0
Wednesday 24 Feb 2021 07:52

قابض فورسز کے ہاتھوں سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

  • قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

    قابض فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر میں راہگیروں کی تلاشیاں

اسلام ٹائمز۔ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کے بعد منگل کو شہر سرینگر کے بڈشاہ چوک علاقے میں قابض فورسز اور پولیس نے راہگیروں کی جامہ تلاشیاں لیں اور فرن پہنے نوجوانوں سے زیادہ پوچھ تاچھ کر کے انہیں فرن اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ باغات سرینگر میں گزشتہ دنوں کے عسکری حملے کے بعد شہر میں قابض فورسز اور پولیس کو متحرک و چوکس کیا گیا ہے۔ پیر کو ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں کریک ڈاؤن کے بعد منگل کو  بڈشاہ چوک میں کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اس دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں سے پوچھ تاچھ کی گئی اور راہگیروں کی جامہ تلاشی بھی عمل میں لاکر انکے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ سب سے غیر معمولی بات دیکھنے میں یہ آئی کہ فرن پہنے نوجوانوں سے فرن اتارنے کے لئے کہا گیا اور بعد مین انہین فرن پہننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وادی کشمیر میں عسکریت پسندی شروع ہونے کے بعد 1989ء سے ابتک وادی کشمیر میں کبھی بھی فرن پہننے پر روک نہیں لگائی گئی ہے اور نہ کبھی قابض فورسز نے اس طرح کا کوئی اقدام کیا۔ فرن پہننا کشمیر کی صدیوں پرانی روایت ہے اور اس کا استعمال وزیر سے لیکر چپراسی بھی کرتا ہے لیکن کبھی بھی یہاں کسی کو فرن پہننے سے نہیں روکا گیا۔ ادھر ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کرنے کا سلسلہ بس اسٹینڈ ترال میں بھی جاری رہا۔ یہاں قریب 15 سال بعد بس اسٹینڈ ترال کا اچانک محاصرہ کر کے مسافروں کو گاڑیوں سے اتارنے کے علاوہ راہ گیروں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے ان کی جامہ تلاشیاں لی گئیں۔ سی آر پی ایف 180 بٹالین اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اچانک نیو بس اسٹینڈ میں نمودار ہوئی اور تمام علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر کسی کو نہ اسٹینڈ کے اندر آنے دیا گیا اور نہ ہی کسی کو باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ یہاں موجود لوگوں اور گاڑیوں میں سوار مسافروں کو نیچے اتار ان کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 917977
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش