0
Saturday 4 Oct 2014 23:22

داعش سے متعلق مغربی پالیسی میں یو ٹرن اور درپردہ اہداف

داعش سے متعلق مغربی پالیسی میں یو ٹرن اور درپردہ اہداف
تحریر: قاسم روانبخش

ان دنوں مغربی میڈیا، دہشت گردی خاص طور پر داعش کے خلاف جنگ کی ضرورت کو بڑا کرکے پیش کرنے میں مصروف ہے۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد عراق اور شام میں امریکہ کی سربراہی میں مغربی طاقتوں کی جانب سے داعش کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کا زمینہ فراہم کرنا ہے۔ مغربی میڈیا جو زیادہ تر عالمی صہیونیت کے زیر اثر ہے، امریکہ اور امریکی صدر براک اوباما کو اس جنگ کے علمبردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، جبکہ دنیا والے اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ خود امریکہ اور یورپ ہی خطے میں سعودی عرب کی مدد سے تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کے اصلی بنانے والے اور اہم ترین حامی شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اب تک داعش کو بڑی مقدار میں مالی، فوجی، تربیتی اور لاجسٹک مدد فراہم کی ہے اور اسے ایک بڑے دہشت گرد گروہ میں تبدیل کرنے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر خود داعش کے بانی ہی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اب اپنی ناجائز اولاد کو نابود کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ تحریر حاضر میں مندرجہ ذیل اہم نکات کی روشنی میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے:
 
1۔ مغربی طاقتوں کی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنا:
مغربی طاقتیں شام کے بارے میں انتہائی اسٹریٹجک غلطی کا شکار ہوئی ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک خیال کر رہے تھے کہ شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کے خلاف بعض گروہوں کو منظم اور مضبوط کرکے عالمی سطح پر یہ ظاہر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ یہ حکومت مخالف گروہ درحقیقت شام کے شہری ہی ہیں، لہذا شام کی حکومت عوامی مینڈیٹ کھو چکی ہے اور اب اسے برسراقتدار رہنے کا کوئی قانونی جواز حاصل نہیں۔ دوسری طرف مغربی طاقتوں کی کوشش تھی کہ وہ جمہوریت اور حکومت مخالف عوامی گروہوں کی مدد کی آڑ میں شام میں موجود غیر ملکی دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہوئے صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگون کر دیں گے۔ شام کے حکومت مخالف گروہوں کے ساتھ مسلسل میٹنگز، زیرتسلط علاقوں میں نئی حکومت کے قیام کا اعلان اور فری سیرین آرمی کا قیام وہ اقدامات تھے جنہیں انجام دے کر مغربی ممالک خود کو شامی عوام کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مغربی ممالک اپنی طاقتور پروپیگنڈہ مشینری اور وسیع میڈیا ایمپائر کے ذریعے دنیا بھر میں یہ تاثر پھیلا رہے تھے کہ ایران، شامی حکومت کا حامی ہے، یعنی وہ ریاستی دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب، قطر اور ترکی، مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کی پشت پناہی سے شامی عوام اور جمہوریت کی حمایت میں مصروف ہیں۔ اسی طرح مغربی ذرائع ابلاغ دنیا بھر سے تکفیری دہشت گردوں کی شام روانگی اور انہیں اسلحہ اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی اور حتی جہاد النکاح جیسے پست فتووں کے بعد ہزاروں خواتین کے شام جانے کو شامی عوام کی حمایت اور مدد کے طور پر ظاہر کر رہے تھے اور یوں صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو سرنگون کرنے اور اسلامی مزاحمتی بلاک کو دھچکہ پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 
 
اس تمام مدت میں اسلامی جمہوریہ ایران تک و تنہا حزب اللہ لبنان کی مدد سے اس وسیع مغربی فوجی اور میڈیا یلغار کو شکست دینے میں کامیاب رہا اور اس طرح ملت شام کی حقیقی خواہش کو عملی جامہ پہنا دیا۔ شام میں انتہائی اہم اور بامعنی انتخابات کے انعقاد کے بعد بشار اسد بھاری اکثریت سے دوبارہ ملک کے صدر بن گئے۔ یوں شام سے متعلق وہ حقائق جو ایک عرصے سے مغربی میڈیا کی جانب سے توڑ مروڑ کر پیش کئے جا رہے تھے، دنیا والوں پر عیاں ہوگئے اور انہوں نے جان لیا کہ شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار گروہ کا شامی عوام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ایسے دہشت گرد گروہ ہیں جو اپنے اور اپنے آقاوں کے مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے کسی قسم کے غیر انسانی اور اخلاق سے گرے ہوئے اقدام اور عمل سے گریز نہیں کرتے۔ اسی طرح دنیا والوں پر یہ بھی واضح ہوگیا کہ شام کی حکومت اور عوام آپس میں متحد ہیں اور مل کر دہشت گرد عناصر کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ دنیا والوں پر فاش ہونے والا تیسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ صرف ایران ہی شامی عوام اور شام میں جمہوریت کا حقیقی حامی ہے، جو شام کے بحران کیلئے خود شامی حکومت اور عوام کی جانب سے پیش کردہ راہ حل کی حمایت کرتا ہے جبکہ مغربی طاقتیں خاص طور پر امریکہ شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کا شدید حامی اور شامی عوام کا مخالف ہے۔ 
 
 مغربی طاقتوں نے شام میں واضح شکست کے بعد تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" سے وابستہ عناصر کو عراق کی جانب حرکت کرنے کی سبز جھنڈی دکھا دی، تاکہ ملک کے 8 کرد نشین اور سنی اکثریت والے صوبوں پر قبضہ جماتے ہوئے عراق کی قانونی حکومت کی سرنگونی کا زمینہ فاہم کیا جاسکے۔ وہ اپنے اس منحوس اور شیطانی منصوبے کے ذریعے شام میں ہونے والی ناکامیوں کا بدلہ لینا چاہتی تھیں۔ لیکن عراق میں بھی انہیں اس وقت شدید ناکامی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمٰی علی السیستانی نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کر دیا، جس کے نتیجے نہ صرف عراق کے شیعہ شہری بلکہ سنی مسلمان بھی جوق در جوق آرمی کے شانہ بشانہ میدان میں آنا شروع ہوگئے۔ آیت اللہ العظمٰی علی السیستانی کے اس تاریخی فتوے کے بعد داعش کی نابودی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوں دنیا بھر میں یہ تاثر پھیلنا شروع ہوگیا کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعوے دار مغربی ممالک داعش کی حمایت کر رہے ہیں اور عراقی عوام کے مقابلے میں آن کھڑے ہوئے ہیں۔ لہذا مغربی ممالک نے اس تاثر کو دور کرنے کیلئے اپنی خارجہ پالیسی میں یو ٹرن لیا اور داعش مخالف محاذ تشکیل دینے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ مغربی میڈیا نے بھی داعش کے خلاف بھرپور میڈیا مہم شروع کر دی اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک درحقیقت داعش کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ 
 
2۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ کا پرچم ایران سے ہتھیانا:
داعش سے متعلق امریکہ اور مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی میں اس اچانک یو ٹرن کا ایک اور بڑا مقصد ایران کے ہاتھ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پرچم چھین کر اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔ مغربی طاقتیں اس حقیقت کو بھانپ چکی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک طاقتور ملک میں تبدیل ہوچکا ہے اور جس طرح اس نے شام میں امریکہ اور رجعت پسند عرب حکمرانوں کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گردوں کو عبرتناک شکست دی ہے، اسی طرح عراق میں بھی ان دہشت گرد عناصر کو شکست فاش دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ عراق میں داعش کے حملے کے بعد مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمٰی علی السیستانی نے جہاد کا فتویٰ صادر کیا، جس کے بعد داعش کی پیش قدمی رک گئی۔ اس کے بعد سیاسی تزلزل کے شکار عراق میں قومی حکومت تشکیل پائی، جس کے باعث یہ ملک سیاسی استحکام بحال کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس وقت آمرلی شہر کو تکفیری دہشت گرد عناصر سے آزاد کروا لیا گیا ہے اور عراق آرمی نے داعش کے خلاف تابڑ توڑ حملے شروع کر رکھے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران تکفیری دہشت گرد گروہ کے خاتمے کیلئے عراقی حکومت کی بھرپور مدد کر رہا ہے۔ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے ایران شام سے زیادہ بہتر انداز میں عراق کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ مغربی سیاسی ماہرین کی نظر میں اگر ایران عراق میں بھی داعش کو شکست دینے میں کامیابی سے ہمکنار ہوجاتا تو امریکہ، مغربی ممالک اور خطے میں ان کی پٹھو حکومتوں کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوتا اور ان کی عزت خاک میں مل جاتی اور ایران عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے چیمپیئن اور عوام اور جمہوریت کے بڑے حامی کے طور پر ابھر کر سامنے آتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے 40 ممالک پر مشتمل داعش مخالف اتحاد میں ایران کو شامل نہیں کیا اور خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا علمبردار ظاہر کر رہا ہے۔ 
 
3۔ اصل مقصد داعش کو نابود کرنا نہیں بلکہ اسے بچانا ہے:
امریکی حکام اچھی طرح جانتے تھے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش چند ماہ کا مہمان تھا اور اس کو نابود کرنے کا سہرا حزب اللہ لبنان، عراقی حکومت اور ایران کے سر سجتا تھا۔ داعش کے خاتمے کا نقصان امریکہ کو ہی ہونا تھا کیونکہ وہ داعش کو اپنے سیاسی اہداف کیلئے ایک ٹول کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور خطے میں جنم لینے والی حقیقی اسلامی بیداری کی تحریکوں کو داعش کے ذریعے کچل رہا ہے۔ لہذا امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے جب دیکھا کہ داعش نابودی کے دہانے پر کھڑی ہے تو انہوں نے فوراً ہی یو ٹرن لیتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ کا پرچم بلند کیا اور اس طرح داعش کو تباہ کرنے کی بجائے عراق اور شام میں داعش مخالف قوتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ 
 
4۔ طویل المیعاد اہداف کا حصول:
یورپ اور امریکہ کے گھاگھ سیاست دان اپنے منصوبوں میں تین طرح کے مقاصد شامل کرتے ہیں۔ مختصر مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کے اہداف۔ اگر انہیں مختصر یا درمیانی مدت کے اہداف میں شکست کا سامنا کرنا پڑ جائے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اپنے طویل مدتی اہداف کو ترک کر دیتے ہیں۔ اگرچہ امریکی حکام خطے میں مختصر اور درمیانی مدت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن وہ اپنی اس شکست کا ازالہ ایک اور کامیابی کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس وقت داعش کے خاتمے کو یقینی دیکھ رہے تھے، لہذا اس جلے ہوئے مہرے کو ایک نئے سیاسی کھیل کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ داعش پر حملہ کرکے اپنی کھوئی ہوئی عزت کو بھی دوبارہ لوٹانا چاہتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تمغہ بھی اپنے سینے پر سجانا چاہتے ہیں۔ وہ اس جنگ سے کچھ طویل المیعاد اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ ان میں سے ایک داعش کے خلاف جنگ کے بہانے خطے کے ممالک اور یورپی ممالک کو امریکہ کی سربراہی میں اکٹھا کرنا ہے۔ اسی طرح امریکہ اور مغربی طاقتیں داعش کے بہانے عراق اور شام میں طویل مدت کیلئے فوجی موجودگی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ وہ عراق میں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے ایران کے پڑوس میں آنا چاہتے ہیں، تاکہ اس طرح ایران کی سرگرمیوں کو آسانی سے نظر میں رکھ سکیں۔ وہ درحقیقت وہ کام انجام دینا چاہتے ہیں جو داعش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 
 
 5۔ اسلامی مزاحمت کے مرکز کے طور پر ایران کے منصوبوں کو ناکام بنانا:
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے سے امریکی موجودگی اور اثر و رسوخ کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس مقصد کیلئے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ ایران اپنے اس ہدف کی تکمیل کیلئے عراق، شام، یمن، فلسطین، لبنان اور دوسرے ممالک میں کام کر رہا ہے۔ امریکہ یہ سوچ رہا ہے کہ اگر وہ خطے میں دوبارہ سے فوجی موجودگی پیدا کر لیتا ہے تو یقیناً ایران کو بھی اپنے گذشتہ منصوبوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی اور نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔ جدید منصوبہ بندی کیلئے ایک طویل مدت درکار ہوگی، جس میں امریکہ کو خطے میں موجود اپنی ناکامیوں کو دور کرنے اور درپیش مشکلات کو حل کرنے کیلئے مناسب موقع مل جائے گا۔ لہذا داعش سے مقابلے کے بہانے عالمی سطح پر اتحاد تشکیل دینے اور دوبارہ سے عراق اور شام میں فوجی موجودگی کی کوشش سے امریکہ کا اصلی مقصد ایران کے منصوبوں کو متزلزل کرنا اور ایران کی مرکزیت میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی روز افزوں کامیابیوں کو روکنا ہے۔ 
 
لیکن امریکی حکام کو جان لینا چاہئے کہ وہ اس بار بھی شدید غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ ایران کی صلاحیتوں سے غافل ہیں۔ اگر وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ ایران نے خطے سے متعلق اپنی پالیسیاں بناتے وقت اس امکان کو مدنظر نہیں رکھا ہوگا کہ امریکی اور مغربی فورسز دوبارہ سے عراق اور شام میں واپس آسکتی ہیں تو شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایران نے خطے کے مستقبل سے متعلق تمام امکانات کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد ہی اپنا روڈ میپ بنایا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے حال ہی میں امریکیوں کی اس غلط فہمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امریکی حکام اپنی اس نئی سازش میں بھی پہلے کی نسبت زیادہ عبرتناک شکست سے دوچار ہوں گے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام اس بار بھی شدید اسٹریٹجک غلطی کا شکار ہوئے ہیں کیونکہ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی ممالک کسی طور بھی امریکیوں کیلئے کوئی محفوظ مقام نہیں۔ خطے کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ممالک تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کے اصلی بانی ہیں اور اس کے حقیقی حامی رہے ہیں۔ اب انہیں کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کا نعرہ محض ایک ڈرامہ ہے۔ لہذا خطے کے داعش جیسی لعنت سے پاک ہونے کے بعد فوراً ہی اس کے حقیقی بانیوں اور حامیوں کا رخ کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکی اور مغربی قوتوں کو ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ذلت آمیز اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔  
خبر کا کوڈ : 412997
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب