0
Thursday 19 Jun 2014 16:01
پاک افغان سرحد سیل کئے بغیر فوجی آپریشن کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے

اہلبیت (ع) کے مزارات کی حفاظت صرف حکومتی مسلئہ نہیں، ملت اسلامیہ انکی حفاظت کریگی، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی

سعودی شہنشاہ ہوں یا دیگر بادشاہتیں، سب امریکا سے ڈکٹیشن لے رہے ہوتے ہیں
اہلبیت (ع) کے مزارات کی حفاظت صرف حکومتی مسلئہ نہیں، ملت اسلامیہ انکی حفاظت کریگی، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی

جماعت اسلامی پاکستان صوبہ سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا تعلق کراچی سے ہے اور آپ پیشے کے لحاظ سے پیتھالوجسٹ ڈاکٹر ہیں۔ آپ نے 1984ء میں اسلامی جمعیت طلباء میں شمولیت اختیار کی۔ آپ ناظم جمعیت کراچی رہنے کے ساتھ ساتھ صوبائی و مرکزی شوریٰ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی، جہاں 1994ء میں آپ امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی منتخب ہوئے۔ 2000ء سے لیکر 2007ء تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2012ء میں آپ کو جماعت اسلامی سندھ کا امیر منتخب کیا گیا۔ تاحال آپ اس عہدے پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اسکے ساتھ آپ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مرکزی مجلس عاملہ کے بھی رکن ہیں۔ آپ جماعت اسلامی کے مختلف فلاحی و رفاحی اداروں سے بھی وابستہ ہیں جن میں شہدائے اسلام فاﺅنڈیشن، مسلم ملی ایجوکیشنل ٹرسٹ، الخدمت ڈائیگنوسٹک سینٹر وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان خصوصاً کراچی و سندھ بھر کے تمام سیاسی و مذہبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے لاہور میں پولیس بربریت، شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن، تفتان میں ایران سے آنے والے اہل تشیع زائرین کو ایکبار پھر دہشتگردی کا نشانہ بنانے، کراچی ایئرپورٹ حملہ، ملکی سیاسی حالات، عراق میں دہشتگرد گروہ داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں، سعودی کردار کے حوالے سے الخدمت ڈائیگنوسٹک سینٹر ناظم آباد کراچی میں آپ کے ساتھ ایک خصوصی نشست کی۔ اس موقع پر آپ کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے اندوہناک واقعہ میں پاکستان عوامی تحریک کی 2 خواتین سمیت 8 کارکن پولیس کی بربریت کا نشانہ بن گئے، کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ ہم اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں، پولیس نے جو انتہائی خطرناک اور خوفناک ایکشن کرکے مظاہرین کو نشانہ بنایا یہ قطعاً کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے، اس کی جوڈیشنل انکوائری ہونی چاہیئے، ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیئے۔ معاملات کو صرف قوت کے ذریعے ہی حل نہیں کیا جاتا بلکہ بات چیت ہوتی ہے، گفتگو کی جاتی ہے، راہ نکالی جاتی ہے، مذاکرات کئے جاتے ہیں، جس وقت یہ رکاوٹیں ہٹانے کی بات کی گئی اس وقت ضرورت نہیں تھی کہ اس موقع پر یہ سب کیا جاتا، اگر کرنا تھا تو بات چیت کی جاتی، انکی بات بھی سنی جاتی، لیکن اس کے بجائے انتہائی شدت کے ساتھ کارروائی کی، جس کے نتیجے میں معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ہوا مجھے اس کا بہت دکھ ہے، لہٰذا ناصرف جوڈیشنل انکوائری کی جانی چاہیئے بلکہ واقعہ میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کو معطل بھی کیا جانا چاہیئے، باقی معاملات اور سزائیں تو جوڈیشنل انکوائری کے بعد ہونگے۔ بہرحال میں وزیراعلیٰ پنجاب کے اس مؤقف کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ انہوں کہا کہ اگر ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے تو جو سزا مجھے ملے گی میں اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ عدالتوں کے ذریعے انصاف کے عمل کو مکمل کیا جانا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: شمالی وزیرستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے حوالے جماعت اسلامی کا کیا مؤقف ہے؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
جماعت اسلامی کا شروع سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن یا قوت کا استعمال مسائل کا حل نہیں ہے۔ ہم اس سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ بعض جگہوں پر آئین کی بالادستی کیلئے، قانون پر عملدرآمد کیلئے اور ریاستی رٹ کو قائم کرنے کیلئے قوت کا استعمال کہیں نہ کہیں کرنا پڑتا ہے۔ فاٹا وہ علاقہ ہے جس کو قائداعظم محمد علی جناح (رہ) نے پاکستان کا بازوئے شمشیر زن قرار دیا تھا، یہ وہ علاقہ ہے جہاں پاکستان کو آج تک فوج نہیں لگانی پڑی، اس علاقے نے اپنی حفاظت خود کی ہے، کہیں سے دشمن کو نہیں آنے دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی ہمیشہ خواہش رہی کہ یہاں پر کسی نہ کسی طرح مذاکرات کے ذریعے راستہ نکلے، بہرحال اب تو فوجی آپریشن شروع ہو چکا ہے، گوکہ میں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے تاریخ میں کسی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کی، جماعت اسلامی نے اپنی اسی تاریخ کو دہرایا ہے، لیکن وہیں ہم حکومتوں سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ نقل مکانی کرنے والے شہریوں اور متاثرین کا خیال رکھا جائے۔ دوسری بات یہ کہ آپریشن کے مقاصد اس وقت تک حاصل ہو ہی نہیں سکتے کہ جب تک پاک افغان سرحد کو بند نہیں کیا جاتا، دہشتگرد جب یہاں سے پسپا ہوتے ہیں تو افغانستان چلے جاتے ہیں، کوئی ملا فضل اللہ، کوئی خالد خراسانی وہاں جا کر پناہ لے لیتا ہے، امریکا کی چھتری تلے محفوظ بیٹھے رہتے ہیں اور پاکستان کے اوپر حملہ کرتے ہیں، ضروری ہے کہ افغانستان سے ملنے والی سرحد کو سیل کیا جائے تاکہ یہاں سے یہ لوگ وہاں نہ جا سکیں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ سویلین آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچے، لوگوں کو کوئی ایسا زخم نہ پہنچے کہ وہ آئندہ ریاست پاکستان کے بارے میں کسی اور قسم کے تصورات اپنے ذہن میں پیدا کریں، اس کے ساتھ ساتھ وہاں کے مقامی لوگوں کا دل جیتنے کیلئے وہاں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ترقیاتی کام کرنے کی ضرورت ہے، تعلیمی ادارے، طبی مراکز بنانے کی ضرورت ہے، صحت سے متعلق سہولیات دینے کی ضرورت ہے تا کہ وہاں کے مقامی لوگوں کے دلوں کو جیتا جا سکے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں ایک بار پھر تفتان کے علاقے میں ایران سے آنے والے اہل تشیع زائرین کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، آپکی نگاہ میں اس کے پس پردہ عوامل کیا ہیں؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
عالمی استعماری، سامراجی قوتیں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اپنی فوج کشی کے ذریعے مغلوب نہیں کر سکتیں، اس لئے وہ ڈالروں کے ذریعے لوگوں کو خریدتے ہیں، ان ڈالروں کے ذریعے لوگوں میں اختلافات ایجاد کرتے ہیں، انتشار و تفرقہ پیدا کرکے باہم لڑا کر پوری مسلمہ امہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ صورتحال عراق و شام میں موجود ہے، یہ صورتحال آج پاکستان میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ٹھیک اور خوش آئند ہے کہ پاکستانی معاشرہ اس حوالے سے بالغ نظری کا ثبوت دے رہا ہے۔ زائرین پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے، اس کیلئے پاکستانی حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہونگے، جو لوگ آج ملت اسلامیہ میں کسی ایک مسلک کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنا کر اس طرح کی قتل و غارتگری کی وارداتیں کر رہے ہیں یہ دراصل اسلام پر حملہ کر رہے ہیں، زائرین پر حملہ کرنے والے دشمن کے ایجنٹ ہیں، یہ سامراج کے ایجنٹ ہیں، یہ امریکی و اسرائیلی ایجنٹ ہیں، انہیں کسی صورت بھی قبول اور برداشت نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے علماء کو بھی آگے آنا چاہیئے۔
یہ ٹھیک ہے کہ ملی یکجہتی کونسل بھی جدوجہد کر رہی ہے۔ اتحاد و وحدت کیلئے صبر و برداشت زندگی بھی دیگا، طاقت و قوت بھی دیگا، ہم الگ الگ نہیں ہیں، ہماری بنیاد ایک جیسی ہیں، اگر آپ کہیں کہ مسالک کے درمیان اختلاف ہیں تو حضرت امام جعفر صادق (ع) میرے لیئے انتہائی قابل احترام ہیں، میں تو ان کے پیروں کی دھول بھی نہیں ہوں، اگر کوئی ان کے مسلک پر عمل کر رہا ہے تو وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے، کیا پوری امت اسلامیہ میں کسی میں جرأت ہے کہ وہ کہے کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) کا مسلک غلط تھا، کوئی عالم دین میرے سامنے لا کر دکھائیں، کوئی بڑے سے بڑا عالم اپنی کتاب میں یہ بات نہیں لکھ سکتا۔ بہرحال اہل تشیع کو نشانہ بنانا ایک سامراجی سازش ہے، ہمیں اس سامراجی سازش کا پردہ چاک بھی کرنا ہوگا، اسے سمجھنا بھی ہوگا، جاننا بھی ہوگا اور آج کے سامراج کیخلاف بالکل اسی طرح متحد ہونا ہو گا کہ جس طرح اتحاد و وحدت کا پیغام امام خمینی (رہ) نے دیا ہے، یہی ملت اسلامیہ کیلئے نجات کا راستہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کراچی ایئرپورٹ جیسی حساس جگہ بھی دہشتگردوں سے محفوظ نہیں، سکیورٹی میں ناکامی اور غفلت کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
پاکستان میں سکیورٹی کے بہت شدید مسائل ہیں، ان حالات میں سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہوا ہے جس کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ کے بعد یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے ان مشکل ترین حالات کے اندر امریکا، اسرائیل اور بھارت تینوں شریک ہیں، تینوں یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان اپنی اہم ترین اور حساس ترین چیزوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، اور جب یہ اپنی ان حساس چیزوں کی حفاظت نہیں کر سکتا تو اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے، ایٹمی پروگرام تو دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جائے گا۔ کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ کے پیچھے امریکی سی آئی اے، اسرائیلی موساد اور بھارتی را بھی موجود ہے، باقی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ استعمال انہوں نے کسی کو بھی کیا ہے، لیکن یہ سب کے سب اس واقعہ کے پیچھے موجود ہیں، ہمیں انہی کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ مجھے حیرت ہے کہ نواز حکومت نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے بارے میں زبان کھولتے ہوئے بہت تکلف سے کام لیا لیکن دشمن کو تو پہچاننا ہوگا کیونکہ اگر دشمن کو صحیح طریقے سے نہیں پہچانا تو میں اپنے دوستوں کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا اور اپنی بھی نہیں کر سکتا۔

اسلام ٹائمز: اس تمام صورتحال میں ملکی سیاسی حالات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیا کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی نظر آ رہی ہے؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
پاکستان تاریخ کے بہت یہ مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، 2014ء کا سال ویسے ہی بہت زیادہ مشکلات کا سال ہے، ملک میں بہت سارے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں ملک میں جمہوری نظام کو، بساط کو لپیٹنے کا سلسلہ ہو رہا ہے ، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس جمہوری نظام میں پھر کوئی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ لوگوں کی بات کو سنا جا سکے تو کسی نہ کسی طور پر اشک شوئی کی جا سکے۔ مجھے اندازہ ہے کہ
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ صحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں


اسلام ٹائمز: الدولة الاسلامیة فی العراق و الشام جو کہ داعش کے نام سے معروف ہے، جسے شام میں بشار حکومت کیخلاف کھلم کھلا امریکی و سعودی حمایت حاصل رہی، داعش شام میں حضرت سیدہ زینب (س) کے روضہ مقدس سمیت اصحاب رسول کے مزارات کو شرک کی علامتیں قرار دیکر حملے کرتی رہی اب عراق میں مداخلت کرکے اس نے کربلا، نجف، سامراء، کاظمین میں موجود اہلبیت (ع) کے روضہ ہائے مقدس اور بغداد میں حضرت غوث الاعظم کے مزار کو بھی شرک کی علامتیں کہہ کر انہیں تباہ کرنا اپنا ہدف قرار دیا ہے اور ساتھ میں ایران کو دھمکی دی ہے کہ داعش ایران میں داخل ہو کر مشہد میں روضہ امام رضا (ع) کو بھی تباہ کر دیگی، اس ساری صورتحال کے حوالے سے کہنا چاہیں گے؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
اس قسم کی باتوں کو مسلمانوں میں کسی نے قبول نہیں کیا ہے، اہلبیت (ع) کے مزارات، اہلبیت (ع) کی نشانیاں کسی ایک مسلک کی نہیں ہیں، وہ میری بھی نشانی ہے۔ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ، امام حسین (ع)، بی بی فاطمہ زہرا (س) یہ تو میرے سر کا تاج ہیں، میری جانیں ان کی جان پر قربان۔ کون بی بی زینب (س)، وہ بی بی زینب (س) جو تاریخ میں سب سے بڑی مجاہدہ ہیں، میرے پیارے نبی (ص) کی نواسی ہیں، جنہوں نے کربلا کے واقعہ کو رہتی دنیا تک واضح کر دیا، اگر بی بی زینب (س) نہ ہوتیں تو واقعہ کربلا اس طرح دنیا کے سامنے موجود نہ ہوتا، انہوں نے ایک ظالم حکمران کو بغیر کسی خوف کے للکارا، ان کے خطبات موجود ہیں کہ جس طرح انہوں نے یزید کو للکارا تھا وہ تو تاریخ کے اندر روشن ترین مثال ہیں، وہ تو پوری دنیا کے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہیں کہ دیکھو یہ ہے خانوادہ رسول، یہ کسی ظالم و باطل کے آگے جھکتا نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں، اس قسم کی گفتگو یہ کسی دشمن کی سازش تو ہو سکتی ہے، یہ اسرائیل تو چاہتا ہے، امریکا تو چاہتا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی مسلمان چاہتا ہوگا، اور مشہد میں امام رضا (ع) کا مزار، مجھے بھی اگر موقع ملے گا تو میں زیارت کرنے کیلئے جاؤں گا، یہ کوئی معمولی لوگ نہیں تھے، انہوں نے انسانوں کی رہنمائی کی اور انسانوں کیلئے مرجع قرار پائے تو جبہی تو لوگ جاتے ہیں وہاں پر، میں نے تو امام خمینی (رہ) کے مزار پر بھی حاضری دی ہے، اسلئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ دورِ حاضر کے اندر انہوں نے سامراج کیخلاف بہت مضبوط آواز اٹھائی اور دنیا کو بتایا کہ سامراجی زنجیریں کو کیسے توڑا جاتا ہے اور راستہ بھی دکھایا۔ لہٰذا اس قسم کی جتنی بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں یہ دشمن کی آوازیں ہیں، ملت اسلامیہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم داعش کی اس قسم کی باتوں سے انکار کرتے ہیں، ہم ان باتوں کو disown کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مقدس مقامات کسی ایک مسلک کا سرمایہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا سرمایہ ہیں، پوری ملت اسلامیہ انکی حفاظت کریگی، یہ کسی ایک مسلک کا مسئلہ نہیں ہے، یہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں ہے کہ ایرانی حکومت یا عراقی حکومت حفاظت کرے، وہ حفاظت کرینگے تو ہم پر احسان ہے، یہ ہم سب کا اثاثہ ہے، یہ میرے بزرگ ہیں، یہ میری تاریخ ہے، یہ میرا ماضی ہے، یہ میرا ایسا روشن ماضی ہے جس سے میں جڑا رہنا چاہتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: داعش کی شام اور عراق میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے تناظر میں سب سے زیادہ سوال سعودی عرب کے کردار پر اٹھتا ہے، جیسا کہ سعودی عرب پر الزام لگا کہ اس نے مصر میں ایک جمہوری حکومت کے خلاف فوجی آمر کی حمایت کی، پھر شام اور عراق میں بھی داعش کی سپورٹ کے حوالے سے بھی سعودی عرب کا نام آتا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی:
میں سمجھتا ہوں کہ ملوکیتوں اور بادشاہتوں کا کسی دین و مذہب سے تعلق نہیں ہوتا، وہ ذاتی مفاد کی حفاظت کیلئے سب کچھ کر لیتے ہیں، وہ عوام کی بیداری سے ڈرتے ہیں، یہ عوامی بیداری سے خوف و خطر محسوس کرتے ہیں، یہ امریکا اور برطانیہ سے مدد حاصل کرتے ہیں تاکہ اپنی اور اپنے مفادات کی حفاظت کر سکیں اور مسلمانوں کو امریکا کا غلام بنائے رکھیں، دیکھنے میں نظر یہ آتا ہے کہ یہ سعودی شہنشاہ ہے یا فلاں بادشاہ ہے لیکن حقیقت میں تو وہ امریکا سے ڈکٹیشن لے رہے ہوتے ہیں اور اسی سامراج کی پرستش کر رہے ہوتے ہیں، یہ بات جاننے کی اور پہچاننے کی ضرورت ہے اور اس میں ہمیں کسی بھی طریقے سے کسی دوسری رائے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے، جتنے بادشاہ ہیں، جس جگہ پر بھی موجود ہیں، اور بعض جگہوں پر تو انہوں نے جمہوری ڈھونگ بھی بنا لئے ہیں اور اس کے ذریعے بھی آ جاتے ہیں، تو اس چیز کو بالکل ٹھیک طریقے سے پہچاننا چاہیئے اور اس میں بالکل جاننا چاہیئے کہ ان کا نہ تو کسی مسلک سے تعلق ہے اور نہ ان کا کسی مذہب سے تعلق ہے، ذاتی مفاد کا مسئلہ ہے، بادشاہت جاری رہنی چاہیئے، اس بادشاہت کو جاری رکھنے کیلئے شیطان سے بھی مدد لینی پڑی تو وہ لینے کو تیار ہیں۔

خبر کا کوڈ : 393220
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے