4
0
Wednesday 6 Mar 2013 22:28

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی حیات طیبہ ظہور امام العصر (عج) کیلئے وقف تھی، علامہ شبیر بخاری

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی حیات طیبہ ظہور امام العصر (عج) کیلئے وقف تھی، علامہ شبیر بخاری
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سابق مرکزی صدر حجة الاسلام المسلمین  علامہ سید غلام شبیر بخاری کا تعلق شرق پور شریف ضلع شیخوپورہ پنجاب سے ہے۔ آپ اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری شعبہ امور تنظیم سازی کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔ علامہ شبیر بخاری کا شمار بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی (رہ) کے خاص رفقاء میں ہوتا ہے۔ آپ نے شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کے آثار کی جمع آوری کے حوالے سے جو کارہائے نمایاں سرانجام دئیے اس کی مثال نہیں ملتی۔ پیرﺅ محمد (ص) و آل محمد (ع)، عاشق امام خمینی، روح ملت، سفیر انقلاب، ارض وطن کے عظیم سپوت ڈاکٹر سید محمد علی نقوی شہید کے حوالے سے شہید کی اٹھارویں برسی کے موقع پر اسلام ٹائمز نے علامہ سید غلام شبیر بخاری سے خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی (رہ) کی حیات طیبہ سے آپ ساتھیوں نے کیا سبق حاصل کیا۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی (رہ) وہ شہید بزرگوار ہیں جنہوں نے گفتگو کے ذریعے نہیں بلکہ کردار اور افکار کے ذریعے ہماری تربیت کی۔ شہید ڈاکٹر کی حیات سے ہم نے جہد مسلسل کا درس لیا۔ زندگی کے ہر ہر لمحے کو راہ خدا و راہ امام زمان (عج) میں صرف کرنے کا سبق، مولا امام زمان (عج) کے جلد ظہور کی زمینہ سازی کیلئے لمحہ بہ لمحہ جدوجہد کرنے کا سبق حاصل کیا۔ ولی فقیہ کی سرپرستی میں، ماضی میں امام خمینی ﴿رہ﴾ کی سرپرستی میں اور آج اپنے زمانے کے ولی فقیہ و نائب امام زمان ﴿عج﴾ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سرپرستی میں، اطاعت و پیروی میں، ان کی اتباع کرتے ہوئے، ہر لمحہ اپنے آپ کو دین اسلام، راہ سیدالشہداء امام حسین علیہ اسلام میں مسلسل کوشش کرنا، یہ وہ درس ہے جو شہید ڈاکٹر کی حیات سے حاصل کیا۔ ہر وہ شخص جو ان سے مانوس تھا، ان کے قریب تھا اور یہ جذبہ و ایمان شہید ڈاکٹر نے ہمارے اندر پیدا کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی شہادت کو گزرے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے ہیں، لیکن راہ خدا میں ان کی اخلاص پر مبنی مسلسل جدوجہد، ان کا ایمان و یقین، آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، نمونہ عمل ہے۔ آج تک ہم شہید ڈاکٹر کی حیات طیبہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر لمحے اسی راستے کے راہی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ کو آپ نے تنظیمی زندگی میں بحیثیت رہنماء، بحیثیت کارکن کیسا پایا۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ کی ایک خوبی جو ہر شخص کے اندر موجود نہیں ہوتی، وہ یہ کہ وہ رہنماء کے ساتھ ساتھ ایک کارکن بھی تھے۔ وہ ہمارے ساتھ دفتر کی صفائی بھی کرتے تھے، کھانا بھی معمولی کھاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ کوئٹہ 1985ء کا واقعہ ہوا، اس دوران ایک ماہ تک ہم کارکنان پیسے اکھٹا کرکے معمولی کھانا کھاتے۔ اس وقت بھی ڈاکٹر صاحب ہمارے ساتھ ہی وہ معمولی کھانا کھاتے۔ وہ ہمارے ساتھ باورچی خانہ صاف کرتے تھے، دفتر میں جھاڑو دیتے ہوئے ہم نے انہیں دیکھا۔ پاکستان میں ہونے والے بڑے بڑے قومی و ملی پروگرامات کے فیصلے اس وقت کے دفتر (دیو سماج) میں زمین پر بچھی دریوں پر ہوئے۔ ایک کارکن کبھی بھی یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ اس کے اور شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے درمیان کوئی فاصلہ ہے۔ ایک رہنماء ہوتے ہوئے رہنمائی کرتے تھے، اگلی سے اگلی منزل کو دکھاتے تھے، آشنائی کراتے تھے۔ مشکل ترین کاموں کو اپنے ذمہ لیتے تھے اور اس کو کر گزرتے تھے۔ پوری قوم کی رہنمائی، ایک جہت گیری، امام خمینی کا، انقلاب اسلامی کا پیغام پہنچانا، لوگوں کو کسی صورت سست نہ ہونے دینا، یہ ڈاکٹر صاحب کی نہضت تھی۔ 

جہاں بھی کمی دیکھتے، خود سب سے آگے بڑھ کر علم کو بلند کرتے تھے، مشکل سے مشکل میدان عمل میں کود پڑتے تھے۔ ہمیں یاد ہے ڈکٹیٹر ضیاء کا زمانہ تھا، مظاہرہ کرنا انتہائی مشکل کام تھا، پولیس اور ایجنسیز ایک ایک فرد پر گہری نگاہ رکھتی تھیں۔ اس دوران ایک بار پولیس نے ہمیں جامعہ اہلبیت میں محصور کر دیا تھا، یہاں ڈاکٹر صاحب نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے لوگوں کو ایک ایک دو دو کرکے وہاں سے اس طرح نکالا کہ پولیس و خفیہ اداروں کو پتہ بھی نہیں چلا اور لوگ آب پارہ پہنچ گئے اور تین چار کی تعداد میں ٹولی بنا کر بیٹھ گئے اور وہاں شہید ڈاکٹر یا کسی فرد نے جب نعرہ تکبیر بلند کیا اور ہم لوگوں نے وہاں سے جلوس نکالا تو پولیس بے بسی کی تصویر بنی دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس کے علاوہ بھی شہید ڈاکٹر نے انتہائی مشکل ترین لمحات میں جب لوگوں کے اوسان خطا ہو جاتے تھے، ہمتیں ختم ہو جاتی تھیں، وہاں سے ڈاکٹر صاحب کی ہمت کا آغاز ہوتا تھا، وہ نئی جہت دیتے تھے۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ آپ ساتھیوں کو اور برادران امامیہ کو انفرادی اور اجتماعی حوالے سے سب سے زیادہ کس بات پر زور دیتے تھے۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: الحمد اللہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے ہم ساتھیوں کیلئے تربیت کا ایک خاص انتظام کیا ہوا تھا، ایک خصوصی ماحول پیدا کیا ہوا تھا۔ جب ہم نے آئی ایس او پاکستان میں شمولیت اختیار کی، اس وقت ایک ایک روزہ، دو دو روزہ تربیتی ورکشاپس منعقد ہوا کرتی تھیں۔ دروس منعقد ہوا کرتے تھے، ہم اعتکاف میں اکھٹے جایا کرتے تھے، ایسی فرصتیں تلاش کیا کرتے تھے کہ جہاں عبادی پہلو ہو۔ اپنی حیات میں شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نماز صبح کے بعد دوستوں کو بٹھا کر تلاوت قرآن مجید کا اہتمام کرتے تھے۔ اپنی حیات میں کہیں وہ دعائے کمیل پڑھنے جایا کرتے تھے اور ہمیں بھی بہت زیادہ تاکید کیا کرتے۔ ایک بار ہم ایران سے واپس آئے تو ہمیں کہا کہ آپ دعائے کمیل پڑھیں چونکہ آپ ایران سے آئے ہیں۔ شب قدر میں اعمال کرواتے تھے۔ ہم دوستوں کیلئے بہت زیادہ خالص دینی تربیتی کام کیا کرتے تھے اور ہمیں بھی اس بات کی انتہائی تاکید کیا کرتے تھے۔ 

جب قائد شہید عارف حسین الحسینی (رہ) کا زمانہ آیا تو یہ دینی تربیتی کام اور تربیتی امور اوج پر پہنچے۔ امام خمینی ﴿رہ﴾ کا پیغام ہم تک پہنچتا تھا، ایران کے زیارتی و دینی تربیتی دورہ جات، دروس، بہت سارے تربیتی پروگرامات تھے جو ہم لوگوں کی روحانی حوالے سے تازگی کا باعث بنتے۔ قرآن مجید، نہج البلاغہ، صحیفہ کاملہ، سیرت حضرت محمد ﴿ص﴾ و آل محمد ﴿ع﴾ کے زیر سایہ ہمیں ایک تربیتی ماحول فراہم کیا ہوا تھا اور استفادہ کرنے کے حوالے سے خود اس میں سب سے آگے آگے تھے۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ سخت تربیت کے قائل تھے۔ بعض اوقات رنگ و روغن لیتے اور اپنے ساتھیوں کو گاڑی میں بٹھا لیتے، پھر ایک شہر سے دوسرے شہر، جی ٹی روڈ پر چل پڑتے تھے یا کبھی کبھی ملتان تک سفر کرتے۔ اس حالت میں ناشتہ نہین کرواتے تھے، تھوڑے سے چنے ساتھ لے لیتے تھے، اس طرح بھوکا پیاسا رکھنا، تاکہ کٹھن سے کٹھن حالات کے لئے آمادہ رکھا جاسکے۔ خود بھی دیوار نویسی کرتے اور دوستوں کی بھی تربیت کرتے۔ اس طرح کے تربیتی پروگرام بھی ان کی حیات کا حصہ تھے۔ 

جہاں تک برادران امامیہ کی تربیت کی بات ہے، تو ہم خود سب سے بڑے گواہ ہیں کہ آئی ایس او کے پلیٹ فارم پر تنظیمی و دینی تربیت ہوئی، ہم نے بات کرنے کا سلیقہ سیکھا، ہمیں بڑی سے بڑی شخصیت اور ادارے کے ساتھ ٹیبل ٹاک کرنے کا حوصلہ دیا، خود اعتمادی دی۔ تنظیمی و دیگر تربیت کے وسیع مواقع فراہم کئے گئے۔ لہٰذا ہر پہلو سے شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے ارد گرد رہنے والے لوگ قرآن و اہلبیت ﴿ع﴾ کی تعلیمات کی روحانیت سے منور ہوتے تھے، یقین و ایمان کی حالت میں ہوتے تھے، شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ ہر پہلو سے ایک ایک جوان کی تربیت کرتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ جب ہمارے ذمہ کوئی کام لگاتے تو ہمیں خوشی ہوتی تھی اور ڈاکٹر صاحب ﴿رہ﴾ کو بھی ہم پر یقین ہوتا تھا کہ یہ کام ہو جائے گا۔ بڑے سے بڑا کام بھی جب ہم کرکے آتے تھے تو ہم خوش ہوتے تھے کہ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی آرزو کے مطابق ہم نے وہ کام انجام دے دیا۔ مگر پھر بھی وہ کہتے تھے کہ نکمے ہو، ابھی تک اتنا ہی کام کیا ہے، یعنی وہ چاہتے تھے کہ ہم اس سے بھی بڑھ کر یہ کام کریں۔ وہ ہم سے کسی طور بھی راضی نہیں ہوتے تھے اور ہم سے اگلے مرحلے، اگلے کام، اگلے پہلو تک جانے کے متقاضی ہوتے تھے۔ بہرحال خالص دینی تربیت کے حوالے سے وہ تمام ساتھیوں اور برادران امامیہ کو زور دیا کرتے تھے۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے بعد ملت جعفریہ کے سفر کو آپ کس نگاہ سے دیکھے ہیں۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: یہ ایک بہت اہم سوال ہے، اس مختصر سے وقت میں اس سوال کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا اور اس کا بہت زیادہ دقت کے ساتھ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ﴿رہ﴾، قائد شہید علامہ سید عارف حسینی ﴿رہ﴾ کی شہادت کے بعد سات سال تک حیات رہے۔ قائد شہید ﴿رہ﴾ کی شہادت ہمارے لئے بہت بڑا صدمہ ہے، ملت حقیقی معنٰی میں یتیم ہو گئی تھی اور سب کی نظریں مکہ معظمہ کی اس جیل پر تھیں جس میں شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ اسیر تھے۔ قائد شہید ﴿رہ﴾ کی جس روز شہادت ہوئی، اس کے اگلے روز شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی رہائی کے حوالے سے لاہور میں منعقدہ ایک پروگرام میں جانا تھا، شہید قائد ﴿رہ﴾ نے شہادت کی رات احسان جعفری صاحب سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے، ڈاکٹر صاحب آزاد ہو جائیں گے؟ اور پھر شہید قائد ﴿رہ﴾ نے خود بشارت دی کہ انشاءاللہ ڈاکٹر صاحب آزاد ہو جائیں گے۔ 

صبح نماز فجر کے وقت شہید قائد ﴿رہ﴾ کی شہادت ہوئی۔ لیکن الحمد اللہ اس دور یتیمی میں ایک آسرا تھا، ایک سہارا تھا شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کا۔ شہید قائد ﴿رہ﴾ جیسی نعمت عظمٰی، ایک شفیق باپ، تربیت کرنے والی شخصیت، ایک اہل دل کے کھو جانے کے بعد ایک واحد سہارا ہمارے پاس شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی شخصیت تھی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے بعد حقیقی معنٰی میں یہ ملت یتیم ہوگئی۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد اس ملت سے برکات اٹھ گئی ہیں، اطمینان اٹھ گیا ہے، وہ ساری عظمتیں جو شہید قائد ﴿رہ﴾، قائد مرحوم مفتی جعفر ﴿رہ﴾، ڈاکٹر صاحب کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھیں، برباد ہوتی نظر آتی تھیں۔ لیکن بہرحال یہ بڑا کٹھن راستہ تھا، کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے بعد کسی ایک شخص پر لوگوں کا متفق ہونا ایک مشکل کام تھا۔ 

بہرحال جس دوست کے ذمہ بھی کوئی کام تھا اس نے انجام دیا، ہم نے ان سخت حالات میں بھی یہ سفر جاری رکھا۔ اپنی بساط کے مطابق آگے بڑھتے رہے۔ انتہائی کٹھن مراحل آئے، ہمیں زمانے نے بوڑھا کر دیا۔ اتنے سخت سخت مراحل خود آئی ایس او پر آئے، تحریک کا جو سلسلہ تھا وہ ختم ہوگیا، علماء کی قیادت کو زک پہنچی، ایک بہت سخت مرحلہ تھا، لیکن چونکہ ہم دوستوں نے شہید قائد ﴿رہ﴾ اور شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ سے تربیت پائی تھی، امام خمینی ﴿رہ﴾ کے پیغام ہم پر واضح تھا، بہرحال ہم سے کچھ ہو سکا یا نہیں ہوسکا، جتنی ہماری توان تھی ہم نے آئی ایس او پاکستان کے شجر طیبہ کی حفاظت کی قسم کھائی۔ ہم نے ہر لحظہ آئی ایس او کے اس پلیٹ فارم کو محفوظ رکھا، اس کی حفاظت کی۔ ہر قسم کی قربانی دینی پڑی، تہمتیں برداشت کرنی پڑیں، الحمد اللہ آئی ایس او کو حقیقی خط پر باقی رکھا، اسے بڑے بڑے داخلی و خارجی بحران پیش آئے۔ 

لہٰذا یہ جو آئی ایس او کا رہنا یہ برکت کا باعث بنا۔ اس نے معاشرے کو پوری ملت تشیع کو حوصلہ دیئے رکھا، ملت تشیع کے سفر کو ہر بحران میں جاری و ساری رکھا، فرد سے لیکر پوری ملت تشیع کی امیدوں کو باقی رکھا۔ ان کٹھن ترین حالات میں بھی کہ جب کوئی سڑکوں پر آنے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھا، آئی ایس او پاکستان کے جوان اپنی بساط کے مطابق کبھی سڑک پر، کبھی پریس کلب میں آتے اور ملت تشیع کی امیدوں کو اور حوصلوں کو باقی رکھتے اور آواز بلند کرتے۔ آفرین ہے ان جوانوں پر جنہوں نے شہید قائد ﴿رہ﴾ اور شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کا نام زندہ رکھا۔ سخت ترین حالات تھے، شہید کی برسی ہونا بند ہوگئی تھی، شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے پروگرامات ہونا بہت کم ہوگئے تھے۔ لیکن مسلسل اس استقامت کے نتیجے میں ہم دوبارہ دیکھ رہے ہیں کہ شہید کا نام اس قدر بلند ہے۔ خصوصاً ان دو شہداء، شہید قائد ﴿رہ﴾ و شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے خون کی برکت ہے کہ آج ملت تشیع زندہ ہے، ملت کا سفر جاری ہے۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ آئی ایس او اور ملت کیلئے کیا خواہشات رکھتے تھے۔؟ علامہ سید شبیر بخاری: اس مختصر سی فرصت میں میں شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی چند خواہشات کی طرف میں اشارہ کرنا چاہوں گا۔ شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ نے آئی ایس او پاکستان کی مجلس عاملہ میں فرمایا کہ اگر ہر سال نو منتخب مرکزی صدر نیا منصوبہ بنائے یونٹ، ڈویژن اور مرکز کیلئے تو یہ ایسا کہ ہر شخص نے بنیاد سے کام شروع کیا، اس طرح عمارت کبھی بھی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں اس طرح سے کام کرنا چاہئیے کہ ایک شخص آ کر بنیادیں بنائے، دوسرا دیواریں بنائے، تیسرا چھت کی تعمیر کا کام کرے، تاکہ جلد ایک خوبصورت عمارت تعمیر ہوسکے۔ ضرورت ہے کہ آئی ایس او کی سطح پر ادارہ جات بنائیں، کوئی سابقین میں سے آئی ایس او کو کہیں نہیں لے کے جاسکتا۔ لہٰذا سابقین پر اعتماد کریں، ان کو کاموں میں شریک کریں، تاکہ جو تجربات انہوں نے آئی ایس او پاکستان سے حاصل کئے ہیں، اس کو بروئے کار لاتے ہوئے آئی ایس او پاکستان کے مددگار بن سکیں۔
 
آج آئی ایس او پاکستان کی صلاحیتیں پوری ملت تک پہنچ رہی ہیں، اجتماعی پلیٹ فارمز تک جا رہی ہیں، پوری دنیا میں اسلام کے پیغام کو شہداء کے صدقے میں پہنچا رہے ہیں، تو کیوں نہ آئی ایس او پاکستان کے ادارہ جات بنا کر آئی ایس او پاکستان کو مزید مضبوط کریں، آئی ایس او کو طاقتور اور آئیڈیل تنظیم اس ملک میں بنا سکیں، یہ ایک خواہش تھی شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی۔ دوسری ایک خواہش جو شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی تھی وہ یہ کہ شہید قائد ﴿رہ﴾ نے آئی ایس او پاکستان کے جوانوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے جگر کا خون دیا ہے۔ لہٰذا ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ مردہ بار امریکہ، نامنظور اسرائیل کا نعرہ بلند رکھیں، اس نعرے کو معاشرے میں زندہ رکھیں۔ امریکہ کے شیطانی چنگل سے اس مملکت خداداد پاکستان کو نجات دلانے تک، اس میں امریکہ کے ہاتھ کاٹنے تک اپنی استقامت دکھائیں اور جدوجہد کو جاری رکھیں۔
 
تیسری خواہش ملک میں اسلام ناب محمدی ﴿ص﴾ کا نفاذ ہے۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ اس دن بہت خوش تھے کہ جس دن قرآن و سنت کانفرنس ہوئی تھی۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے اس وقت کہا کہ اب ہماری ذمہ داریاں دوگنی ہوگئی ہیں، پہلے ہم اپنے لئے فقہ جعفریہ کی بات کرتے تھے، اب ہم خود اپنے ہاتھوں سے اسلام ناب محمدی ﴿ص﴾ کا نفاذ کریں گے۔ اب تشیع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ اب ہمیں ملت جعفریہ سے آگے بڑھ کر برادران اہلسنت کو اپنے ساتھ ملا کر عالم اسلام کو ایک ماڈل اسلامی حکومت کا نظام دینا ہے۔ اسلام آباد کے فیصلے اب اسلام آباد میں ہونے ہونگے۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کہتے تھے کہ ملت تشیع کو پاکستان کی اقتصاد میں دخل حاصل ہے، سیاست میں دخل حاصل ہے، داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے بنانے میں دخل حاصل ہے، ہر ہر شعبے میں ملت تشیع کو دخل حاصل ہے۔ لہٰذا اب ہم پاکستان کی تعمیر کریں گے۔ ملت تشیع ان ہاتھوں کو کاٹے گی، جو پاکستان کو دہشت گردی، اقتصادی یا دیگر کسی بھی حوالے سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ملک کے تمام طبقات کو وحدت کی لڑی میں پرو کر خالص اسلام محمدی ﴿ص﴾ کا نفاذ کریں گے۔

اسلام ٹائمز: نجات دہندہ انسانیت حضرت امام مہدی ﴿عج﴾ کا زمانہ ہے، شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کے مطابق آپ کس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئیے۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ زمانہ حضرت امام عصر ﴿عج﴾ کا زمانہ ہے، عصر غیبت ہے۔ اس زمانے میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری امام مہدی ﴿عج﴾ کے ظہور کی زمینہ سازی ہے۔ خمینی بت شکن ﴿رہ﴾ کا اسلامی انقلاب اسی مقصد کی خاطر ہے، حزب اللہ لبنان کی جدوجہد اسی مقصد کی خاطر ہے، آئی ایس او پاکستان کا وجود مقدس اسی مقصد کیلئے ہے، شہید قائد ﴿رہ﴾ کی جدوجہد اسی مقصد کی خاطر تھی، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ اسی مقصد کی خاطر تھا۔ یہ وہ نہضت ہے جس کا سرچشمہ کربلا ہے، تحریک سیدالشہداء امام حسین (ع) کے اندر ہے اور یہی نہضت جاری و ساری ہے۔ اس نہضت کیلئے ابھی ہمیں جو کام کرنا ہے وہ یہ کہ شہید قائد ﴿رہ﴾ کی سطح کے علماء و شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی سطح کے غیر علماء تربیت کریں۔ 

ہم دیکھیں کہ شہید قائد ﴿رہ﴾ اور شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی سیرت اور ہم میں کتنا فاصلہ ہے، اس فاصلہ کو ختم کریں۔ تاکہ وہ خوبیاں جو شہید قائد ﴿رہ﴾ و شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے اندر موجود تھیں وہ علماء و غیر علماء کے اندر پیدا ہوں، ہم ہزاروں افراد کی تربیت کریں، دو چار سو افراد ان جیسے پیدا کریں جو تمام ملکی و ملی تعمیر و ترقی کیلئے تمام شعبوں کو، اقتصاد کو، زراعت کو، صنعت کو، تعلیم کو اپنے ہاتھوں میں لیں۔ جہاں جہاں سے دشمنان اسلام و تشیع پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے، ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہا ہے، اس کے ہاتھ کو کاٹیں۔ ہم ایک رول ادا کریں، شہید کا اسلامی حکومت کا ماڈل لے کر میدان عمل میں اتریں، برادران اہلسنت اور جتنے طبقات اہلبیت ﴿ع﴾ سے محبت کرنے والے ہیں ان کو اپنے ساتھ ملائیں اور طاقتور گروہ بنا کر حضرت امام عصر ﴿عج﴾ کے ظہور کی زمینہ سازی کیلئے ایک ماڈل اسلامی حکومت پیش کریں کہ جو تمام لوگوں و طبقات کو قبول ہو اور واقعاًَ پاکستان سے عالمی استعمار امریکہ و اس کے حواریوں کے ہاتھوں کو کاٹا جائے۔

اسلام ٹائمز: آیا شہید ڈاکٹر نقوی ﴿رہ﴾ کے ساتھی ان کی راہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: الحمد اللہ یقیناً شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے ساتھی اپنی بساط، طاقت کے مطابق راہ شہید کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نشیب و فراز کی وجہ سے کبھی حرکت تیز ہوجاتی ہے کبھی اس میں کمی آجاتی ہے۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے دوست احباب اور آئی ایس او پاکستان کے تربیت یافتہ افراد صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے اندر حضرت امام عصر ﴿عج﴾ کی اس نہضت کو کسی نہ کسی صورت میں اپنی توان و طاقت کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ الحمد اللہ یہ سلسلہ یہ سفر جاری و ساری ہے، اس میں مزید لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں، انشاءاللہ یہ کاروان جاری و ساری رہے گا۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ قوم و ملت کیلئے کیا پروگرام رکھتے تھے؟ ساتھیوں سے کیا خواہش رکھتے تھے۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ اپنی زندگی کے آخری ایک دو سال میں جو موجود پلیٹ فارم تھا، وہ اس سے سخت مایوس تھے۔ دو قسم کی مسائل سے شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے اپنی زندگی میں واضح کئے یا ان کے عمل سے ہم پر ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ اس وقت کا پلیٹ فارم تھا وہ ڈاکٹر صاحب سے کوئی کام لینے کیلئے تیار نہیں تھا، ایک یہ مسئلہ تھا۔ دوسرا وہ برادران و ساتھی جو آئی ایس او پاکستان کے پلیٹ فارم سے تربیت ہوئے تھے، شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کہتے تھے ہمارے لئے وہ جوان زیادہ مفید ہیں جو انگلی پکڑ نہ ہوں۔ خود جن کو نظر آئے کہ یہاں تعلیمی حوالے سے کام ہونا چاہئیے، یہاں مسجد آباد ہونی چاہئیے، یہاں مدرسہ کا قیام ہونا چاہئیے، یہاں بیواﺅں، یتیموں کے لئے کام ہونا چاہئیے، یعنی وہ جوان جن کی آنکھیں کھلی ہوں، جو خود سے مسائل کا ادراک کرکے ان کے حل کیلئے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ ایسا نہ ہو کہ انگلی پکڑ کا چلایا جائے تو چلیں اور انگلی چھوٹ جانے پر وہ وہیں رک جائیں۔
 
شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی خواہش تھی کہ تنظیمی برادران وجود میں آئیں، جن میں اتنی توانائی ہو، اتنی تربیت ہو، خود سے صحیح فیصلہ کرنے کی استعداد رکھتے ہوں، معاشرے میں فعال ہوں، یعنی خط آنے کا انتظار نہ کریں۔ اور یہ ڈاکٹر صاحب کا اپنے کچھ ساتھیوں سے گلہ بھی تھا۔ دوسری طرف جو موجودہ پلیٹ فارم تھا، وہ ڈاکٹر شہید ﴿رہ﴾ سے کوئی کام لینا ہی نہیں چاہتا تھا۔ لہٰذا شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے اپنی ایک ٹیم اکٹھی کی، ایک بڑی ملکی شخصیت نے شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کو اسپانسر کیا اور ایک عظیم الشان اور جامع منصوبہ بندی کی۔ اس سے پہلے شہید قائد ﴿رہ﴾ کے دور میں مرحوم علامہ صفدر حسین نجفی ﴿رہ﴾ کے ساتھ مل کر شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے کراچی کی ایک شیعہ خوجہ شخصیت کے ساتھ اس وقت پورے سال منصوبہ بندی کی، جس میں کئی جانب سے اعتراضات بھی ہوئے۔ انہوں نے دس شعبوں میں کاموں کو تقسیم کیا تھا۔ 

شہید قائد ﴿رہ﴾ کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب نے ان کاموں کو اپنی بساط کے مطابق عملی بھی کیا۔ اس مرحلے پر شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے کہا کہ کیونکہ شہید قائد ﴿رہ﴾ نے ایک اسلامی حکومت کا ماڈل پیش کیا ہے، اس لئے اب ہمیں بحیثیت پاکستانی، بحیثیت مسلم بھی کام کرنا چاہئیے۔ تو اس وقت شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے تین شعبوں پر خصوصی طور پر کام کر رہے تھے، ایک تعلیم کے شعبے میں یعنی تعلیم سب کیلئے، دوسرا حفظان صحت کے شعبے پر، کہ ہم لوگوں کو حفظان صحت کے طریقوں سے روشناس کرا کر انہیں بہیمار ہونے سے بچا سکتے ہیں کہ جس پر لوگوں کے کروڑوں اربوں روپے لگتے ہیں۔ تیسرا فلاح و بہبود کا پروگرام تھا۔ ابھی اس پر کام چل ہی رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو شہید کر دیا جاتا ہے۔
 لہٰذا قائد شہید ﴿رہ﴾ نے ہمیں جو اسلامی حکومت کا ماڈل دیا ہے اور شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے تعلیم، حفظان صحت، فلاح و بہبود کا جو منصوبہ بنایا تھا ہم وہاں سے اس کام کو آگے بڑھائیں اور بنیادی و اساسی کاموں کو انجام دیں۔ شہید قائد ﴿رہ﴾ کی بھی نظر تھی کہ ہمیں جلسے جلوسوں سے آگے بڑھتے ہوئے دیہاتوں، گاﺅں، گوٹھوں تک تشیع کے عالمگیر پیغام کو لے کر جانا چاہئیے۔ ایک ایک شیعہ کی تربیت کرنی چاہئیے، لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئیے، شیعہ کے ساتھ ساتھ اہلسنت کو بھی آگاہ و بیدار کرنا ہوگا، برادران اہلسنت کو بھی ساتھ لے کر آگے کا سفر کرنا ہوگا اور دشمن کو شکست دینا ہوگی۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے حوالے سے اب بھی یہ بات کی جاتی ہے کہ انہوں نے آئی ایس او پر قبضہ کیا ہوا تھا، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: ایک شخص کے بارے میں اگر منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو انسان اسے منفی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اصل میں شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کہیں دیکھتے تھے کہ خلاء ہے تو انتظار نہیں کرتے تھے کہ کوئی آگے بڑھ کر اس خلاء کو پورا کرے گا بلکہ خود آگے بڑھ جاتے تھے۔ سوائے چند مورد کے وہ خلاء زیادہ خطرے والے ہوتے تھے۔ مثلاً امریکی صدر بش سینئر کے دورے کے موقع پر مردہ باد امریکا کہنے کیلئے اور کوئی نہیں تھا، شاید آئی ایس او کے پلیٹ فارم پر بھی یہ کام نہیں کیا جاسکتا تھا۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ نے دوستوں کو اکٹھا کیا اور یہ خطرناک کام انجام دیا، جس کے نتیجے میں لوگ اسیر ہوئے، تشدد برداشت کیا۔ یہ میدان خالی تھا، شہید آگے بڑھے اور اس کام کو انجام دیا۔ 

یہ جو برائت از مشرکین کا جو کام تھا، ہنسی خوشی خود جا کر سعودی عرب میں انجام تھا، یعنی یقینی موت تھی اس کے نتیجے میں، کوئی بھی قبضہ کرنے کا خواہش مند کبھی ایسا کام نہیں کرتا کہ جس میں موت کا اندیشہ ہو، مگر ڈاکٹر صاحب نے اس انتہائی خطرناک کام کو ہنسی خوشی انجام دیا۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی پیشانی پر ایک بل بھی نہیں آیا۔ لہٰذا یہ لوگ جو الزامات لگاتے ہیں ہماری ان سے گزارش ہے کہ میدان میں اتریں، حلوے والے کاموں کے ساتھ ساتھ ایسے کاموں کو بھی انجام دیں، محاذ جنگ پر بھی جائیں، جیلوں میں بھی جائیں، اسارت کاٹیں، راہ اسلام میں تشدد برداشت کریں، ہم انہیں بھی آفرین کہیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے کہ شہید ڈاکٹر نقوی ﴿رہ﴾ کے بعد کچھ عناصر نے آئی ایس او کو اس کی اصل راہ سے ہٹا دیا ہے۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: یہ صریحاً جھوٹ ہے۔ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی شہادت کے بعد اگر کوئی الٰہی اور حسینیت کا علمبردار پلیٹ فارم تھا، جس سے امید لگائی جاتی تھی اور جو آج بھی ملت کی امیدوں پر پورا اتر رہا ہے، جس نے شہید قائد علامہ عارف حسینی ﴿رہ﴾ کا راستہ، شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی ﴿رہ﴾ کا راستہ جاری رکھا تو وہ آئی ایس او پاکستان ہی ہے۔ لہٰذا جو لوگ جو سابقین بھی آئی ایس او پاکستان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہیں، انہیں وقت دے رہے ہیں، انہیں اپنے تجربات سے مستفید کر رہے ہیں، مالی و اخلاقی مدد کر رہے ہیں، ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کے بجائے ان کے خلوص کو سراہا جانا چاہئیے۔ اگر کہیں کوئی کمی بیشی نظر بھی آئے تو اسے مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئیے، ایسے الزام تراشی کرنا کوئی مثبت قدم نہیں ہے، اس سے خود آئی ایس او کو نقصان پہنچتا ہے۔

اسلام ٹائمز: کہا جاتا ہے کہ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے بعد آئی ایس او پاکستان جو کہ تحریک جعفریہ کیلئے مادر تنظیم کی حیثیت رکھتی تھی، اس نے خود تحریک جعفریہ کو ہی نگل لیا۔ کیا کہنا چاہیں گے؟
علامہ سید شبیر بخاری: عجیب بات ہے، مگر اصل میں تحریک جعفریہ نے خود اپنے آپ کو ہی نگل لیا ہے، خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم نے کوشش تو بڑی کی کہ بچ جائے مگر نہیں بچ سکی۔ شاید اتنا ہی کافی ہے، کیونکہ موجودہ حالات اس قسم کے مسائل کو چھیڑنے کے متحمل نہیں ہیں۔ بلکہ اتحاد و وحدت کے ساتھ ماضی کی غلطیوں اور کمزوریوں کو ختم کرکے آگے بڑھنے کا ہے۔ صرف ایک واقعہ یہاں عرض کرتا ہوں، قائد شہید ﴿رہ﴾ کے بعد تحریک جعفریہ کا ابتدائی دور تھا، ہمارے ایک دوست گاڑی میں بیٹھے تھے، چند علماء، بڑی بڑی شخصیات اس میں بیٹھی ہوئی تھیں، فارسی میں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔ ہمارے وہ دوست بھی تھوڑی بہت فارسی جانتے تھے۔
 
اس وقت وہاں موجود ایک بزرگ ایک خواب سنا رہے تھے کہ شہید قائد ﴿رہ﴾ نے انہیں خواب میں کہا ہے کہ بوڑھوں کے بجائے ان جوانوں کے ذمہ کام سپرد کئے جائیں تو آپ کامیاب ہونگے۔ تو اب جب انہوں نے بوڑھوں پر تکیہ کر لیا ہے، شہید قائد ﴿رہ﴾ کی نصیحت کے باوجود، بوڑھوں کی بزرگوں کی رہنمائی ہوتی ہے، نظارت ہوتی ہے، لیکن اداروں اور تنظیموں کیلئے طاقت کا سرچشمہ جوان ہی ہوتے ہیں، انہیں نے کام کرنا ہوتا ہے، فعالیت دکھانی ہوتی ہے۔ تو جب آپ جوانوں پر اعتماد نہیں کریں گے، جب آپ جوانوں کی حوصلہ شکنی کریں گے، جب آپ جوانوں کے کام سپرد نہیں کریں گے اور آپ کہیں کہ معاشرے میں اہل فرد نہیں ہیں۔ جو تنظیم اپنے جوانوں پر اعتماد نہیں کرتی۔ جو قیادت اپنے جوانوں کے کام سپرد نہیں کرتی، ان کی قدر دانی نہیں کرتی، وہ تنظیم اپنے آپ کو خود نگل لیتی ہے، کسی جوان کا اس کے اندر قصور نہیں ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کے حوالے سے آپ جوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ سید شبیر بخاری: سب سے پہلے ضروری ہے کہ نظام ولایت و ولی فقیہ زمان رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای (اللہ تعالٰی ان کا سایہ ہمارے سروں پر تاظہور مہدی ﴿عج﴾ قائم و دائم رکھے) سے اپنے آپ کو مربوط رکھنا چاہئیے اور ان کے پیغامات پر، نصیحتوں پر خصوصی توجہ دے کر عمل پیرا ہونا چاہئیے۔ آج جوانوں کو خصوصاًَ آئی ایس او پاکستان کے جوانوں کیلئے پیغام ہے کہ شہید قائد عارف حسینی ﴿رہ﴾ کی کتابوں کا، ان کے آثار کا مطالعہ کریں، شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کی سیرت کا مطالعہ کریں، ان کے تجربات سے استفادہ کریں، اپنی استعداد کو رشد دیں۔ دانشگاہی طبقہ شہید ڈاکٹر ﴿رہ﴾ کو اپنا اسوہ قرار دے اور دینی طالب علم، علماء شہید قائد عارف حسینی ﴿رہ﴾ کو اسوہ قرار دیں، تاکہ دوبارہ اس سطح کی شخصیات ملت کے اندر وجود میں آئیں، جو فہم و فراست رکھتے ہوں، جو تدبیر رکھتے ہوں، جو پچاس، سو سال آگے تک ملت کیلئے منصوبہ بندی کرسکتے ہوں، وژن دے سکتے ہوں، ایک قیادت فراہم کرسکتے ہوں۔ لہٰذا باصلاحیت جوانوں کی تربیت کی جائے، تاکہ آج الحمد اللہ جس مرحلے پر ہم کھڑے ہیں، اس سے آگے کے مراحل میں ملت کو داخل کرسکیں اور دشمنان اسلام و تشیع سے مزید بہتر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
خبر کا کوڈ : 244819
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

United States
محترم بخاری صاحب کا تعلق شرق پور سے ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصلاح کیجئے گا۔
دلچسپ ہے خدا ہم سب کو ڈاکٹر شہید کے مشن کو جاری و ساری رکھنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
خداوند عالم iso کو
شہید کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق دے
Islamtimes ka bohat shukria keh is idarey k tehat hamain Shaheed aur aap k doston k jananey ka mohka mil raha hai