0
Friday 21 Feb 2020 23:42

قم میں “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کتاب کی رونمائی

  • موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

    موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

  • موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

    موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

  • موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

    موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

  • موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

    موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

  • موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

    موسسہ باقر العلوم قم میں توقیر کھرل کی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” کی تقریب رونمائی

اسلام ٹائمز۔ شہید قاسم سلیمانی کے حوالے سے اردو زبان میں مرتب کی جانے والی سب سے پہلی کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” اپنی مثال آپ ہے، اس کتاب کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ وہ کتاب کسی ایک شخص، ایک تنظیم یا  کسی ایک پارٹی کی تصنیف نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کی ترجمان ہے، کتاب کے مولف توقیر کھرل نے تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے صف اوّل کے دانشمندوں، تجزیہ کاروں اور رہنماوں کے مشاہدات، تاثرات اور تجزیات کو اس کتاب میں جمع کیا ہے۔ قم المقدس ایران میں، اس کتاب کی تقریب رونمائی آج مورخہ 21 فروری 2020ء کو موسسہ باقرالعلوم میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے انتظامی امور آقا اشرف علی سراج نے انجام دیئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا، تلاوت ِ قرآن مجید کا شرف قاری وجاہت حسین حیدری نے حاصل کیا۔ بعد ازاں کتاب کے مندرجات، اس کی اہمیت کے مختلف پہلووں اور حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ مبصرین اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی فقط اہل تشیع یا ایران کے ہیرو  اور رول ماڈل نہیں تھے بلکہ وہ سارے جہانِ اسلام کے سپہ سالار اور محسن ہیں، انہوں نے وحدتِ اسلامی کی خاطر، بیت المقدس کے دفاع اور داعش کی بربادی و خاتمے کے لئے جو گرانقدر خدمات انجام دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

مقررین نے کہا کہ شہید دنیا میں شعور و آگاہی اور بیداری کے علمبردار تھے۔ لہذا ہمیں تمام تر تعصبات، تقسیم بندیوں اور گروہوں سے بالاتر ہو کر شعور و آگاہی اور بیداری کو عام کرنا چاہیئے۔ تقریب سے آقا شبیر سعیدی، آقا نذر حافی اور ڈاکٹر علامہ شفقت حسین شیرازی نے گفتگو کی۔ اس موقع پر تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر علامہ شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی سے عشق کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے قلم اور زبان کے ساتھ حقائق کی ترویج و اشاعت کریں، انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات خصوصاً اس وقت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے حوالے سے ہماری معلومات مستند اور ٹھوس ہونی چاہیئں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا اور ان کی سیاسی رہنمائی کرنا بھی ایک دینی ذمہ داری ہے۔ تقریب کے آخر میں برادر عسکری مقدس اور ابراہیم صابری کو مذکورہ بالا کتاب “گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک” بھی پیش کی گئی۔
خبر کا کوڈ : 846013
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش