1
0
Wednesday 6 Mar 2013 00:39

پاکستان میں دہشتگرد ٹولہ بیرونی ممالک کا آلہ کار ہے، شیخ باقر دانش

پاکستان میں دہشتگرد ٹولہ بیرونی ممالک کا آلہ کار ہے، شیخ باقر دانش
شیخ محمد باقر دانش کا تعلق کمنگو کھرمنگ بلتستان سے ہے، آپ کا شمار بلتستان کے جید اور فعال علمائے کرام میں ہوتا ہے آپ الحکمہ فاؤنڈیشن پاکستان کے سربراہ ہیں اور یہ ادارہ پورے پاکستان میں صحت، تعلیم اور اجتماعی خدمات میں مصروف عمل ہے۔ اسلام ٹائمز نے حالیہ سانحات کے حوالے سے شیخ محمد باقر دانش سے خصوصی انٹرویو کیا ہے جو محترم قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں جاری دہشت گردی کے واقعات کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟

شیخ  باقر دانش: پاکستان میں جاری دہشت گردی کی اصل ذمہ دار حکومت کی غلط پالیسی اور ذمہ دار افراد کا اپنی ذمہ داری کو نہ نبھانا، صحیح نظام اسلامی کا نافذ نہ ہونا اور مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں کیا دہشت گردی کا مستقل حل ممکن نظر آ رہا ہے؟
شیخ باقر دانش: دہشت گردی سے نجات کا واحد راستہ ایک مکمل نظام اسلامی اور صحیح معنوں میں اس کا قیام اور جرائم پیشہ افراد کو قرار واقعی سزا دینا اور کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہ ہونا ہے اور اسی صورت میں مملکت خداداد پاکستان دہشت گردوں اور فتنہ پروروں کی شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: کراچی کا حالیہ سانحہ کس کی غفلت کا نتیجہ ہے؟
شیخ باقر دانش: صرف کراچی کا سانحہ نہیں بلکہ ملک عزیز کے گوشہ و کنار میں جتنے سانحے رونما ہو رہے ہیں، یہ سب انتظامیہ کی کوتاہی اور ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور کسی خاص فرقہ کے افراد پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود ان کے لئے امنیت اور خاص سکیورٹی کا خصوصی انتظام نہ کرنا ان تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے سانحوں کا اصل سبب ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا منطقی انجام کیا ہو سکتا ہے؟
شیخ باقر دانش: اگر اس دہشت گردی کو نہ رو کا گیا تو ملک عزیز میں خانہ جنگی کا امکان ہے، فرقہ واریت کے نتیجے میں ملکی سالمیت کے لئے خطرہ ہے۔ اس کا منطقی حل یہ ہے کہ تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سخت ترین کارروائی کی جائے اور ملک میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے شرپسند عناصر کو عبرتناک سزا دی جائے اور انکے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا ملک میں قیام امن کے لئے طالبان اور دہشت گردوں سے مذاکرات کوئی سنجیدہ عمل ہے؟
شیخ باقر دانش: طالبان اور دہشت گردوں سے مذاکرات سے ملک میں امن و امان بحال نہیں ہو سکتا یہ ٹولے بیرونی ممالک کے آلہ کار ہیں، یہ اپنے ناپاک جرائم سے وطن عزیز میں بدامنی پھیلاتے رہینگے۔ ان سے مذاکرات ان کی بالادستی کے مترادف ہیں۔ مذاکرات سے صرف اور صرف ان دہشت گردوں کی اہمیت میں اضافہ اور ان کو رسمی طور پر پہچانا جانا ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک میں دہشت گرد عناصر ریاستی اداروں بالخصوص فوج سے زیادہ مضبوط نظر آ رہے ہیں، کیا یہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی نہیں؟
شیخ باقر دانش: اگر آج یہ دہشت گرد ریاستی اداروں اور فوج سے مضبوط نظر آتے ہیں تو یہ ہمارے حکمرانوں اور سکیورٹی اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہے کیونکہ ان کے اس قدر مضبوط ہونے تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا اور آج اس کے نتیجے کے طور پر یہ ہمارے گھروں کے دہلیز پر آ پہنچے ہیں اور ہمارے حکمران ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں اور ان ظالموں کو فری ہینڈ (free hand) دیا ہوا ہے کہ یہ جہاں بھی چاہے دہشت گردی کریں خواہ ان کا نشانہ پاک فوج ہو، ریاستی ادارے یا مظلوم شیعہ قوم۔

پاک فو ج کے حوالے سے یہ عرض کروں کہ ہمیں اپنی فوج پر مکمل اعتماد ہے اور فخر بھی ہے کہ ہماری فوج ملک کی سالمیت کے لئے اپنی جان ہھتیلی پر رکھ کر ملک کی حفاظت میں کوشاں ہے۔ لیکن جمہوری حکومت ریاستی اداروں کے کام میں مداخلت کو مناسب نہیں سمجھتی ہے اور ساتھ ہی میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگر اسی طرح دہشت گردی اپنی عروج پر رہی تو پاک فوج کی اولین ذمہ داری ہے کہ اپنے ہم وطنوں کے مال، عزت اور ناموس کی حفاظت کرے اور دہشت گرد عناصر سے اس مملکت خداد کو پاک کرے۔

اسلام ٹائمز: بلتستان میں اب تک سانحہ کراچی یا کوئٹہ طرز کی دہشت گردی نہیں ہوئی کیا مستقبل میں کوئی خطرات نظر آ رہے ہیں؟ 
شیخ باقر دانش: اس وقت پورا پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور بلتستان بھی اس دہشت گردی سے مستثنٰی نہیں ہے۔ دہشت گرد ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں وہ اب تک بلتستان کے اندر اپنے ناپاک عزائم میں تو کامیاب نہیں ہو سکے لیکن بلتستان سے باہر اس خطہ کے پُرامن عوام ان ظالموں کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ گذشتہ سال کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں سر فہرست سانحہ چلاس، سانحہ کوہستان اور سانحہ بابو سر شامل ہیں، جس میں ہمارے کئی نوجوانوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا اور ان کے اموال کو غارت کیا گیا۔ بلتستان میں اگر امن و امان برقرار ہے تو یہ وہاں کے مقامی بزرگ علماء دین اور عوام کی دور اندیشی کا تیجہ ہے جس کے بدولت آج یہ خطہ دہشت گردوں سے محفوظ ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملکی سلامتی اور بقاء کے لیے ضروری ہے کہ تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سخت ترین کارروائی کی جائے ملک میں امن و امان کی بحالی کو بقینی بنانے کے لئے شرپسند عناصر کو عبرت کی مثال بنایا جائے اور انکے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے۔
خبر کا کوڈ : 244313
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

nice