0
Tuesday 7 Nov 2017 09:12

حرم حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

  • اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

    اربعین حسینی کے موقع پر حرم غازی عباس علمدار کے مناظر

اسلام ٹائمز۔ بعض قلبی کیفیات کو بیان کرنا قلم کے بس میں نہیں ہوتا۔ ان کیفیات کو بیان کرنے کے لئے ہمیں مثالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، تاکہ ذہن کو اس قلبی واردات سے قریب تر کیا جاسکے، جس سے انسان گزر رہا ہوتا ہے۔ محبت اور عشق انسان کا خاصہ ہے اور نہایت فطری ہے۔ خدا نے انسان کو کمال کا شیدا پیدا کیا ہے۔ وہ جس شے میں بھی کمال دیکھتا ہے، اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ خوبصورت پھول دیکھا تو اس کی جانب لپک گیا، خوبصورت منظر دیکھا تو گھنٹوں اس میں محو رہا، خوبصورت بات سنی تو ہمہ تن گوش ہوگیا۔ حسن و کمال اسے اپنی جانب کھینچتا ہے۔ بعض اوقات یہ کشش اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ انسان اپنا وجود بھلا بیٹھتا ہے، اسے اپنے مطلوب جو حسن حقیقی کا مظہر بن کر اس کے قلب و ذہن میں جلوہ گر ہوچکا ہے، کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ بس اس کو پانے یا اس کا ہو جانے کی دھن۔
خبر کا کوڈ : 681789
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب