0
Tuesday 26 Aug 2014 02:15
آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج ریاست کے دشمنوں کیخلاف نبرد آزما ہے

یہ حقیقت ہے کہ زمینی کارروائی میں اسرائیل کی فوج حماس کا مقابلہ نہیں کرسکی، عتیق الرحمن چوہان

امریکہ نے حافظ سعید سمیت جماعت الدعوۃ کے 25 افراد کے سروں کی قیمت لگائی ہے
یہ حقیقت ہے کہ زمینی کارروائی میں اسرائیل کی فوج حماس کا مقابلہ نہیں کرسکی، عتیق الرحمن چوہان
عتیق الرحمن چوہان جماعت الدعوۃ کے زونل امیر اور صوبائی ترجمان خیبر پختونخوا ہیں۔ ان کے زون میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، ٹانک، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان کے علاقے شامل ہیں۔ عتیق الرحمن چوہان ضلع ہری پور سے تعلق رکھتے ہیں۔ جماعت الدعوۃ میں شامل ہونے کے بعد پشاور میں منتقل ہوئے۔ جماعت میں متعدد ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں۔ پی آر او کا شعبہ بھی ان کے پاس رہ چکا ہے۔ 2000ء میں جماعت الدعوۃ کی جانب سے گلگت اسکردو، سیاچن بلٹ میں زونل امیر کی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اس سے قبل راولپنڈی، اسلام آباد میں تنظیمی ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں۔ عتیق الرحمن چوہان کے مطابق ان کی جماعت کا سسٹم ایسا ہے کہ امیر کے حکم کو ہر صورت میں انجام دینا ہوتا ہے۔ امیر جماعت الدعوۃ ان کی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں اور جس وقت جہاں چاہیں انہیں بھیج سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جماعت الدعوۃ کا تنظیمی سیٹ فوج کی طرز پر ہے جس میں حکم عدولی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ زونل امیر کے بعد تحصیلی امیر ہوتے ہیں اور پھر شعبہ جاتی مسئولین ہوتے ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے کل 45 شعبے ہیں۔ تمام شعبوں میں زونل، تحصیلی مسئول الگ الگ ہوتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے عتیق الرحمان چوہان سے ایک انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے استفادے کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ
 
اسلام ٹائمز: ڈی آئی خان ایسا شہر ہے جو بدامنی (فرقہ واریت) کے حوالے سے بدنام ہے، تو آپکے مراسم کونسے مکتب یا تنظیم کیساتھ گہرے ہیں۔؟
عتیق الرحمن چوہان: کوئی مکتب فکر یا سیاسی جماعت یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہم نے اسے نظرانداز کیا ہو۔ ہم نے شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی کے ساتھ روابط رکھے ہوئے ہیں۔ میں ایک ایک مسجد میں خود گیا ہوں۔ ایک ایسے وقت میں جب کرفیو تھا، شہر میں ڈبل سواری پر پابندی تھی، حالات کشیدہ تھے۔ خوف کا عالم تھا۔ اس وقت ہم نے کشمیر کے ایشو پر بہت بڑا احتجاجی مارچ کیا تھا، جس میں بلاتفریق شہریوں نے شرکت کی تھی۔ ہمارے پروگرام میں ایک جانب خلیفہ عبدالقیوم تھا تو دوسری جانب علامہ رمضان توقیر تھا۔ ہمارے پلیٹ فارم پر اسلام اور پاکستان کے نام پر لوگ اکٹھے ہیں، اس میں مسلکی تفریق نہیں ہے۔ ہمارے مرکز سے کبھی مذہبی منافرت، نفرت یا انتشار کی بات نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جب بھی کوئی کال دیتے ہیں تو شارٹ نوٹس پر ہر مکتب فکر کے لوگ ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ اسلام و پاکستان کی سیاست کی ہے، کبھی پارٹی ازم یا عقائد کو اپنا مقصد نہیں سمجھا۔

اسلام ٹائمز: آئی ڈی پیز کے علاوہ فلاحی کاموں میں جماعت الدعوۃ پیش پیش ہے، اس میں مکتب، مقام، قومیت یا مذہب کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔؟
عتیق الرحمن چوہان: آئی ڈی پیز کو امدادی پیکج دینے کے ساتھ ساتھ جو کرسچن فیملیز بھی آئیں تھیں تو ان کو بھی ہم نے بہترین انداز میں فوڈ اور نان فوڈ آئٹم فراہم کئے ہیں۔ 175 خاندانوں کو خوراک فراہم کی ہے۔ ہم شہر میں موجود چرچ میں گئے ہیں اور ان تک ضروریات زندگی کی فراہمی باہم پہنچائی ہے۔ یہاں تک ہم نے ہندووں کو امدادی پیکج فراہم کئے ہیں۔ لاکھوں کی رقوم کرسچن کمیونٹی میں تقسیم کی گئی ہیں۔ ڈی آئی خان میں جماعت الدعوۃ نے کسی کو نظرانداز نہیں کیا۔ آئی ڈی پیز میں جو بیمار یا معذور افراد آئے ہیں، ہم نے ان پر خصوصی توجہ دی اور ہر قسم کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ سندھ میں پانی کے بہت بڑے پراجیکٹ پہ کام کر رہے ہیں۔ تھر کی طرح ڈی آئی خان میں بھی پانی کے مسائل ہیں۔ تھر میں مساجد اور سکولز کی تعمیر کر رہے ہیں۔ جہاں جہاں مسجد بناتے ہیں وہاں اسکولز بھی بناتے ہیں۔ 
بلوچستان جہاں پر آزادی کی تحریکیں پنپ رہی تھی اور پنجابیوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ وہاں پر جماعت الدعوۃ کے فلاحی کاموں کی وجہ سے دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب پنجابیوں کو صوبائی تعصب کی بناء پر نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ حافظ عبدالرؤف صاحب بلوچستان کے کونے کونے اور چپے چپے سے واقف ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کے کونسے شہر، کونسے گاؤں اور کونسے گوٹھ میں پانی کی کیا پوزیشن ہے۔ وہاں پر ہم کھانے اور میڈیکل کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ ڈی آئی خان میں پینے کے صاف پانی کا ایک بڑا پلانٹ لگا رہے ہیں اور بڑی ریگولر ڈسپنسری کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ دو لائبریریاں ہونگی، جن میں سے ایک برائے مطالعہ اور ایک برائے فروخت ہوگی۔ سعودی عرب کے ایک ادارہ دارالسلام کے تعاون سے شہر میں عبداللہ بن مسعود مرکز کو چار منزلہ تعمیر کیا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا حافظ سعید صاحب کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔؟ اگر ہیں تو انکی نوعیت کیا ہے۔؟
عتیق الرحمن چوہان: امریکہ حافظ سعید صاحب کے بعد جماعت کے 25 افراد کے سروں کی قیمت لگا چکا ہے۔ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر امریکہ نے پابندیاں لگا دی ہیں۔ جن 25 افراد کے سروں کی قیمت امریکہ نے لگائی ہے ان کا تعلق ہماری مرکزی کابینہ سے ہے۔ اسلام آباد کے امیر حافظ عبدالرحمان مکی کے بھی سر کی قیمت لگائی جاچکی ہے۔ بنیادی طور پر ہم امریکہ کے نظریئے اور رویے کے مخالف ہیں، جس کے تحت وہ دنیا پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا ہی نظام چلے گا۔ ہم نفرت، منافرت، فرقہ واریت اور تفریق کے خلاف ہیں۔ محبت، اخلاق، پیار اور کردار سے دعوت دینا اسوہ رسول سمجھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں تقریباً تمام جہادی جماعتوں پر مقدمات قائم ہیں، جماعت الدعوۃ کی کیا پوزیشن ہے۔؟
عتیق الرحمن چوہان: پورے ملک کے کسی ایک تھانے میں بھی ہمارے خلاف کوئی ایک ایف آئی آر بھی نہیں ہے۔ اتنی بڑی جماعت، اتنا بڑا نیٹ ورک، لاکھوں کارکنان، اور جہادی جماعت ہونے کے باوجود جماعت الدعوۃ کے کسی کارکن کے خلاف کوئی ایک بھی ایف آئی آر نہیں ملے گی۔ نہ ہی چوری، ڈکیتی، منشیات اور نہ ہی ریاست کے خلاف کسی سرگرمی میں ملے گی۔ جس کی وجہ فقط اتنی ہے کہ ہماری تربیت ہی ایسے کی جاتی ہے جس میں پہلے اسلام اور پھر پاکستان، بس۔ پاکستان میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں، کمانڈ اینڈ کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے کارکنان توڑ بیٹھی ہیں۔ شکر الحمد اللہ حافظ سعید احمد کی سربراہی میں جماعت الدعوۃ کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ جماعت میں کوئی گروہ بندی نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: کشمیر کی آزادی کے لیے جماعت الدعوۃ کی جہادی خدمات ہیں، کیا آپریشن ضرب عضب میں بھی جماعت الدعوۃ نے اپنی عسکری خدمات پیش کی ہیں۔؟
عتیق الرحمن چوہان: بنیادی طور پر جماعت الدعوۃ ایک دعوتی جماعت ہے، اور فلاح کے کاموں میں مصروف ہے۔ جہاں تک شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب کا سوال ہے تو پاک فوج ریاست کے دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ جماعت الدعوۃ نے پہلی مرتبہ کسی فوجی آپریشن کی حمایت کی ہے۔ اس سے پہلے ہم تمام آپریشن کی مخالفت کرتے رہے ہیں، چونکہ ہمیں پتہ تھا کہ یہ آپریشن ان لوگوں کے خلاف ہے جو امریکہ اور ہندوستان کے مفادات کی جنگ پاکستان میں لڑنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اس آپریشن کی واضح حمایت کی ہے۔ ہم پاک آرمی کی پشت پر ہیں۔ آپریشن ضرب عضب پاکستان کے استحکام کے لیے، پاکستان کے جغرافیے اور نظریئے کے دفاع کے لیے کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہے۔ ہندوستان گریٹر انڈیا کا خواب آنکھوں میں لئے امریکہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ 
کشمیر میں جتنی بھی حریت پسند جماعتیں ہیں، جماعت الدعوۃ یا لشکر طیبہ ان کی پشتی بان ہے۔ ان کی حمایت کرنا اپنے لیے فریضہ سمجھتی ہے۔ ہماری دعائیں پاک فوج کے ساتھ ہیں، جو آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے۔ یہ آپریشن ان شرپسندوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جو مسلمان کو مسلمان کے ذریعے مار رہے ہیں۔ اسلام نے مسلمان کے قتال سے قطعی طور پر منع کیا ہے۔ شرپسندوں میں تکفیر کا فیکٹر شامل ہے۔ یہ پہلے کلمہ گو مسلمان پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں، پھر اس کے بعد اسے مارنے کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ جماعت الدعوۃ علماء ملت اسلامیہ کے فتاویٰ کی روشنی میں، تاریخ اسلام کی روشنی میں، قرآن و سنت کی بنیاد پر کسی کلمہ گو مسلمان کو مارنا حرام سمجھتی ہے۔ یہی بات ہم حکمرانوں، پاک فوج اور سیاستدانوں کو بھی سمجھاتے ہیں کہ کلمہ کی بنیاد پر کسی کو نہیں مارا جاسکتا۔ جب کسی شخص نے لاالہ الاللہ پڑھ لیا تو وہ اس کا دفاع ہے۔ جماعت الدعوۃ ہر کسی کو اسلام کی دعوت دیتی ہے فرقہ کی دعوت نہیں دیتی۔ اللہ، قرآن، رسول مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں، کسی کلمہ گو کو اس پر اعتراض نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: ہم کشمیر کو شہہ رگ سمجھتے ہیں اور بھارت اٹوٹ انگ، مسئلہ حل کیسے ہوگا۔؟
عتیق الرحمن چوہان: کشمیر سے متعلق ہمارا اصولی موقف ہے، اور یہ وہی ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کا تھا۔ جو لیاقت علی خان کا تھا۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، شہہ رگ کے بغیر کوئی بھی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اٹوٹ انگ ہے۔ انگ کے بغیر انسان رہ سکتا ہے لیکن شہ رگ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہندوستان پاکستان کے پانیوں پر 300 ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ وہ ایٹمی دور میں پانی کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ ضرورت کے وقت وہ پانی روک لے گا اور سیلاب یا پانی کی موجودگی میں وہ اضافی پانی چھوڑ کر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بھارت ان ڈیموں کے ذریعے اتنا پانی چھوڑ سکتا ہے کہ جس میں پاکستان بہہ سکتا ہے۔ اس کے بعد بھارت صرف ایک جملہ ادا کریگا کہ سوری پانی زیادہ تھا اس لئے چھوڑنا پڑا۔ بھارت پانیوں کے ذریعے پاکستان پر تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ ہم حکومت اور فورسز سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کا بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل نکالا جائے ورنہ مجاہدین حل نکالیں گے۔ پاکستان آرمی کی تمام تر تربیت اینٹی ہندوستان کی جاتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا داخلی سیٹ اپ نشانے پر ہے۔ ہمارے مراکز کو خطرات لاحق ہیں۔ سکیورٹی کے تقاضے پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے پورے کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھارت نے دہشتگردوں کے ذریعے جو اثر و رسوخ پھیلایا ہے، جماعت الدعوۃ نے پاکستان میں اس کو توڑنے کے لیے کیا عملی اقدامات کئے ہیں۔؟
عتیق الرحمن چوہان: کشمیر میں موجود جتنی بھی حریت جماعتیں ہیں، جماعت الدعوۃ ان کی مددگار ہے۔ ہندوستان پہلے دن سے ہی پاکستان کا دشمن ہے اور اس نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا، جس کی وجہ سے پاکستان کو توڑنے کے لیے وہ سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ جماعت الدعوۃ یہ سمجھتی ہے کہ بنگلہ دیش کا وجود بھی ہندوستان کی سازش کا نتیجہ ہے۔ ہم بنگلہ دیش کا لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ مغربی پاکستان کہتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کی سازشوں کو توڑنے کی بات ہے تو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ ریاست کے مقابلے میں تنظیم کے وسائل بہرحال کم ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ریاست کے پاس وسائل بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ جماعت الدعوۃ واحد جماعت ہے جس کی تمام تر فنڈنگ پاکستان کے اندر ہوتی ہے۔ پاکستان سے باہر اس کی کوئی فنڈنگ نہیں ہوتی۔ لاکھوں سے کروڑوں روپے تک معاملہ چلا گیا ہے۔ لوگوں کو جماعت الدعوۃ پر اعتماد ہے۔ گوادر پاکستان کا معاشی حب ہے، اگر مکمل طور پر فنکشنل ہوجائے تو پاکستان کے تمام تر معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ امریکہ سمیت پاکستان کے دشمن ممالک گوادر کو ایکٹو نہیں کرنے دے رہے۔

اسلام ٹائمز: حماس کو عسکری کمک کی ضرورت ہے، جماعت الدعوۃ کہاں تک ساتھ دے گی۔؟
عتیق الرحمن چوہان: فلسطین اہم ترین بین الاقومی مسئلہ ہے۔ جس میں بچوں، خواتین، مردوں بوڑھوں کو اسرائیل بیدردی سے نشانہ بنا رہا ہے۔ جماعت الدعوۃ پہلے دن سے فلسطینیوں کے حق کی حمایت میں کھڑی ہے، مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لئے مورخہ 25 اگست سے 31 اگست تک ہفتہ فلسطین منا رہی ہے۔ اس میں ریلیاں نکالی جائیں گی، سیمنارز منعقد ہوں گے اور فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی کیمپ لگائیں گے۔ غزہ کے شہیدوں کی غیبی نماز جنازہ ادا کرینگے۔ علماء کرام آزادی فلسطین کاز پر روشنی ڈالیں گے۔ کیمپ ڈی آئی خان کی تمام تحصیلوں میں لگائے جائیں گے۔ جماعت الدعوۃ حماس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، شیخ حمدان جو کہ خارجہ امور کے سیکرٹری ہیں اور فلسطین کے سفیر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہمارے وفد فلسطینی سفیر سے ملاقات کرکے ایک بڑی اماؤنٹ ان کے حوالے کرچکے ہیں جبکہ حماس کو بھی ہم نے ادویات اور اجناس کی صورت میں امداد بھیجی ہے۔

اسلام ٹائمز: خبریں ہیں کہ مصری جنرل السیسی نے حماس کی سرنگیں بند کی ہیں، مصر کے اس کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
عتیق الرحمن چوہان: ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے۔ جہاں یہ جنگ زمینی، فضائی اور پانی کے محاذوں پر لڑی جا رہی ہے وہاں یہ میڈیا وار بھی ہے۔ ہمیں کسی بھی خبر یا بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ یہود و کفار کی سازش ہو۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اتحاد کو یقینی بنائیں۔ جہاں تک حماس کی سرنگوں کا مسئلہ ہے، یہودی اور امریکی کمانڈر اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ حماس کی بنائی ہوئی سرنگوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے، جبکہ ان میں سے صرف ایک سو کو جزوی نقصان پہنچا سکے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ زمینی کارروائی میں اسرائیل کی فوج حماس کا یا فلسطینیوں کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا اور شہادت کا طالب ہے، جبکہ صہیونی مرنا نہیں چاہتے۔

اسلام ٹائمز: غزہ کی جنگ میں کسے کامیاب قرار دیتے ہیں، حماس یا اسرائیل۔؟
عتیق الرحمن چوہان: نبی کریم کا فرمان ہے کہ مسلمان دونوں حالتوں میں کامیاب رہتا ہے، دکھ آئے تو صبر کرتا ہے، خوشی آئے تو شکر کرتا ہے۔ حماس کے مجاہدین نکلے ہی قربانیوں کے لیے تھے۔ ان کی نسلیں قربانیاں دیتی آرہی ہیں۔ قبلہ اول کی آزادی کے لیے مجاہدین سرگرم ہیں، پوری دنیا کے مسلمان بیت المقدس کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔ جماعت الدعوۃ نے قبلہ اول، بیت المقدس، فلسطین کی آزادی کے نام پر، اسرائیل کے خلاف جب بھی احتجاج کی کال دی ہے۔ ہر کسی نے مسلک، مکتب، کے فرق کے بغیر اس پہ لبیک کہا ہے۔ حماس بنیادی طور پر غلبہ حاصل کرچکی ہے۔ انصاف کا پیمانہ دیکھیں کہ جب حماس ایک صہیونی فوجی کو پکڑ لیتی ہے تو اس کی رہائی کے لیے امریکہ کا صدر اپیل کرتا ہے اور اسی صدر کو ہزاروں بچوں، خواتین، کا اسرائیل کے ہاتھوں قتل عام نظر نہیں آتا، جو کہ قابل شرم بات ہے۔

اسلام ٹائمز: ان عسکری، جہادی یا مسلح تنظیموں کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، جنکا مطمع نظر کشمیر یا فلسطین کی آزادی نہیں ہے، جسمیں طالبان، داعش وغیرہ شامل ہیں۔؟
عتیق الرحمن چوہان: جہادی جماعتوں کے اپنے اپنے اہداف ہیں، چونکہ میں جماعت الدعوۃ کا ذمہ دار ہوں اس لیے میں اس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈال سکتا ہوں۔ کسی اور جماعت کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم جہادی جماعتوں کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کو سراہتے ہیں۔ داعش کا معاملہ اس وقت پریشان کن صورت اختیار کرچکا ہے، کیونکہ وہ کلمہ گو مسلمانوں کو بیدردی سے مار رہے ہیں۔ جب کہ جماعت الدعوۃ کا موقف ہے کہ کسی کلمہ گو کو دنیا کے کسی خطے میں نہیں مارا جاسکتا۔ ریاست کی عدالتیں جرم ثابت ہونے کے بعد ہلاک کرسکتیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: ملک میں حالیہ سیاسی بحران کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔؟
عتیق الرحمن چوہان: میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اپنے دھرنے ختم کرنے چاہیں۔ آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنا احتجاج ریکارڈ بھی کراچکے ہیں۔ موجودہ حکومت میں خرابیاں، ناکامیاں یقیناً موجود ہیں۔ ایک ریاست کے ذمہ دار کو بہت سوچ سمجھ کر کوئی اقدام اٹھانا چاہیے۔ بہت ساری خرابیوں کے باوجود بھی اگر آج ان لوگوں کے دھرنوں کی وجہ سے یہ حکومت تو ڑدی گئی تو آئندہ ہر چند ماہ کے بعد کوئی نہ کوئی پچاس ساٹھ افراد کے ساتھ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے لگے گا، یہ روایت بن جائے گی۔ پاکستان اس وقت ان دھرنوں و احتجاج کا ہرگز ہرگز متحمل نہیں ہے۔ ہماری نظر میں عالمی سطح پر اس احتجاج کا منفی تاثر قائم ہو رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 406669
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب