0
Monday 30 Jun 2014 17:51
شام نے فوجی محاذ پر بھی وطن کا دفاع کیا اور سیاسی محاذ پر بھی کامیاب رہا

عراق میں داعش کی دہشتگردی امریکی گیم کا حصہ ہے، عرفان علی سینیئر تجزیہ نگار

میڈیا وار، تبلیغاتی جنگ کے ذریعے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے
عراق میں داعش کی دہشتگردی امریکی گیم کا حصہ ہے، عرفان علی سینیئر تجزیہ نگار
کراچی سے تعلق رکھنے والے عرفان علی سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں، آپ مختلف انگریزی قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے منسلک رہے ہیں، آپ بیس سال سے زائد عرصے سے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ملک شام میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے کیلئے دنیا بھر سے مبصرین کے وفود نے شام کا دورہ کیا، آپ نے بھی چھ رکنی پاکستانی وفد کے ہمراہ عالمی مبصر کی حیثیت سے شامی صدارتی انتخابات کا مشاہدہ کیا۔ اسلام ٹائمز نے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار عرفان علی کیساتھ شام و عراق کے موضوع پر انکی رہائش گاہ پر ایک خصوصی نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: آپ حال ہی میں عالمی مبصر کی حیثیت سے ملک شام میں ہونیوالے صدارتی انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے کیلئے گئے، کیا کہنا چاہیں گے اس دورہ کے حوالے سے۔؟
عرفان علی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ شام کے صدارتی انتخابات میں پوری دنیا کی طرح پاکستان سے بھی مبصرین کی چھ رکنی ٹیم گئی تھی، بحیثیت صحافی و تجزیہ نگار میں بھی اس ٹیم میں شامل تھا۔ ہم نے اس دورے میں مشاہدہ کیا کہ شام میں شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، شام میں عرب عجم مسئلہ بھی نہیں ہے، نہ ہی شامی حکومت سے شامی عوام ناراض ہے، اس صورتحال کا ہم نے انتہائی قریب سے شام میں مشاہدہ کیا۔ شام میں انتخابات میں ایک جشن کا سماں تھا، عید کا سماں تھا، عوام میں اتنہائی جوش و خروش پایا گیا، ووٹ ڈالنے والوں طویل قطاریں ہر جگہ نظر آئیں، دمشق میں بھی یہی صورتحال تھی، حتٰی کہ حلب شہر کے مرکز میں بھی ووٹرز کی طویل قطاریں تھیں۔ کچھ نواہی مضافاتی علاقے، جن میں ترکی سے ملنے والی سرحد کے ساتھ جو شامی صوبے ہیں، کے بعض علاقے شامل ہیں وہاں دہشتگردوں کی موجودگی پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ پورے شام میں شامی فورسز کا کنٹرول ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک سے زائد صدارتی امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا، بشار الاسد کے مقابلے میں انتخابات لڑنے والے دونوں امیدوار ماہر عبدالحفیظ حجار اور حسان النوری سنی عرب مسلمان تھے، مگر ان دنوں امیدواروں اور انکے حامیوں کے دل و دماغ میں کہیں بھی فرقہ وارانہ یا عرب عجم کا تاثر نہیں تھا، بشار مخالف ان دونوں سنی عرب مسلمان امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں میں علوی بھی تھے، مسیحی بھی تھے، دہگر مذاہب کے افراد بھی تھے، تو دنیا بھر میں شام کے حوالے سے جو پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ وہاں فرقہ وارانہ یا عرب عجم مسئلہ ہے، تو ہم نے کسی بھی ایسی صورتحال کا انتخابات کے دوران یا اس کے علاوہ کسی موقع پر مشاہدہ نہیں کیا۔
انتخابات کے دوران وہاں کہیں بھی یہ تاثر اور سوچ نہیں پائی گئی کہ علوی جو ہے وہ علوی کو ووٹ دے گا، یا سنی ہے تو سنی کا ہی ساتھ دے گا، یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ بشار الاسد کی مرکزی کابینہ میں وزیراعظم سمیت 32 اراکین ہیں جن میں 21 سنی عرب مسلمان ہیں، 2 مسیحی ہیں، باقی بچتے ہی کتنے ہیں، وزیراعظم سنی عرب مسلمان ہے، اسمبلی کا اسپیکر بھی سنی عرب مسلمان ہے، اسی کی نگرانی میں انتخابات ہوئے ہیں کیونکہ یہ یہ الیکشن کمیشن کا بھی نگران ہے۔ تو شام کی صورتحال بالکل بھی ویسی نہیں ہے جیسا کہ شام مخالف ممالک اور عناصر کی جانب سے دنیا کے سامنے پیش کی گئی، میڈیا وار، تبلیغاتی جنگ کے ذریعے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی، جس کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر شام کا مسئلہ مذہبی مسئلہ ہوتا تو سعودی عرب میں صورتحال بدترین ہے، جہاں بادشاہت ہے، قطر، بحرین، کویت وغیرہ میں بھی بادشاہت ہے جو کہ ضدِ اسلام ہے، خلافت تو ان ممالک میں بھی نہیں ہے، تو شام دہشتگردی کرنے والے اگر مذہبی ہوتے، جو اپنی دہشتگردی کو اسلام کے نام پر انجام دے رہے ہیں، جن میں دولت اسلامیہ فی العراق و شام المعروف داعش، جبھة النصرہ، فری سیرین آرمی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں، تو یہ دہشتگرد عناصر ان ممالک پر بھی حملے کرتے۔ 
بہرحال شامی صدارتی انتخابات نے ان تمام دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر دیا کہ بشار الاسد تنہا ہے۔ جب ہم نے ووٹرز سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ہمارا ووٹ اس بات کا تعین کرے گا کہ شام کا قانونی حکمران کون ہے، نہ کہ امریکا، نہ کہ سعودی عرب اس بات کا تعین کریں گے، تو یہ وہ اصل پیغام تھا کہ جو شامی عوام نے دنیا کو اس صدارتی انتخابات میں بھرپور شرکت کرکے دیا، اور اس کو انہوں نے عملاً ثابت بھی کیا، اور یہی بات بشار مخالف سنی عرب مسلمانوں نے بھی کہی تھی یہ یہ مقابلہ ہم تین امیدواروں کے درمیان نہیں ہے، ہم تینوں ہی شام کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہمارے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو دہشتگردوں کی سپورٹ کرتے ہیں، اگر بشار جیتے گا تو بھی تو بھی سمجھا جائے کہ ہم جیتے ہیں، یعنی پورا شام جیت جائے گا، جو بھی جیتے گا وہ امریکا کیخلاف جیتے گا، سعودی عرب کے خلاف جیتے گا، ان کی سوچ یہی تھی۔ اس طرح شام نے فوجی محاذ پر بھی وطن کا دفاع کیا اور سیاسی محاذ پر بھی کامیاب رہے۔

اسلام ٹائمز: بشار الاسد مخالف امیدواروں نے اپنی شکست تسلیم کرلی یا کوئی دھاندلی یا جبری فتح کا تاثر مشاہدہ میں آیا۔؟
عرفان علی:
حقیقت یہ ہے کہ بشار مخالف دونوں امیدوار اپنی شکست انتخاباتی نتائج آنے سے پہلے ہی تسلیم کرچکے تھے، عوام کا مجموعی موڈ سب کو معلوم تھا، پوری انتخابی مہم کے دوران بشار الاسد کا پلڑا بھاری تھا، ووٹرز ان ہی کا نام صدر کی حیثیت سے لیا کرتے تھے، جیسا کہ میں پہلے بھی بتایا کہ بشار مخالف امیدواروں کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات میں مقابلہ ہمارے درمیان نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم ہیں اور دوسری طرف ہمارے مقابلے میں دنیا ہے، ان دونوں مخالف امیدواروں کے انتخابی منشور میں بھی کوئی اختلاف نہیں پایا گیا، جس نظریئے کے حامل بشار الاسد ہیں، اسی نظریئے کے بشار مخالف امیدوار بھی تھے۔

اسلام ٹائمز: شام میں امن و امان یا بدامنی سے متعلق کیسی صورتحال ہے۔؟
عرفان علی:
شام کی صورتحال سمجھنے کیلئے آپ پاکستان کی صورتحال دیکھیں، کیا پاکستان ایک disturb ملک ہے یا نہیں ہے، کیا سعودی عرب disturb ملک ہے یا نہیں ہے، دہشتگردی کوئی شام یا عراق سے مخصوص مسئلہ نہیں ہے، یا یہ کوئی افغانستان سے مخصوص ہے، پاکستان میں ایئرپورٹس پر حملے ہوئے، جی ایچ کیو پر حملہ، ہوا، آئی ایس آئی کے کتنے مراکز پر حملے ہوئے، یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ اگر دہشتگرد حملہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو اس ملک کا پولیٹیکل سسٹم ختم ہوجاتا ہے، اگر یہ سوچ صحیح ہے تو پاکستان کے پولیٹیکل سسٹم کو کیا کہیں گے آپ، پاکستانی آرمی کو کیا کہیں گے، پاکستانی سیاستدانوں کو کیا کہیں گے، پاکستانی اسمبلیوں اور سینیٹ کو کیا کہیں گے، لہٰذا اس صورتحال کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے پاکستان کی صوتحال کو بھی سمجھ لینا چاہئیے، شامی فورسز اور عوام دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں، قصیر، حلب سمیت تقریباً سارے علاقے دہشتگردوں سے آزاد کرا لئے ہیں، بہرحال شام میں اب امن و امان ہے، ہم نے بہت سے جنگ زدہ شامی علاقوں کے دورے کئے، جہاں اب مکمل امن و امان ہے۔

اسلام ٹائمز: حماس کے بشار حکومت سے تعلقات خانہ جنگی کے دوران خراب ہوگئے تھے، بشار الاسد کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حماس اور شام کے تعلقات دوبارہ اس طرح استوار ہوجائیں گے جو کہ شام میں خانہ جنگی سے پہلے تھے۔؟
عرفان علی:
اس حوالے سے بشار الاسد حکومت کا جو موقف تھا جو کہ ہمیں معلوم ہوا کہ حماس کی جو قیادت وہاں مقیم تھی، اس سے بشار حکومت نے مذاکرات کرکے یہ کہا تھا کہ آپ کو ایک سائیڈ کی پوزیشن لینے ہوگی، آپ کو جانبدار ہونا ہوگا، آپ اس بات کا فیصلہ کر لیں لیکن حماس کی قیادت غیر جانبدار رہنا چاہتی تھی، کیونکہ اب اس دہشتگردی کی جنگ میں آپ غیر جانبدار رہ ہی نہیں سکتے، آپ کو ایک طرف ہونا ہی پڑتا ہے کہ آپ حق کے ساتھ ہیں یا باطل کے ساتھ۔ یرموک جو کہ فلسطینیوں کا کیمپ ہے، اس پر بھی دہشتگرد قبضہ کر گئے تھے اور پھر ان کو خوراک تک نہیں ملی، تو حماس کی وہ قیادت جو قطر میں جا کر مقیم ہوئی، میرا اشارہ خالد مشعل کی طرف ہے، انہیں سوچ کر بتانا چاہئیے کہ یرموک کے مسئلے کا حل کس کے پاس تھا، کیا قطر کی حکومت ان فلسطینی پناہ گزین مہاجرین کی مدد کر سکی، حالانکہ اب وہ کیمپ بھی نہیں ہیں بلکہ آبادی ہے جیسا کہ شام کے دوسرے شہر ہیں۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ قطر میں حماس زیادہ آزاد نہیں ہے، قطر اس امریکی جنگ میں شریک کہ جس کے باعث افغانستان اور عراق کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا، سینٹرل کمانڈ جس نے یہ جنگ لڑی جو کہ خطے میں امریک فوجی اسٹرکچر ہے، اس کا ہیڈ کوارٹر بھی قطر میں ہے، یہ سب پر واضح ہے کہ مسلمانوں اور عربوں کے قتل میں اصل کردار اسی سینٹرل کمانڈ کا ہے، جبکہ سینٹرل کمانڈ کو ساری سہولیات قطر نے مہیا کی ہیں، سارے حملوں میں قطر کی سرزمین استعمال ہوتی ہے، قطری حکمران ان کے اتحادی ہیں، اس ساری صورتحال میں حماس سمیت وہ تمام عناصر جو امریکی اتحادی عرب حکمرانوں کا ساتھ دینے والے ہیں، انہیں امت مسلمہ کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑے گی کہ وہ کہاں کھڑے ہیں، کس کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں تو نظر یہ آرہا ہے کہ وہ مسلمانوں اور عربوں کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حماس اور بشار الاسد حکومت کے آئندہ تعلقات کیا ہونگے ابھی فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ 
بہرحال حماس کو شام کی بشار الاسد حکومت کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئیے تھا جو کہ انہوں نے نہیں کیا، یہ حماس کی بہت بڑی اسٹرٹیجک غلطی ہے، شاید اس کا خمیازہ حماس کو بھگتنا پڑے گا، دیکھیں فلسطینیوں کی صورتحال ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے ہم جیسے لوگ بھی حماس پر ایک حد تک تنقید کرتے ہیں، زیادہ نہیں کرتے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ اس کا فائدہ اسرائیل کو ہو جائے۔ ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ محمود عباس اور حماس کی مفاہمت اور زیادہ وسیع ہو ، حزب جہاد اسلامی اور پاپولر فرنٹ و دیگر گروپ بھی اس میں شامل ہوں۔ میں اس بات کا تذکرہ کروں کہ محمود عباس حکومت کے ایک وزیر مجدلانی شامی حکومت کے پاس گئے تھے، شام میں مقیم فلسطینی پناہ گزین مہاجرین کی خبر گیری کیلئے، تو وہاں بیٹھ کر انہوں نے حماس پر تنقید کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ شام میں کچھ گروہ ایسے ہیں جو خود کو حماس سے قریب بتاتے ہیں۔ تو حماس کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئیے، یہ محمود عباس کی فلسطینی انتظامیہ کے وزیر کا کہنا تھا، تو انہوں نے بھی شامی بشار حکومت کا ساتھ دیا۔ تو محمود عباس کی فلسطینی انتظامیہ تک شامی بشار الاسد حکومت کا ساتھ دے رہی ہے، بیت المقدس جیسے شہر میں عرب جو ہیں وہ بشار الاسد حکومت کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں، حتٰی کہ امریکی کانگریس کے رکن اپنی حکومت کے خلاف بشار حکومت کی اس لئے حمایت کرتے ہیں کہ بشار دور میں مسیحی عربوں کا تحفظ ہوا ہے۔ عراق کے مسیحی عربوں کا تحفظ بھی شامی بشار حکومت نے کیا، جو عراق سے بھاگتے تھے تو انہیں شام میں پناہ ملتی تھی۔ حتٰی کہ لبنان میں بھی جو شامی فوج گئی تھی وہ مسیحی عربوں کے تحفظ کیلئے گئی تھی۔ تو عرب کاز کیلئے شام کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ اس کا کوئی مقابلہ و ثانی نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے۔؟
عرفان علی:
جو دہشتگرد تنظیم شام میں دہشتگردی کرنے گھسی دولت الاسلامیہ فی العراق و شام، یہ اصل میں دولت الاسلامیہ فی العراق تھی اس کا دوسرا نام القاعدہ فی العراق تھا، پھر اس نے اسے وسعت دی۔ ابو مصعب الزرقاوی نامی دہشتگرد جس نے سامرا میں امام حس عسکری (ع) اور امام علی نقی (ع) کے روضہ مقدس پر حملہ کیا تھا، وہ اسی دولت الاسلامیہ فی العراق و شام نے کیا تھا، دوسری بات یہ کہ یہ صدام کی بعث پارٹی کی باقیات ہیں، ان کا اسلام یا عرب سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشتگرد گروہ داعش کی جو منصوبہ بندی اور حکمت عملی ہے وہ کربلا، سامرا، نجف سمیت دیگر عراقی شہروں میں واقع روضہ ہائے مقدس اور مقامات مقدسہ کو تباہ کرنا ہے، نقصان پہنچانا ہے، ہم یہ کہتے ہیں جس طرح فوج میں مختلف بٹالین اور رجمنٹ الگ الگ ہوتی ہیں اسی طرح یہ ایک ہی فوج ہے عصر حاضر کے یزید کی، اس نے اپنی رجمنٹ اور بٹالین کے الگ الگ نام رکھے ہوئے ہیں، کہیں احرار الشام، نقشبندی آرمی، کہیں جبھة النصرة رکھا ہوا ہے اور کہیں دولت الاسلامیہ۔

اسلام ٹائمز: کیا عراق میں دہشتگردی کرنے والی دہشتگرد تنظیم داعش کو غیر ملکی حمایت حاصل ہے۔؟
عرفان علی:
عراق میں داعش سمیت دیگر تمام دہشتگرد عناصر کو امریکا اور اسکے اتحادی عرب ممالک کی جانب سے سپورٹ کی گئی، واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار ڈیوڈ اگنیشیا نے فروری میں لکھا تھا کہ واشنگٹن میں امریکا اور اسکے اتحادی مغربی و عرب ممالک، ترکی وغیرہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کی میٹنگ ہوئی، جس میں شام کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا، یہ فروری کی بات ہے، امریکی اسپیشل فورسز اردن میں بیٹھی ہوئی ہیں، جس کی سرحد شام اور عراق سے بھی لگتی ہیں۔ ورلڈ نیٹ ڈیلی (World Net Daily) ایک ویب سایٹ ہے جو خود امریکی کنزرویٹرز کی ہے، وہ کہتی ہے کہ امریکی اسپیشل فورسز نے اردن میں داعش کے دہشتگردوں کو ٹریننگ دی۔ متحدہ عرب مارات کے دی نیشنل نامی اخبار نے رپورٹ دی کہ جبھة النصرة اور داعش کے زخمی ہونے والے دہشتگردوں کا علاج اسرائیل میں کیا جاتا ہے، تو صورتحال بالکل واضح ہے کہ دہشتگردوں کو کن کی حمایت حاصل ہے۔ ان دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ اسلام و انسانیت کے دشمن ہیں۔

اسلام ٹائمز: موجودہ صورتحال کے تناظر میں عراق کے مستقبل کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
عرفان علی:
شروع سے واضح ہے کہ عراق پر جنگ مسلط کرنے کا مقصد عراق کو شیعہ، سنی اور کرد علاقوں میں تقسیم کرنا تھا، اور تینوں اسرائیل کے دوست ہوں یعنی سنی بھی اسرائیل کے دوست ہوں، شیعہ اور کرد بھی اسرائیل کے دوست ہوں، لیکن شیعوں نے تو ایک بات شروع سے ثابت کردی کہ وہ مسئلہ فلسطین سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں، تو شیعہ سے تو بعید ہے کہ وہ کوئی فلسطین کاز کے مخالف کام انجام دیں، دوسری جانب کچھ کرد لیڈرز اور دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہیں اسرائیل نے ٹریننگ دی، نہیں معلوم کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے، لیکن کردوں کو ضرور سوچنا چاہئیے کہ ترکی جو انہیں کچل رہا ہے، وہ اسرائیل کا دوست ہے، کرد یہ سوچیں کہ امریکا جس نے شاہ ایران کے ذریعے انہیں مروانے کی سازش کی تھی، وہ شاہ ایران بھی امریکا کا پٹھو تھا، کرد یہ بھی دیکھیں کہ ایاد علاوی جیسے لوگ سعودی عرب کیلئے ہیں، صدامی باقیات بھی اس کے ساتھ ہے، کردوں کو یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ صدام کے بدترین دور میں اگر وہ زندہ رہنے میں کامیاب رہے تو اس میں ایران کا کردار تھا، شیعوں کا ان پر احسان ہے، تو کرد اس بات کو سمجھتے بھی ہیں اور کسی حد سے عراقی حکومت کے ساتھ اتحادی پارٹنرشپ چلا رہے ہیں، تو 2003ء کا جو منظر نامہ ہے، اس میں کرد اور شیعہ عرب ایک ساتھ ہیں، ان کے ہم خیال، ہم فکر سنی عرب اور ترکش بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں، تو عراق میں نہ تو شیعہ سنی مسئلہ ہے، نہ عرب عجم مسئلہ ہے، واضح رہے کہ کرد عجم ہیں، بہرحال نہ تو وہاں ایسا کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی ہوگا انشاءاللہ۔ 

مگر عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہے، قدرتی وسائل اور ذخائر پر بھی قبضہ کرنے کی سازش ہے اور اسرائیل کے سامنے بھی ان کو زیر نگین کرنے کی بھی سازش ہے، لیکن الحمد اللہ عراق میں مرجعیت زندہ ہے، متحرک ہے، فعال ہے اور وہ خود میدانِ عمل میں ہے، علماء فوجی لباس میں میدان میں وارد ہوچکے ہیں مقامات مقدسہ کا دفاع کرنے کیلئے، بیس پچیس لاکھ لوگ علماء کی صدا پر لبیک کرتے ہوئے میدان میں آچکے ہیں، اگر ان میں سے پانچ لاکھ لوگوں کو بھی فوجی ٹریننگ مل گئی تو پھر عراق کو کوئی خطرہ ہی نہیں ہے، یہ بھی بتاتا چلوں کہ عراقی فورسز ابھی بھی داعش پر قابو پائی ہوئی ہے، دیکھیں باقی جہاں تک دہشتگردانہ کارروائیوں کی بات ہے تو کوئی دہشتگرد کہیں بھی پھٹ سکتا ہے، کہیں بم بھی نصب کئے جاسکتے ہیں، امریکا تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود اپنے سر سے پیر تک حفاظتی لباس میں ڈھکے فوجیوں کو مرنے سے نہیں بچا سکا، تو دہشتگردانہ کارروائیاں مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہیں، جن سے بچنا ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔ بہرحال عراق میں دہشتگردی امریکی گیم کا حصہ ہے، امریکا نے عراق میں اپنے Assets چھوڑے ہوئے ہیں، ایاد علاوی جیسے لوگ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 396357
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب