0
Wednesday 13 Aug 2014 18:06
سعودی امریکی نواز حکومت کیوجہ سے پاکستان سیاسی، معاشی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم ہو رہا ہے

نواز شریف اور شہباز شریف آل سعود آل یہود کی ڈکٹیشن اور پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، طارق محبوب صدیقی

ہماری انقلابی تحریک کا پہلا مقصد پاکستان مخالف نواز حکومت کا خاتمہ ہے
نواز شریف اور شہباز شریف آل سعود آل یہود کی ڈکٹیشن اور پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، طارق محبوب صدیقی
طارق محبوب صدیقی پچھلے 40 سال سے سماجی، مذہبی اور سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرہ میں عزت و احترام کے ساتھ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ نے علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی مرحوم کی قیادت میں 22 سال دینی، مذہبی اور سماجی و سیاسی خدمات انجام دی ہیں۔ اس وقت آپ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ انجمن نوجوانان اسلام پاکستان کے سرپرست اعلٰی اور مرکزی جمعیت علماء پاکستان کے قائم مقام سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے طارق محبوب صدیقی کے ساتھ نواز حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے انکی رہائشگاہ پر ایک نشست کی، اس موقع پر آپ سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: نواز حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟ بنیادی مقصد کیا ہے۔؟
طارق محبوب صدیقی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ سنی اتحاد کونسل کے قیام کا پہلا اور بنیادی مقصد انتہا پسندی، دہشتگردی اور طالبانائزیشن مخالفت تھا، اسی وجہ سے اہلسنت کے اس عظیم اتحاد پر نواز شریف اور شہباز شریف نے شب خون مارا اور چاہا کہ اس اتحاد کا خاتمہ کر دیا جائے، میرے قائد حضرت صاحبزادہ فضل کریم شہید نے سالوں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ شریف برادران عیار مکار لوگ ہیں، یہ آل سعود آل یہود کے ایجنڈے پر کام کرینگے، انتہا پسندی، دہشتگردی، کالعدم دہشتگرد تنظیموں، طالبانائزیشن کو پروموٹ کریں گے۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائی آل سعود آل یہود کے فارمولے پر، ان کی ڈکٹیشن پر، ان کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، انہوں نے افواج پاکستان کو اسی ایجنڈے پر چلتے ہوئے ٹریپ کرنے کی بھرپور کوشش کی، اس حوالے سے فضل الرحمان، منور حسن، سمیع الحق، ساجد میر سب ایک پیج پر تھے، اور آج بھی دیکھ لیں یہی پاکستان مخالف انتہا پسند جماعتیں نام نہاد اور جعلی جمہوریت کے نام پر نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ اس وقت یہ ٹولہ پاکستان کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتا ہے جو کہ امریکی سعودی ایجنڈا ہے، اس کے ساتھ بلوچستان میں ہونے والی تمام تر دہشتگردی میں عرب امارات اور بھارت ملوث ہیں، اسی عرب امارات کا پیسہ اور سرمایہ کراچی میں لیاری تک آیا ہے، اسی سرمائے سے یہاں لشکر جھنگوی، جیش محمد، سپاہ صحابہ، جنداللہ اور اس جیسی کتنے ہی دیگر دہشتگرد تنظیموں کو جنم دیا گیا، انہیں پروموٹ کیا گیا، پیسہ، اسلحہ دیا گیا۔
 
بہرحال نواز حکومت پاکستان مخالف حکومت ہے، افواج پاکستان مخالف حکومت ہے، آئی ایس آئی کی مخالف ہے، انہی کی ایماء پر جیو ٹی وی، جنگ گروپ نے آئی ایس آئی کا میڈیا ٹرائل کیا، اہلبیت (ع) اور صحابیات کی شان میں گستاخی کی، آج بھی جیو جنگ کو نواز حکومت بلاواسطہ اور بلواسطہ سپورٹ کر رہے ہیں، طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی نواز حکومت مخالف ہے، نواز حکومت نے طالبان کے بڑے بڑے دہشتگردوں کو رہا کیا، یہ آپریشن پاک فوج نے خود شروع کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ نواز حکومت جائے گی تو مذاکراتی ٹیم کو بھی گرفتار کرکے تمام حقائق کو قوم کے سامنے لائے جائیں، بہرحال ہماری تحریک کا پہلا مقصد سعودی امریکی نواز حکومت کا خاتمہ ہے۔

اسلام ٹائمز: نواز حکومت پر سعودی نواز حکومت ہونے کے الزام میں کتنی صداقت ہے۔؟
طارق محبوب صدیقی:
نواز حکومت سو فیصد سعودی نواز ہے، یہ سعودی فرمانروا کی بی ٹیم ہے، ان کے خاندان کے رابطے، تعلق، واسطے آل سعود سے ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف آل سعود سے خاندانی بادشاہت کا تصور لے کر آئے ہیں، نواز شریف کی ڈیل اور رہائی میں کس کا کردار تھا، دنیا جانتی ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ سعودی عرب کا کردار تھا، سعودی عرب نے نواز شریف کو خاندان سمیت پناہ دی، اور نواز شریف کے سعودی نواز ہونے کی وجہ سے آج اس کا خمیازہ پاکستان سیاسی، معاشی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم ہونے کی صورت میں بھگت رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ سے برسر اقتدار آنیوالی نواز حکومت کیخلاف ڈاکٹر طاہر القادری کی انقلابی تحریک پاک فوج کی ایماء پر چلائی جا رہی ہے، کیونکہ فوج سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سے نواز حکومت کے اقدامات پر ناراض ہے اور اختلاف رکھتی ہے، یعنی حالیہ نواز حکومت مخالف تحریک پاک فوج کا نواز حکومت کیخلاف ایک ردعمل ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
طارق محبوب صدیقی:
پاکستان اور افواج پاکستان لازم و ملزوم ہیں، ہم پاکستان اور افواج پاکستان کے حمایتی ہیں اور نواز حکومت کی نظر میں یہی ہمارا سب سے بڑا جرم بن گیا ہے، یہ وہی نواز شریف ہے جس نے 11 مئی 2013ء کو ہی شام سات بجے رائیونڈ میں اپنی وسیع و عریض عالیشان محل میں کھڑے ہو کر کہ جب آدھے سے زائد پاکستان کے انتخابی نتائج سامنے نہیں آئے تھے، اعلان کر دیا تھا کہ I am Prime Minister of Pakistan۔ اس سے بڑا دھاندلی کا ثبوت کیا ہوگا، اس سازش میں عدلیہ کے، الیکشن کمیشن کے، قومی سلامتی کے اداروں کے جو بھی لوگ ملوث ہیں وہ بھی نواز شریف کے ساتھ قومی مجرم ہیں، اور تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہم پاکستانی فوج کے نہیں پاکستانی قوم کے اشارے پر تحریک چلا رہے ہیں، پاکستانی قوم ایک پیج پر ہے اور پاکستان مخالف عناصر دوسرے پیج پر ہیں۔ نواز شریف شہباز شریف طالبان اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے سرپرست ہیں، ملک اسحاق جو کہ ہزار سے زائد معصوم و بے گناہ پاکستانیوں کا قاتل ہے وہ شریف برادران کے نمک خوار رانا ثناءاللہ کی آغوش میں پل رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: اگر نواز حکومت کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو کون نظام چلائے گا، کیا مارشل لاء لگے گا۔؟
طارق محبوب صدیقی:
نواز حکومت کے خاتمے کے بعد جوڈیشل مارشل لاء آئے، صاف اور شفاف، حقیقی جمہوریت پر پاکستان کو قائم و دائم رکھا جائے، ملک و قوم کو انتہا پسندی، دہشتگردی اور طالبانائزیشن سے بچانے کیلئے ایسی محب وطن حکومت آئے جو پاک فوج کے شانہ بشانہ ہو، نہ کہ افواج پاکستان کی مخالف۔ موجودہ نواز حکومت افواج پاکستان کی مخالف ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسی حکومت آئے جو انتہا پسند اور دہشتگرد عناصر کیخلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ ہو، مگر ماضی کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کرنیوالے تمام نام نہاد جہادی و دہشتگرد انتہاپسند عناصر، افغان جہاد کے نام پر فوج کی چھتری تلے وجود میں لائے گئے تھے، کیا یہ قومی سلامتی کے اداروں کی غلط پالیسی نہیں تھیں، کیا اس غلطی کا ازالہ کیا جا رہا ہے، کیا کہنا چاہیں گے اس حوالے سے۔؟
طارق محبوب صدیقی:
قومی سلامتی کے ادارے کوئی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں، ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، بالکل ہوئی ہیں، خود نواز شریف شہباز شریف نے ایک آمر جنرل ضیاء کی گود میں پرورش پائی، مگر الحمد اللہ سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین، پاکستان عوامی تحریک نے کسی آمر کی گود میں جنم نہیں لیا، اگر ماضی میں فوج سے غلطیاں ہوئیں ہیں تو اس کا ازالہ بھی تو کیا جا رہا ہے، فوج قربانیاں دے رہی ہے، شہادتیں دے رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افواج پاکستان سمیت قومی سلامتی کے دیگر اداروں میں کچھ ایسے ملک دشمن عناصر آگئے تھے جنہوں نے پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کو پروموٹ کیا تھا، لیکن اب الحمد اللہ جیسا کہ ہمارا ایمان اور یقین ہے کہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے ادارے ایسے ملک دشمن عناصر سے پاک ہوگئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 404628
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے