0
Friday 19 Aug 2011 02:38

سعودی عرب اور امریکی و اسرائیلی مفادات

سعودی عرب اور امریکی و اسرائیلی مفادات
 تحریر:محمد علی نقوی
سعودی عرب کے بادشاہ نے چند روز پہلے شام پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگاتے ہوئے نہ صرف اپنا سفیر واپس بلا لیا بلکہ اپنے زير اثر بعض عرب ملکوں پر بھی اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا دباؤ ڈالا۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے شام کے صدر بشار الاسد کو نصیحت کی ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا احترام کریں۔ سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ نے ایسے عالم میں شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اعتراض کیا ہے کہ خود سعودی شہری بنیادی ترین انسانی، سماجی اور مذہبی حقوق سے محروم ہيں۔ کوئی اور نہيں خود سعودی عرب کا اتحادی ملک امریکہ بھی اس سنگین مسئلے کو چھپا نہيں پا رہا ہے۔ امریکی ماہنامہ فارن پالیسی نے اپنی حالیہ اشاعت میں لکھا ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جس میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے انسانی حقوق پامال کئے جاتے ہیں۔
انسانی حقوق ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ انسانی افکار و نظریات اور اس پر عمل انسان کا ایک فطری عمل ہے جسے ہر معاشرے کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے لیکن سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے کی آزادی حاصل نہيں ہے، چاہے وہ مسجد کی تعمیر اور اس ميں نماز کی ادائیگی ہی کیوں نہ ہو جبکہ اسلام نے آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو برس قبل جزیرہ العرب میں ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ تمھارے لئے تمھارا دین ہمارے لئے ہمارا دین۔ قرآن کریم کے اس جملہ سے صاف ظاہر ہےکہ اسلام نے دین کی تبلیغ کا بےشک حکم دیا ہے لیکن زور زبردستی کے ذریعے کسی دین و مذہب کے ماننے والوں کو اپنے دین پر عمل کرنے سے نہيں روکا ہے۔ ایسے عظیم اور وسیع النظر دین کی پیروی کے دعویدار، کسی مذہب کے ماننے والوں کو دینی فرائض پر عمل کرنے سے کس طرح روک سکتے ہیں۔ لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ مسجدیں بنانے کی اجازت نہيں ہے بلکہ ان کی قدیمی مساجد کو بھی بعض اوقات شہید کر دیا جاتا ہے اور نماز جماعت پر پابندی تو عام بات ہے۔
 ابھی گذشتہ مہینوں میں متعدد خبریں موصول ہوئی تھیں جن میں شیعہ مساجد میں نماز جماعت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سعودی عرب میں مذہبی پابندی ہی نہيں بلکہ سماجی اور سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہے جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ ابھی گذشتہ مہینے ایک خاتون کو گرفتار کر کے اس لئے جیل میں ڈال دیا گیا تھا کہ اس نے اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسے ڈرائیو کرنے کی جرات کی تھی۔ پولیس نے اس خاتون کے اس اقدام کو سعودی معاشرے کے منافی اور خواتین کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا تھا جبکہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ خود ڈرائیونگ کی صورت میں زیادہ محفوظ ہیں۔
سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے۔ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں صرف ایک الیکشن ہوتا ہے اور وہ بھی بلدیہ کا، بلدیہ کےانتخابات بھی آزادانہ نہيں ہوتے اور تمام شہری اس میں حصہ نہيں لیتے جبکہ خواتین کو اس میں امیدوار ہونے کی اجازت ہی نہيں ہے۔ سعودی عرب میں سارا اقتدار و اختیار بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور صرف بادشاہ کو افراد کو مختلف عہدوں پر منصوب کرنے کا حق ہوتا ہے اور کسی بھی مسئلے میں صرف بادشاہ کو آخری فیصلہ کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اور صرف آل سعود خاندان کے افراد ہی اہم عہدوں پر فائز ہونے کا حق رکھتے ہیں۔
اگرچہ سعودی عرب میں پارلیمنٹ موجود ہے لیکن اس ملک میں پارلیمانی انتخابات نہيں ہوتے بلکہ پارلیمنٹ کے تمام ایک سوپچاس اراکین کو بادشاہ منصوب کرتا ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں پارلیمنٹ کا تقسیم اقتدار اور ملک کے سیاسی سماجی و اقتصادی فیصلوں میں کوئي کردار نہيں ہوتا۔ آل سعود کے تمام مخالفین صرف ملک سے باہر ہی رہ کر سیاسی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہيں انھیں ملک میں کسی طرح کی فعالیت کی اجازت نہيں یعنی درحقیقت سیاسی طور پر مخالف ہونے کی بنا پر ہی وہ جلاوطنی کی زندگی گذارنے پر مجور ہیں۔ سعودی عرب میں کوئی سیاسی پارٹی نہيں یعنی سیاسی پارٹی تشکیل دینے کی کسی کو اجازت نہيں ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی شیعہ اقلیت کو طرح طرح کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے انھیں نہ صرف ہر سطح پر نظرانداز کیا جاتا ہے بلکہ مذہبی امور بھی کھل کر انجام دینے کی اجازت نہيں ہے جبکہ وہ معاشی طور پر بھی پسماندہ بنا دیئے گئے ہیں۔
احتجاج، تنقید وغیرہ کی سعودی عرب میں کوئي گنجائش نہيں ہے، اس ملک کی شاہی حکومت معمولی احتجاج اور تنقید پر بھی شدید ردعمل ظاہر کرتی ہے اور احتجاج و مظاہرہ کرنے والوں کو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔ خواتین کو معمولی انسانی حقوق بھی حاصل نہيں ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ اور اپنے شوہروں کے بغیر سفر یا سیروتفریح کی اجازت نہيں ہے، انھیں ووٹ دینے اور اپنی من پسند شادی کرنے تک کی اجازت نہيں ہے۔ سعودی عرب میں خاندانی اور موروثی حکومت قائم ہے اور اسی بنا پر وہ کسی بھی طرح کی سیاسی آزادی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ بات اگر یہیں تک ہوتی تو اسے سعودی حکومت اور عوام کا داخلی معاملہ قرار دے کر دبایا جا سکتا تھا، لیکن المیہ یہ ہے کہ سعودی شاہی خاندان اس خطے کی دیگر ڈکٹیٹر حکومتوں اور حکمرانوں کو بھی مکمل طور سے سپورٹ کرتا ہے۔
تیونس کے ڈکٹیٹر علی بن زین العابدین کو جس انداز میں سعودی شاہی خاندان نے بڑھ کر گلے لگایا اور جس طرح اس نے کھل کر فرعون مصر حسنی مبارک کی حمایت کی اور اب وہ جس طرح بحرین میں شاہی نظام حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی فوجوں کے ذریعے وہاں کے نہتے عوام کا قتل عام کرا رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے خطے میں ڈکٹیٹر شپ اور آمریت کے خاتمے کے لئے سب سے بڑی رکاؤٹ سعودی شاہی خاندان ہے۔ البتہ خطے کے دیگر آمروں کو بچانے کے لئے سعودی عرب کی کوششیں ایک ایسے وقت عمل میں لائی جا رہی ہیں کہ خود آل سعود کو اپنے ہاں سخت عوامی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ علاقے میں اسلامی اور عوامی بیداری کی پیدا ہونے والی لہر جلد یا بدیر عرب دنیا کی اس سب سے قدامت پسند حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گی۔
 اس وقت سعودی عرب کے شہریوں کا سب سے اہم مطالبہ یہی ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات رو بہ عمل لائي جائيں، لیکن اس میں شک نہيں کہ سعودی عرب میں اصلاح پسندی کی تحریک کی تقویت اور عوامی مطالبات کے دائرے کے پھیل جانے کی صورت میں اس ملک میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہو گی۔ کہتے کہ سعودی فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزیز نے صدر بارک اوبا سے اس بات پر شدید گلہ کیا ہے کہ امریکہ نے حسنی مبارک کی سو فیصد حمایت کیوں نہیں کی، اسی بنا پر بعض مبصرین حسنی مبارک کی اقتتدار سے برطرفی کو سعودی عرب کی شکست قرار دیتے ہیں۔ البتہ تیونس اور مصر کے تجربے کے پیش نظر سعودی عرب نے بحرین کے معاملے میں امریکیوں سے گفتگو پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی فوج بھیج کر بحرین کے شاہی خاندان کی آمریت کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔
فارن پالیسی میگزین کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب مشرق وسطٰی کے علاقے میں امریکہ کا ایک اسٹرٹیجک اتحادی ہے۔ اس بنا پر وہاؤٹ ہاؤس انسانی حقوق کے افسوس ناک مسئلے پر سعودی عرب کو نہ صرف تنقید کا نشانہ نہيں بناتا بلکہ بحرین میں اس کی لشکرکشی اور بےگناہ نہتے عوام کے قتل عام اور سرکوبی کی حمایت بھی کرتا ہے، لیکن شام جو تحریک آزادی فلسطین میں آگے آگے ہے اور ہر طرح سے مظلوم فلسطینی عوام کی مدد کر رہا ہے وہاں اگر کچھ عناصر بیرونی طاقتوں کے اشارے پر بدامنی پھیلائيں اور ایک ہی حملے میں سو سے زیادہ سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیں اور حکومت امن و امان بحال کرنے کے لئے اقدامات کرے تو سعودی عرب اپنے سفیروں کو واپس بلا لیتا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدام انھیں طاقتوں کے اشارے پر انجام پایا ہے جن کے مفادات بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں ہیں اور یہ سبھی پر عیاں ہے کہ شام میں حکومت کی تبدیلی کا سب سے زیادہ فائدہ سامراج بالخصوص صیہونی حکومت کو پہنچے گا۔ 
کیا ایک ایسی حکومت کو کمزور کرنا جو صیہونی حکومت کے خلاف مسلسل استقامت و مزاحمت کا مظاہرہ کر رہی، صیہونیوں کو مضبوط بنانا نہيں ہے، وہ بھی ایسے ملک کی جانب سے جہاں خود انسانی حقوق کی پامالی اپنے عروج پر ہے۔ اگر سعودی عرب میں ہمت و جرات ہے تو وہ مظلوم فلسطینیوں بالخصوص غزہ کے بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کیوں نہیں بولتا۔ سعودی عرب کی طرف سے انسانی حقوق اور جمہوریت آزادی کے نعرے کھوکھلے ہیں اور ان نعروں میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کے دفاع کے علاوہ کچھ نہیں۔
خبر کا کوڈ : 92882
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب