0
Thursday 28 Apr 2011 13:33

خطے میں ایران کی اہم کامیابیاں

خطے میں ایران کی اہم کامیابیاں
اسلام ٹائمز- مشرق وسطی کے سیاسی حالات نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش کا شکار فریقین ابتدائی صدمے سے باہر آ چکے ہیں اور حالات پر اثرانداز ہونے کیلئے انکی کوششیں روز بروز نیا رخ اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ ایران نے خطے میں سیاسی کشمکش کے آغاز سے ہی یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ سیاسی تبدیلیاں تین بنیادی عناصر اسلامی، عوامی اور انٹی امریکن و اسرائیل پر استوار ہیں اور انکے بارے میں پیش ہونے والا ہر وہ تجزیہ جو ان بنیادی عناصر کو نظرانداز کرے گا موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کو بیان کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو جائے گا۔ امریکی حکام خطے میں رونما ہونے والی ان سیاسی تبدیلیوں کے روز اول سے ہی اس کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو ان سیاسی حالات کو مذکورہ بالا تین بنیادی عناصر سے عاری ظاہر کریں۔ وہ شاید اس حقیقت سے غافل ہیں کہ یہ بنیادی عناصر ایسے نہیں ہیں جو کسی بیرونی ملک مثلا ایران کی جانب سے وہاں منتقل کئے گئے ہوں بلکہ یہ عناصر خطے کی سیاسی تبدیلیوں کی ذات کا حصہ ہیں اور جب تک یہ تحریکیں جاری ہیں یہ تین بنیادی عناصر بھی انکے ہمراہ موجود رہیں گے۔
امریکہ نے خطے میں رونما ہونے والی عوامی تحریکوں کے مذہبی پہلو کو چھپانے کیلئے یہ پروپیگنڈہ کرنا شروع کیا کہ ان انقلابات کی اصلی وجہ اقتصادی اور معاشی مسائل ہیں اور یہ نتیجہ نکالا کہ مستقبل قریب میں ماضی کی طرح سیکولر طاقتیں ہی برسراقتدار رہیں گی۔ لیکن اب یہ بات انتہائی واضح ہو چکی ہے کہ مصر سے لے کر بحرین تک خطے میں رونما ہونے والی تمام عوامی تحریکوں میں اسلامی گروہوں کا بنیادی کردار ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ امریکہ شروع سے ہی بظاہر تو ان تحریکوں کے مذہبی اور اسلامی پہلو کی نفی کرتا آیا ہے لیکن پس پردہ قابل اعتماد اسلام پسند عناصر کی تلاش کو جاری رکھے ہوئے ہے جسکی کی ایک مثال اسکی جانب سے مصر میں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی تلاش ہے جن سے وہ مذاکرات اور گفتگو کر سکے۔
خطے میں رونما ہونے والی بیداری کی تحریک کے عوامی پہلو کے بارے میں امریکہ کی پالیسی یہ تھی اور اب بھی ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو عوام کو سڑکوں سے ہٹایا جائے اور "طاقت کی پرامن منتقلی" [ایران کی طرف جھکاو رکھنے والے اسلام پسند عناصر کی غیرموجودگی میں طاقت کی منتقلی] کو یقینی بنایا جائے۔ لہذا امریکہ کی کوشش یہ رہی ہے کہ سڑکوں اور گلی کوچوں میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے کیونکہ اس طرح آسانی سے انہیں اپنی مرضی کے فیصلے
کروانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یمن میں رونما ہونے والے واقعات نے امریکہ کی اس سیاست کو مکمل طور پر ناکامی کا شکار کر دیا ہے کیونکہ خطے کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ لیبیا میں امریکہ 1 ماہ سے زیادہ عرصہ سے معمر قذافی کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے لیکن اب تک کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر سکا اور بیگناہ عوام کا قتل عامل بدستور جاری ہے لیکن یمن میں عوام نے سڑکوں اور گلیوں میں اپنا احتجاج جاری رکھا جسکے نتیجے میں ڈکٹیٹر عبداللہ صالح بھی اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گیا اور جلد ہی اسکی حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے۔
لہذا واضح ہے کہ ڈکٹیٹرز کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی، وہ بھی امریکہ کی وساطت سے، صرف اور صرف انقلاب کو منحرف کرنے اور خطے کے مستقبل پر نئے روپ میں امریکی تسلط کی راہ ہموار کرنے کے علاوہ کوئی اور نتیجہ حاصل نہیں کر سکتی۔
مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں سیاسی تبدیلیوں کا تیسرا پہلو انکا امریکہ اور اسرائیل مخالف ہونا ہے۔ یہ پہلو روز بروز زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے اور مستقبل قریب میں ماضی کی نسبت زیادہ اجاگر ہو کر سامنے آئے گا۔ مصر میں اس وقت سابق صدر حسنی مبارک پر عدالت میں اس لئے مقدمہ چل رہا ہے کیونکہ انہوں نے دوران صدارت اسرائیل کو اصلی قیمت سے کہیں سستی گیس فراہم کی اور اس طرح اپنی جیب بھرنے کے علاوہ امریکہ کو بھی یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ قدس شریف پر غاصب صہیونیستی رژیم کی پشتیبانی میں مصروف ہے۔ بہت جلد خطے کے باقی ڈکٹیٹرز کی باری بھی آ جائے گی۔ امریکہ نے اب تک اپنی پوری کوشش کی ہے کہ ایران کے اندر بدامنی پھیلا کر یا خطے کی سیاسی تبدیلیوں کو سیکولریزم کا رنگ دے کر یا ایرانی-عربی جنگ کے ساز بجا کر اسلامی بیداری کی اس تحریک کو کم رنگ کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں میں جن گروہوں کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے وہ ایسے گروہ ہیں جو امریکہ کے سب سے زیادہ مخالف اور دشمن ہیں۔ لہذا امریکہ کو مستقبل قریب میں خطے میں وہ آواز سننے کیلئے تیار رہنا چاہئے جسے وہ ایران کی جغرافیائی حدود کے اندر دفن کر دینے کا آرزومند تھا۔
ایران سے متعلق جس بات پر تمام تجزیہ نگار حتی امریکی اور اسرائیلی بھی یقین رکھتے ہیں اور کسی حد تک اسکا اظہار بھی کر چکے ہیں یہ ہے کہ اب تک خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے پس منظر میں جیت کا سہرا ایران کے سر سجتا ہے۔ خطے میں ایران کی کچھ اہم کامیابیوں کا فہرست وار ذکر یوں کیا جا سکتا ہے:
1۔ خطے میں موجود سابقہ "آرڈر" (order) کا
خاتمہ، اس سے ہٹ کر کہ متبادل نظام کس سمت و سو میں جائے گا، بذات خود ایسی چیز ہے جو ایران کیلئے ایک عظیم کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے گذشتہ 30 سالوں کے دوران خطے میں معنوی اثر و رسوخ کے ذریعے ایسی توانائی پیدا کی ہے جو وہاں پر موجود پرانے اور خستہ حال ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، وہ ڈھانچہ جسے امریکہ نے گذشتہ کئی عشروں سے تین بنیادی عناصر اسرائیل کی سلامتی، انرجی کا یقینی حصول اور ایران کے اثر و رسوخ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اقدامات پر استوار کر رکھا تھا۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ڈھانچہ اور نظام اپنے اوپر حکمفرما قوانین اور اپنے اندر شامل سیاسی کھلاٰڑیوں سمیت تبدیل ہو رہا ہے اور یہ تبدیلی کس قدر ہی کیوں نہ ہو ایران کے فائدے میں ہے۔
2۔ خطے میں ایران مخالف حکومتیں یا ختم ہو چکی ہیں اور یا تزلزل کا شکار ہیں۔ اگرچہ خطے میں فی الحال نئے سیاسی ڈھانچے سامنے نہیں آئے لیکن مستقبل میں معرض وجود میں آنے والے ان نئے سیاسی ڈھانچوں کی ایک خصوصیت یقیناً یہ ہو گی کہ وہ گذشتہ ڈھانچوں سے دوری کی کوشش کریں گے جسکا واضح نتیجہ یہ نکلے گا کہ خطے میں امریکہ کے ساتھ تعاون یعنی اسکی غلامی اور اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہو سکے گا۔ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے نے اسرائیل سے متعلق سیاسی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ سعودی عرب بھی، جو مشرق وسطی کے مشرق میں مصر جیسا مقام رکھتا ہے، اچھی طرح جانتا ہے کہ خطے میں رونما ہونے والی موجودہ تبدیلیوں کے پیش نظر ملک میں بنیادی تبدیلیاں لانے پر ناگزیر ہے اور امریکہ بھی اسکے انٹیک سیاسی نظام کو بچانے سے قاصر ہے۔ لہذا جو حادثہ رونما ہو رہا ہے وہ یہ کہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ ختم ہوتا جا رہا ہے جسکی وجہ سے ایک قسم کا طاقت کا خلاء پیدا ہو رہا ہے جسے پر کرنے کیلئے بہترین انتخاب ایران ہے۔
3۔ خطے میں سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں ایران کی ایک اور اہم کامیابی یہ ہے کہ گذشتہ چند عشروں کے دوران خطے میں پہلی مرتبہ ایسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں جنہیں صحیح معنوں میں عوامی کہا جا سکتا ہے۔ انکا واضح مطلب یہ ہے کہ سیاسی تبدیلیوں کا رخ ایسے میدان کی طرف ہے جسے ایران کے اثر و رسوخ کا میدان کہا جا سکتا ہے۔ امریکی نہ نظریاتی طور پر اور نہ ہی کسی ادارے کے ذریعے خطے کے عوام سے مرتبط نہیں ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اب تک خطے میں اپنے مطلوبہ اھداف حکومتوں کے ساتھ تعلقات اور درحقیقت انہیں بلیک میل کر کے حاصل کرتا آیا ہے لہذا اس نے عوام کے ساتھ
رابطے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ دوسری طرف ایران نے ہمیشہ اپنی تمام تر توانائی خطے کے عوام کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں صرف کی ہے کیونکہ وہ امریکی مداخلت کے باعث خطے کی کچھ حکومتوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات سے محروم رہا ہے۔ اب جبکہ خطے میں امریکہ اور موجودہ ڈکٹیٹرز کی توقع کے خلاف ایک عظیم عوامی لہر وجود میں آ چکی ہے تو اسکا حتمی فائدہ ایران کو ہی ہے اور قدرتی طور پر ایران ہی وہ طاقت ہے جو عوامی محبوبیت اور ان میں اثر و رسوخ کے باعث مضبوط پوزیشن کا حامل ہے۔
4۔ ایران کی ایک اور اہم کامیابی یہ ہے کہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر ایران کیلئے خطے میں ایک مثبت سیاسی فضا قائم ہو چکی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ایران اور اسکے اتحادی اگلے چند عشروں کے دوران سیاسی میدان کے اصلی کھلاڑیوں میں تبدیل ہو جائیں۔ اولا امریکہ خطے میں کئی مختلف محاذ ایجاد ہونے اور انکی وجہ سے اپنے بنیادی مفادات کا خطرے میں پڑ جانے کے باعث اسٹریٹجک مسائل اور مشکلات کا شکار ہے، دوما امریکہ خطے کے مسائل کو نمٹانے میں ایران کے تعاون کی ضرورت کو شدت سے محسوس کر رہا ہے، سوما ایران مخالف ممالک شدید سیاسی زلزلوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکی کئی محاذوں پر مسلسل شکست سے دوچار ہو چکے ہیں اور باقی محاذوں پر شدید لڑائی میں مصروف ہیں لہذا امریکہ نہیں چاہتا اس صورتحال میں اپنے سامنے ایران کا ایک نیا محاذ کھولے۔ گذشتہ چند سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کیلئے اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ خطے میں موجود تمام قوتوں کو ایران کے مقابلے میں لا کھڑا کرے اور اس طرح ایران کو گوشہ گیری کا شکار کر دے۔ لیکن گذشتہ تین چار ماہ کے دوران خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے توجہ ایران سے ہٹا کر خطے کے ممالک کی جانب مبذول کر دی ہے۔ اب نہ امریکہ میں ایران سے ٹکر لینے کی جرات باقی رہی ہے اور نہ ہی خطے کی آمرانہ حکومتون میں یہ طاقت رہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں ایران کے ایٹمی پروگرام سے مقابلہ کرنے میں لگا دیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نام پر اقتصادی پابندیاں اور عرب حکمرانوں کی جانب سے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات اس حد تک نہیں ہیں کہ ایران کیلئے ایک حقیقی خطرہ تصور کئے جائیں بلکہ انکا مقصد عرب ممالک کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا اور ایران کی خوداعتمادی کو ٹھیس پہنچانا ہے تاکہ وہ خطے کے موجودہ حالات کے پیش نظر سیاسی طور پر اثرانداز نہ ہو سکے لیکن یہ ہتھکنڈے اس قابل نہیں کہ ایران کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کر سکیں۔
خبر کا کوڈ : 67943
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

متعلقہ خبر