0
Tuesday 10 Jun 2014 19:53

سانحہ کراچی و تفتان، حکومتی ترجیحات

سانحہ کراچی و تفتان، حکومتی ترجیحات
تحریر: عمران خان
 
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کراچی ائیرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس دہشت گرد ایئرپورٹ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرتے ہوئے دو مقامات سے ایئرپورٹ میں داخل ہوئے۔ حملہ آور ایئر پورٹ پر موجود تمام طیاروں کو تباہ کرناچاہتے تھے اور ان کا مقصد پاکستان کے شہری ہوا بازی کے نظام کو مفلوج کرنا تھا۔ فوج، رینجرز اور شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی معاونت کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے۔ رپورٹ میں کمزور سکیورٹی کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری توجہ دینے کی اپیل کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملہ آور چہرے مہرے سے ازبک اور تاجک نظر آتے ہیں، جن کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ڈی این اے کے نمونے لے لئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مندرجات سے انکار ممکن نہیں۔ مہران بیس حملے جیسے زخم کھانے کے باوجود دہشت گردوں کا انتہائی مہلک ہتھیاروں کے ساتھ ائیر پورٹ کے احاطے میں داخل ہوجانا ہر پاکستانی کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں دہشت گردوں نے ملک میں کراچی سے تفتان تک دہشت گردی کی انتہائی مذموم اور غیر انسانی کارروائیاں کرکے پورے ملک کے عوام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ایک جانب کراچی ائیرپورٹ کے حساس ایریا میں دہشت گرد سکیورٹی کے جوانوں اور قیمتی املاک کو نشانہ بنا رہے تھے اور دوسری جانب تفتان میں زائرین کو خودکش حملوں اور گولیوں سے نشانہ بنایا جارہا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی ائیر پورٹ پر زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی، کہ گیارہ بجکر انیس منٹ پر کسٹم کلیئرنگ گیٹ پر پہلا حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اتنی شدید نوعیت کا نہیں تھا کہ سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹ گئے۔ جس سے دہشت گردوں کی پسپائی کا تاثر پیدا ہوا اور تمام تر توجہ کسٹم کلیئرنگ گیٹ نے حاصل کرلی۔ ہائی روف میں سوار ائیر سکیورٹی فورس کی یونیفارم پہنے دہشت گردوں نے اصفہانی گیٹ پر دوسرا حملہ کر دیا اور فائرنگ و دستی بموں کے استعمال سے گاڑی سمیت رن وے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ائیرپورٹ کی اندرونی طرف موجود اے ایس ایف کے اہلکار اتنی دیر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوچکے تھے۔ اندر پہنچ کے دہشتگرد گاڑی سے نکل کر مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ ائیر سکیورٹی فورس کے جوانوں نے دہشت گردوں کو طیاروں اور ہینگروں سے دور رکھا، بم دھماکوں سے ہینگرز کو نقصان پہنچا، پرانے ٹرمینل کو جزوی طور پر نقصان پہنچا اور کولڈ سٹوریج سمیت عمارت کے مختلف حصے میں آگ لگ گئی جبکہ دہشت گرد طیاروں کو تباہ یا اغوا کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران رینجرز، پولیس اور پاک فوج کے دستے بھی پہنچ چکے تھے، جن کی مدد سے دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا۔
 
حملے میں 23 افراد شہید جبکہ 26 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد اے ایس ایف کے جوانوں کی ہے، جبکہ یہ سطور لکھنے تک سات سے زائد افراد تاحال کولڈ سٹوریج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ چوبیس گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود نہ ہی کولڈ سٹوریج کی آگ پر قابو پایا جاسکا اور نہ ہی ان افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے کوئی کارروائی کی گئی۔ کولڈ سٹوریج عملہ کے مطابق ہمارے ساتھی اندر پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ابھی تک ادارے یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ سٹوریج کی دیوار توڑی جائے یا نہیں۔ ہرقسم کی مشینری، امدادی کارکن اور دیگر سہولیات میسر ہونے کے باوجود ان افراد کے پیارے تاحال انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ (ان سطور کی اشاعت تک توقع ہے کہ ان افراد کو نکالا جا چکا ہوگا)۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سات دہشتگرد مارے گئے جبکہ تین دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ رینجرز افسران کے مطابق دہشت گردوں میں چار ازبک، تین کے باڈی پارٹس کی رپورٹ سے ان کی نشاندہی ہوگی جبکہ باقی تین چہرے سے فاٹا کے رہائشی لگتے ہیں۔ دہشت گردوں سے خودکش جیکٹس، دستی بم، راکٹ لانچر، پٹرول بم، آر پی جی سیون، گولے، ایس ایم جی، خشک خوراک اور خون روکنے والے انجکشن وغیرہ ملے ہیں۔ جو کہ زیادہ تر غیر ملکی ساختہ ہیں۔ مہران بیس اور ملک میں دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں کی طرح اس حملے کی ذمہ داری بھی تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ ایک طرف کراچی ائیر پورٹ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔
 
دوسری جانب زیارات کے بعد ایران سے واپس آنیوالے زائرین کو تفتان میں ہوٹل کے اندر نشانہ بنایا گیا۔ دو ہوٹلوں میں جیسے ہی زائرین کے قافلے پہنچے، چار خودکش حملہ آوروں نے یکے بعد دیگرے آکر دھماکے کر دیئے۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے دو دھماکوں میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ ہوٹل کے سکیورٹی گارڈز نے خودکش حملہ آوروں کو باہر ہی روک لیا تھا جبکہ بعد میں ہونیوالے دو دھماکوں میں شدید نقصان ہوا۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک ان خودکش حملوں میں تیس کے قریب زائرین شہید ہوئے، جن میں چھ خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں اور میتوں کو سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ جبکہ دھماکوں میں محفوط رہنے والے زائرین کو ایف سی اور لیویز نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور بعد ازاں انہیں بھی کوئٹہ لایا گیا۔ زائرین پر خودکش حملوں کی ذمہ داری جیش الاسلام نامی دہشت گرد گروہ نے قبول کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ تفتان کی کڑیاں جنداللہ سے ملتی ہیں۔ انہی چوبیس گھنٹوں میں شمالی وزیرستان اور آوران میں چوکی پر خودکش حملوں میں پانچ اہلکار شہید ہوگئے۔ 

پاکستان پر انتہائی بھاری گزرنے والے ان چوبیس گھنٹوں سے متعلق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اے ایس ایف پر حملے برداشت نہیں کریں گے۔ جوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حملہ آوروں سے نرمی نہ برتی جائے۔ دہشت گردوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی، وغیرہ۔ جناب وزیراعظم آپ کے بیانات سے اختلاف نہیں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گرد پورے ملک کو ہی تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں، اور جوانوں و عوام کی قربانیوں کے سبب ہی آپ کی حکمرانی کے لیے یہ ملک چاہیے، جس حال میں بھی ہے، سلامت ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ قربانی کی اس صراط پر فقط عوام اور جوان ہی کیوں گامزن ہیں۔؟ حکمران اس راستے سے کوسوں دور کیوں کھڑے ہیں۔؟ ذاتی اور قومی مفادات میں حکمرانوں کا رویہ گہرے تضادات کا شکار کیوں ہے۔؟ اس کی ایک معمولی مثال سٹی فور چینل پر شائع ہونیوالی اس خبر سے ملتی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے عمرہ جاتی فارم ہاؤس پر ڈیوٹی دینے والے دو پولیس اہلکاروں نے پیڑ سے امرود توڑنے کا جرم کیا۔ اس جرم کی پاداش میں دونوں اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ دو امرود توڑنے پر دو اہلکار برطرف ہوگئے، مگر اہلکاروں کی ملی بھگت سے جو جیلیں توڑی گئی، دہشت گرد رہا کرائے گئے، اس ضمن میں کوئی برطرف نہیں ہوا۔ 

دہشت گردوں کے لشکر شہروں میں دندناتے رہے، کوئی ذمہ دار برطرف نہیں ہوا۔ جو لوگ سرعام کفر اور واجب القتل کے فتوے صادر کرتے رہے، ان کے ساتھ حکمران شیر وشکر ہیں۔ جو ممالک دہشت گردی کی سب سے زیادہ معاونت کر رہے ہیں، انہی کے ساتھ حکومت کاروں کی قرابت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جس تحریک طالبان کے دہشت گرد پورے ملک میں دہشت گردی کا طوفان اٹھائے ہوئے ہیں، انہی کے دہشت گردوں کو بناء کسی قانونی چارہ جوئی کے آپ نے رہا کیا ہے۔ یہاں تک کہ جن دہشت گردوں نے چن چن کر محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام کیا اور ان کو عدالتوں سے سزائے ملی، مگر ان سزاؤں پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔ جس کی واحد وجہ حکمرانوں کو ملنے والی دہشت گردوں کی دھمکیاں ہیں۔ جب حکمران ہی دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں تو عوام اور سکیورٹی جوان کیسے اس عفریت پر قابو پاسکتے ہیں۔؟ عوام اور سکیورٹی فورسز کے جوان دہشت گردوں کے سامنے ثابت قدم ہیں تو حکمران کیوں ان کے شانہ بشانہ نہیں ہیں۔
 
چوبیس گھنٹوں میں یکے بعد دیگرے پیش آنیوالے ان سانحات کے بعد حکومت کو چاہیے کہ پھانسی کی سزا پانے والے دہشت گردوں کی سزا پر فوری عملدرآمد کا اعلان کرے۔ پیمرا کے ذریعے کالعدم جماعتوں کی میڈیا کوریج پر پابندی کا اعلان کرے۔ کالعدم جماعتیں جو نئے ناموں سے متحرک ہیں، ان کے خلاف ٹھوس قانونی اقدامات کرے۔ سکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے فری ہینڈ دے اور آپریشن کی ذمہ داری قبول کرے۔ وزیراعظم کچھ دیر کے لیے ہی سہی اس ملک کو اپنا عمرہ جاتی میں واقع فارم ہاؤس ہی سمجھ لیں۔ ایک لمحہ کے لیے پاکستان کو اپنا گھر یا آفس ہی سمجھ لیں۔ جس میں اگر کوئی نقصاندہ جانور، ضرر رساں کیڑا گھس آئے تو اس سے مذاکرات کرتے ہیں یا اس کو تلف کرتے ہیں۔ اپنے فارم ہاؤس کے پھلوں کو بچانے کے لیے مہلک کیڑوں اور حشرات کے خلاف سپرے وغیرہ کرتے ہیں یا ان سے ترجیحات پوچھتے ہیں کہ کس پھل سے انہیں کتنی تکلیف ہے۔؟ عوام کے لیے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے زیادہ امن اور تحفظ کا احساس ضروری ہے۔

وزیراعظم کسی نوبیاہی بیوہ سے، کسی شہید کی ماں، جواں بھائی کی لاش سے لپٹی بہن یا والد کی قبر پر بیٹھے اشکبار بیٹے سے پوچھ کر تو دیکھیں کہ اسے حکومت کی نئی معاشی اصلاحات سے کتنی امیدیں وابستہ ہیں، اس نے آپ کی تجارتی، سرمایہ درانہ پالیسیوں سے کتنا نفع کمایا ہے۔ ان کے لیے میٹرو بس منصوبے کی کیا اہمیت و حیثیت ہے۔ مجھے یقین ہے وزیراعظم ان لوگوں سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں جتا پائیں گے۔ کراچی ائیر پورٹ پر حملہ کرنیوالے، تفتان میں زائرین پر خودکش حملے کرنیوالے، میرانشاہ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کرنیوالے وہی لوگ ہیں، جن کے متعلق وزیراعلٰی پنجاب نے یہ کہا تھا کہ انہیں پنجاب میں حملے نہیں کرنے چاہیے، کیونکہ ان کا اور ہمارا موقف ایک ہی ہے۔ اگر پاکستان کو دہشت گردی سے محفوظ کرنا ہے تو حکمرانوں کو اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانا ہوگی۔ قومی مفاد پر ذاتی مفادات قربان کرنا ہونگے۔ قربانیوں میں تھوڑا ہی سہی مگر حصہ شامل کرنا ہوگا۔ دہشت گردوں کے خلاف عوام اور جوانوں کے ساتھ دو ٹوک موقف کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 390864
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب