0
Tuesday 1 Oct 2013 00:50

باشعور اور غیور لوگوں کو علاقہ کی ذمہ داری سونپنا ناگزیر ہے، زاہد حسین طوری

باشعور اور غیور لوگوں کو علاقہ کی ذمہ داری سونپنا ناگزیر ہے، زاہد حسین طوری
زاہد حسین طوری ولد علی نظر  کا تعلق پاراچنار سٹی سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پاراچنار ہائی سکول نمبر1 سے حاصل کی جبکہ اعلٰی تعلیم نثار شہید کالج رسالپور سے حاصل کی۔ کابل انگلش لینگویج سنٹر پشاور سے انگلش زبان کا کورس کیا۔ 1995ء کو روح اللہ یونٹ پاراچنار جو ادارہ تعلیم و تربیت کا سٹی یونٹ تھا، میں شمولیت اختیار کی۔ روح اللہ نے یونٹ میں بحیثیت کارکن، جنرل سیکرٹری اور صدر کے عہدوں پر کام کیا اور اس یونٹ میں 2000ء تک کام کیا۔ موصوف ایک سماجی کارکن ہے جو اس وقت ایک لینگویج سنٹر کے علاوہ شاہین پبلک سکول کے نام سے ایک پبلک سکول بھی چلا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے زاہد حسین طوری  سے انکی سیاسی زندگی اور کرم ایجنسی کے موجودہ حالات کے حوالے سے ایک انٹرویو کیا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ ایک پرائیویٹ سکول کے علاوہ رفاہی امور میں دلچسپی لیتے رہے ہیں۔ کیا آپ اپنے رفاعی اور سماجی کاموں کی تفصیل بتانا پسند کریں گے۔
زاہد طوری: شاہین پبلک سکول پاراچنار کا ایم ڈی ہونے کیساتھ ساتھ سیکنڈ ٹائم پاک انگلش لینگویج انسٹیٹیوٹ میں بھی پڑھاتا ہوں۔ شام کو کراٹے سنٹر میں پریکٹس کرتا اور کراتا ہوں۔ 2001ء سے معاشرے کے مختلف پہلوں پر کام شروع کرنا پڑا۔ جس کی بنیادی وجہ بہتر تنظیوں کا فقدان اور ذمہ دار افراد کی لاپرواہی تھی۔ نوجوان نسل میں مذہبی رجحان بنانے کیلئے مختلف اوقات میں سیمینارز منعقد کرتے ہیں۔ ایک عشرے سے مختلف دعاوں کے مسلسل پروگرامات اور درس اخلاق کا انعقاد کرتے ہیں۔ تعلیمی ذوق بڑھانے کیلئے تعلیمی سیمینار بھی ترتیب دیتے ہیں۔ معاشرے میں موجود غیر اخلاقی کاموں میں ملوث گروہوں کے خلاف لگاتار اپنی مدد آپ کے تحت زوربازو آزماتے ہیں۔ مختلف دیہات کے دورے ترتیب دیتے ہیں۔ جس میں جوان نسل کو علاقائی، ملکی اور عالمی فکر سے روشناس کرواتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کرم ایجنسی میں موجود تنظیموں میں سے کسی تنظیم کے ساتھ وابستگی ہے؟۔
زاہد طوری: کرم ایجنسی میں موجود تنظیوں کیساتھ خوب تعلقات ہیں اور ہمہ وقت سب کے کیساتھ حسب توفیق تگ و دو کرتے ہیں مگر باقاعدہ طور پر کسی تنظیم کا رکن یا عہدیدار نہیں ہوں۔

اسلام ٹائمز: جناب عالی کے تعلقات مختلف تنظیموں کے علاوہ غالباً مرکز کے ساتھ بھی استوار ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
زاہد طوری: مرکز کیساتھ تعلق فطری ہے اور باقاعدہ طور پر بہت سے درسی پروگرامات اور فنکشن منعقد کیے ہیں، مگر کبھی انجمن، پاسدار یا فیڈریشن کا رکن یا عہدیدار نہیں رہا۔ ان تمام کیساتھ علاقائی ضرورت کے مطابق مدد اور کمک کرتے رہے ہیں۔ مرکز پوری طوری قوم کا اثاثہ ہے لہٰذا اس کیساتھ وابستہ ہونا اور اسکو درست سمت پر چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اسلام ٹائمز: مرکز اور تنظیموں کے درمیان مصالحت کرانے میں آپ کردار ادا نہیں کر سکتے؟
زاہد طوری: مرکز اور تنظیموں کے درمیان کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے، البتہ سیاسی مزاج مختلف ہوتے ہیں۔ جو کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ایک خاندان کے افراد مختلف سیاسی فکر کے مالک ہوتے ہیں۔  تلخ سیاسی اختلاف کے باوجود بوقت ضرورت سب ایک ہو جاتے ہیں۔ ایک دفعہ پاراچنار کے تقریباً 24 مذہبی، سیاسی و سماجی تنظیمیں اکٹھی ہو گئی تھیں اور کرم ایجنسی کے کشیدہ صورت حال کیلئے منصوبہ بندی پر مذاکرات کر رہی ہیں۔ میں بھی وہاں بحیثیت Observer موجود تھا۔ سب تنظیموں کے نمائندوں نے مرکز کی کمی محسوس کی تو میں اسی وقت شیخ نواز عرفانی سے ملا اور اس مشترکہ منصوبہ بندی کے حوالے سے انہیں بریف کیا۔ تو اسطرح تمام تنظیمیں اور مرکز نے ایک ساتھ کئی ہفتوں تک ایک ساتھ کام کیا۔ مگر بعد میں دونوں اطراف سے کچھ عناصر نے بگاڑ پیدا کیا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر چاہیں تو سب اکٹھے ہو سکتے ہیں اور ہم یعنی میرے سارے احباب اس حوالے سے سرتوڑ کوششیں کرنے کے لئِے تیار ہیں۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ انتخابات میں آپ نے بھی حصہ لیا۔ آپ نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیسے کیا؟
زاہد طوری: معاشرتی مسائل کو بہت نزدیک سے ہم نے محسوس کیا ہے۔ ان گنت ایشوز کا سامنا اہم منصب یا سیٹ کے بغیر کرنا بہت مشکل بلکہ بالکل ناممکن ہوتا ہے۔ گوناگوں سرگرمیوں کی انجام دہی کیلئے ہم نے ہمیشہ بڑوں کے دروازوں پر دستک دی، تقریریں کیں، پروگرامات کئے، مگر مسائل حل ہونے کی بجائے زیادہ ہوتے گئے۔ لہٰذا مجبوراً خود میدان میں اترنا پڑا۔ حالانکہ اقتصادی مشکلات کے ساتھ ساتھ اور کافی مسائل کا سامنا بھی تھا۔

اسلام ٹائمز: مستقبل میں سیاست میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ ہے؟
زاہد طوری: معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے والا ہر شخص سیاسی ہوتا ہے البتہ الیکشن نہیں لڑتے۔ ہم نے سرگرمیوں کیساتھ الیکشن بھی لڑا۔ آئندہ بھی انشاءاللہ تعالٰی رفقاء کے مشورے سے انتخابات میں حصہ لیں گے، چاہے میری شکل میں ہو یا کسی دوسرے دوست کی صورت میں۔

اسلام ٹائمز: پاراچنار میں موجود طوری بنگش قبائل کے مابین پائی جانے والی کشیدگی اور نفاق کو دور کرنے کے حوالے سے آپ کیا تجاویز دیتے ہیں؟
زاہد طوری: حالیہ الیکشن کے بعد مومنین کے درمیان کشیدگی کافی تک بڑھ گئی ہے۔ اس کشیدگی اور نفاق کی بنیادی وجہ حصول منصب ہے۔ یہ کوئی معنوی کشیدگی نہیں ہے۔ ورنہ کوئی بھی گروہ غلطیوں اور کوتاہیوں سے مبراء نہیں ہے۔ یہ کسی بھی وقت آپس میں جوڑ توڑ کرکے ایک بھی ہو سکتے ہیں۔ عوام کو بالخصوص نوجوان طبقہ کو اس نفاق کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔ دشمن بھی اس وقت اپنے ناپاک عزائم میں کسی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ میرے خیال میں ان جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو مکمل طور پر علاقہ کے مسائل سے نکالا جائے۔ ان کی فکس ختم کرنی چاہیئے۔ عام عوام میں سے باشعور، عزتمند اور غیور لوگوں کو علاقہ کی ذمہ داری سونپنی چاہیے۔

اسلام ٹائمز: اسلام ٹائمز کے توسط سے اہلیان کرم خصوصاً جوانوں کے نام کوئی پیغام دینا پسند کرینگے؟
زاہد طوری: ہم اسلام ٹائمز کے بہت مشکور ہیں جس نے ہمیں اپنے خیالات تمام مومنین سے شیئر کرنے کا موقع  فراہم  کیا۔ اس وقت ہماری ملت کی ذمہ داری واقعاً بہت بڑی ہے۔ ملکی صورتحال کو دیکھا جائے یا عالمی کشمکش کو دیکھا جائے شیعہ جوانوں کو دشمن کے مقابلے کئی گنا زیادہ محنت درکار ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے جوانوں کو چاہیئے کہ اپنے دین سے خود کو باخبر رکھیں اور دین کے زرین اصولوں پر عمل کریں۔ دنیاوی تعلیم جو صرف اسی دنیا کی حد تک محدود ہے، کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں جو  واجب ہے۔ اپنے امور میں اعلٰی درجہ کا نظم و ضبط پیدا کریں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ۔ اس وقت اگر پاکستان کے شیعہ جوان بیدار نہ ہوئے تو یقین جانیں کہ ہم نابود ہو سکتے ہیں۔ بہترین علماء سے منسلک ہونا چاہیئے تاکہ ہمارے رہنمائی درست طریقے سے ہو سکے۔ حزب اللہ اور بسیجیوں کیطرح راہ امام ہموار کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہیئیں۔ یقیناً پاکستانی شیعہ نوجوان کسی طرح باقی اقوام کے جوانوں سے کم نہیں۔ آخر میں خداوند متعال سے دعاگو ہوں کہ ہمیں راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی لیڈر شپ کو امام مہدی (عج) کے ظہور سے متصل کرے۔ آمین
خبر کا کوڈ : 306316
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب