0
Wednesday 27 Aug 2014 15:31

اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور داعش، خطے کے دو سرطانی غدے

اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور داعش، خطے کے دو سرطانی غدے
تحریر: مہدی شکیبائی
 
گذشتہ ہفتے عراق میں داعش کے تکفیری دہشت گردوں نے امریکی روزنامے گلوبل پوسٹ کے ایک صحافی جیمز فولے کا گلا کاٹنے پر مبنی ویڈیو شائع کی۔ اس کے ردعمل میں امریکی صدر براک اوباما نے بیان دیتے ہوئے کہا:

"ہم آج جیمز فولے کی موت سے بری طرح وحشت زدہ ہو گئے ہیں۔ وہ دو سال کے عرصے سے شام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا تھا۔ میں نے اس کے اہلخانہ سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے غم اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ جب بھی کوئی امریکی باشندہ مارا جاتا ہے تو ہم ایسے تمام ضروری اقدامات انجام دیتے ہیں جو عدالت کے اجرا کیلئے لازمی ہوں۔ دہشت گرد نہ سنی ہیں اور نہ شیعہ، نہ عیسائی ہیں اور نہ مسلمان۔ وہ بچوں اور خواتین پر بھی رحم نہیں کرتے اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ وہ عراق میں نسل کشی کرنے میں مصروف ہیں۔ مشرق وسطٰی کو داعش جیسے سرطانی غدے سے نجات دلانے کی ضرورت ہے"۔ 
 
امریکی صدر براک اوباما کے مذکورہ بالا بیان کے بارے میں دو نکات اور ایک نتیجے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

پہلا نکتہ:
ایرانی قوم، خطے کی اقوام اور دنیا بھر کے آزاد سوچ رکھنے والے انسان، سرطان اور سرطانی غدے جیسی اصطلاح سے کئی عشروں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی (رہ) نے 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد ہی اپنی ایک تقریر میں خطے میں موجود ایک سرطانی غدے کے بارے میں بات کی اور اس کے خاتمے کو ضروری قرار دیا۔ امام خمینی (رہ) کی یہ تقریر بعد میں عالم اسلام اور دنیا میں رونما ہونے والی دیگر انقلابی تحریکوں کیلئے ایک منشور کی حیثیت اختیار کر گئی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ یہ سرطانی غدہ 29 سال قبل امریکہ سمیت دوسری جنگ عظیم کی فاتح دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کی جانب سے قبلہ اول مسلمین کی سرزمین پر ایجاد کیا گیا۔ امام خمینی (رہ) کی جانب سے سرطانی غدے کا نام پانے والی اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم آج سے 67 برس قبل فلسطین کے مظلوم باسیوں کے وسیع قتل عام اور انہیں اپنے گھروں سے بےگھر کرنے کے ذریعے معرض وجود میں آئی۔ امام خمینی (رہ) نے 1981ء میں اپنی ایک تقریر کے دوران فرمایا:
 
"آج قبلہ اول مسلمین مشرق وسطی کے سرطانی غدے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ آج یہ رژیم ہمارے فلسطینی اور لبنانی بھائیوں پر حملہ ور ہو کر ان کا قتل عام کر رہی ہے۔ آج اسرائیل اپنے تمام شیطانی وسائل کی مدد سے تفرقہ افکنی کرنے میں مصروف ہے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ خود کو اسرائیل سے مقابلے کیلئے تیار کرے"۔ (صحیفہ نور، جلد 12، صفحہ 276)۔
 
اسی طرح امام خمینی (رہ) اس سرطانی غدے کے خاتمے اور مسلمانوں کی اس سے نجات کیلئے راہ حل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، "آپ نے دیکھا کہ 20 لاکھ آبادی پر مشتمل ایک جعلی ملک یعنی اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا اور 1 ارب مسلمانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا اور اس قدر غیرانسانی اور مجرمانہ اقدامات انجام دیئے کہ انسانی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمان حکومتیں اسرائیل کو قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے محو ہو جانا چاہیئے اور بیت المقدس اور قبلہ اول مسلمانوں کا ہے"۔ (صحیفہ نور، جلد 17، صفحہ 14)۔ 
 
دوسرا نکتہ:
اگر امریکی صدر براک اوباما نے ایک امریکی صحافی کا گلا کاٹے جانے کے بعد کھلم کھلا "داعش" کا نام لیا ہے اور اسے سرطانی غدہ قرار دیا ہے تو بہتر ہو گا کہ وہ اسرائیل جیسے سرطانی غدے کی جانب سے اپنی قوم اور دنیا کی دوسری اقوام کے خلاف انجام پانے والے مجرمانہ اور غیرانسانی اقدامات پر بھی توجہ دیں۔ امریکی حکام اور عوام کو چاہیئے کہ وہ تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کی پیدائش میں کارفرما اہم اور بنیادی عوامل کا بغور جائزہ لیں۔ اگر وہ ایسا کام کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس سرطانی غدے کی پیدائش کی حقیقی وجوہات خطے میں پرانے سرطانی غدے یعنی اسرائیل کی صیہونی رژیم کے منحوس وجود کی جانب پلٹتی ہیں۔ امریکی عوام کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ 1967ء میں بحیرہ روم میں امریکی بحری جہاز لبرٹی کے عملے کا دردناک قتل عام کس نے انجام دیا تھا یا 2003ء میں غزہ میں امریکی دوشیزہ راشل کورے (Rachel Corrie) کو اسرائیلی بلڈوزر نے کس بے دردی سے کچل کر قتل کر دیا تھا۔ 
 
اس بے رحم اور سفاک رژیم نے عالم اسلام کے مرکز میں غاصبانہ قبضہ کرتے ہوئے بیگناہ فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ غاصب صیہونی رژیم اب تک ہزاروں بیگناہ خواتین اور بچوں کو قتل کر چکی ہے جن میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس وحشی رژیم کے ہاتھ فلسطینیوں کے علاوہ مصری، اردنی، شامی، عراقی، لبنانی، تیونسی، امریکی، ایطالیائی، فرانسوی، برطانوی اور دوسرے ممالک کے شہریوں کے خون سے بھی رنگین ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، اسرائیل کے سرطانی غدے نے اب تک کئی بین الاقوامی اداروں کے دفاتر کو بھی نابود کر دیا ہے۔ اسی طرح بڑی تعداد میں مساجد، کلیسا اور دوسرے مقدس مقامات بھی اس ملحد رژیم کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ صیہونی رژیم کی تاریخ قانا، صبرا اور شتیلا مہاجر کیمپس میں وسیع قتل عام، عراقی، ایرانی اور مصری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اس جیسے بیشمار مجرمانہ اقدامات سے بھری پڑی ہے۔ یہ تمام غیرانسانی اقدامات اس سرطانی غدے کے پھیلاو کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان تلخ حقائق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکہ داروں نے اس مجرم رژیم کا مقابلہ کرنے میں کس حد تک کوتاہی کی ہے۔ اسرائیل کے لاتعداد مجرمانہ اقدامات میں 2011ء میں غزہ کی پٹی میں بی بی سی اور عالمی میڈیا کے کیمروں کے سامنے اپنے باپ کی آغوش میں پناہ لئے ہوئے 11 سالہ فلسطینی بچے محمد الدرہ کا بہیمانہ قتل بھی شامل ہے جسے پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اسی طرح دنیا والوں نے آٹھ سالہ فلسطینی بچی "ھدی غالیہ" کو بھی دیکھا جو اپنے خاندان کے شہید ہونے والے 7 افراد کے جنازے پر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور دنیا کے انسانوں سے انصاف کی اپیل کر رہی تھی۔ 
 
نتیجہ:
اگر امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کو سرطانی غدہ قرار دینے کے دیر سے انجام پانے والے اقدام کو قبول بھی کر لیا جائے کہ البتہ داعش کے سرطانی غدے ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت مشرق وسطی کے خطے میں دو سرطانی غدے موجود ہیں۔ ایک اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور دوسرا تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش"۔ اسی طرح اگر امریکی صدر کی جانب سے اس سرطانی غدے کی نابودی کو ضروری قرار دیئے جانے کو بھی مان لی جائے تو مندرجہ ذیل تین بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتے ہیں:
 
تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی جانب سے انجام پانے والے سفاکانہ اور مجرمانہ اقدامات کو 3 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد ہی کیوں واشنگٹن نے اس سرطانی غدے کے خاتمے کی ضرورت محسوس کی ہے؟
 
مذکورہ بالا دو سرطانی غدوں میں سے کون سا غدہ زیادہ خطرناک ہے؟
 
کس سرطانی غدے کا خاتمہ پہلی ترجیح ہونی چاہیئے، اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم یا تکفیری دہشت گرد گروہ داعش، جس کا اصلی سبب بھی وہی اسرائیل ہے؟
 
خطے کی اقوام، جنہیں اس وقت دو سرطانی غدوں کا سامنا ہے، کو یہ توقع ہے کہ پہلے مرحلے پر اس سرطانی غدے کا خاتمہ کیا جائے جو دوسرے سرطانی غدے کی پیدائش کا سبب بنا ہے۔ لہذا خطے کی مسلمان عوام نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پہلے زیادہ خطرناک سرطانی غدے کو مشرق وسطی سے نکال باہر پھینکیں۔ لہذٰا ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے پانچوں براعظموں  میں غزہ پر اسرائیل کی حالیہ فوجی جارحیت کے خلاف بھرپور صدائے احتجاج بلند ہو چکی ہے۔ وہ ایسے سرطانی غدے کو ختم کرنے کے درپے ہیں جس کی زیریلی جڑوں نے عالم بشریت کے پورے بدن کو زہرآلود کر دیا ہے۔ اگر امریکی صدر براک اوباما تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف صف آرائی کرنے میں مصروف ہیں، وہی داعش جو گذشتہ برس تک شام میں صدر بشار اسد کے خلاف لڑتی ہوئی امریکہ اور مغربی و عربی حکومتوں کی چہیتی تھی، تو خطے کی اقوام بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ کون سا سرطانی غدہ زیادہ خطرناک ہے اور اسے پہلے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور کس طرح ان دونوں سرطانی غدوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ پہلے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کا خاتمہ ضروری ہے اور اس کے بعد داعش کی نابودی کی باری آتی ہے۔ 
 
خبر کا کوڈ : 406888
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے