0
Thursday 17 Jul 2014 15:42
مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے مسلم امہ کو ایک پیج پر اکٹھا ہونا پڑیگا

مسلم امہ خصوصاً پاکستانی قوم یوم القدس کے روز اسرائیل کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، حلیم عادل شیخ

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کا کردار ہمیشہ انتہائی شرمناک رہا ہے
مسلم امہ خصوصاً پاکستانی قوم یوم القدس کے روز اسرائیل کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، حلیم عادل شیخ
معروف و سرگرم سیاسی و سماجی رہنماء حلیم عادل شیخ پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) سندھ کے صدر ہیں۔ آپ کی شخصیت پاکستان خصوصاً سندھ کے سیاسی و سماجی حلقوں میں انتہائی احترام و قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اور کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ پچھلی سندھ حکومت میں وزیراعلٰی سندھ کے مشیر برائے ریلیف کی حیثیت سے بھی قابل قدر ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے گذشتہ دنوں کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام زخمی زخمی قدس پکارا، اب تو مسلم جاگ خدارا کے عنوان سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر حلیم عادل شیخ کا ایک مختصر انٹرویو کیا، جو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین اور غزہ پر حالیہ صیہونی جارحیت و بربریت پر مایوس کن کردار ادا کرنیوالے عرب ممالک اور او آئی سی کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
حلیم عادل شیخ:
میں سمجھتا ہوں عرب ممالک و ریاستیں امریکی کالونی بن چکی ہیں اور عرب حکمران خطے میں امریکی ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، اسی وجہ سے پوری مسلم امہ ایکدوسرے کے سامنے کھڑی نظر آتی ہے اور لڑنے کیلئے میدان میں آچکی ہے، تفرقہ کا شکار ہوچکی ہے۔

اسلام ٹائمز: بعض عرب ممالک نے اسرائیل کو ناصرف تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ سفارتی و تجارتی تعلقات بھی قائم ہیں، بعض کے درپردہ تعلقات ہیں، اس صورتحال میں مسئلہ فلسطین کیسے حل ہوسکتا ہے، کیا کہیں گے۔؟
حلیم عادل شیخ:
دیکھیں جب تک مسلم امہ ایک پیج پر اکٹھی نہیں ہوگی، اس وقت تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا، میں سمجھتا ہوں کہ اس تباہی کی ذمہ داری سب سے پہلے یاسر عرفات پر عائد ہوتی ہے جس نے غلط فیصلے اور معاہدے کئے تھے۔ اب یہ ہے کہ مسلمان مسلمان سے لڑ رہے ہیں جبکہ ہمارا اصل دشمن جو کہ یہودی ہے، وہ ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے، اس طرف کوئی متوجہ نہیں ہو رہا ہے، لہٰذا جب تک مسلم امہ ایک پیج پر اکٹھی نہیں ہوتی، مجھے کوئی امید نہیں ہے کہ مسئلہ فلسطین حل ہوسکے۔

اسلام ٹائمز: جس طرح شام میں تمام عرب ممالک بشار الاسد حکومت کیخلاف امریکی و سعودی سربراہی میں جمع ہوگئے اور دنیا بھر سے جہاد کے نام پر افراد کو جمع کرکے انہیں مال و اسلحہ دیا گیا، جہاد کے فتاویٰ دیئے گئے، اگر اسی طرح تمام عرب ممالک غاضب صیہونی اسرائیل کیخلاف بھی جمع ہو کر جہاد کا فتویٰ دیں تو مسئلہ فلسطین گھنٹوں میں حل ہوسکتا ہے، کیا کہیں گے اس رائے کے حوالے سے؟
حلیم عادل شیخ:
میں سمجھتا ہوں کہ شام و عراق میں جہاد نہیں ہے، وہاں لڑنے والے سنجیدہ نہیں ہیں، مخلص نہیں ہیں، وہاں بھی جہاد نہیں ہے، وہاں مغرب کے مفادات ہیں، مختلف ممالک کے مفادات ہیں، سیاسی مفادات ہیں، جس کی وجہ سے کہیں جہاد کے نام پر مسلم اقوام کو استعمال کرتے ہیں، جہاں ان کا ذاتی مفاد وابستہ ہوتا ہے لیکن جہاں مسلم امہ کا مفاد ہو، مجھے اس قسم کا فتویٰ آتا نظر نہیں آتا، اور یہ لگتا ہے کہ مسلمانوں نے مسلمانوں کو مارنے کیلئے اسکا نام ہی جہاد رکھ دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: عرب و مسلم حکمران مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مسلم امہ کی صحیح ترجمانی کر رہے ہیں۔؟
حلیم عادل شیخ:
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاکستان کا حکمران بھی مسلم امہ کی صحیح ترجمانی نہیں کر رہا اور نہ ہی عرب ممالک کے حکمران کر رہے ہیں، یہ تمام حکمران مسلم امہ کی کسی بھی طرح سے صحیح ترجمانی نہیں کر رہے اور اس کی وجہ میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ امریکہ اور مغرب کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: غزہ پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کا مذمتی بیان کافی ہے یا اس سے آگے بڑھ کر بھی کچھ عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔؟
حلیم عادل شیخ:
مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کا کردار انتہائی شرمناک رہا ہے، ایک ایٹمی قوت کے حامل مسلم ملک کے وزیراعظم کو صرف مذمتی بیان جاری کرنا زیب نہیں دیتا، مذمت تو مجھ جیسا اور آپ جیسا کوئی بندہ کرسکتا ہے، وزیراعظم کو تو کوئی ایکشن لینا چاہئیے تھا، مگر وہ اپنے ذاتی بزنس کاروبار کیلئے لندن اور دوسرے شہروں میں گھومتے رہتے ہیں، ایک بھائی چین اور دوسرے ممالک جاتا ہے، انہیں تو اس مسئلے کے حل کیلئے سعودی عرب جانا چاہئیے تھا، دوسرے مسلم ممالک کے دورے کرنے چاہئیے تھے، انہیں اقوام متحدہ میں جا کر بات کرنی چاہئیے تھی، لیکن اس حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کا کردار اس بار بھی شرمناک ہی رہا اور مجھے تو ان سے کوئی امید نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے آپ کیا حل پیش کرتے ہیں۔؟
حلیم عادل شیخ:
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے مسلم امہ کو ایک پیج پر اکٹھا ہونا پڑے گا، اور اس حوالے سے پاکستان کلیدی کردار کا حامل ہے، جس پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ پاکستان مسلم امہ کی واحد ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کو سب سے پہلے آگے بڑھتے ہوئے مسلم امہ کو ایک پیج پر اکٹھا کرنا ہوگا اور باقاعدہ طور پر اسرائیل کیخلاف اگر مسلم امہ اکٹھا ہو کر جنگ بھی لڑے تو اس کیلئے تیار ہونا چاہئیے۔

اسلام ٹائمز: رمضان کا آخری جمعے، جمعة الوداع کو دنیا بھر میں عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جاتا ہے، اس حوالہ سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
حلیم عادل شیخ:
جمعة الوداع عالمی یوم القدس کے موقع پر پوری مسلم امہ خصوصاً پاکستانی قوم اس دن بھرپور طریقے سے نماز جمعہ کے بعد جس پلیٹ فارم سے بھی اسرائیل اور اس کی وحشت گری و بربریت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکل رہی ہوں، اس میں شامل ہوں اور بتائیں کہ ہم بحیثیت قوم اس حوالے اکٹھے ہیں اور یہ اٹھارہ کروڑ پاکستانی قوم اگر اکٹھی ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل کو فوری طور پر اپنی بدمعاشی روکنی پڑے گی۔
خبر کا کوڈ : 399988
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب