0
Saturday 1 Nov 2014 22:32

انسان جتنا ارتقا کریگا، امام حسین (ع) کا اتنا ہی عاشق اور گرویدہ ہوتا جائیگا، مولانا انجینئر عمران حیدر

انسان جتنا ارتقا کریگا، امام حسین (ع) کا اتنا ہی عاشق اور گرویدہ ہوتا جائیگا، مولانا انجینئر عمران حیدر
مولانا عمران حیدر یونیورسٹی آف انجنئرنگ لاہور سے ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایک عشرہ سے دینی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہیں، اسکے ساتھ وہ استاد بھی ہیں اور مجالس و محافل میں خطابت سے بھی وابستہ ہیں۔ یونیورسٹی کے زمانہ طالب علمی میں آئی ایس او میں ڈویژن اور مرکز کی ذمہ داریوں پہ خدمات انجام دیتے رہے ہیں، ابھی امامیہ طلبہ کی ذیلی نظارت کے رکن بھی ہیں۔ قیام امام حسین علیہ السلام کے مقاصد، محرم الحرام اور واقعہ کربلا کے متعلق اسلام ٹائمز کیساتھ  ہونیوالی مولانا کی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: محرم الحرام میں چونکہ سوگواری کی فضا ہوتی ہے، تو کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ واقعہ کربلا کا یہی ایک پہلو یعنی غم اور سوگواری۔ اس پر روشنی ڈالیں کہ کربلا کا پیغام صرف اس حد تک محدود نہیں۔؟
مولانا عمران حیدر: یہ درست ہے کہ واقعہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک درد ناک اور غمناک واقعہ ہے۔ انسانیت اس پر جتنا بھی گریہ کرے اور غم منائے وہ کم ہے۔ لیکن یہ واقعہ دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک پہلو المناک ہے کہ رحلت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ کے اس نواسےؑ اور انکے گھر والوں پر ظلم روا رکھا گیا، جنہیں آپؑ نے جوانان جنت کا سردار قرار دیا تھا، جنہیں اپنے دوش اطہر پہ سوار کروایا اور بتلایا کہ حسین ؑ مجھؑ سے ہے اور میں حسین سؑے ہوں۔ اس میں درد کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ امت کیوں اتنی پستی کا شکار ہوگئی تھی کہ انہوں نے دین کا ستون ہی گرا دیا۔ ساتھ ہی ایک کربلا کا روشن پہلو ہے، جو روشنی عطا کرتا ہے، کربلا کا حقیقی چہرہ اور پہلو، حماسی اور اقدار اسلامی کو زندہ کرنے والا اور دین کی بنیادوں کو بچانے کے لئے، اپنا سب کچھ قربان کر دینے والا پہلو، جس سے پتہ چلتا ہے کہ مولا امام حسین علیہ السلام نے دین اسلام کو کس طرح مجسم کرکے دکھایا۔ یہ کربلا کا خوبصورت ترین پیغام ہے۔ خلاصے کے طور پر کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح فرشتوں نے انسان کے متعلق اللہ تعالٰی سے کہا تھا کہ یہ فساد برپا کرے گا اور زمین پہ خون بہائے گا، تو ایک یہ پہلو ہے، جو تاریک ہے، جو شمر اور ابن سعد کا کردار ہے، لیکن دوسرا پہلو، جو خداوند تعالٰی دیکھ رہا تھا، انی اعلمو مالاتعلمون، کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ وہ دوسرا پہلو ہے، جو روشن ہے، جو کردار حسینیؑ اور کردار زینبیؑ ہے، وہ حضرت قاسم علیہ السلام کا کردار ہے، جو فرماتے ہیں کہ شہادت کو شہد سے زیادہ شیریں سمجھتا ہوں۔ محرم میں دونوں یعنی حماسی اور غم کے پہلوں کو سامنے رکھتے ہوئے مدنظر رہنا چاہیے کہ کس طرح امام حسین علیہ السلام نے اسلامی اقدار کو زندہ فرمایا۔

اسلام ٹائمز : عزاداری کے مروجہ مراسم کس حد تک مقصد قیام امام حسین علیہ السلام کی ترویج کو پورا کر رہے ہیں، کیا اس سے اسلام کا وہ حقیقی چہرہ نمایاں ہو رہا ہے، جسے یزید دھندلانا چاہتا تھا اور امام حسینؑ نکھارنا چاہتے تھے۔؟
مولانا عمران حیدر: واقعہ کربلا کی یاد اور مراسم عزاداری کے متعلق تو بہت زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے کہ ماتمی، ذاکرین اور سب لوگ اس کو برپا کریں، اس میں اضافہ کریں۔ یعنی اس کے جسم کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ زیادہ ماتم ہو، نوحہ خوانی ہو، فرش عزا کو وسعت دی جائے۔ جو ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسکی روح کو زیادہ بہتر بنایا جائے، کوشش کی جائے کہ کربلا کا حقیقی پیغام بھی لوگوں تک پہنچے۔ عزاداری میں روح کربلا اور روح مقصد امام حسین علیہ السلام ہونی چاہیے۔ جب ماتم کر رہے ہوں تو پورے خلوص کیساتھ کھڑے ہوں، ریا کاری نہ کریں، مجلس پڑھنے والے کے پیش نظر مولا کی رضا ہو، وہ واہ واہ کے لئے یا ذاتی فائدے کے لئے نہ پڑھے۔ اگر یہ روح آجائے عزاداری میں تو، اس میں اتنا پوٹینشل ہے کہ پورے کے پورے معاشروں کو بدل سکتی ہے۔ عزاداری ہمارے معاشرے میں حقیقی انقلاب لاسکتی ہے، بشرطیکہ یہ اپنی روح کیساتھ ہو۔ جب سب مل کر ماتم کر رہے ہوتے ہیں، انکی آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوتے ہیں، یہ منظر ایک عام انسان کو بھی منقلب کر دیتا ہے، وہ سوچتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ سینے پہ ہاتھ مار رہے ہیں اور گریہ بھی کر رہے ہیں، اس میں بلا کی تاثیر ہے۔ یہ مراسم امام حسین علیہ السلام کے پیغام کی ترویج کا بہترین ذریعہ ہیں۔

اسلام ٹائمز: واقعہ کربلا کو چودہ سو سال بیت چکے ہیں، زمانہ کئی تغیرات میں سے گذر چکا ہے، صدیاں گذر جانے کے بعد آج اس نئے دور میں کس طرح اس واقعہ سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔؟
مولانا عمران حیدر: دیکھیں قرآن مجید بھی آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوا، لیکن قرآن کے مفاہیم اور مطالب کی وسعت اور گہرائی زمانے کیساتھ ساتھ اذہان انسانی پہ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ہر تیس چالیس سال کے بعد ایک نئی تفسیر آنی چاہیے، جس طرح قرآن اور قرآن کی تعلیمات تو وہی ہیں لیکن زمانے کے تقاضوں کے مطابق تفسیر کے ذریعے ان معانی کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سے امام حسین علیہ السلام کی ذات اور قیام ہے، یہ درست ہے کہ زمانہ گذر رہا ہے، لیکن گذرتے وقت کیساتھ امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مقاصد اور اثرات، قرآن کی تعلیمات کی طرح اور زیادہ روشن ہو کر سامنے آرہے ہیں، قرآن کی تعلیمات اور مفاہیم جس طرح کھل رہے ہیں، اس طرح وقت کیساتھ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے مفاہیم بھی اور زیادہ کھل کر لوگوں کے سامنے آرہے ہیں۔ وہ جو ایک شعر ہے کہ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

یہ اس مطلب کی بہترین وضاحت ہے۔ انسان جتنا ارتقا کرے گا، امام حسین علیہ السلام کا اتنا ہی عاشق اور گرویدہ ہوتا جائے گا۔ ضرورت ہے کہ قرآن مجید کی تفاسیر کی طرح ہر دور میں قیام امام حسین علیہ السلام کی تشریح ہوتی رہے۔

اسلام ٹائمز: امام حسین علیہ السلام کے قیام کی تفسیر اور تشریح سے متعلق بات کی جائے تو علماء کی ذمہ داری اس عنوان سے سب سے زیادہ ہے، مقصد کربلا کو زندہ رکھنے اور امت کو بیدار کرنے سے متعلق دینی مدارس کا موجودہ نظام اور کارکردگی اس حوالے سے کیسی ہونی چاہیے اور کیسی ہے۔؟
مولانا عمران حیدر: جہاں تک کربلا کے پیغام کو آگے بڑھانے کی بات ہے، جتنے بھی طبقات ہیں معاشرے کے، ان سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ ان میں علماء سرفہرست ہیں، وہ لیڈر ہیں معاشرے کے۔ نظام عزداداری کے جتنے عناصر ہیں، ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر عنصر اپنی ذمہ داری کو انجام دے رہا ہے تو ہم وہ عزاداری دیکھ سکتے ہیں، جو معصومین علیہم السلام کی مطلوب عزاداری ہے۔ علماء کا کردار سب سے زیادہ بڑھ کر ہے، عوام کی بجائے خدا کی خوشنودی کو پیش نظر رکھتے ہوئے، زبانی اور عملی، دونوں اعتبار سے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ بانیان مجالس کا کردار بھی اہم ہے۔ نوحے پڑھنے والے، خود سننے والے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اگر ان میں شعور ہو اور جرات ہو کہ جو مقصد کیخلاف بات کرے اسے روک سکیں، کہ یہ بات مقصد امام حسین علیہ السلام سے مناسبت نہیں رکھتی، یہ شعور دینا علماء کا کام ہے۔

اسلام ٹائمز: اس مقصد کی ترویج کیلئے کیا پورے سال میں سے صرف دس دن ذکر امام حسین علیہ السلام کافی ہے، جبکہ باقی پورا سال اس پر توجہ نہ دی جائے، اس سلسلے میں کیا ہونا چاہیے کہ یہ پیغام جاری رہے۔؟
مولانا عمران حیدر:
ذکر امام حسین علیہ السلام کا تعلق صرف دس دنوں سے نہیں ہے، بلکہ ہر دن یوم عاشورہ، ہر زمین ارض کربلا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا مشن جاری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دن نہیں بلکہ ہر سانس، اس مقصد کی طرف بڑھیں، اس پیغام کو آگے پہنچائیں۔ علماء، ماتمی، تنظیمیں اور سب لوگ جو امام حسین علیہ السلام سے وابستہ ہیں، اگر وہ محنت کریں تو جو دس دن کے مراسم ہیں، بہتر انداز میں برپا ہوں گے۔ ان دس دنوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایام مناسبت رکھتے ہیں، ان دنوں سے، ان واقعات سے جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی، واقعہ کربلا رونما ہوا، اس لئے ان دنوں میں، ان دس ایام میں باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے، عزاداری کے مراسم ادا کئے جاتے ہیں، یاد منائی جاتی ہے، پورا سال ہمیں اس حرارت کو برقرار رکھنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: عصر حاضر میں کونسا گروہ، معاشرہ یا شخصیت ایسی ہے جنہیں دیکھ کے پتہ چلے کہ ان لوگوں میں کربلا کے پیغام کی جھلک نظر آتی ہے۔؟
مولانا عمران حیدر
: ہمارے زمانے میں جس ہستی نے کربلا کی روح کو لوگوں میں پھونک دیا ہے اور قلوب کو زندہ کیا ہے، وہ امام خمینی ہیں۔ امام خمینی کی بابصیرت قیادت اور انقلاب اسلامی کے زیر سایہ ایسی مائیں نظر آتی ہیں، جن میں کربلا کی روح موجود ہے۔ انقلاب اسلامی کے شہداء ایسے ہیں، جن میں کربلا کے شہداء کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے شہدائے کربلا کی تاسی اور انکی پیروی میں شہادت کو اس طرح قبول کیا ہے، جس طرح حضرت علی اکبر علیہ السلام اور حضرت قاسم علیہ السلام نے شہادت کو عاشقانہ انداز میں گلے لگایا۔ انقلاب اسلامی سب سے پہلے خود  ایک نمونہ ہے اور پھر ایک انفجار نور ہوا ہے، اسکی کرنیں جہاں جہاں گئی ہیں، وہ لبنان میں حزب اللہ ہو، پاکستان میں قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی، ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور انکے رفقا، ان جیسی جن ہستیوں نے بھی دنیا میں اس نورانی اور حسینیؑ انقلاب کی شعاعوں کو قبول کیا ہے، وہاں کربلا کی روح اور اسکی تاثیر نظر آتی ہے۔

اسلام ٹائمز: اسوقت دنیا میں فلسطین، عراق، لبنان، خود پاکستان ہر جگہ کربلا بپا ہے، جہاں بھی کربلا پبا ہوتی ہے اسکی نصرت کے متعلق کربلا کا دم بھرنے والوں کی کیا ذمہ داری ہے۔؟
مولانا عمران حیدر:
یہ زمانہ، آخر الزمان ہے، اس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ اسی دور میں حق و باطل کا معرکہ ہوگا۔ ہم بھی اس دنیا کا ایک حصہ ہیں۔ عالم اسلام میں پیدا ہونے والی بیداری کو رہبر معظم نے بیداری اسلامی کا نام دیا ہے۔ ہم بھی ایک جزو ہیں اس بیداری کا۔ ہمارا محاذ ایک تو ہمارا ملک ہے، پھر اس میں تعلیم، تربیت، اقتصاد اور سیاست ہر میدان میں اس پیغام کی روح برقرار رکھتے ہوئے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ دوسری ذمہ داری نصرت ہے، دنیا میں برپا ہونے والی تحریکوں کی، دنیا کے دیگر گوشوں میں برپا ہونے والی حقیقی اسلامی تحریکوں کے متعلق جو استعماری پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، اس کا مقابلہ ایسے ہوسکتا ہے کہ دشمن یا استعمار جس سیاست کو فروغ دیتا ہے، ہم اسکے مقابلے میں الہٰی سیاست کو فروغ دیں اور تعلیم کے میدان میں اسلامی نظام کو متعارف کروائیں، تب ہی دشمن کے مقاصد کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ ہر میدان میں اسی روح کیساتھ کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ کربلا ظلم ستیزی کا درس دیتا ہے، نہ خود ظلم قبول کریں اور نہ کسی ظالم کی حمایت کریں، ہماری ذمہ داریوں میں سے ہے کہ مظلومین جہاں کے حق میں آواز بلند کریں۔

اسلام ٹائمز: کربلا عبارت ہے، جہاد، مجاہدہ، استقامت اور سرخ موت یعنی شہادت سے، بدقسمتی سے القاعدہ، طالبان اور اب داعش جیسی تنظیمیں بھی شہادت اور اسلامی نظام کا نعرہ لگاتے ہیں، انکا کوئی ربط نہیں کربلا سے، لیکن عام آدمی کے لئے انکی حقیقت کو سمجھنے کا معیار کیا ہے۔؟
مولانا عمران حیدر:
سب سے بڑا معیار انسانی اقدار ہیں۔ اسلامی اصول ہیں۔ تکریم انسانیت ہے۔ اللہ کے لئے قیام کرنے والے ان اصولوں سے انحراف کا شکار نہیں ہوتے۔ لیکن القاعدہ، طالبان اور ان جیسے گروہ جیسے داعش ہے، انکا سرے سے کوئی تعلق نہیں اسلامی اصولوں سے۔ حقیقی طور پر اللہ کے لئے قیام کرنے والے حق بوسیلہ حق کو مدنظر رکھتے ہیں۔ وہ بے گناہوں، کلمہ پڑھنے والوں کو بے دردی سے قتل نہیں کرسکتے۔ جبکہ ان مذکورہ گروہوں کی اساس ظلم پر ہے۔ انکا کربلا سے کوئی ربط نہیں، امام حسین علیہ السلام کے قیام کی اساس اسلامی اصولوں پر ہے، جہاد کا ایک دائرہ کار ہے، اسکے ضوابط ہیں، اسکی شرائط ہیں، وہ سارے کے سارے پیش نظر ہوتے ہیں، ان حدود میں رہتے ہوئے انسانیت کے راستے میں رکاوٹ بننے والے جو پتھر ہوتے ہیں، جہاد صرف انہی کی صفائی کرتا ہے، نہ یہ کہ جو ہر بے گناہ اور معصوم کو ظلم کا نشانہ بنائے، یہ تو پھولوں کو مسل رہے ہیں، ایسے لوگوں کے متعلق تو قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ یہ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ جو حسینی ہیں وہ فساد نہیں پھیلاتے، وہ یزیدی ہیں جو کسی قاعدے اور اسلامی ضابطے کا خیال نہیں رکھتے۔ انکی اساس ظلم ہے، یہ قرآن اور اللہ کی تعلیمات کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں، ان کا لبادہ تو مجاہدین کا ہوسکتا ہے، لیکن یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں، یہ امریکہ کو تقویت دے رہے ہیں اور امریکہ انہیں تقویت دے رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 417576
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب