0
Thursday 10 Oct 2019 10:36

اسلام آباد میں خطے کی سیکیورٹی پر کانفرنس

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

  • میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

    میثاق ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام علاقائی سیکیورٹی پر کانفرنس کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ میثاق ریسرچ سنٹر (تھینک ٹینک) کے زیراہتمام  علاقائی سیکیورٹی اور مسئلہ کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر نامور سکالرز اور دانش وروں سفارت کاروں وکلاء اور تجزیہ نگاروں نے شرکت کی۔ ڈئریکٹر جنرل میثاق ریسرچ کونسل محمد عبداللہ حمید گل نے ابتدائی کلمات سے آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج اس مسلۂ کو حل نہ کیا گیا تو یہ مسلۂ ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا اس وقت امریکہ کو افغانستان سے انخلاء کے لئے پاکستان کی جتنی ضرورت ہے شاید ماضی میں اتنی رہ رہی ہو، اس موقع پر یہ مسئلہ کشمیر حل کرانا ہوگا۔ ہمیں دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ دنیا کا امن مسلۂ کشمیر کی وجہ سے خطرے میں جو کہ 1948ء اقوامِ متحدہ کے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔

وائس ایڈمرل ہتشام نے تفصیلی بریفنگ دی اور پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں اور بحرہ عرب کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ حکومت پاکستان پارلیمانی سطح پر بھرپور کوشیں کر رہی اور عمران خان کے دلیرانہ اور مدبرانہ پالیسی سے بین الاقوامی سطح پر مسلۂ کشمیر دوبارہ اجاگر ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر بھی پارلیمانی سطح پر کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ہم کشمیر کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پوری دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ ایک ایٹمی جنگ سے دنیا بھر کا مواصلاتی نظام اور درجہ حرارت خراب ہو جائے گا۔ پوری دنیا میں تین سے پانچ ڈگری درجہ حرارت کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے کڑوروں انسان ہلاک اور اقتصادی نظام منجمد ہو جائے گا۔ اس لئے دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو ساری دنیا اس کے اثرات سے نہیں بچ نہیں پائے گی۔ سابق ائر چیف سہیل امان نے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود ناقابلِ تسخیر ہیں جس کا عملی مظاہرہ دنیا نے 27 فروری کو دیکھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ 5منٹ سے کم وقت میں بھارت اور اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ہارون اسلم نے کہا کہ پاکستان کی بری فوج دنیا کی نمبر ون فوجوں میں شمار ہوتی ہے۔ ہم بھارت کی عددی برتری برابر نہ ہونے کے باوجود  برتری رکھتے ہیں۔ اور ہماری فوج کا مورال اور تیاری برتر ہے۔ ہمارے پاس اسلحہ بھی بھارتی فوج بہت زیادہ جدید ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید  نے کہا کہ چین نے ہمیشہ کشمیر  مسئلے پر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کی اور پاکستان اور چین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ایک پیج پر ہیں۔
خبر کا کوڈ : 821167
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے