0
Friday 25 Jul 2014 01:24
پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران اسرائیل کیخلاف عملی اقدامات کریں

عالمی یوم القدس پر اسرائیل کی بربادی تک جدوجہد کا عزم کیا جائے، اسد اللہ بھٹو

صہیونی اسرائیلی ریاست کا جلد خاتمہ ہوگا اور دنیا کو امن نصیب ہوگا
عالمی یوم القدس پر اسرائیل کی بربادی تک جدوجہد کا عزم کیا جائے، اسد اللہ بھٹو
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ پاکستان خصوصاً کراچی و سندھ بھر میں آپکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو ہر حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر کی حیثیت سے بھی فعال ہیں۔ آپ ہیومن رائٹس نیٹ ورک آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مسئلہ فلسطین اور غزہ پر صہیونی اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے مسجد قباء میں قائم جماعت اسلامی کے آفس میں آپ کے ساتھ ایک خصوصی نشست کی۔ اس موقع پر آپ سے کیا گیا مختصر انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: غزہ پر حالیہ صہیونی اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کا مقصد یہ ہے کہ غزہ پر بمباری اور مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کیا جائے اور وہاں اسرائیلی آبادکاروں کیلئے بستیاں بسانے میں آسانی پیدا ہو، اسرائیل ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے اور یہودی بھی انفرادی طور پر دہشتگردی کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ایک سو نوے مقامات پر غزہ میں بمباری کی گئی ہے، اب تک چھ سو سے زائد مظلوم فلسطینیوں کو شہید کا جا چکا ہے، ان میں اسّی فیصد سے زائد معصوم بچے اور خواتین شامل ہیں، صہیونی اسرائیل اس وقت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوئے یہ سب دیکھ رہی ہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کو، خصوصاً معصوم بچوں اور خواتین کو، بوڑھوں کو جو پانی و غذا نہ ہونے کے باوجود، جو طبی سہولیات، ادویات نہ ہونے کے باوجود صہیونی اسرائیل کے خلاد ڈٹے ہوئے ہیں، اسرائیلی ظلم و ستم کے آگے پہاڑ کی مانند کھڑے ہوئے ہیں، مجھے اسرائیلی انتظامیہ کے اوپر افسوس ہے کہ جنہوں نے غزہ سے اسرائیل پر راکٹ فائر ہونے جیسے من گھڑت قصے کے ذریعے غزہ کو تباہ و برباد کر دیا، اس سے واضح ہے کہ اسرائیل مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر شہید کر رہا ہے، تاکہ وہاں پر مزید یہودی بستیاں آباد کی جاسکیں۔

اسلام ٹائمز: عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی تو ایک طرف مگر عرب ممالک اور او آئی سی کا کردار بھی انتہائی مایوس ہے، اس حوالے سے آپ کی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
غزہ میں بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، غزہ میں اسرائیل شارپ نیڈلز بم (Sharp Niddles Bomb) استعمال کر رہا ہے، جس سے انسانی جسموں میں زہریلی سوئیاں پیوست ہوجاتی ہیں، اسرائیل غزہ میں فاسفورس بم برسا رہا ہے جو انسان کو جلا دیتا ہے، مگر عالمی برادری اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں پر خاموش ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت غزہ کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف امداد کی نہیں بلکہ اسرائیل کے خلاف فی الفور کارروائی کی ضرورت ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ اور اسکی سلامتی کونسل نے اب تک اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے، نہ ہی جنگ بندی کیلئے کوئی کوشش کی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کی سرپرستی اور معاونت کر رہا ہے۔ جہاں تک او آئی سی کی بات ہے تو یہاں بھی بے حسی کا عالم ہے، جس پر پوری امت مسلمہ رو رہی ہے، لیکن او آئی سی میں شامل ممالک کے حکمرانوں میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف کوئی کارروائی کرسکیں، یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ اس موقع پر میں پاکستان، ایران، سعودی عرب، ترکی و دیگر مسلم ممالک سے درخواست کرتا ہوں کہ فی الفور او آئی سی کا اجلاس بلانے کیلئے کوشش کریں اور اسی طرح سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کیلئے بھی کوشش کریں، غزہ کے حوالے سے پاکستان، ایران اور ترکی کے حکمرانوں کے بیانات کا خیر مقدم کرتا ہوں، لیکن اس وقت ہمیں بیانات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران کو بیانات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، کیا توقعات ہیں ان ممالک سے؟
اسد اللہ بھٹو:
اس وقت امت مسلمہ ان چار ممالک کی طرف دیکھ رہی ہے، یعنی پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکی، ان ممالک کے حکمرانوں کو بیانات دینے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے اور سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ صرف بیانات دینے سے کچھ نہیں ہوتا، بیانات ایک پہلا قدم ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: بعض عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں، اس صورتحال میں مسئلہ فلسطین کیسے حل ہوسکتا ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
اگر اسرائیل سے تعلقات پہلے سے موجود ہیں تو تعلقات کو مسئلہ فلسطین کے حل اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جن ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں، میں ان ممالک سے مطالبہ کروں گا کہ وہ اسرائیلی سفیروں کو بلا کر ان سے شدید احتجاج کریں، یا اسرائیلی سفیروں کو ملک سے نکال دیا جائے، یہ ممالک اسرائیل کو واضح طور پر کہہ دیں کہ اگر اسرائیل جنگ بندی نہیں کرتا تو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ختم کر دیا جائے۔

اسلام ٹائمز: جمعة الوداع پر عالمی یوم القدس کے موقع پر کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
امام خمینی (رہ) امت مسلمہ کے عظیم رہنما تھے، انہیں اسلام و امت مسلمہ کی سربلندی کی فکر تھی، امام خمینی (رہ) نے مسئلہ فلسطین کو امت مسلمہ کا مسئلہ قرار دیا تھا، اس لئے رمضان المبارک کے جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس قرار دیا تھا اس وقت سے اسرائیل کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں عالمی یوم القدس پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، میں تمام امت مسلمہ سے اپیل کروں گا کہ عالمی یوم قدس کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمام مسالک سے بالاتر ہو کر صرف امت رسول ہونے کے جذبے کے ساتھ بھرپور انداز میں منایا جائے، عالمی یوم القدس کے موقع پر فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے اور اسرائیل کی بربادی تک جدوجہد کا عزم کیا جائے، امریکہ کی مذمت کی جائے، غزہ و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے، مجھے یقین ہے کہ جلد صہیونی اسرائیلی ریاست کا خاتمہ ہوگا اور فلسطین کی آزاد ریاست ابھرے گی اور دنیا کو امن نصیب ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 401366
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے