0
Wednesday 16 Jul 2014 22:01
سعودی عرب، قطر، کویت دہشتگرد گروہوں کی فنڈنگ کر رہے ہیں

القدس کے حق میں نکالی جانے والی تمام ریلیوں میں ایم کیو ایم باقاعدہ شریک ہوگی، علی رضا عابدی

عرب حکمران مسئلہ فلسطین کے حوالے سے امت مسلمہ کی صحیح ترجمانی نہیں کر رہے
القدس کے حق میں نکالی جانے والی تمام ریلیوں میں ایم کیو ایم باقاعدہ شریک ہوگی، علی رضا عابدی
کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاستدان سید علی رضا عابدی کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے، گزشتہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 کراچی سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے بزنس مین ہیں۔ اسلام ٹائمز نے گزشتہ دنوں کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے تحت زخمی زخمی قدس پکارا، اب تو مسلم جاگ خدارا کے عنوان سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر علی رضا عابدی سے ایک مختصر انٹرویو کیا، جو قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: غزہ پر صیہونی اسرائیلی جارحیت پر عرب ممالک اور او آئی سی کے مایوس کن کردار کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟
علی رضا عابدی: او آئی سی کے کردار کے حوالے سے کیا کہیں، ان کا کردار تو ایسا ہو چکا ہے کہ جیسے OIC کی spelling تبدیل کریں اور پھر اسے پڑھا جائے Oh I See۔ او آئی سی کے روئیے سے تو لگتا ہے کہ انہیں اب تک احساس ہی نہیں ہوا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کس سطح پر پہنچ چکی ہے، کس درجہ پر غزہ میں اسرائیل کی جانب سے زیادتی کی جا رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ او آئی سی تو آئل امپورٹنگ کمپنیز یا تیل سے وابستہ ممالک کیلئے ہی مخصوص ہو چکا ہے، ان کیلئے کام کرتا ہے، ان کا صرف یہی مقصد بن چکا ہے۔ خود پاکستان میں دہشتگردی کا بازار گرم ہے، طالبان نے معصوم بے گناہ پاکستانیوں کے گلے کاٹے ہیں، طالبان نے شہروں میں تباہی پھیلائی ہے، بدمعاشی کی ہوئی ہے، طالبان کی اس وحشیانہ دہشتگردی و بربریت کے خلاف او آئی سی نے کبھی آواز نہیں اٹھائی، فلسطین پر اسرائیلی قبضے کا مسئلہ نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے چلا آ رہا ہے، کبھی پاکستان نے اس حوالے سے ان کا ساتھ بھی دیا ہے اور کبھی نقصان بھی پہنچایا ہے، مختصراً یہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ او آئی سی مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے کوئی کردار ادا کر رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: بعض عرب ممالک نے تو اسرائیل کو تسلیم بھی کیا ہوا، اس صورتحال میں مسئلہ فلسطین کیسے حل ہو سکتا ہے؟
علی رضا عابدی: دیکھیں دنیا یک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے، تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں، باہمی معاشی و تجارتی سرگرمیاں انجام پائی جاتی ہیں، ایک دوسرے سے سیکھا جاتا ہے، تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اسرائیل سمیت دنیا بھر میں میں رہنے والے سارے یہودی اسرائیل کی صیہونیت کے ساتھ نہیں ہیں، بلکہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھڑے ہیں، اگر اسرائیل کو ایک طرح سے تسلیم بھی کرنا ہے اور اگر پاکستان نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہونا چاہئیے، لیکن جو بنیادی مسائل ہیں، بنیادی پالیسیاں ہیں ان پر جب تک توجہ نہیں دی جائے گی، بات نہیں کی جائے گی اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا عرب و حکمران مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مسلم امہ کی صحیح ترجمانی کررہے ہیں؟
علی رضا عابدی: بالکل نہیں کر رہے، قطعاً نہیں کر رہے، اسرائیل جو کہ غزہ میں بمباری کر رہا ہے، اگر حماس کے ایران سے اچھے تعلقات نہ ہوتے، شیعوں سے اچھے تعلقات نہ ہوتے یا حماس کو حزب اللہ کی حمایت حاصل نہ ہوتی، یا اس سے تعلقات نہ ہوتے تو سارے عرب حکمران حماس کی مدد کیلئے پہنچ چکے ہوتے، تو یہ عرب حکمرانوں کی فرقہ وارانہ سوچ بھی ہے، فرقہ وارانہ نفرتیں بھی ہیں، اس وجہ سے وہ حماس سے لاتعلق رہتے ہیں، اسی صورتحال کا اسرائیل فائدہ اٹھاتا ہے، بہرحال کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ یہ عرب ممالک یا حکمران مسئلہ فلسطین کے حوالے سے امت مسلمہ کی صحیح ترجمانی کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کیسے حل ہو سکتا ہے؟
علی رضا عابدی: جیسا کہ میں نے ابھی بھی تجویز دی کہ اب جب اسرائیل بیٹھتا ہے حماس کے ساتھ، ٹیبل ٹاک کرتا ہے تو سارے مسلم ممالک حماس کے ساتھ ہونے چاہیں، حماس کے پیچھے ہونے چاہیں ناکہ حماس اکیلا اسرائیل سے ٹیبل ٹاک کرے اور دباﺅ میں آئے اور اپنے آپ کو تنہا محسوس کرے، کیونکہ اسرائیل پہلے بمباری کرتا ہے، تباہی و بربادی پھیلاتا ہے، دباﺅ ڈالتا ہے اور پھر اس کے بعد کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اب مزاکرات کرتے ہیں، ٹیبل ٹاک کرتے ہیں، لہٰذا اگر تمام مسلم ممالک حماس کے ساتھ کھڑے ہوں تو اسرائیل کے ساتھ ٹیبل ٹاک کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: شام و عراق میں دہشتگردی کرنے والے گروہ داعش کی جانبب سے غزہ سمیت فلسطین میں اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت ہوتی نظر نہیں آتی، داعش اور اس قسم کے دیگر دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے کیا کہیں گے؟
علی رضا عابدی: آج کل تو سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر داعش کے حوالے سے یہ چل رہا ہے کہ داعش اور ابوبکر البغدادی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کریں، جہاد کریں، تو میں پوچھنا چاہوں گا کہ کیا داعش اور ابوبکر البغدادی کو یہ حکم دیا ہوا کہ وہ مساجد، امام بارگاہیں، مزارات تباہ کریں، مسلمانوں کے گلے کاٹیں، شہید کریں، دیکھیں یہ پراکسی وارز ہیں، یہ عناصر ہیں جو پیدا کئے ہوئے ہیں اسرائیل نے۔ غزہ پر فلسطین پر تو اسرائیل کھل کر سامنے آتا ہے لیکن باقی ممالک میں اسرائیل خود کھل کر سامنے نہیں آتا، لہٰذا مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے کیلئے اسرائیل داعش اور انہی جیسے دہشتگر دگروہوں کے پس پردہ چھپ کر کام کر رہا ہوتا ہے اور اسی حوالے سے سعودی عرب خاص طور پر اور اس کے ساتھ ساتھ، قطر، کویت اور یہ جو عرب ممالک ہیں یہ ان دہشتگرد گروہوں کی فنڈنگ بھی کر رہے ہیں، انہیں سپورٹ بھی کر رہے ہیں، لہٰذا جب تک یہ شیطان ختم نہیں ہونگے اس وقت تک عالم اسلام کو درپیش مسائل بھی حل نہیں ہونگے۔

اسلام ٹائمز: رمضان المبارک کے آخری جمعہ، جمعة الوداع کو دنیا بھر میں عالمی یوم القدس منایا جاتا ہے، اس حوالہ سے متحدہ قومی موومنٹ اور اپنے قائد الطاف حسین کی جانب سے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
علی رضا عابدی: الطاف حسین بھائی نے گزشتہ روز ہی یہ پیغام دیا ہے کہ جتنی بھی ریلیاں فلسطین اور القدس کے حق میں نکالی جائیں گی اس میں متحدہ قومی موومنٹ باقاعدہ شریک ہوگی، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرے گی، بحیثیت سیاسی جماعت کے اپنا موقف پیش کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کا موقف لے کے چلے گی۔
خبر کا کوڈ : 399822
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے