات کے لیے اس نے کتنا کام کیا ہے۔ 

امن و امان کی صورت حال تو سب کو معلوم ہے، اگرچہ اے این پی کے رہنماء یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے صوبہ میں امن بحال کیا ہے، لیکن پشاور کی سڑکیں، سیکرٹریٹ کے دروازے اور خود اے این پی کے مرکزی قائد اسفندیار ولی کی خود ساختہ وطن بدری اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ اے این پی نے امن بحال نہیں کیا ہے اور اس کا کم از کم یہ دعویٰ جھوٹ ہے۔ 

پختون بڑے بہادر ہوتے ہیں۔ موجودہ بدامنی میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی زندگی کو خطرات لاحق رہے ہیں۔ سب سے زیادہ حملے آفتاب شیرپائو اور مولانا فضل الرحمان پر ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی کو کافی خطرات لاحق ہیں، لیکن یہ ان کی بہادری ہے کہ احتیاط کے ساتھ اپنی حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں اور کبھی بھی سیاست سے چھٹی نہیں کی ہے اور نہ ہی قائمقام مقرر کیا ہے۔ مقابلہ میں خالص پختون ولی کے علمبردار اسفندیار ولی خان نے 99فیصد وقت اپنے حلقہ اور صوبہ سے باہر گذارا ہے۔ اور 70 فی صد وقت پارٹی کو قائمقام صدر چلاتے رہے ہیں۔ ان کا انداز سیاست کبھی بھی پختون کی بہادری کا آئینہ دار نہیں رہا۔ 

اے ین پی ماضی میں بھی حکومتوں کا حصہ رہی ہے لیکن تاریخ میں پہلی بار وزارت اعلٰی اسے اس بار ملی ہے۔ باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان سید آزادی سے قبل صوبہ کے وزیر اعلٰی رہے تھے۔ آزادی کے بعد ان کو حکومت کبھی نہ مل سکی تھی۔ چنانچہ اے این پی کے صوبائی حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ جس چیز پر نظر تھی وہ بجلی کا معاملہ تھا۔ اسی قوم پرست جماعت کا نعرہ ہوتا تھا کہ بجلی ہماری ہے اور اس کی چابی پنجاب کے پاس ہے۔ اس کے لیڈر مرکزی حکومت کو ہمیشہ پنجاب ہی کہتے رہے ہیں۔ 

اس بار حکومت ملنے کے بعد بجلی کے مسئلے پر رتی برابر پیش رفت نہ ہوسکی۔ ایم ایم اے حکومت نے بجلی کے مسئلے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا رکھا تھا اور اس وقت کے سینئیر وزیر سراج الحق نے صوبے کا مقدمہ کامیابی سے لڑ کر واپڈا سے رائلٹی کی مد میں 126 کروڑ روپے منوالیے تھے۔ علاوہ ازیں طویل عرصہ سے صوبہ کو رائلٹی کی مد میں چھ کروڑ روپے ملتے ہیں، موجودہ حکومت نے اس رقم میں کوئی اضافہ کیا اور نہ ہی مرکز سے حاصل کی جانے والی رقم کو بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکا۔ موجودہ حکومت کے دور میں بجلی کے جس بحران کا قوم کو مسلسل سامنا رہا، وہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ 

اے این پی کے دور میں ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی کہ اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبے کا نام شمال مغربی سرحدی صوبہ سے تبدیل ہوکر خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ اس قوم پرست جماعت کی قیادت اسی بات پر مونچھوں کا تائو دے کر کہتی ہے کہ ہم نے صوبہ کو نام لاکر دیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جماعت کے منشور میں کبھی بھی صوبہ کا نام بدل کر خیبر پختوننخوا نہیں رہا تھا۔ یہ لوگ ہمیشہ پختونخوا اور پختونستان کا نام لیتے تھے۔ قومی اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ 1990ء میں جب قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا انتخاب ہو رہا تھا۔ مسلم لیگ ( آئی جے آئی) کی جانب سے نوزا شریف امیدوار تھے۔ مقابلہ میں پیپلزپاٹی نے افضل خان لالا کو امیدوار بنایا ہوا تھا۔
 
ان کا بنیادی تعلق اے این پی سے رہا، لیکن بیچ میں راستے بدلتے رہے۔ آج کل اے این پی میں ہی ہیں، لیکن اس سے ناراض ناراض لگتے ہیں۔ سوات آپریشن میں پارٹی لیڈروں کے برعکس بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں ڈٹے رہے اور جرات کے ایوارڈ سے نوازے گئے۔ 1990ء میں وزارت عظمٰی کا الیکشن ہارنے کے بعد قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے صوبہ کو پختونخوا کہا تو اس وقت کے اسپیکر گوہر ایوب خان نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ آئین میں اس نام کا کوئی صوبہ نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا نام اے این پی کی قیادت نے ماضی میں کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود آج کل اس نام کا سہرا یہ لوگ اپنے ہی سر پر سجاتے ہیں۔ 

کرپشن اور میرٹ سے ماورا تقرری بھی موجودہ حکومت کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ یہ کام تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں کہا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین نوکریاں بیچتے ہیں اور اپنے ہی لوگوں میں سے جو زیادہ پیسے دیتے ہیں، ان کو نوازا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کافی مثالیں لوگ پیش کرتے ہیں۔ اس حکومت کے دور میں نصاب تعلیم بالخصوص اسلامیات اور معاشرتی علوم نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں جو کافی متنازعہ رہیں اور ان کی وجہ سے حکومت اور پارٹی کو کافی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک اور بات اس حکومت کے وفاقی وزراء کی کارکردگی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنماء غلام احمد بلور کی وزارت ریلوے پارٹی کے لیے کافی شرمندگی کا سبب رہی ہے۔ بہت ہی بڑا سرکاری ادارہ بند ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے اور یہ بدنامی اے این پی کے حصہ میں آئی ہے۔ 

پارٹی کے اندر اور باہر ایک سوال بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے کہ صوبائی صدر افراسیاب خٹک نہ تو عوامی شخصیت ہیں اور نہ پارٹی میں مقبول ہیں۔ ماضی میں کمیونسٹ نظریات رکھنے والے یہ لیڈر اچانک اے این پی کی صوبائی صدارت تک کیسے پہنچے اور پاکستان میں امریکی پالیسیوں کے سب سے بڑے علم بردار بن گئے۔ سیاسی لوگ اور خود اے این پی کے روایتی لوگ ان کو بطور صوبائی صدر قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ وہ کمیونسٹ نظریات سے سرمایہ دارانہ میدان میں کودنے سے قبل این جی او کے راستے پر چل پڑے تھے اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے صدر بھی بنے تھے۔ این جی اوز کا تجربہ اور تناظر ان کا خاصا مضبوط رہا ہے۔ 

اپنی جماعت میں بھی وہ باچا خان فائونڈیشن کے سربراہ رہے ہیں، لیکن گزشتہ سات آٹھ سال کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا اور بدترین سیلاب بھی۔ اس طرح چالیس لاکھ تک لوگ ملاکنڈ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور اب بھی دس لاکھ سے زائد قبائلی آپریشنوں کی وجہ سے اپنے گھروں سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن افراسیاب خٹک کی باچا خان فائونڈیشن کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آرہا ہے۔ 

موجودہ حکومت میں چند مثبت باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ پہلے یہ لوگ چوکوں کا نام باچا خان چوک رکھتے تھے، اب انھوں نے اپنے لیڈروں کے نام پر یونیورسٹیاں، کالج اور تعلیمی ادارے بنانا شروع کیے ہیں۔ نام اب چوک سے بڑھ کر ائیرپورٹ تک جا پہنچے ہیں۔ اس طرح وزیراعلٰی امیر حیدر خان ہوتی کی ذاتی شخصیت اور قابلیت کافی متاثرکن رہی ہے۔ ناتجربہ کاری کے باوجود ساڑھے چار سال کے دوران ان کے قول و فعل میں ایسی لغزش بھی محسوس نہیں ہوئی ہے کہ جس پر پارٹی قیادت یا کارکن کو عوام کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی ہو۔

ایک اور خوش کن تاثر بہادری کے حوالے سے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اور بشیر بلور کا ہے۔ اول الذکر کے جوان سال اکلوتے صاحبزادے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں، لیکن وہ خود دلیری کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسفندیار کے برعکس سینئیر وزیر بشیر بلور بھی اس معاملے میں بہت زیادہ بہادر ثابت ہوئے ہیں، موت کا کوئی خوف ان کے کردار پر اثر انداز نہیں ہوا ہے اور جہاں دھماکہ یا خطرہ ہو، وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان خوبیوں اور کاموں کے ساتھ اے این پی اگلے انتخابات میں عوام کے سامنے جائے گی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان اتحاد ہو گیا تو اے این پی کے لیے موجودہ حیثیت برقرا رکھنا ناممکن ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 197405
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب