1
0
Sunday 24 Aug 2014 22:36
لولی لنگڑی جمہوریت اور اندھے گونگے انتخابات مارشل لاء سے بہت بہتر ہیں

جو بھی نتائج نکلیں مسلم حکمران و افواج آزادی فلسطین کیلئے اسرائیل کیخلاف جہاد شروع کریں، حافظ نعیم الرحمن

پاکستان کے مسائل کا اصل سبب بیرونی مداخلت اور سب سے بڑھ کر امریکی مداخلت ہے
جو بھی نتائج نکلیں مسلم حکمران و افواج آزادی فلسطین کیلئے اسرائیل کیخلاف جہاد شروع کریں، حافظ نعیم الرحمن
حافظ نعیم الرحمن اس وقت جماعت اسلامی کراچی کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، زمانہ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور دینی و تحریکی تربیت حاصل کی، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے لٹریچر سے متاثر ہوئے، آپ ہی کے لٹریچر سے قرآن و سنت کا فہم حاصل کیا، آپ ناظم جمعیت کراچی و سندھ کے ساتھ ساتھ ناظم اعلیٰ جمعیت پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد آپ کراچی میں حلقہ، زون، ڈسٹرکٹ کے امیر بھی رہے ہیں۔ کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام سیاسی و مذہبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نور حق میں آپ کے ساتھ ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر آپ کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: انقلاب مارچ، آزادی مارچ جاری ہیں، ملکی سیاسی و جمہوری مستقبل کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟
حافظ نعیم الرحمن:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ کوئی بھی مارچ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے اور ان کے جائز مطالبات کو مارچ سے پہلے ہی حل کرنے کیلئے حکومت کو کوشش کرنی چاہئیے۔ اس لحاظ سے میں انہیں غیر معمولی چیز نہیں سمجھتا، اس میں پاکستان تحریک انصاف ہو یا پاکستان عوامی تحریک ہو۔ پاکستان عوامی تحریک کا معاملہ دوسرا ہے اس پر الگ سے بات ہو سکتی ہے لیکن جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے وہ پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے، اس نے بڑی تعداد میں ووٹ لئے ہیں، انہیں شکایات ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، بدقسمتی سے حکومت نے وقت پر ان چیزوں کا نوٹس نہیں لیا اگر نوٹس لے لیا جاتا تو معاملہ یہاں تک نہیں پہنچتا۔ دوسرا یہ کہ ہمارے انتخابی نظام میں بہت ساری خامیاں ہیں، ان کے نتیجے میں جاگیردار، وڈیرے، طاقتور لوگ جن کے پاس بے پناہ دولت ہے وہ اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں، ہمارے انتخابات عالمی و ملکی اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں سے خالی نہیں ہوتے، مقامی سطح پر بھی جن کے پاس طاقت، دولت، حیثیت ہوتی ہے وہ لوگ نمایاں ہوتے ہیں، اس وجہ سے کوئی بھی انتخابات ہوں ان میں کھل کر شکایات سامنے آتی ہیں، اگر ان خامیوں اور شکایات کو دور کرنے کیلئے باہمی اتفاق سے اچھا نظام وضع کیا جائے تو ہی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ ملکی انتخابی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، ہمارا پہلا مطالبہ ہے متناسب نمائندگی، متناسب نمائندگی میں electables کی سیاست دم توڑ دے گی اور نظریات اور پارٹی کی سیاست حاوی ہوگی، اس پر ہم اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم شروع کیا جائے، دنیا بھر میں یہ رائج ہے، جب یہ ہمارے آفس میں، چھوٹی چھوٹی چیزوں میں یہ ہو سکتا ہے تو انتخابات میں کیوں نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہ دو بنیادی چیزیں شروع کریں پھر مزید اصلاحات کی ضرورت ہے، اس طرح مسائل حل کئے جا سکتے ہیں لیکن حکومت اس طرف آنے کے بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتی ہے اسلئے اس قسم کے ردعمل ظاہر ہوتے ہیں، مگر بعض اوقات ان ردعمل کی سمت غلط بھی ہو جاتی ہے۔ جہاں تک احتجاج اور دھرنوں کا تعلق ہے یہ ایک جمہوری عمل کا حصہ ہیں، جہاں جمہوری عمل میں انتخابات ہوتے ہیں پارلیمنٹ ہوتی ہے وہیں احتجاج اور دھرنے وغیرہ بھی ہوتے ہیں، لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی بھی کچھ حدود ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے ایسا نہ ہو خود جمہوری عمل کو ہی نقصان ہو جائے اور پھر کوئی تیسری قوت اس کا فائدہ اٹھا لے، یہ کسی بھی صورت ملک کیلئے اچھا نہیں ہے۔ اس لئے آپ دیکھ رہے ہونگے کہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر جناب سراج الحق صاحب مسئلے کے پرامن حل کیلئے کوشش کر رہے ہیں، جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں، جمہوری عمل جیسا تیسا بھی ہو آگے بڑھنا چاہئیے کیونکہ ہماری ملکی تاریخ کا آدھا حصہ تو براہ راست مارشل لاء میں گزرا ہے، اور باقی میں بھی بلواسطہ مارشل لاء کی کارفرمائیاں موجود رہیں۔ المیہ ہے کہ جب کوئی سیاسی نظام ترقی پانے لگتا ہے تو مارشل لاء آجاتا ہے، اور جب مارشل لاء آتا ہے تو اس کے نتیجے میں کچھ نئی سیاسی جماعتیں، نئے سیاسی چہرے، کچھ نئے قائد سامنے آتے ہیں، اور چلتے چلتے جب وہ کچھ میچور ہونا شروع ہوتے ہیں تو پھر ان کو ہٹا کر مارشل لاء آ جاتا ہے، اس سلسلے کو بس اب ختم ہونا چاہئیے، لولی لنگڑی جمہوریت، اندھے گونگے انتخابات مارشل لاءسے بہت بہتر ہوتے ہیں۔ اس لئے اپنے تمام مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہئیے کہ یہ سارا عمل ڈی ریل ہو جائے، کیو نکہ جب بات کرنے کی آزادی ہی نہیں رہے گی تو کہاں کی پاکستان تحریک انصاف اور کہا ں کی مسلم لیگ نواز۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ سسٹم میں خرابی ہے، سسٹم کرپٹ ہے جس کی وجہ سے غیر جمہوری عناصر کو جمہوریت پر شب خون مارنے کا موقع ملتا ہے، اگر ایسا ہے تو کیا ضروری نہیں ہے کہ اس سسٹم کی انقلابی بنیادوں پر اصلاح کی ضرورت ہے؟
حافظ نعیم الرحمن:
بالکل اصلاح کرنی چاہئیے لیکن اس کا بھی کوئی دائرہ کار طے ہوگا، صرف میری خواہش پر تو اصلاح نہیں ہوگی، کوئی عمل ہوگا، سسٹم کے تحت ہی ہو گا، ہمارے رائے تو یہ ہے کہ پورا سسٹم بدلنا چاہئے۔ جماعت اسلامی جب نظام کی تبدیلی کی بات کرتی ہے تو ہواؤں میں نہیں کرتی، نعروں میں کرتی، بلکہ جماعت اسلامی ٹھوس دلائل کی بنیاد پر، فکر و نظر و عقیدے کی بنیاد پر نظام کی تبدیلی چاہتی ہے، رائج الوقت سیاسی جماعتوں کو تو انقلاب کا مفہوم ہی نہیں معلوم کہ انقلاب کہتے کسے ہیں، لیکن ٹھیک وہ جسے بھی انقلاب کہتے ہیں اور اس بنیاد پر تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اس کے بھی طریقے موجود ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ انقلاب کوئی ایسی چیز تو نہیں ہے کہ صبح اٹھیں گے تو تبدیلی آ جائے گی یا ایک دھرنا دینے سے انقلاب آجائے گا، اس کیلئے جس ذہنی و فکری بالغ نظری کی ضرورت ہے، عوامی سطح پر عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے ساتھ ملانا شعوری طور پر، اس کی ضرورت ہے، لوگوں کے رویوں میںا س انقلاب اور انقلابی کیفیت کو ڈھالنا اس کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر ان کاموں کا جال پھیلانا کہ جس کے نتیجے میں لوگ ایک ایسی نظریاتی جماعت کی طرف متوجہ ہوجو صرف ہلے گلے اور نعرے بازی پر نہیں بلکہ ٹھوس کاموں کے اوپر یقین رکھتی ہو، پھر ایسی ریفارمز کو سامنے لانا جو ریاست کے نظام کو تبدیل کر سکتی ہوں، چہروں کی تبدیلی سے تو انقلاب نہیں آتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری عددی قوت تین چار ہے لیکن جماعت اسلامی اس وقت فرنٹ پر ہے، قوم کے سامنے ہے، قوم نے ڈسکشن شروع کر دی ہے کہ ”جماعت اسلامی کیوں نہیں“۔ جب سب آ سکتے ہیں تو جماعت کیوں نہیں آ سکتی، جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ عوام کو ساتھ ملاتے ہوئے اس نظام میں رہتے ہوئے اس نظام میں تبدیلی اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔

اسلام ٹائمز: امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے نواز حکومت کی حمایت میں بیان دیا ہے جبکہ قومی اخبارات کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے بعض عرب ممالک سے بھی رابطے کئے ہیں، پی ٹی آئی کے سررباہ عمران خان نے بھی امریکا اور سعودی عرب کا نام لیکر ملکی معاملات میں مداخلت کرنے پر تنقید کی ہے، پاکستان میں بیرونی مداخلت کے حوالے سے آپ کی کیا نگاہ ہے؟
حافظ نعیم الرحمن:
پاکستان کے مسائل کا اگر گہرائی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ مسائل کا اصل سبب بیرونی مداخلت ہے اور سب سے بڑھ کر امریکا کی پاکستان میں مداخلت ہے، ’گو امریکا گو‘ کی مہم ہم ہی تو چلا رہے تھے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک ان کی مداخلت موجود رہے گی، وہ مداخلت تہذیبی بھی ہے، تمدنی بھی ہے، سیاسی بھی ہے، معاشی بھی ہے اور عسکری مداخلت بھی ہے، تو جب تک یہ مداخلت موجود ہے ہم آزاد نہیں ہیں۔ وقتی طور پر تو یہ بات ضرور ہے کہ امریکی بیان سے نواز حکومت کو فائدہ اور اپوزیشن کو نقصان پہنچتا نظر آ رہا ہے لیکن بحیثیت مجموعی تمام لوگوں کو مل کر اس پر اتفاق رائے پیدا کرنی ہوگی کہ جب تک امریکی مداخلت کو ہم خیرباد نہیں کہیں گے ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ بالکل آپ کی بات درست ہے کہ امریکا سمیت بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے، یہ ٹھیک ہے کہ اگر امریکا نے کوئی بیان دیا ہے تو حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئیے، آج امریکی بیان حکومت کے حق میں ہے تو کل اس کے خلاف بھی جا سکتا ہے، کچھ پتہ نہیں کہ امریکی بیان کتنا اس کے حق میں ہے اور کتنا اس کے خلاف۔ جب مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ جنرل سیسی نے الٹا تو ایک بیان تو امریکا نے بھی اس وقت جاری کیا تھا کہ ہمیں اس پر افسوس ہے۔ امریکا مسلم ممالک کے خلاف ہے، اس نے اپنی دشمنی کا ہدف اسلام کو بنایا ہوا ہے، وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں، انہوں نے اسلام و مسلمین دشمنی کے ثبوت و نشانات پوری دنیا میں چھوڑے ہوئے ہیں، لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں، امریکا مسلمانوں کاہی نہیں انسانیت کا بھی قاتل ہے، لہٰذا امریکا کے کسی ایک بیان سے خوش ہو کر اگر کوئی جھومنے لگ جائے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اگلے بیان کا انتظار کرے جب اس کے خلاف کوئی چیز سامنے آئے گی۔

اسلام ٹائمز: غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کو بھی مسلح کیا جائے، کیونکہ مسئلہ فلسطین کا حل مسلح جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ اگر نہیں تو مسئلہ فلسطین کا کیا حل پیش کرینگے؟
حافظ نعیم الرحمن:
عالمی قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کے گھر پر قبضہ کر لے تو آپ اس کے خلاف سیاسی جنگ بھی لڑ سکتے ہیں اور عسکری جنگ بھی، اس لحاظ سے فلسطین میں حماس کی جدوجہد عالمی اصول و قوانین کی روشنی میں صحیح ہے کیونکہ انکے گھروں، زمینوں پر قبضہ ہوا ہے، مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ ہوا ہے، ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم اس کا دفاع کریں، دنیا بھر میں جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کو چاہتا ہے، انسانیت سے محبت کرتا ہے اس چاہئیے کہ وہ اسرائیل کے مقابلے میں حماس کو سپورٹ کرے، اخلاقی حوالے سے بھی اور عسکری حوالے سے بھی اور ساتھ ساتھ ڈپلومیٹک سپورٹ بھی کرے۔ بدقسمتی سے اقوام متحدہ امریکا کے ہاتھوں یرغمال ہے اس لئے وہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہا اور صہیونی اسرائیل بار بار مطلوم فسلطینیوں پر خونی جارحیت کرکے تباہی پھیلا رہا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کی جنگ قانونی ہے اور دینی لحاظ سے تمام مسلم ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسرائیل کے خلاف جہاد کریں۔ بعض حلقے کہتے ہیں اگر حماس عسکریت کا مطاہرہ نہ کرے تو یہ سب نہیں ہوگا، تو یہ سب بیکار باتیں ہیں، کیونکہ جب کچھ نہیں ہوتا تھا تو جب بھی اسرائیل حملہ کرتا تھا، قبضے کرتا تھا، درندگی پھیلاتا تھا، ہم سمجھتے ہیں پوری انسانیت کی طرف سے حماس نے حقیقی مزاحمت کو زندہ کیا ہے۔ شرم آنی چاہئے تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں اور انکی فوجوں کو، مسلم دنیا کی ساٹھ ستر لاکھ افراد پر مبنی فوجیں کس لئے ہیں، کیا وہ خاموشی اختیار کرکے صہیونیوں کو ساتھ دینے کیلئے ہیں، امریکیوں کے مفادات پورے کرنے کیلئے ہیں، کرائے اور اجرتی فوجی بننے کیلئے ہیں، یہ اسلام و مسلمین و مقدس مقامات کے تحفظ کرنے کیلئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جن فوجوں کا بھی یہ کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ سے ان کا کوئی تعلق ہے تو ان کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ سمیت پورے فلسطین کو آزاد کرانے کیلئے صہیونی اسرائیل کے خلاف جہاد کریں چاہے اس کے جو بھی نتائج نکلیں۔ 

اسلام ٹائمز: مسلم ممالک کے اندر اسرائیل کے خلاف جہاد کیلئے جرأت و آمادگی نظر نہیں آتی، کیا کہیں گے اس حوالے سے؟
حافظ نعیم الرحمن:
اگر ان مسلمان ممالک کے اندر اتنی جرأت نہیں ہے تو اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس بلا کر کوئی مشترکہ مؤقف تو اختیار کر سکتے ہیں، اگر سعودی عرب، ایران، ترکی اور مصر یہ چار ممالک بھی جمع ہو جائیں اور کہیں کہ No more attack، تو اسرائیل کی جرأت نہیں کہ وہ حملہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ذمہ داری اس لئے بھی بنتی ہے کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹم بم ہے، جس کے پاس انتہائی تربیت یافتہ منظم فوج موجود ہے، ایران کی اس لئے کہ ایران نے فلسطین کے حوالے سے ہمیشہ تعاون کیا ہے مگر ہمیں ایران سے مزید تعاون کی توقع ہے، اس اس موقع ہر اپنا تعاون مزید بڑھانا ہوگا، اگر اس کا تعاون بڑھے گا تو مسلم دنیا میں جو سنی شیعہ کی تقسیم کی ہے عالمی سامراج نے وہ بھی ختم ہوگی، بہترین موقع ہے کہ اس طرح سے ایران اتحاد امت کی بھی علامت بن سکتا ہے۔ سعودی عرب کی اس لئے ضرورت ہے کہ اگر سعودی عرب بیدار نہیں ہوگا تو کون ہوگا، جہاں حجاز مقدس کو صہیونی اسرائیل اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا حصہ بناتا ہو، اگر سعودی حکمران اپنی خاموشی سے اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آئیں گے تو اس سے بڑھ کر شرم کی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کے بادشاہ کو بھی، ایران کے رہنماؤں کو بھی، پاکستان حکمرانوں کو بھی اور مصر کہ جہاں اخوان المسلمین کی حکومت آنے کے بعد کم از کم اتنا تو ہوا تھا کہ رفاہ کراسنگ کھل گئی تھی لیکن اب وہ بھی بند کر دی گئی ہے، تو لہٰذا کم از کم یہ ممالک تو بیدار ہوں اگر یہ نہیں ہوسکتے تو جان لیں کہ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر جو reactionary group پیدا ہو رہے ہیں، کیوں پیدا ہو رہے ہیں، جب جائز و قانونی طریقوں سے آپ فرنٹ لائن پر موجود اسلامی تحریکوں کیلئے راستے روک دیں گے تو آپ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ لوگ مایوسی کا شکار ہوکر غلط راستوں کی طرف نہیں جائیں گے، یہ تو شکریہ ادا کرنا چاہئے اسلامی تحریکوں کا کہ جنہوں نے لوگوں کو اپنے معاشروں میں عسکریت سے روکا ہوا ہے، اگر انہوں نے بھی ہاتھ اٹھا لیا تو کسی کے بھی بس میں بات نہیں رہے گی، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ان بنیادی ایشوز پر زیادہ آگے بڑھ کر مسلم حکمرانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

اسلام ٹائمز: چار مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ آپ نے پاکستان کے کردار کی طرف اشارہ کیا، پاکستانی کردار کی کس قدر اہمیت ہے جبکہ وہ ہمیشہ اپنے اندرونی مسائل میں ہی الجھا نظر آتا ہے؟
حافظ نعیم الرحمن:
مسلم دنیا میں پاکستان کلیدی کردار کا حامل ہے، پاکستان کی طرف سب دیکھتے ہیں، پاکستان دنیا کی واحد اسلامی نظریاتی مملکت ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، پاکستان نظریاتی جدوجہد کرکے بنا، اسی لئے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو پوری دنیا نے اسے اسلامی بم کہا، اسلامی دنیا نے بھی اس پر خوشی منائی، 70ءکی دہائی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے آپ لاکھ اختلافات کریں اور انکی بہت ساری پالیسیوں سے جماعت اسلامی اور سب لوگوں کو بھی اختلاف تھا لیکن انہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی، انہوں نے شاہ فیصل سے روابط کو بڑھایا، انہوں نے کچھ ایسے کام کئے کہ جس کے نتیجے میں شاہ فیصل نے ایک مؤقف اختیار کیا تیل کے حوالے سے اور اس پر پوری دنیا میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی۔ تو مسلمانوں کو تو اللہ تعالیٰ نے بہت وسائل سے نوازا ہے، بہت طاقت دی ہے، لہٰذا پاکستان انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن جب پاکستانی حکمرانوں کا ویژن ہی اتنا چھوٹا ہوگا کہ وہ اپنے اندرونی مسائل میں ہی الجھے رہیں گے تو عالمی سطح پر کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان کے وزیراعظم کو تو امت کا ترجمان ہونا چاہئیے، میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے میں ترکی کو بھی بہت آگے آنا ہوگا، ترکی آگے آ کر سعودی عرب اور ایران کے مسائل کو حل کر سکتا ہے، طیب اردگان ترکی کے صدر بن کر ایک نئے عزم کے ساتھ سامنے آئے ہیں ، ان کا مؤقف بہرحال اسرائیل کے حوالے سے بہت واضح ہے، انہوں نے فریڈم فلوٹیلا کے حوالے سے بھی اور بعد میں بھی ایک مؤقف رکھا ہے لیکن اب لوگ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ اب اس موقع پر کہ اسرائیل دہشتگردی کر رہا ہے تو مسلم دنیا ترکی سے اس سے زیادہ کردار ادا کرنا کا مطالبہ کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 406491
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ماشاءاللہ
منتخب