0
Monday 22 Jul 2013 22:42

برطانوی شہری الطاف پر مقدمے کے ردعمل میں کراچی بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہو گی، سید نجمی عالم

برطانوی شہری الطاف پر مقدمے کے ردعمل میں کراچی بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہو گی، سید نجمی عالم
کراچی سے تعلق رکھنے والے سید نجمی عالم پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ سندھ کونسل اور سندھ ایگزیکٹو کے ممبر بھی ہیں۔ اس سے قبل آپ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ 1976ء میں آپ نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے فلسفہ و نظریات سے متاثر ہو کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور جنرل (ر) ضیاءالحق کے خلاف عوامی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جنرل (ر) ضیاء کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں آپ کو دو مرتبہ جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ 1979ء میں جیل جانے کے بعد آپ تقریباَ 7ماہ بعد رہا ہوئے۔ اس کے بعد 1981ء سے لیکر 1985ء تک آپ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود آج تک آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے وابستہ ہیں۔ اسلام ٹائمز نے سید نجمی عالم کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر مختلف ایشوز کے حوالے سے ایک نشست کی جس میں لیاری سمیت کراچی کے موجودہ خراب حالات، سندھ میں گورنر راج سے متعلق ممتاز بھٹو کا بیان، پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ، پاک چین گوادر پورٹ معاہدہ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی باہمی چپقلش، ایم کیو ایم کی لندن قیادت پر بڑھتا ہوا دباﺅ اور اس کے کراچی پر اثرات وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کراچی بدامنی کے پیچھے سیاسی محاذ آرائی ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟
سید نجمی عالم: کراچی بدامنی کی وجہ صرف سیاسی محاذ آرائی ہی نہیں بلکہ اس میں فرقہ واریت، انتہاء پسندی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ شیعہ، سنی، دیوبندی کی بنیاد پر بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں، ایک دوسرے کے مخالف فرقہ کے افراد کو بھی کراچی میں نشانہ بنانے کا سلسلہ بہت زیادہ ہے۔ کراچی میں ایک تو مقامی لوگ جرائم میں ملوث ہوتے ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر جرائم میں مختلف جہادی گروہ ملوث ہیں، جو یہاں بھتہ خوری کر رہے ہیں، یہ جہادی گروہ بینک ڈکیتیاں کر رہے ہیں، یہ جہادی گروہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کر رہے ہیں، تو کراچی میں مقامی جرائم پیشہ عناصر کے علاوہ باہر سے آنے والے عناصر طالبان کی صورت میں، جہادی و انتہاء پسندوں کی صورت میں کراچی میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی کرکے پاکستان کے اقتصادی حب کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ کراچی میں فرقہ واریت کی بنیاد پر مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے مگر پچھلے مہینوں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کی ایک سیاسی جماعت جو کہ آپ کی اتحادی بھی رہی ہے، کے مختلف مبینہ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار بھی کیا ہے جنہوں نے سنی شیعہ علماء کرام و شخصیات کو نشانہ بناکر فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کا اعتراف بھی کیا تھا۔ کیا سیاسی جماعتیں بھی فرقہ واریت پھیلانے کی سازش میں ملوث ہیں؟
سید نجمی عالم: دیکھیں کراچی کی جس سیاسی جماعت کی جانب آپ اشارہ کر رہے ہیں وہ تو شاید کراچی میں کلنگ کی بانی ہے۔ اس سیاسی جماعت نے ہر جگہ، مختلف تنظیموں میں مافیائی طریقے سے اپنے لوگ شامل کرائے ہوئے ہیں، جن سے وہ کام لیتے ہیں۔ آپ کی بات صحیح ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں نے اس جماعت سے تعلق رکھنے والے ٹارگٹ کلرز کو پکڑا تو پتہ چلا کہ وہ سنی شیعہ دونوں طرف کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ اس طرح کرکے وہ یہ چاہتے ہیں جو حالات یہ لوگ خراب کرتے ہیں ان پر سے عوام اور ایجنسیوں کی نظریں ہٹا کر دوسری طرف لگائی جائیں۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں آپ نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ لیاری کے حالات خراب کرنے کی اصل ذمہ دار ہے۔ یہ صرف ایک الزام ہے یا اس میں کوئی صداقت بھی ہے؟
سید نجمی عالم: کراچی میں بدامنی پیدا کرنے والی جماعت ایم کیو ایم ہے۔ 86ء سے انہوں نے اسلحہ جمع کرنا شروع کیا، اسلحہ کی نمائش شروع کی، ٹی وی بیچو اسلحہ خریدو جیسے نعرے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے جواب میں پھر دوسری جماعتوں اور گروہوں نے بھی اسلحہ کا استعمال شروع کر دیا جس کے نتیجے میں آج کراچی کی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ اس وقت پروپیگنڈا یہ کیا جا رہا ہے کہ لیاری میں کچھی بلوچ لڑائی ہے۔ جبکہ کچھی اور بلوچ صرف لیاری میں تو نہیں رہتے ہیں، کچھی بلوچ تو ملیر، بلدیہ، گذری سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں ایک ساتھ رہ رہے ہیں وہاں کیوں لڑائی نہیں ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ لیاری کے حالات خراب کرنے میں ایم کیو ایم ملوث ہے۔ لیاری سے ایم کیو ایم پی آئی بی سیکٹر سمیت دیگر علاقوں کے لڑکے پکڑے گئے ہیں، لیاری میں گینگ وار کے بدنام کردار غفار ذکری اس سے پہلے ارشد پپو یہ سب ایم کیو ایم کی چھتری تلے چل رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے لڑکے باہر سے آ کر وہاں فائرنگ کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کا مچھر کالونی میں بنگالیوں پر مشتمل ایک دہشت گرد گروہ ہے جو پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں، یہ رپورٹ پولیس کے پاس بھی موجود ہے۔ وہ وہاں سے داخل ہوتے ہیں آگرہ تاج و دیگر جگہوں پر، گڑبڑ کرتے ہیں اور روڈ کراس کرکے نکل جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کچھی برادری کو پیپلز پارٹی سے دور کیا جائے۔ دیکھیں ایم کیو ایم اس وقت پریشان ہے کیونکہ اس کی لندن قیادت کے خلاف عمران فاروق قتل اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات چل رہی ہیں، دوسری جانب ایم کیو ایم کی جانب سے حالیہ عام انتخابات میں دھاندلی جو کی گئی تھی اس پر سے بھی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے لیاری میں مداخلت کر رہی ہے، وہاں حالات خراب کر رہی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایم کیو ایم کی قیادت پاکستانی عوام خصوصاً کراچی کی عوام کے سامنے بےنقاب ہو چکی ہے اور ایم کیو ایم اس موجودہ بدنامی سے شدید پریشانی کا شکار ہو چکی ہے۔ 

دیکھیں اس وقت پروپیگنڈا ایسا کیا جا رہا ہے کہ پورا لیاری خالی ہو گیا ہے اور لوگ وہاں سے ہجرت کر گئے ہیں۔ جب کہ شاید تقریباً ڈھائی سو فیملیز ہیں جو منتقل ہوئی ہیں اور ان کو بھی ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت بدین منتقل کیا گیا ہے جبکہ ان سب کے روزگار، کاروبار کراچی میں ہے، وہ بلدیہ، ملیر، کھوکھراپار، گزری وغیرہ کے علاقے میں بھی منتقل ہو سکتے تھے۔ دوسری جانب پروپیگنڈا ایسا ہے کہ جیسے پورے لیاری کے حالات خراب ہیں جبکہ ڈیڑھ دو فرلانگ علاقے کے حالات خراب ہیں جو کہ آدھی یونین کونسل بنتی ہوگی یعنی یہ علاقہ کل لیاری کا 5 فیصد سے بھی کم علاقہ ہے۔ آپ میرے ساتھ لیاری چلیں، رات دو بجے چلیں، دن کے وقت چلیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہوٹل، دکانیں کھلی ہوئی ہیں، اس مخصوص علاقے کے علاوہ کہیں حالات خراب نہیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپ سمیت دیگر پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کے تلخ بیانات صدر زرداری کی مفاہمت کی پالیسی پر منفی اثرانداز نہیں ہونگے؟ دوسری جانب پیپلز پارٹی مستقل کوشش کر رہی ہے کہ ایم کیو ایم اس کے ساتھ سندھ حکومت میں شامل ہو جائے۔
سید نجمی عالم: پیپلز پارٹی کے 1993,94ء میں جب محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے دور میں جب کراچی میں آپریشن ہو رہا تھا تو اس وقت ایم کیو ایم یہ بات کر رہی تھی کہ پیپلز پارٹی ہمارے لوگوں کی کلنگ کرا رہی ہے۔ اس وقت بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بات چیت جاری رہی تھی، مذاکرات ہوتے تھے۔ دیکھیں ہم بات کرنا چاہتے ہیں لیکن بندوق رکھنی ہو گی۔ بندوق سے بات نہیں کریں گے، ہم اس چیز کے مخالف ہیں۔ ہم سیاسی بنیادوں پر بات کرنا چاہتے ہیں چاہے وہ ایم کیو ایم ہو یا دوسری کوئی جماعت۔ لیکن ایم کیو ایم کا جو بندوق والا چہرہ ہے وہ لوگوں کو ضرور دکھائیں گے۔ میں آپ کو بتاﺅں کہ ہم نے ایم کیو ایم کو پچھلے دور میں پانچ سال اپنے ساتھ چلایا، اسی دوران لندن میں سیاسی جماعتوں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی کہ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ کوئی جماعت ایم کیو ایم سے بات نہیں کرے گی۔ وہاں بھی پیپلز پارٹی نے اس رائے کی مخالفت کی کہ آپ کسی کو اتنا دیوار سے نہ لگاﺅ کہ وہ انارکی کی طرف جائے۔ تو یہ پیپلز پارٹی کی سیاسی سوچ ہے جبکہ اس وقت میاں نواز شریف صاحب سمیت دیگر تمام لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں بالکل پیچھے کر دو، ان سے کوئی بات چیت نہ کرو۔ ابھی بھی ہم ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ آپ کے پاس جھوٹا مینڈیٹ ہے یا سچا مینڈیٹ ہے مگر آپ حکومت میں ہمارے ساتھ آئیں لیکن شاید ان کے کچھ اور مقاصد ہیں۔ 
دیکھیں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک اس مرتبہ 50 فیصد سے زیادہ گرا ہے، تحریک انصاف نے اس کو حاصل کیا ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ اس وجہ سے ایم کیو ایم بہت پریشان ہے، اب وہ ہر بار کی طرح مظلومیت کا لبادہ اوڑھنا چاہ رہے ہیں جو ہمیشہ سے ان کی عادت ہے کہ ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایم کیو ایم اب دوبارہ مہاجر سیاست کو فرنٹ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ووٹ بینک کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے بہرحال ہم ابھی بھی انہیں بلا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں غلط ہو گا، جہاں ایم کیو ایم کی دہشت گردی ہو گی اس کو لوگوں کے سامنے بےنقاب کرتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: کراچی میں بدامنی جاری ہے، اگر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر مقدمہ بنتا ہے اور کراچی میں اس کا کوئی ردعمل آتا ہے تو اسکا ذمہ دار کون ہوگا؟
سید نجمی عالم: الطاف حسین کے خلاف مقدمہ بننے اور سزا دینے پر ردعمل کی صورت میں اگر کراچی میں حالات خراب ہونگے تو اس کی ذمہ دار صرف اور صرف ایم کیو ایم ہو گی۔ دیکھیں الطاف حسین پاکستانی شہری نہیں ہے وہ اب برطانوی شہری ہے، اب اگر برطانوی شہری پر برطانوی قانون کے تحت کیس چل رہا ہے تو ہمیں کیا مسئلہ ہے۔ اگر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو برطانیہ پر اعتراض ہے یا انہیں وہ اتنے برے لگتے ہیں تو انہیں برطانوی پاسپورٹ واپس کر دینا چاہئیے۔ اسی کراچی میں جب الطاف حسین کو برطانوی پاسپورٹ ملا تھا تو جشن منایا گیا تھا کہ جیسے الطاف حسین صاحب کو جنت کا ٹکٹ مل گیا ہے۔ اب الطاف حسین برطانوی شہری ہیں، برطانوی شہری پر برطانوی قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے پر کیس چل رہا ہے تو ہم اپنے شہر کو کیوں آگ لگائیں۔

اسلام ٹائمز: آپ کی نظر میں کراچی بدامنی میں کا کیا حل ہے؟
سید نجمی عالم: کراچی کو ہر قسم کے اسلحہ سے پاک کیا جائے چاہے وہ اسلحہ لائسنس والا ہو یا غیر قانونی۔ لیکن جب تک تمام سیاسی و غیر سیاسی گروہ اس بات پر متفق نہیں ہونگے اس وقت تک اس بات پر عملدرآمد کرانا ممکن نہیں ہے، یہاں تک کہ حکومتوں کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ آپ فوج لے آئیں رینجرز لگا دیں مگر سیاسی سپورٹ کے بغیر آپ شہر کو اسلحہ سے پاک نہیں کر سکتے۔ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے ہم کہتے ہیں کہ آﺅ ہمارے گھروں سے شروع کرو۔ مگر تمام سیاسی جماعتوں کے متفق ہونے کے بعد۔ اس کے ساتھ بہت ضروری بات یہ کہ کراچی سے متعلق میڈیا کو سچ بولنا شروع کر دینا چاہئیے۔

اسلام ٹائمز: مختصر بتا دیں کہ نواز لیگ کے رہنماء ممتاز بھٹو کی جانب سے سندھ میں گورنر راج لگانے کے بیان کے بعد بلاول ہاﺅس، پیپلز پارٹی اور لیگی رہنماﺅں کے درمیان تلخ بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
سید نجمی عالم: پیپلز پارٹی الیکشن ہاری مگر کہیں دیکھا کہ ہم نے مظاہرے کئے۔ مگر نون لیگ الیکشن جیت کر مظاہرے کر رہی تھی۔ تحریک انصاف نے اچھی کامیابی حاصل کی وہ بھی مظاہرے کر رہی تھی۔ صرف ہم نے مطاہرے نہیں کئے اور یہ جمہوری سوچ کی بات ہوتی ہے۔ ن لیگ سندھ میں ہار کر مظاہرے کر رہی تھی کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی مگر ہمارے ساتھ جو کچھ پنجاب میں ہوا ہم نے تو کہیں مظاہرے نہیں کئے، خیبر پختونخواہ میں مظاہرے نہیں کئے۔ جہاں تک بات ہے ممتاز بھٹو کے گورنر راج سے متعلق بیان کی کہ دیکھیں ممتاز بھٹو سندھ کا ایک مسترد شدہ سیاستدان ہے، جس کو اس کے اپنے حلقے کے لوگ بھی مسترد کر چکے ہیں، ایک بار نہیں بلکہ درجنوں بار۔ یہی ممتاز بھٹو پہلے سندھ کی بات کرتے تھے، پنجاب کو گالی دیتے رہے کہ پنجاب یہ پنجاب وہ، اب مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے۔ گورنر راج سے متعلق بیان ممتاز بھٹو کی ذاتی رائے ہے اس شخص کی رائے جو کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتا، ایسا بیان ممتاز بھٹو کی غیر جمہوری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ لہٰذا میاں نواز شریف صاحب کو ان کے اس بیان بازی کا نوٹس لینا چاہئیے۔ میاں صاحب ممتاز بھٹو کو نہ روک کر غلطی کر رہے ہیں، وہ وزیراعظم ہیں انہیں اس بات کا نوٹس لینا چاہئیے۔

اسلام ٹائمز: امریکی دباو میں آکر نواز حکومت کی جانب سے پاک ایران گیس پائپ لائن اور پاک چین گوادر پورٹ معاہدے سے دستبرداری کی باتیں ہو رہی ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
سید نجمی عالم: پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط ہمارے دور میں ہوئے لیکن اگر میاں صاحب اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس کو سنجیدگی سے لے تو ان ہی کے دور میں یہ گیس پائپ لائن پایہ تکمیل پر پہنچ جائے گی اور پاکستان سے توانائی کے بحران کا خاتمہ ہو جائے گا جس کا کریڈٹ بھی میاں صاحب لے سکتے ہیں۔ تو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا مکمل ہونا پاکستان اور عوام کے مفاد میں انتہائی ضروری ہے، مسلم لیگ کی حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پھر ہم نے چین سے گوادر پورٹ کا معاہدہ کیا۔ گوادر پورٹ کا انتظام مشرف کے دور میں سنگاپور کو دیا گیا تھا۔ خاص پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے صدر مملک آصف علی زرداری نے سنگاپور سے واپس لے کر چین سے گوادر پورٹ کا معاہدہ کیا۔ چین کو دینے میں پاکستان کو بہت فائدہ ہے۔ تو ان دونوں معاہدوں سے کسی نے بھی دستبردار ہونے کی کوشش کی تو صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام بھی اس پر شدید ترین ردعمل کا اظہار کرے گی۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کا یہ بیان کہ عام انتخابات میں ہماری ناکامی کی وجہ پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ تھا۔ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
سید نجمی عالم: آپ یہ تو جانتے ہیں نہ کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور حلقے جو ہیں وہ ان چیزوں کا تعین کرتے ہیں، پھر امریکا بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوا۔ ایران اور چین سے ہونے یہ دونوں معاہدے امریکا کی مرضی کے خلاف ہوئے ہیں، امریکا کسی صورت یہ دونوں معاہدے نہیں چاہتا۔ ہمیں ان دونوں معاہدے کرنے کا نقصان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں میڈیا سے باہر کیا گیا، ہمیں انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا، ہمارے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈا کیا گیا، کیونکہ ظاہر سے بات ہے کہ جب ہم نے امریکی مرضی کے بغیر معاہدے کئے تو اس وقت پر کیا بلکہ وقت سے پہلے ان دونوں معاہدوں کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے۔

اسلام ٹائمز: تو کیا نواز حکومت امریکی ایماء پر اقتدار میں لائی گئی ہے؟
سید نجمی عالم: دیکھیں امریکا کو اب اس خطے سے نکلنا ہے۔ اس لئے اب وہ طالبان سے مذاکرات کرنے کی بات بھی کر رہے ہیں تا کہ انہیں محفوظ راستہ مل سکے اور اس کام کے لئے نواز شریف انہیں زیادہ مناسب لگتے ہیں، نواز حکومت انہیں زیادہ suit کرتی ہے۔ دنیا کو پتہ ہے کہ جس طالبان سے آج امریکا محفوظ راستے کیلئے بات کر رہا ہے اسے نواز شریف نے کتنی سہولتیں (facilitation) دی ہیں۔ لہٰذا اب جب ہر جگہ یہ باتیں عام ہیں تو یقینا اس میں کچھ سچائی تو ہو گی۔

اسلام ٹائمز: شام میں پاکستانیوں کی موجودگی کی اطلاعات میڈیا میں عام ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
سید نجمی عالم: میں نہیں سمجھتا کہ حکومتی سطح پر پاکستان سے لوگ شام بھیجے جا رہے ہوں۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف باغیوں کو امریکا کی حمایت حاصل ہے، جبکہ ایران وہاں بشار حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب امریکا کا اتحادی ہے اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جو محاذ آرائی ہے، جو ٹسل ہے شاید اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب نے شام میں جنگجو بھیجنے کی کوشش کی ہو گی۔ بہرحال اگر پاکستان سے طالبان کے شام پہنچنے کی خبریں ہیں تو حکومت کو اس بات کا نوٹس لے کر عوام کو اعتماد میں لینا چاہئیے تا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنامی سے بچایا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 285400
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے