0
Sunday 16 Feb 2014 13:07

دہشتگردوں کو کچلے بغیر کوئی چارہ نہیں

دہشتگردوں کو کچلے بغیر کوئی چارہ نہیں
تحریر: تصور حسین شہزاد

طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کا اجلاس گذشتہ روز اسلام آباد میں ہوا جس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ طالبان امن کے منافی تمام سرگرمیاں فوری بند کریں، دہشت گردی بند نہ ہوئی تو امن مذاکرات کو جاری رکھنا مشکل ہو جائیگا جبکہ طالبان کمیٹی نے کہا ہے کہ پائیدار امن کیلئے حکومت کی جانب سے بھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے، شرکاء نے امید دلائی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں جانب سے امن کے منافی سرگرمیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طرفین نے دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ متشدد واقعات سے نہ صرف گفتگو میں رکاوٹ پیدا ہو گی بلکہ مذاکرات کا سلسلہ بند بھی ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کے دوران طالبان کمیٹی اور ترجمان طالبان شاہد اللہ شاہد کا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تو طالبان کمیٹی نے ترجمان طالبان کو فائر بندی کے حکومتی کمیٹی کے مطالبے سے آگاہ کیا۔ قبل ازیں حکومتی کمیٹی کے ارکان نے دہشتگردی کے بڑھتے واقعات پر وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے تبادلہ خیال کیا، تو وزیراعظم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مذاکرات اور دہشتگردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، مذاکرات کو مثبت بنانے کیلئے دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام ضروری ہے ان سرگرمیوں کے رکنے پر ہی طے ہو جائے گا کہ طالبان مذاکرات میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

اس تناظر میں حکومتی کمیٹی کے رکن کا کہنا ہے کہ اب بات اسی صورت آگے بڑھے گی جب طالبان کی جانب سے بنائی کمیٹی امن کے قیام کی ضمانت دے گی۔ طالبان کی جانب سے امن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے خاتمے کے اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر حکومت انہیں اعلانیہ یقین دہانی کروا دے گی کہ اس کی طرف سے بھی ایسی کارروائی نہیں کی جائے گی جو امن کے عمل کو نقصان پہنچا سکے۔ مذاکراتی کمیٹی کے اراکین اور وزیراعظم کی نیک خواہشات کے باوجود ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ کراچی اور پشاور ہیں۔ پشاور کے نواحی علاقوں سے تو لوگ گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں جبکہ کراچی میں حالات روز بروز ابتر سے ابتر ہوئے جا رہے ہیں گذشتہ روز قیوم آباد سی ایریا کے قریب رینجرز کے ونگ کمانڈر کی گاڑی پر خود کش حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہے جبکہ اس سے ایک روز قبل شاہ لطیف ٹاؤن میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر کے قریب پولیس کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 13 اہلکار جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے اور ہفتے کی صبح کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن نمبر 4 میں مومن آباد پولیس اسٹیشن کے باہر ایک دستی بم حملہ کیا گیا اور جب لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے تو نامعلوم افراد دوسرا دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی جب کہ پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑی ٹیکسی بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ان پے درپے واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شدت پسند اپنی مذموم کارروائیوں سے باز آنیوالے نہیں خاص طور پر کراچی کے حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ میں تشویشناک خبریں اہل وطن کیلئے سخت اضطراب کا باعث ہیں جن کے مطابق طالبان پاکستان کے معاشی حب کراچی کے ایک تہائی علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں۔ ہولناک حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا تعلیم یافتہ بے روزگار طبقہ شدت پسندوں کی افرادی قوت بن چکا ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں کراچی میں پڑھے لکھے باشعور نوجوان طبقے کا شدت پسندوں کی طرف میلان تیس برس سے کراچی پر قابض انتہا پسندانہ سوچ کی حامل سیاسی جماعت کی بربریت پر مبنی روش کے ردعمل کا شاخسانہ ہے جس نے طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ اہل کراچی کا مینڈیٹ زبردستی چرایا اور عروس البلاد شہر قائد میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنا کے رکھ دی انہی مجرمانہ سرگرمیوں اور لاقانونیت کی آڑ میں ایک طرف پاکستان دشمن غیر ملکی قوتوں کو اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا موقع ہاتھ آیا تو وہیں شدت پسندوں کو بھی فاشسٹ سیاسی جماعت سے تنگ آئے لوگوں کو ورغلا کر ساتھ ملانے اور اپنی جڑیں قائم کرنے کا راستہ سجھائی دے گیا۔

گذشتہ دو دہائیوں سے شہر قائد کے حالات جس طرح حکومتی کنٹرول سے باہر ہوئے اس نے آخر کار نئی سیاسی حکومت اور قومی سلامتی کے ضامن اداروں کو مجبور کر دیا کہ وہ کراچی میں وسیع البنیاد گرینڈ آپریشن کر کے ریاستی عمل داری یقینی بنانے کیلئے ہر اقدام کر گزریں جس پر وفاقی اور صوبائی حکومت سندھ میدان عمل میں ہیں، گو کہ اس ناگزیر آپریشن میں بہت دیر ہو چکی ہے مگر ابھی بھی ہمارے پاس معاملات کو سنبھالنے کی گنجائش موجود ہے اور توقع ہے کہ اگر کراچی میں متحرک سیاسی جماعتیں حب الوطنی کے جذبے سے باہمی منافرتیں ترک کر کے حکومت کا ساتھ دیں تو ریاستی بالادستی کے ذریعے کراچی کا امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ کراچی کی صورتحال ہی ہمیں باور کراتی ہے کہ جنوبی و شمالی وزیرستان میں بھی شدت پسندوں کی شورشوں پر قابو پانے کیلئے حکومت کو وہاں بھی بلا تاخیر فوجی کارروائی کر گزرنی چاہئے ابھی حال ہی میں شدت پسندوں کی کمر توڑنے کیلئے کئے گئے اقدام نے ہی ان شرپسندوں کو مذاکرات کی جانب دھکیلا جسے میڈیا میں بیٹھے ان کے بہی خواہوں نے حکومت کی کمزوری پر محمول کر کے عوام کو تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید حکومت شدت پسندوں سے ڈر گئی ہے، اسی لئے وزیراعظم نے انہیں بات چیت کی پیشکش کی، حالانکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔

طالبان القاعدہ اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایماء پر پاکستان میں دہشت گردی کو مہمیز دے کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی جس سازش کا حصہ ہیں، پاکستان کی سلامتی کے ضامن اداروں کو اس کا مکمل ادراک ہے۔ اسی لئے ان کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کی مبینہ تیاریاں کی جا چکی ہیں مگر اندرون ملک کچھ مذہبی حلقے اور نام نہاد دانشور ایک منظم میڈیا مہم کے ذریعے شدت پسندوں کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے قوم کے حوصلے پست کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ یہ مفروضہ کہ شدت پسندوں کیخلاف کارروائی سے ملک بھر میں آگ لگ جائے گی، عوام کی فہم و دانش اور ان کے جذبۂ حب الوطنی پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان پر کڑا وقت آیا قوم نے سارے آپسی اختلافات بھلا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ملک کو ابتلا سے نکالا۔ خدانخواستہ اب بھی کوئی امتحان درپیش ہوا تو ساری قوم دفاع وطن کیلئے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہو گی۔ پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کیلئے ہر اقدام کو قوم کی مکمل حمایت حاصل ہو گی، ملکی بقا و سلامتی کیلئے پاکستان کا بچہ بچہ کٹ مرنے کو تیار ہے۔ کوئی صرف حکمران بننے کی بجائے قومی سطح کا لیڈر بن کر دہشت گردوں کو کچلنے کا دلیرانہ فیصلہ تو کرے!
خبر کا کوڈ : 352205
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب