0
Monday 22 Oct 2012 23:33

صدر زرداری کا اعتراف شکست اور شدت پسند طبقہ

صدر زرداری کا اعتراف شکست اور شدت پسند طبقہ
تحریر: تصور حسین شہزاد

صدر آصف علی زرداری نے سیفما کے زیرِاہتمام ’’میڈیا، عسکریت پسندی اور شفاف انتخابات‘‘ کے موضوع پر ایوانِ صدر میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آخر وہ کڑوا سچ بول ہی دیا جسے زبان پر لانے کے لیے وہ عرصہ دراز سے بیتاب تھے، یعنی ملک میں بچھا ہوا دینی مدرسوں کا وہ جال جس کی آڑ میں دہشت گردی کی تربیت دینے والوں نے اُن مقتدر قوتوں کو بھی بے بس و لاچار کر رکھا ہے، جنہوں نے افغان روس جنگ میں امریکہ کے تعاون سے ان ’’مجاہدین‘‘ کی سرپرستی کی تھی، انہیں عسکری تربیت دی تھی، ان کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا تھا، گوریلا جنگ لڑنے میں مہارت دے کر افغانستان کے اُن پہاڑوں میں کیمپنگ کروائی تھی، جہاں سے آج یہ عسکریت پسند ہمارے ہی ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کے لیے مسلح خودکش حملہ آوروں کو بھیجتے ہیں اور ملالہ یوسف زئی جیسی بچیوں پر گولیاں چلاتے ہیں۔

یہ الگ بات کہ وہاں بھی ان کے سرپرست وہی ہیں جنہوں نے اُس وقت ان کی مدد کی تھی جب ہم افغان جنگ میں ان کے حلیف تھے مگر آج وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے ہمارے ساتھ ان بن رکھتے ہیں اور ہمیں ملالہ کے مجرموں کی حوالگی کے لیے ان سے مطالبہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی لمحہ فکریہ ہے کہ ایوانِ صدر میں سخت حفاظتی حصار میں بیٹھا ہوا شخص بھی ان عسکریت پسندوں کے خوف سے لرزاں ہے، ایسے میں کوئی عام آدمی کس طرح خود کو محفوظ و مامون سمجھ سکتا ہے۔؟

صدر کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں الیکشن کی فضا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں مذہبی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں، اس لیے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے، انہیں کیفرِ کردار تک پہچانے کے لیے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی راہ میں دشواریاں ہیں اور اس مرحلہ پر اسے چھیڑنا مناسب نہیں، یوں صدر نے ایک اور تلخ حقیقت کی طرف انگشت نمائی کرکے تمام سٹیک ہولڈرز کی مجبوریاں بیان کرکے عوام کو متنبہ کر دیا ہے کہ ابھی ان کے خیر خواہ اور ہمدرد سیاستدان عسکریت پسندوں کے سامنے بے بس و لاچار ہیں کہ پاکستان کے آئندہ انتخابات میں انہیں ان کے بہی خواہوں کے ووٹ درکار ہیں، لہٰذا لوگ اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور اس وقت کا انتظار کریں جب ایک غیر جانب دار الیکشن کمیشن اور ایک ’’اتفاق رائے‘‘ سے چنیدہ نگران حکومت کے زیرِانتظام ملک میں صاف اور شفاف انتخابات انعقاد پذیر نہیں ہو جاتے۔

اس کے بعد ہی نئی آنے والی حکومت شدت پسندوں کے بارے میں کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے کے قابل ہوسکے گی، اس تناظر میں دیکھا جائے تو اگلے عام انتخابات میں کیا گل کھلنے والے ہیں، یہ سوچ کر ہی اوسان خطا ہوئے جا رہے ہیں کہ ہمارا مستقبل کن ہاتھوں میں جانے والا ہے۔ وہ مدارس جن کے لمحہ بھر میں ایک ہو جانے سے صدر زرداری خوف زدہ ہیں، کیا وہ عام انتخابات کے موقع پر نیچے بیٹھ رہیں گے؟ جبکہ ان کو پتہ ہو کہ ان کے نتائج سے ان کی بقا وابستہ ہے، اگر ان کے حامی یا ہم خیال لوگ ان میں کامیاب نہ ہوئے تو ان کے لیے اپنی منزل کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ زندگی اور موت کا مرحلہ درپیش ہو تو پھر بلی بھی شیر بن جاتی ہے اور جو لوگ پہلے سے ہی ’’سرفروشی‘‘ کی تمنا لئے اپنے مخالفین کو نیست و نابود کرنے کیلئے کمر بستہ ہوں ان کے سامنے مزاحمت کون کرسکتا ہے؟ ایسے میں کیا اگلے الیکشن کے بارے میں یہ توقع کرنا کہ وہ صاف اور شفاف ہوں گے سوچنا ہی عبث ہے، یہ پرامن ماحول میں کسی کشت و خون کے بغیر ہی منعقد ہو جائیں تو معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر ایک اور بات کرکے دہشت گرد عناصر کی طرف سے عوام کو ایک مزید خلجان میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہم عسکریت پسندوں کو اپنی سرحدوں سے باہر کارروائیوں کی اجازت نہیں دیں گے، یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ تخریب کار پاکستان کے اندر اپنی مذموم تخریب کاری کے لئے آزاد ہیں، انہیں پاکستانی عوام کا خون ارزاں کرنے کی کھلی چھوٹ ہے، حکومت اپنی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ان کے حمائتیوں کے ووٹ بھی لینے کو بیتاب ہے، لہٰذا یہ شدت پسند اس وقت تک جو چاہیں کریں، کوئی ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوگا، بس وہ اتنی مہربانی کریں کہ پاکستانی سرحدوں سے پار ہمارے ان ’’پیاروں‘‘ پر حملے نہ کریں جو پاکستان کی حکمران اشرافیہ کو ڈالروں سے بہلاتے اور قوت مہیا کرتے ہیں۔

ملالہ پر حملے کا مقصد بیان کر تے ہوئے صدر نے واضح تو کر دیا کہ دہشت گرد طاقت کے بل بوتے پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں مگر ساتھ ہی ڈرون حملوں کا ذکر کرکے ان سیاسی قوتوں کو مزید انگیخت بھی کر دیا، جو یقیناً اگلے الیکشن میں ان ڈرون حملوں کو ہی اپنی سیاست کا محور بنا کر میدان میں اتریں گی اور ڈرون حملوں میں ہلاک شدگان کے خون پر سیاست چمکا کر ایک ایسی جذباتی فضا تیار کریں گی جس کا مقابلہ کرنا اس بار شاید لبرل ونگ کے بس کی بات نہ ہو۔

صدر آصف علی زرداری کے بیان کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ ہوش گم کردہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ صدر نے نہ جانے کس عالم میں بجائے دہشت گردوں کو سخت پیغام دینے کے اپنی کمزوریوں اور عسکریت پسندوں سے مرعوبیت کی بات کرکے ان منفی عناصر کی حوصلہ افزائی کر دی ہے، جس کے نتائج و عواقب کے بارے میں سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔ اقتدارِ اعلٰی پر براجمان شخص ہی جب بے حوصلہ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے، جس سے شکست خوردگی کا تاثر ابھرتا ہو تو ایسے میں عام آدمی جس نے قیادت سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ وہی اسے امان دے گی، اسے تحفظ مہیا کرے گی، اس کے جان و مال کی حفاظت کرے گی، اس کے بچوں کی رکھوالی کرے گی، اسے پرامن ماحول دے کر اسے کاروبارِ زیست چلانے میں سہولت دے گی، وہ کہاں جائے؟

یہاں ایسی صورت حال میں عام آدمی کیا کرے؟ کس جگہ امان پائے، اپنے بچوں کو کہاں لے جائے، جہاں وہ بے خوف و خطر اپنی زندگی گزار سکے، جہاں اسے بم دھماکوں کا ڈر ہو نہ کسی خودکُش بمبار کا۔ ہمارے خیال میں صدر آصف علی زرداری نے عالمِ بیچارگی میں جو اعترافِ شکست کر لیا ہے وہ اگلے عام انتخابات کا رُخ متعین کرکے نئے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایم ایم اے کے تنِ مردہ میں نئی روح پھونکے جانے کا عمل اس کی طرف واضح اشارہ ہے، جس کے سیاسی مضمرات کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے کسی بقراطی ذہن کی ضرورت نہیں۔
خبر کا کوڈ : 205735
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش