1
0
Monday 22 Apr 2013 01:45

قوم کو اتفاق اور اتحاد کی برکتیں بتانے والے خود انتشار کا شکار ہیں، مولانا احمد علی قصوری

قوم کو اتفاق اور اتحاد کی برکتیں بتانے والے خود انتشار کا شکار ہیں، مولانا احمد علی قصوری
مولانا احمد علی قصوری کا شمار ملک کی معروف دینی و علمی شخصیات میں ہوتا ہے، اس وقت آپ ادارہ انوار القرآن کے متولی، صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی حکومت پنجاب کے رکن اور مرکزی جامع مسجد غوثیہ مسلم ٹاؤن لاہور کے خطیب ہیں۔آپ کا شمار تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے، بعدازاں مرکزی قیادت سے اختلافات کے بعد تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک سے علیحدہ ہوگئے۔ مولانا ماہر اقبالیات بھی ہیں جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں تدریسی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ آپ نے بہت سے ممالک کا سفر بھی کیا ہے اور اتحاد بین المسلمین کے لئے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے گذشتہ روز ان سے ایک مختصر نشست کی جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کے لئے پیش کی جاتی ہے،(ادارہ)
                                              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام ٹائمز: مولانا، سب سے پہلے آپ اپنی ابتدائی زندگی اور اس طویل سفر کے بارے میں بتائیں۔؟
مولانا احمد علی قصوری: میں فروری 1940ء کو قصور میں پیدا ہوا، اس حوالے سے میں میری عمر اب 73 برس ہوچکی ہے، قصور میں پیدا ہونے کی وجہ سے میرے نام کے ساتھ قصوری کا لفظ بھی لگا دیا گیا۔ میرے گھر میں غربت انتہا درجے کی تھی، میرے والد محترم ایک مزدور آدمی تھے۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا جب سکول سے بھاگ گیا، پھر مذہبی تعلیم کی جانب آگیا، دینی تعلیم کی ابتدا دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور اوکاڑہ سے ہوئی۔ اس وقت میری عمر 18 برس تھی اور اسی عرصے میں یعنی 1958ء میں، میں لاہور آگیا۔ لاہور آکر دارالعلوم جامعہ نعیمیہ فریدیہ چوک دالگراں میں داخلہ لے لیا۔ پھر مرکزی دارالعلوم انجمن حزب الاہداف سے دورہ قرآن کیا۔ اس کے بعد پرائیویٹ میٹرک، ایف اے اور بی اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کیا۔ پھر قاضی کورس کیا۔ فاضل فارسی کا امتحان پاس کیا۔ اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔ حصول علم کا یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں بلکہ جاری و ساری ہے۔ ان دنوں چینی زبان سیکھ رہا ہوں اور اس سے قبل پنجاب قرآن بورڈ کا چیئرمین بھی رہ چکا ہوں۔ مسلم ٹاؤن میں گذشتہ 31 برس سے خطیب کی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔

اسلام ٹائمز: آپ جدید تعلیم سے بھاگ کر مدرسے کی تعلیم کی طرف آئے پھر جدید تعلیم کی طرف لوٹ گئے، تو آپ ان دونوں میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔؟
مولانا احمد علی قصوری:ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ایک ملک تو حاصل کر لیا لیکن ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ کسی بھی قوم کی بنیاد پہلے بنتی ہے اور اس کے عوام بعد میں آتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت ہر طرف ایک انتشار دکھائی دے رہا ہے۔ مختلف قسم کے نصاب رائج ہوچکے ہیں۔ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی مکمل اور دوسرے کو نامکمل اور جاہل سمجھتا ہے۔ تعلیمی نصاب ایسا ہونا چاہئے جس میں دین اور دنیا دونوں کی بھلائی ہو، افسوس کہ اب تک ایسا نہیں ہوسکا اور رائج نصاب کے ابھی تک منفی نتائج ہی سامنے آ رہے ہیں، دو طرف دو انتہائیں ہیں۔
دینی مدارس اپنی قدامت پسندی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جدت کو ساتھ لے کر چلنے کا اہتمام نہیں کر رہے، لہذا ان مدرسوں کے طالب علموں کا علم سوچ محدود ہے۔ وہ علمی حوالے سے ایک خاص حد سے آگے نہیں دیکھ پاتے۔ اس طرح ان تعلیمی اداروں کی حالت بھی کوئی تسلی بخش نہیں، جن پر جدید تعلیم کا لیبل لگا ہوا ہے، وہاں سے فارغ التحصیل طالب علم ’’بابو‘‘ تو بن جاتے ہیں مگر انہیں دین کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ وہ اسلامی مملکت کے شہری تو ہوتے ہیں، لیکن اسلام سے لاعلم ہوتے ہیں، جب تک دینی تعلیم اور جدید تعلیم سے آراستہ نصاب مدرسوں اور سکولوں میں نہیں پڑھایا جاتا تب تک ملا اور بابو کا فاصلہ ختم نہیں ہوسکتا۔ ملا اور بابو کا فاصلہ مٹانے کیلئے مدرسوں اور سکولوں کا نصاب ایک کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: اس کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں۔؟
مولانا احمد علی قصوری: اس ساری خرابی کا ذمہ دار ہمارا وہ بااختیار پانچ فیصد طبقہ ہے جو مغربی تعلیم سے فیض یاب ہوتا ہے، وہ اپنے سماج اور معاشرے کو مغرب کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اس کا بنیادی نظریہ مادہ پرستانہ ہے۔ اس میں صداقت اور حقیقت نہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (رہ) نے فرمایا تھا کہ مغربی فلسفے نے گمراہی کی طرف دھکیلا ہے، چرچ اور ریاست کی تقسیم مغرب نے کی، اس تقسیم سے جو مسائل پیدا ہوئے ان کے نتیجے میں انقلاب فرانس برپا ہوا۔ یہ انقلاب دراصل عیسائیت کے خلاف تھا جبکہ اسلام کی ابدی اور آفاقی تعلیمات میں یہ خرابی نہیں۔ اسلام مذہب کو سیاست سے دور نہیں کرتا۔ اسلام میں مذہب اور حکومت الگ الگ نہیں۔ اس حوالے سے علامہ اقبال (رہ) نے فرمایا تھا کہ
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

اسلام ٹائمز: دینی مدرسے جہاد کی تعلیم بھی دے رہے ہیں اور یہی سے ریاست کے اندر ریاست کا نظریہ جنم لیتا ہے، جہاد کے نام پر پھر دہشتگردی بھی کی جا رہی ہے، آپ کیا کہیں گے۔؟
مولانا احمد علی قصوری: اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جہاد کیا ہے؟ جب کسی مسلمان ملک کی زمین پر کسی کافر کا قبضہ ہو جائے تو اس ملک کے باشندوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ کافرانہ اور غاصبانہ قبضہ کے خلاف میدان عمل میں نکلیں اور نجات کے لئے عملی جہاد کریں۔ اگر کسی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکیں تو قریبی مسلم ممالک کا فرض ہے کہ برادر اسلامی ملک کی آزادی کے لئے جہاد کرے۔ اب آپ اردگرد کی صورت حال کی طرف دیکھیں۔ کیا کشمیر، چیچنیا، فلسطین پر کافر طاقتوں کا قبضہ نہیں؟ وہاں کے عوام ان طاقتوں کے سامنے بے بس ہیں۔ کتنے مسلم ممالک ہیں جو ان مسلمان مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لئے جہاد کر رہے ہیں؟ ایسے میں مختلف ممالک کے دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ ہی ہیں جو کافروں کے ظلم و جبر کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔
 اصولی طور پر جہاد حکومتوں اور سرکار کی طرف سے ہی ہونا چاہئے مگر جب حکمران مصلحتوں کا شکار ہو جائیں تو پھر عام آدمی اور کچھ نہ کہے تو کم از کم برائی کو برائی تو کہے۔ شائد اس کو آپ ریاست کے اندر ریاست یا پرائیویٹ جہاد کہہ رہے ہیں۔ وسیع تر دینی فلاح کیلئے یہ بات بری نہیں، البتہ جہاد کے نام پر جو لوگ دنیا بھر میں دہشت گردی کر رہے ہیں، بم دھماکوں کے ذریعے امن و امان کی صورت حال خراب کر رہے ہیں، وہ جہاد کے زمرے میں نہیں آتا۔ میں انہیں خوفناک اور قابل نفرت مجرم قرار دوں گا۔ یہ لوگ ہرگز جہادی نہیں، نہ ہی ان کا تعلق مدارس سے ہوتا ہے۔ یہ وہ بے روزگار نوجوان ہوتے ہیں، جنہیں بعض مجرمانہ ذہنیت کے حامل لوگ دین کی آڑ میں استعمال کرتے ہیں، یہ لوگ قابل مذمت ہیں۔

اسلام ٹائمز: موجودہ سیاسی صورتحال میں علماء کا کیا کردار ہوسکتا ہے، انہیں پارلیمنٹ میں جانا چاہئے یا متحد ہوکر ایک پریشر گروپ بنا لیں۔؟
مولانا احمد علی قصوری: ہمارے علماء کا طبقہ جو قیادت کا دعویدار ہے مختلف گروہوں اور ٹکڑوں میں تقسیم ہے۔ ان سب کو یہ حقیقت بھی معلوم ہے کہ جب بھی دینی قوتیں متحد ہوتی ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں، انہیں ہر سطح پر پذیرائی ملتی ہے۔ اس میں تمام مکاتب فکر کے 22 نکات اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تحریک ختم نبوت ہو یا تحریک نظام مصطفٰی، ملی یکجہتی کونسل ہو یا متحدہ مجلس عمل، ان پلیٹ فارمز سے جتنی کامیابیاں ملیں، انہیں مذہبی رہنماؤں کی محدود سوچ، ذاتی گروہی اور مسلکی مفاد پرستی نے تباہ و برباد کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام مذہبی رہنما آپ کو سیاسی جماعتوں سے نشستوں کی بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ قوم کو اتفاق اور اتحاد کی برکتیں بتانے والے خود انتشار کا شکار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہ صرف قومی مجرم ہیں بلکہ یہ اللہ اور رسول (ص) کے بھی مجرم ہیں۔ علماء اگر متحد ہو جائیں تو ہمارے ملک کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے بھی تو الیکشن میں حصہ لیا تھا۔؟
مولانا احمد علی قصوری: میں نے لاہور سے تین انتخابات میں حصہ لیا، میں منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے بانیوں میں سے ہوں۔ جب میں نے علیحدگی اختیار کی تو میں پاکستان عوامی تحریک کا وائس چیئرمین تھا۔ تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے گیارہ مرتبہ جیل گیا۔ سیاست میں مجھے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ یہ مایوسی اپنوں سے ملی، اس حوالے سے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، تمام تر خداداد صلاحتیوں کے باوجود پندرہ سال سے عملی سیاست سے کنارہ کش ہوں، کیونکہ مروجہ سیاست کا انداز ہی بدل چکا ہے، اس سیاست میں مال حرام، خوشامد اور غنڈہ گردی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے میرے جیسے آدمی کا اس سیاست میں کوئی کردار نہیں بنتا، اس لئے اس صورتحال پر دکھی دل کے ساتھ صرف افسوس ہی کرسکتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: حالیہ الیکشن میں کس کو اقتدار میں آتا دیکھ رہے ہیں۔؟
مولانا احمد علی قصوری: یہ الیکشن پتہ نہیں ہوتے بھی ہیں یا نہیں، لیکن اگر ہوتے ہیں تو کوئی بھی جماعت اکثریت نہیں لے گی بلکہ مخلوط حکومت بنے گی، اس بار مذہبی جماعتوں کو کارنر کرنے کا منصوبہ بھی ہے، اس میں دیکھیں وہ قوتیں کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں۔ نواز لیگ اور تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے، پیپلز پارٹی کو صدر زرداری نے کافی نقصان پہنچایا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوئے، اس لئے جیالے زرداری سے کافی نالاں ہیں۔ بلاول بھٹو میں بھی بھٹو خاندان والا دم خم نہیں۔ باقی خدا بہتر کرے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کو کارنر کرنے کا منصوبہ ہے تو اس حوالے سے مذہبی جماعتوں کو کیا کرنا چاہئے۔؟
مولانا احمد علی قصوری: تمام مسائل کا واحد حل اتحاد ہے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء باہمی اتحاد کا مظاہرہ کریں، شیعہ سنی کے حصار سے نکل کر قوم اور ملک کے لئے سوچیں اور متحد رہیں، حالات بہت بدل چکے ہیں، اگر دینی قوتیں متحد نہیں ہوں گی تو استعماری قوتیں انہیں مٹا دیں گی، انہیں ایسی اندھیری راہ پر چھوڑ دیا جائے گا، جہاں یہ بھٹکتی رہیں گی، اس لئے اس برے وقت سے بچنے کے لئے انہیں باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 256556
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

قوم کو اتفاق اور اتحاد کی برکتیں بتانے والے خود انتشار کا شکار ہیں،
بے شک جب تک علماء اور امراء سیدھے نہیں ہوتے یہ حال رہے گا،
جب سب کا محور پپٹ پوجا بن جائے تو انسانی اقدار ختم ہو جاتی ہیں،
حیوانیت غلبہ پا جاتی ہے۔
ہماری پیشکش