0
Saturday 14 Sep 2013 22:57

اوباما شام پر فوجی حملے سے خوفزدہ کیوں؟

اوباما شام پر فوجی حملے سے خوفزدہ کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

اسلام ٹائمز- امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف یکطرفہ فوجی کاروائی جس کے انجام پانے میں کسی شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی کچھ مدت کیلئے یا پھر ہمیشہ کیلئے ملتوی ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ آج کل شام کے خلاف امریکی فوجی حملے میں تاخیر کی وجوہات اور اسباب کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن اس امر کی حقیقی وجوہات کے بارے میں بہت کم سننے کو ملا ہے۔ 
 
حقیقت یہ ہے کہ شام کے خلاف امریکی فوجی حملے میں تاخیر کا حقیقی سبب امریکی حکومت اور کانگریس کے درمیان اختلافات یا دو امریکی سیاسی جماعتوں ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کے درمیان پائے جانے والے اختلافات یا امریکی تحقیقاتی اداروں اور موثر سیاسی شخصیات کی جانب سے اس حملے کی مخالفت کا اعلان نہیں۔ اسی طرح اس فوجی کاروائی کے ملتوی ہونے کا حقیقی سبب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں متفقہ قرارداد کی عدم منظوری یا امریکہ اور اس کے روایتی اتحادی ممالک کے درمیان اتفاق رائے کا نہ ہونا یا برطانیہ اور فرانس کی جانب سے اس حملے میں امریکہ کا ساتھ نہ دینا بھی نہیں۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس فوجی حملے میں التوا کا سبب یہ ہے کہ امریکہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کے اثرات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتا ہے اور اس حملے کے نتیجے میں پیش آنے والے ممکنہ ردعمل کے بارے میں پائے جانے والے ابھامات اس میں تاخیر کا باعث بنے ہیں۔ البتہ اس کا ہرگز یہ معنا نہیں کہ امریکہ میں شام کے خلاف فوجی کاروائی پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے یا یہ کہ مغربی دنیا میں شام کے خلاف فوجی حملے کے بارے میں سب ایک جیسی رائے کے حامل ہیں یا یہ کہ شام کے خلاف مسلح کاروائی کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس پوری طرح مکمل ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں پایا جاتا بلکہ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شام کے خلاف امریکی فوجی کاروائی میں تاخیر کا حقیقی سبب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب پانے کیلئے مندرجہ ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:

1. امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ چند روز کے دوران جب مختلف فوجی ذرائع اتوار 1 ستمبر کو شام کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی حملے کے آغاز کا وقت بتا رہے تھے، اپنے مختلف بیانات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی عوام جنگ سے تھک چکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی عوام ایک حقیقی جنگ کے بارے میں اپنے فوجی اور سیاسی رہنماوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ جناب براک اوباما نے کہا: 
"شام کے خلاف فوجی کاروائی امریکی حکومت کیلئے ایک اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور امریکہ دنیا کا لیڈر ہونے کے ناطے شام کے خلاف فوجی کاروائی انجام دے گا"۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکی صدر کو شام کے خلاف فوجی کاروائی کے سلسلے میں ملک کے اندر کسی رکاوٹ کا سامنا بھی کرنا پڑے تو وہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔  
 
2. امریکی صدر اوباما اپنی گذشتہ ہفتے بدھ کے دن کی تقریر میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ انہیں شام کے خلاف فوجی کاروائی کیلئے اقوام متحدہ سے کسی قسم کی اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں اور ان کا بھروسہ یورپی ممالک کی جانب سے ہمراہی پر بھی نہیں بلکہ ایک عالمی لیڈر (!) ہونے کے ناطے شام کے خلاف فوجی حملے کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہے۔ لہذا براک اوباما کیلئے پہلے سے ہی یہ واضح ہو چکا تھا کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کیلئے یورپی ممالک پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی نئی جنگ کے آغاز پر یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان دو بڑے اختلافات موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ انہیں یقین حاصل ہو چکا ہے کہ مشرق وسطی میں ایک نئی جنگ چاہے وہ یورپی ممالک کے تعاون سے انجام پائے یا ان کی ہمراہی کے بغیر، امریکہ کے مطلوبہ مقاصد کو پورا نہیں کر سکتی۔ دوسرا یہ کہ یورپی ممالک ایسا محسوس کرتے ہیں کہ ایک امریکی جنگ میں ان کی مشارکت صرف اخراجات برداشت کرنے کیلئے ہوتی ہے جبکہ اس کا حقیقی فائدہ امریکہ کو ہی پہنچتا ہے۔ لہذا پہلے سے یہ بات واضح تھی کہ اس بار یورپی ممالک ایک نئی امریکی جنگ کے اخراجات فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ 
 
3. شام کے خلاف ممکنہ فوجی کاروائی کے سلسلے میں امریکہ انٹیلی جنس کی شدید کمی اور کمزوری کا شکار ہے جس کا مداوا کرنا اتنی آسانی کی بات نہیں۔ امریکہ ایران اور اس کے ممکنہ ردعمل سے بالکل ناواقف ہے۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان کے بارے میں امریکہ کی معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ شام کی جانب سے اپنی فوجی کاروائی کے ممکنہ ردعمل اور اس کی شدت کے بارے میں شدید قسم کے ابہامات سے دوچار ہے۔ دوسری طرف جب امریکی صدر براک اوباما چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے شام کے خلاف فوجی کاروائی کا اعلان کرتے ہیں اور اسے ایک ہفتے یا ایک ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں تو سب کو ان سے یہی توقع ہونی چاہئے کہ وہ اس کاروائی کے ممکنہ اثرات اور شام اور اس کی حامی قوتوں کی جانب سے ممکنہ ردعمل کی نوعیت اور شدت کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی حاصل کر چکے ہیں اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی وضع کر چکے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر فوجی حملے کے جواب میں ایک غیرمتوقع ردعمل سامنے آتا ہے جس کا مقابلہ کرنا امریکہ اپنے بس میں نہیں پاتا تو اس کی تمامتر ذمہ داری امریکی صدر ہی کے کاندھوں پر عائد ہوتی نظر آتی ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ اپنی فوجی کاروائی کو ہوائی حملوں تک محدود کرنا چاہتا ہے اور زمینی حملے کی ذمہ داری شام حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح دہشت گرد تکفیری گروہوں کو دینا چاہتا ہے۔ لہذا مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے امریکہ کو اس بارے میں مطمئن ہونا پڑے گا کہ حکومت مخالف مسلح دہشت گرد گروہ موثر انداز میں زمینی کاروائی انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کا ابہام امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کاروائی شروع کرنے میں تردد کا باعث بن سکتا ہے۔ 
 
4. بعضی سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شام کے خلاف امریکی فوجی حملے میں تاخیر اوباما کی جانب سے بھیجے گئے نمائندوں اور ایران کے اعلی حکام کے درمیان خفیہ مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ یہ سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل عمان کے بادشاہ سلطان قابوس اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سیاسی مشیر جیفری فیلٹمن جو ماضی میں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور کافی عرصے تک شام اور لبنان میں امریکی سفیر بھی رہ چکے ہیں، کا ایک ساتھ ایران کا دورہ ایک خاص اہمیت کا حامل تھا۔ اس دورے میں شام کے بحران کے بارے میں بھی گفتگو انجام پائی ہے جس کے نتیجے میں شام کے خلاف امریکی حملہ موخر کر دیا گیا ہے یا فوجی کاروائی کے آپشن کو مکمل طور پر ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ 
 
اس بارے میں کسی قسم کا کوئی شک موجود نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی مشیر اور ایران کے اعلی حکام کے درمیان ملاقاتوں میں شام کا بحران بھی زیربحث آیا ہو گا کیونکہ ان کے درمیان انجام پانے والی گفتگو میں شام جیسے ایران کے اسٹریٹجک اتحادی پر ممکنہ امریکی فوجی حملے جیسا اہم موضوع زیربحث قرار پانا ایک قدرتی عمل ہے۔ حتی اگر ان دو افراد کے علاوہ ایشیا، یورپ یا افریقہ سے کوئی اور اہم سیاسی شخصیت ایران کے دورے پر ہوتی تو ایرانی اعلی حکام کے ساتھ ان کے مذاکرات میں بھی یہ موضوع یقینا گفتگو کا محور قرار پاتا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ان مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان اہم معاملات بھی طے پائے ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام سے متعلق ایران کی جانب سے امریکہ کی جزئی طور پر ہمراہی شام کے خلاف امریکی فوجی کاروائی کو روکنے کیلئے کافی نہیں چونکہ اس فوجی کاروائی سے امریکہ کا مقصد بشار حکومت کو سزا دینا یا حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح دہشت گرد گروہوں کو فنی حمایت فراہم کرنا بھی نہیں بلکہ ایک ایسی فوجی سپرپاور کی جانب سے شام پر چڑھائی کا مقصد جس نے عالمی سطح پر اپنی حیثیت فوجی طاقت کے بل بوتے پر ہی حاصل کی ہے، دمشق حکومت کی مکمل سرنگونی سے کمتر نہیں ہو سکتا۔
 
ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے شام بحران کو جزئی طور پر حل کرنے کیلئے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات انجام پانے کا تصور انتہائی لایعنی اور باطل تصور ہے۔ لیکن دوسری طرف ایسا بھی ہر گز ممکن نہیں کہ ایران نے خطے میں شام جیسے اپنے منفرد اور اسٹریٹجک اتحادی کو اپنے حال پر چھوڑ رکھا ہو۔ کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران شام پر امریکہ جیسے افزون طلب دشمن کے قبضے کو جو دراصل اسرائیلی قبضے کے مترادف ہے اپنے لئے ایک انتہائی شدید خطرہ تصور کرتا ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے اپنی تمامتر فوجی اور غیرفوجی توانائیوں کو بروئے کار لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ لہذا اگر ہم یہ مان لیں کہ عمان کے بادشاہ سلطان قابوس نے شام کے مسئلے پر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی مشیر جیفری فیلٹمن بھی کسی مخصوص پیغام کے حامل تھے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی حکام نے ان مذاکرات میں اپنی جانب سے شام کی بھرپور حمایت پر شدید تاکید کی ہو گی۔ 
 
5. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں شام پر امریکی تسلط کا مطلب شام، فلسطین، لبنان، عراق اور دوسرے الفاظ میں پورے مشرق وسطی اور اسلامی مزاحمتی بلاک پر امریکی تسلط کے مترادف ہو گا۔ لہذا ایران نے عزم راسخ کر رکھا ہے کہ خطے میں ہر قسم کے امریکی اور اسرائیلی تسلط کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہو اور اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کیلئے ان کے پاس انتہائی کم وقت بچا ہے۔ اور اگر وہ کوئی فوجی اقدام انجام نہیں دیتے اور شام میں حکومت کے خلاف مسلح دہشت گرد گروہوں کو مغربی اور خطے کی عربی اور غیرعربی (ترکی اور اسرائیل) حکومتوں کی جانب سے مکمل مادی اور معنوی حمایت حاصل کرنے کے باوجود اگر اسلامی مزاحمتی بلاک شام کے محاذ پر فاتح کے طور پر ظاہر ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اسلامی مزاحمتی بلاک مشرق وسطی میں موجود دوسرے تمام محاذوں پر بھی کامیابی و کامرانی کے گیت گاتا نظر آئے گا۔ اسلامی مزاحمتی بلاک کی یہ کامیابی و کامرانی عوامی انقلابات کی ایک نئی لہر کو جنم دے گی۔ یورپ کے تحقیقاتی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ لہر 2014ء سے 2015ء کے درمیان جنم لے سکتی ہے۔ اس انقلابی موج کا سب سے بڑا اثر خلیج فارس اور افریقہ میں موجود امریکہ کی پٹھو حکومتوں کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ 
 
لہذا امریکی حکام یہ سوچ رہے تھے، البتہ اوباما کے دماغ میں یہ سوچ جنم لینے میں اسرائیل کے صہیونیستی حکام کا بہت بڑا کردار رہا ہے، کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کی صورت میں ایران اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور خاموش تماشائی بنا رہے گا۔ اسی سوچ کے تحت امریکی حکام اور ان کے پٹھووں نے شروع میں تو انتہائی جوش و خروش اور قاطعیت کے ساتھ شام کے خلاف جنگ کے نعرے لگائے لیکن جیسے جیسے وقت گذرتا گیا امریکی حکام کا لہجہ نرم ہوتا گیا اور انہوں نے مزید غور و فکر کرنے کی باتیں شروع کر دیں۔ امریکی اتحادی بھی ایک ایک کر کے پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے۔ اس دوران کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی کی جاتی ہے تو اس کا ردعمل صرف شام کی جانب سے نہیں بلکہ پورے اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے سامنے آئے گا۔ یہی وہ وحشتناک تصور تھا جس نے امریکہ کے پسینے چھڑوا دیئے اور وہ اپنے گذشتہ موقف سے عقب نشینی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ کیونکہ پورے اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے جنگ میں شریک ہونے کی صورت میں اس جنگ کے خاتمے کی کوئی تاریخ دینا انتہائی ناممکن امر نظر آ رہا تھا اور امریکہ اس وقت ایک لمبی جنگ لڑنے کی نہ تو ہمت رکھتا ہے اور نہ ہی اس میں توانائی ہے۔ امریکی حکام کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ 1980 کے عشرے کی مانند صرف ہوائی حملوں سے اپنے فوجی اور سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔ 
 
امریکی حکام کے سامنے اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کی جانب سے لبنان کے خلاف 33 روزہ جنگ اور غزہ کے خلاف 22 روزہ جنگ کے عملی نمونے موجود ہیں۔ ان جنگوں میں اسرائیل نے پہلے سے مشخص شدہ اہداف کو شدیدترین ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا لیکن عمل کے میدان میں نہ تو وہ حزب اللہ لبنان اور حماس کے اسلحہ کے ذخائر کو نقصان پہنچا سکا اور نہ ہی ان کی افرادی قوت کو ختم کر سکا اور نہ ہی ان کے رہنماوں کو عقب نشینی پر مجبور کر سکا۔ آخرکار اسرائیلی فوج حزب اللہ لبنان اور حماس کی استقامت اور شجاعت کے سامنے سرتسلیم خم ہو گئی اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گئی۔ 
 
امریکی حکام نے جب اسلامی مزاحمتی بلاک کے تحرکات کا جائزہ لیا اور آخرکار اسی نتیجے پر پہنچے جس کے بارے میں سپاہ پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر اسے خبردار کر چکے تھے کہ شام کے خلاف ہر قسم کی فوجی کاروائی کے اثرات پورے خطے میں ظاہر ہوں گے اور کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے اور میدان جنگ کی وسعت بحر ہند کی مغربی سرحدوں سے لے کر بحیرہ روم کی جنوبی سرحدوں تک مشتمل ہو گی، تو وہ اچھی طرح جان گئے کہ اگر شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کے خاتمے سے کم پر راضی ہو گئے تو یہ اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں ان کی شکست فاش ہو گی۔ دوسری طرف اگر وہ صدر بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کیلئے کسی زمینی جنگ کا آغاز کرتے ہیں تو اس کیلئے انہیں نیوی کے کمانڈرز یا ایئرفورس کے چھاتہ بردار دستوں یا آرمی کے سپشل سروسز گروپس کی مدد لینی پڑے گی لیکن امریکی حکام اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اس صورت میں بھی انہیں زیادہ ماہر اور جنگی جذبے سے سرشار نیوی کمانڈرز، چھاتہ بردار دستوں اور سپشل سروسز گروپس کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ لہذا ہر جارح قوت کو شام پر حملے سے پہلے اپنا تابوت تیار کروا لینا چاہئے۔ 
 
یہی وہ حقیقت ہے جو امریکی صدر براک اوباما اور ان کے مغربی اتحادیوں اور خطے میں امریکہ کی پٹھو حکومتوں کی جانب سے شام کے خلاف مسلح کاروائی کے فیصلے سے عقب نشینی کی اصلی وجہ ہے۔ البتہ شیطانی ذہن رکھنے والے امریکی حکام سے بعید نہیں کہ وہ اسلامی مزاحمتی بلاک سے اس سنگین شکست کا بدلہ ایک زخمی سانپ کی طرح اچانک حملے کی صورت میں لیں اور شام کے کسی علاقے پر ہوائی حملے کر کے دنیا والوں کے سامنے یہ اعلان کریں کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کرنے سے ہماری مراد ایسے ہی محدود پیمانے پر حملے تھے اور ہمارا مقصد صدر بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ نہ تھا۔ البتہ امریکہ اور اس کے مغربی و عربی پٹھووں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اسلامی مزاحمتی بلاک ان کے اس "محدود حملے" کا بھی ایسا جواب دے گا کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ 

 
خبر کا کوڈ : 301816
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب