1
0
Monday 4 Jun 2012 00:15

پاکستان میں ولایت فقیہ کی ترویج کیلئے آئی ایس او کے جوانوں نے سب سے زیادہ کام کیا ہے، علامہ ناصر عباس جعفری

پاکستان میں ولایت فقیہ کی ترویج کیلئے آئی ایس او کے جوانوں نے سب سے زیادہ کام کیا ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، آپ نے بہت ہی کم عرصہ میں قیام کر کے پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور کافی عرصہ سے ملت میں پائی جانیوالی عدم فعالیت اور سکوت کو توڑا۔ علامہ ناصر عباس جہاں ملت تشیع کو میدان عمل اور سڑکوں پر لیکر آئے، وہیں ملک بھر میں قرآن و اہلبیت ع کانفرنسز کا انعقاد کر کے ثابت کر دیا کہ اگر تھوڑی سی ہمت کی جائے تو قوم میں مایوسی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے گذشتہ روز اُن سے قرآن و سنت کانفرنس کی تیاریوں سمیت ملکی و بین الاقوامی معاملات پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان میں وحدت بین المومنین اور وحدت بین المسلمین کن پیرامیٹرز پر ہو سکتی ہے اور لوگوں کے دلوں سے نفرت کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: وحدت کی اہمیت سے کوئی بھی اختلاف نہیں رکھتا۔ وحدت طاقت کا سرچشمہ ہے۔ سب سے پہلے پیروان قرآن و اہل بیت ع کے درمیان وحدت ہونی چاہیے اور پھر شیعہ و سنی میں وحدت ہونی چاہیے۔ دشمن پورے عالم اسلام میں شیعہ سنی مسئلہ کھڑا کر کے تفرقہ پھیلا رہا ہے اور شیعوں کو داخلی طور پر کمزور کرنے کے لیے داخلی تفرقات پھیلا کر اپنا ہدف حاصل کر رہا ہے۔ لہٰذا اس کا مقابلہ صرف وحدت سے ہی ہو سکتا ہے، لیکن وحدت صرف شعار کی حد تک ہی نہیں ہونی چاہیے۔ وحدت کی جو عملی صورت و شکل ہے وہ واضح ہونی چاہیے۔ شیعہ سنی وحدت کے حوالے سے گراس روٹ لیول تک رابطے ہونے چاہیں۔ شیعہ سنی علماء کے فورم بننے چاہیں۔ ایسے فورم جس میں شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث سمیت دیگر مکاتب فکر شامل ہوں۔ مسلمان آپس میں جتنے قریب ہوں گے، اتنے ہی متحد اور مضبوط ہونگے۔ اس سے دشمن کی سازشیں بھی ناکام ہوں گی۔

اب آتے اس اہم سوال کی طرف کہ وحدت بین المومنین کس کے سائے تلے اور کس طرح ہونی چاہیے، کیا عالمی استکبار امریکہ کے پرچم کے تلے۔؟ یقیناً جواب نفی ہے، وحدت مفید ہے لیکن یہ اللہ کی محبت اور اطاعت میں ہونی چاہئیے۔ امام زمانہ ع کی غیبت کبریٰ میں جو ولایت کا تسلسل ہے اور جو مکتب امامیہ کے امتیازات میں سے ہے، وہ ولایت ولی فقیہ کی صورت میں ہے۔ لہٰذا اگر وحدت ولایت فقیہ کے پرچم کے سائے تلے ہو گی تو یہ مفید بھی ہے اور اس سے قوم کو فائدہ پہنچے گا۔

اس وقت عالم کفر، امریکہ کی پیروی اور اس کے پرچم تلے جمع ہے، اس کی اطاعت کرتا ہے، جبکہ اس مقابل میں اس وقت اہل ایمان کا محاذ ہے، جہاں ہمیں متحدہ ہونا ہے۔ اگر جہان کفر امریکہ کے پیچھے متحد ہے تو ہمیں ولی فقیہ کے پرچم تلے ایک ہونا پڑے گا۔ اس وقت تک ہم اپنے اہداف اور مقاصد بھی حاصل نہیں کر سکتے جب تک صحیح معنوں میں ولی فقیہ کی اطاعت کے سائے تلے کام نہ کیا جائے۔ جہاں کہیں بھی لوگ جمع ہوں اور وہ ولی فقیہ کے پرچم کے زیر سایہ نہ ہوں تو وہ کبھی شیطان سے نہیں بچ سکتے کیونکہ شیطان نے کہا تھا کہ اے خدا مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو اغواء کروں گا، جو بھی جماعت طاقت ور ہو جائے اور وہ ولی فقیہہ کے زیر سایہ نہ ہو تو اسے شیطانی طاقتیں اغوا کر لیتی ہیں اور انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مومنین کے درمیان وحدت ہو، جس کا مرکز ولی فقیہ ہو، ہمارا عقیدہ ہے کہ غیب امام زمان ع میں نائب امام ولی فقیہ ہے۔ جس کے اطاعت سے مسلمان ترقی کر سکتے ہیں کیونکہ رہبری کے بغیر معاشرے نہیں چل سکتے۔

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین رہبریت سے کس طرح منسلک ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے جو سب سے بڑا عہدہ رکھا ہے وہ سیکرٹری جنرل کا ہے، یہ اس لیے کہ ہم صرف ولی فقیہ کو اپنا قائد مانتے ہیں اور انہی کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ خالی نعرے نہیں ہونے چاہیں بلکہ عملی طور پر سب کو چاہیے کہ وہ رہبر کو اپنا پیشوا مانیں اور ان کے پیچھے چلیں۔ ایرانی قوم جب عادل ولی فقیہ کے ساتھ ہوئی اسے دنیا میں عزت ملی، اسی طرح حزب اللہ نے ولی فقیہہ کو قائد مانا تو اس نے دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کو شکست دے دی۔ پاکستان کی سرزمین پر ہم 5 کڑور سے زیادہ شیعہ ہیں۔ اگر ہم بھی اپنے آپ کو نظام ولایت کے ساتھ متصل کر لیں، یقیناً ہم بھی اسی طاقت کے مالک ہو جائیں گے اور ہم رہبر و نائب امام کی بصیرت سے استفادہ کر سکیں گے، ان کی رہنمائی سے استفادہ کر سکیں گے۔ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مکتب تشیع کے ساتھ تعلق ہے ان سب کو ولی فقیہ کو اپنا قائد و پیشوا مان لینا چاہیے اور باقی لوگوں میں بھی اس روش کو فروغ دینا چاہیے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جب شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی قیادت تھی تو اس وقت خود شہید قائد نظریہ ولایت فقیہ کو باقاعدہ لوگوں تک پہنچاتے تھے اور اس نظریہ کی ترویج کرتے تھے۔ جگہ جگہ اور ملک کے کونے کونے میں گئے اور امامِ امت کی رہبری کے حوالے سے باقاعدہ انہوں نے لوگوں تک اس پیغام کو پہنچایا اور ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارا رہبر و پیشوا امام خمینی رضوان اللہ ہیں۔ لیکن ان کی شہادت کے بعد پاکستان میں نظریہ ولایت فقیہ کا فروغ عمومی طور پر رک گیا۔ کسی حد تک آئی ایس او کے جوانوں نے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اس نظریہ کی ترویج کو جاری رکھا، اس حوالے سے امامیہ طلبہ نے یونیوسٹیز میں ورکشاپس کرائیں اور سیمینارز کا انعقاد کرایا۔

اسلام ٹائمز: تو کیا قائد شہید کی شہادت کے بعد ولی فقیہ کی عمومی ترویج کا بیڑا صرف آئی ایس او نے اٹھایا۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: ہمیں اس بات کو ماننا چاہیے اور یہ حقیقت ہے کہ جتنا نظریہ ولایت فقیہ کی ترویج آئی ایس او کے جوانوں نے کی وہ کسی اور نے نہیں کی اور انہوں نے آج تک اس نظریہ کو اس معاشرے میں اجاگر کیا ہے، اور اس کام کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ الحمد اللہ اب مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں بسنے والے شیعوں کی ایک طاقتور آواز بن کر ابھری ہے، ہم قائد شہید کی اس فکر کو زندہ کریں گے اور قوم کو ولی فقیہ کے ساتھ متصل کریں گے۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہی صراط مستقیم ہے اور اسی پر چل کر ہی منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس نظریہ کی مدارس میں بھی اسطرح ترویج نہیں ہوئی، جس طرح سے اسکا حق بنتا تھا۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں پاکستان کے مدارس میں جس طرح سے نظریہ ولایت فقیہ جو مکتب تشیع کا سیاسی و اجتماعی نظریہ ہے، اس کی جس طرح سے ترویج ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی۔ یہ ہمارے امتیازات میں سے ہے، اسے مدارس میں پڑھایا جانا چاہیے تھا۔ اس اسلامی نظام نے پوری دنیا کے نظاموں کو چیلنج کیا ہے اور پورے عالم اسلام میں تبدیلی لے کر آیا ہے۔ یہ سیاسی اجتماعی نظریہ ہے جس کی جڑیں مکتب محمد و آل محمد ع میں ہیں اور جس کی جڑیں نظام امامت و ولایت میں ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں اور حوالوں سے کوتاہیاں ہوئیں ہیں، وہاں اس حوالے سے بھی بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔

اسلام ٹائمز: تنگ نظری بہت بڑی آفت ہے، نشترپارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کے دوست شرح صدر پیدا کریں اور دوسروں پر تنقید نہ کریں، کیا ایسا ہو رہا ہے اور اگر نہیں ہو رہا تو اس پر کیا کہیں گے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: جیسا کہ آپ نے بھی اشارہ کیا کہ تنگ نظری بہت بڑی آفت ہے۔ فقط اپنے آپ کو ہی حق پر سمجھنا اور باقی دوسروں کو باطل پر سمجھنا، یہ درست نہیں۔ ہم معیار حق و باطل نہیں ہیں۔ حق اور باطل کا معیار صرف امام علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہ السلام ہیں۔ اگر آپ حق کو دیکھنا چاہتے ہیں اور حق کے راستے کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں تو مرکزی قیادت یعنی ولی فقیہ، نائب امام کے پرچم کے نیچے جمع ہونا ہو گا۔ لہٰذا ہمیں داخلی طور پر اپنے مومنین و علماء کو اس پرچم کے نیچے لانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگر شرح صدر پیدا ہو جائے، اگر ہم ایک دوسرے کو برداشت کریں، حسد نہ کریں، تو میرے خیال میں کافی حد تک ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔

میں اسلام ٹائمز کے توسط سے مجلس وحدت مسلمین کے دوستوں کو یہ کہتا ہوں کہ شرح صدر ہی بزرگوں، بڑوں، دانشمندوں اور علماء کی نصیحت ہے۔ شرح صدر سے ہی انسان اپنے راستے کی حائل رکاوٹوں کو برطرف کر سکتا ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی تھی کہ خدایا مجھے شرح صدر عطا کر، کیونکہ حضرت موسٰی ع جانتے تھے کہ انہوں نے فرعون کا مقابلہ کرنا ہے۔ شیعہ کے دشمن بہت زیادہ ہیں، عالمی استکبار اور اسکے داخلی گماشتے ہمارے دشمن ہیں اور ہم جتنے بھی قریب ہوں گے، اتنے ہی ہماری قوم کے لیے فائدہ ہے اور قریب ہونے کے لیے شرح صدر کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے، حتیٰ کہ گناہ گار شیعہ بھی ہمارا حصہ ہے اور اسے بھی ہمیں سینہ سے لگانا چاہیے۔ اس کے ساتھ محبت کریں۔

مجھے ایک مرحوم ذاکر سید صابر حسین شاہ بہل نے یہ کہا تھا کہ مولانا ہم لوگ قاتل نہیں ہیں، گناہ گار ہیں، لیکن ہمارے دشمنوں نے ہمارے قاتلوں کو اپنے ساتھ بیٹھا کر ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اگر ہم گناہگاروں کو اپنے سینے کے ساتھ لگائیں گے تو ہم آپ کے بہت کام آئیں گے۔ قوم کے افراد کا احترام، ملت کے افراد کی رہنمائی کرنا، یہ سارے کام صرف شرح صدر سے ہی ممکن ہیں۔ لہٰذا علماء کے ساتھ رابطے میں شرح صدر ہونا چاہیے۔ خواص کے ساتھ رابطے میں شرح صدر ہونا چاہیے۔ عوام کے ساتھ رابطے میں شرح صدر ہونا چاہیے۔

میں مجلس وحدت مسلمین کے دوستوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ ہمیں داخلی طور پر کسی طرح بھی اور کسی بھی طبقے کے خلاف تنقید و نفرت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں برداشت کرنا چاہیے، دوسروں کا احترام کرنا چاہیے، اپنے بزرگ علماء کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم ایک روایت ڈالیں کہ دوسروں کا احترام لازمی کرنا ہے۔ پاکستان کے اندر پاکستانی قوم کو وجود میں آئے 65 سال ہو چکے ہیں، ہمیں ایک قوم بننا ہے۔ ملت تشیع کو ایک قوم بننا ہے، ایک ملت بننا ہے، اس کے لیے کچھ چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ جن میں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہے، ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے، میں تمام دوستوں، نوجوانوں سب سے یہ اپیل کروں گا کہ ہمیں اپنے علمائے کرام، ذاکرین عظام، شعرائے کرام، خطباء حضرات، اساتذہ، طلباء، بانیان مجالس، جوانوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بچوں سب کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں سب سے محبت کرنی چاہیے اور سب کو اپنے قریب کرنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: سوشل نیٹ ورک پر ایک دوسرے پر جو تنقید ہوتی ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے۔؟

اسلام ٹائمز: اس حوالے سے ہمیں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ اب شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رہ کے معنوی فرزند منظم ہو رہے ہیں، بہت بڑے کام کرنے اور بڑی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ اس سال ہم نے میدان میں حاضر رہنے کا اعلان کیا ہے۔ لہٰذا ہمارا دشمن یہ کوشش کرے گا کہ ہمیں الجھائے۔ کبھی کبھار ہمارے خلاف تقریر کروا لے گا، کبھی فیس بک پر اور کبھی کوئی پروپیگنڈا کرے گا۔ میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے کسی مومن بھائی سے اختلاف کی بات نہیں کرنی ہے۔ حتیٰ کہ وہ ہمیں گالیاں دیں تب بھی ہمیں ردعمل نہیں دینا چاہیے۔ ہم میں اتنی بصیرت اور اتنی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ نشاندہی کر لیں کہ یہ سارے دشمن کے اوچھے ہتھکنڈے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کہا جاتا ہے کہ علامہ ناصر عباس جعفری کے لیے یکم جولائی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ وہ تمام بڑی شخصیات کو دعوت دیں اور انہیں جمع کریں، اس پر کیا کہیں گے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں، پاکستان کے جتنے بھی علمائے کرام اور بزرگ حضرات ہیں ہم ان سب کو دعوت دیتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی علامہ سید ساجد نقوی کو دعوت دی گئی ہے اور پھر بھی ان کو دعوت دی جائے گی۔ جو بھی آئے گا، ہم شریف میزبان کی طرح ان کا بھرپور احترام کریں گے، ان کو عزت دیں گے اور وہ یہ احساس کریں گے کہ واقعاً ہمیں عزت دی گئی ہے۔ انہوں نے ہمیں شیعہ علماء کونسل کے پروگرام میں بلایا، انہوں نے ہمیں مجلس وحدت مسلمین کے طور پر دعوت نہیں دی تھی، بلکہ شخصی دعوت دی تھی۔ ہمارے پاس وہ کارڈ اب بھی موجود ہیں۔ ہماری تنظیم کی دوسری بڑی شخصیت جناب علامہ محمد امین شہیدی صاحب نے اس پروگرام میں شرکت کی تھی۔ ہماری شوریٰ عالی کے اراکین اس میں شریک ہوئے۔ ہماری شوریٰ عالی کے سربراہ علامہ حسن صلاح الدین اس پروگرام میں شریک ہوئے۔ ہماری توقع تو یہ تھی کہ وہ ہمیں ہماری جماعت کے نام پر بلاتے، لیکن بہرحال ہم ان کو ان کی حیثیت کے مطابق دعوت دیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے بزرگان آئیں گے۔
 
ہم تو چاہتے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین تمام مومنین کی طاقت بن جائے، شیعوں کی طاقت بن جائے، مدارس کی طاقت، مساجد کی طاقت، امام بارگاہوں کی طاقت، ماتمی انجمنوں کی طاقت، خطباء، ذاکرین، بیوروکریٹ، سیاستدانوں سب شیعوں کی طاقت بنے۔ ہم تو سب کو بلانا چاہتے ہیں اور سب کو جمع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ہر بار کوشش کرتے رہیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ایک دن آئے گا کہ شہید قائد کے معنوی فرزند جنہوں نے شہید قائد کا پرچم ہاتھوں میں لیا ہے، وہ ان سب کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ علامہ سید ساجد نقوی کو دعوت دینے خود جائیں گے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میں اس سے پہلے بھی کئی بار علامہ سید ساجد نقوی سے بالمشافہ ملاقات کر چکا ہوں اور الگ ملاقات کرنے اور وقت لینے کی بات کی ہے، انہوں نے کئی بار کہا بھی ہے کہ وہ وقت نکالیں گے، لیکن ابھی تک انہوں نے فرصت نہیں نکالی۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میرے دعوت دینے سے وہ آ جائیں گے تو یقین جانیں میں خود انہیں دعوت دینے کے لیے تیار ہوں۔ میں اپنے بزرگوں کے پاس ایک ایک کر کے جانے کے لیے تیار ہوں۔

اسلام ٹائمز: یکم جولائی کے حوالے سے کیا تیاریاں ہیں۔؟ یہ اجتماع قومی شیعہ تاریخ میں کتنا بڑا اجتماع ہو گا اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: انشاءاللہ یہ اجتماع شیعہ قومی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ اس اجتماع میں شیعہ قوم اپنی قدرت و طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ اسی اجتماع میں ہم اپنا سیاسی روڈ میپ دیں گے۔ شیعہ سنی وحدت، امن کے حوالے سے، وحدت کے حوالے سے، نفرتیں مٹا کر محبت پیدا کرنے کے حوالے سے، محبتوں کو رواج دینے کے حوالے سے، اسی طرح ملک کے داخلی و خارجی مسائل کے حل کے حوالے سے انشاءاللہ ہم روڈ میپ دیں گے، جس سے پاکستان کے اندر بہتری آئے گی۔ علاقائی شناخت کو مٹایا نہیں جا سکتا، لیکن ہماری سب سے بڑی شناخت پاکستان ہے۔ 

وطن دوستی کے حوالے سے پیغام دیں گے، آپ نے دیکھا کہ بلوچستان میں پاکستان کا پرچم نہیں اٹھایا جاتا ہے، ترانہ نہیں پڑھا جاتا، ہمارے ملک کے اندر مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، ان کی وجوہات مختلف ہیں، ہم وطن کے بیٹے ہیں۔ وطن کی ذمہ داریاں اور ایک مسلمان ہونے کی سب سے بڑی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لیے ہم اس اجتماع میں سیاسی روڈ میپ دیں گے، تاکہ پاکستان کے اندر ہم ایک باوقار قوم بن جائیں۔ شیعہ سنی وحدت کے حوالے ایک طاقت ور آواز ہو گی۔ 6 جولائی 1987ء کو لاہور میں منعقد ہونے والی قرآن و سنت کانفرنس میں شہید قائد نے ایک منشور دیا تھا اور انشاءاللہ اسی منشور کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے۔

اسلام ٹائمز: ملی یکجہتی کونسل کی دوبارہ بحالی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں پاکستان کے تمام علماء کے طبقات میں رابطہ ہونا چاہیے۔ ہمارا دشمن تفرقے کے لیے کوششیں کرتا ہے، اس کے سدباب کے لیے تمام علماء کا ایسا فورم ہونا چاہیے جہاں پر ایسی تمام مشکلات کے حل کے لیے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کو بیٹھ کر سوچنا چاہیے۔ ایسے فورم میں چاہیے کہ کسی بھی عالم کو اپنی باتیں کسی دوسرے کے اوپر نہ ٹھونسے نہیں دینی چاہئے، مثلاً مکتب تشیع کے اندر اس کے اپنے اصول ہیں، ہمیں بھی حق نہیں پہنچتا کہ ان اصولوں کو دوسروں کے اوپر ٹھونسیں۔ بعض اختلاف کی وجہ سے ہی مسالک وجود میں آئے ہیں۔ 

اہل بیت ع دین کی اساس ہیں۔ ہم یہ کبھی بھی توقع نہیں رکھیں گے کہ ہمارے اہل سنت بھائی یا بریلوی بھائی اپنے مکتب کو چھوڑ کر بارہ معصوموں کو اپنا امام مان لیں، ان کی نگاہ میں حضرت علی علیہ السلام چوتھے خلیفہ ہیں، لیکن ہم ان کو پہلا امام مانتے ہیں، ہم بارہ اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک رسول ص کا جانشین عوام بناتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہے، ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول ص کا جانشین اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ اس فرق کو سامنے رکھ کر اور مسالک کی حیثیتوں کو قبول کرتے ہوئے ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے، ایک ایسا چارٹر لکھنا چاہیے کہ شیعہ شیعہ کے پاس جائے اور بریلوی اپنے بریلوی کے پاس جائیں تو وہ بھی اس کو قبول کر سکیں۔

میں یہ کہتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل کے اندر عیسائیوں کو بھی لانا چاہیے۔ جتنے ادیان ہیں، سب کو ان میں شامل کرنا چاہیے۔ ایک ایسا چارٹر لکھا جانا چاہیے کہ پاکستان کے اندر بسنے والے تمام مکاتب فکر کے لوگ یہ کہیں کہ واقعاً ہمارا حق محفوظ ہے اور ہمیں پورا پورا حق مل گیا ہے۔ میرے خیال میں اس جہت کو سامنے رکھ کر یہ فورم آگے بڑھے گا تو بہت ہی مفید ہوگا۔

اسلام ٹائمز: ملی یکجہتی کونسل میں شدت پسند عناصر کو شامل نہیں کیا گیا۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں معتدل لوگوں کو چاہیے کہ دہشتگردی پھیلانے والوں کو روکیں۔ یہ حقیقیت ہے کہ جس فورم پر بھی یہ شدت پسند قوتیں گئی ہیں، وہاں پر انہوں نے مسائل کھڑے کئے ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل کے اندر جا کر ان لوگوں نے تشیع کے خلاف نعرے لگائے، جنہوں نے پاکستان بنایا تھا۔ پاکستان میں بسنے والے پیروان قرآن و اہل بیت ع کے خلاف نعرے لگانا اور ان نعروں نے ثابت کر دیا کہ یہ لوگ دفاع پاکستان نہیں کرنا چاہتے، ان نعروں سے کیا دفاع پاکستان ہوتا ہے۔
 میرے خیال میں یہ امریکہ کا دفاع تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کا دفاع کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ اسرائیل کا دفاع تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کا دفاع نہیں ہو سکتا، یہ بھارت کا دفاع تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کا دفاع نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا دفاع یعنی پاکستان کے اندر تمام طبقات کے اندر وحدت، یعنی پاکستان کے اندر تمام مکاتب فکر کے لوگوں میں محبت کا رواج اور عادلانہ نظام کا قیام ہے۔ پاکستان کا دفاع یعنی پاکستان کو ان تمام بحرانوں سے نکالا جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا دفاع پاکستان کے نام پر بعض جماعتوں کے اکھٹے ہونے سے پاکستان کا دفاع ممکن ہے جبکہ پاکستان کی سات لاکھ افواج بھی اسی کام پر مامور ہے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: ان سب لوگوں کو دفاع پاکستان کے نام پر اکٹھا کرنا میرے خیال میں دفاع پاکستان کے نام کی ہی توہین ہے۔ دفاع پاکستان، یہ نام بہت ہی مقدس اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان کو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، جن لوگوں نے پاکستان کے اندر ناامنی، قتل و غارت، تباہی کا سلسلہ شروع کیا، کیا یہ لوگ پاکستان کا دفاع کریں گے۔ 4 انتہاء پسند گروہوں کو اکٹھا کر کے دفاع پاکستان کے نعرے لگوانا، یہ تمام پاکستانیوں کے شعور کی توہین ہے اور یہ ایک بہت بڑی حماقت ہے، جو انہوں نے کی اور کر رہے ہے، اس کا انشاءاللہ نتیجہ بھی آپ جلد ہی دیکھ لیں گے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ سیاسی حالات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کا ایسا رویہ ہے جو کسی بھی معاشرہ کا حصہ کہلانے کے قابل نہیں، یہ لوگ ایک دوسرے کیخلاف جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ اسلامی اقدار تو دور کی بات، کسی ان پڑھ معاشرہ کا حصہ بھی نہیں کہلا سکتیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان سب کو سیرت رسول ص کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ حضرت محمد مصطفی ص بعنوان سیاستدان کس طرح سے زندگی گزارتے تھے۔ حزب اختلاف کی خوبصورت ترین مثال امیرالمومنین علی ع ہیں اور جنہوں نے بہت ہی احسن انداز میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ اگر آپ ع سے مشورہ مانگا گیا تو آپ ع نے دیانتداری سے مشورہ دیا۔ آپ ع اندرونی اکھاڑ بچھاڑ کی طرف نہیں گئے، آپ ع نے اچھا کردار ادا کیا اور ساتھ ساتھ اپنا موقف بھی بیان کرتے رہے۔ 

جب تک سارے لوگ چل کر آپ ع کی طرف نہیں آ گئے اور عوام نے آپ ع کو نہیں کہا تب تک آپ نے کچھ نہیں کیا، عوام چل کر آئی تو آپ ع نے خلافت کو قبول کیا اور ایک عادل حکمرانی کی۔ لہٰذا موجودہ سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ اخلاقی اقدار کو اپنائیں، تاکہ ہمارے ملک کے اندر بہتری آ سکے۔ ہمارا سیاسی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے، اس کی بنیادیں ہلیں ہوئی ہیں، ان کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کوئٹہ کے حالات، پاراچنار کے حالات، ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات، گلگت بلتستان کے حالات دیکھ لیں، ہر طرف ناامنی ہی ناامنی ہے۔ 

اس ملک کے اندر ڈاکے، قتل و غارت کیا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ اس ملک کے اندر بے روزگاری، غربت اور مشکلات بڑھ رہی ہیں، لوگ پریشان ہیں، جبکہ سیاستدان ایک دوسرے کے اکھاڑ بچھاڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ اب عوام ان کو قبول نہیں کرتی ہے۔ یہی بات ہے کہ اب کسی بھی پارٹی کے پاس وہ عوامی طاقت نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ اس وقت ہمارے ملک میں سیاسی بساط اس سطح پر ہے کہ فوج، سیاسی پارٹی اور عدلیہ کوئی چال نہیں چل سکتیں۔ ہمارے ملک میں سیاست مہلک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 167600
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
اللہ علامہ صاحب کو درازی عمر عطا کرے، بالکل صحیح فرمایا کہ سب سے بڑی آفت تنگ نظری ہے۔ اللہ ہمیں وحدت کیلئے کام کرنے کی توفیق دے، امین