1
0
Wednesday 19 Nov 2014 20:51
امریکہ ایران سے تعاون بڑھانا چاہتا ہے اور پاکستان کے کردار کو مثبت سمجھتا ہے

پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہر قسم کی دہشتگردی کیخلاف تعاون جاری رہیگا، محمد اکرم ذکی

افغانستان سے فوری طور پر امریکہ کا مکمل انخلاء پاکستان کیلئے زیادہ نقصان دہ تھا
پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہر قسم کی دہشتگردی کیخلاف تعاون جاری رہیگا، محمد اکرم ذکی
سینیٹر (ر) محمد اکرم ذکی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بہت بڑا کردار ہیں۔ ملکی تاریخ میں اب تک دو شخصیات کو فارن سیکرٹری جنرل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن میں ایک اکرم ذکی صاحب ہیں۔ انہوں نے چین، امریکہ، نائیجریا اور فلپائن کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے نمایاں خدمات سرانجام دیں ہیں۔ ان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان سے تربیت پانے والے وزارت خارجہ کے کئی افسران نے قابلیت کے بل بوتے پر اعلٰی ترین عہدوں پر رسائی حاصل کی۔ سابق سینیٹر اکرم ذکی 1991ء سے 1993ء تک وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے جو کہ وزیر مملکت کے برابر شمار کیا گیا۔ 1997ء سے 1999ء تک سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور نیشنل ایجوکیشن کمیشن کے وائس چیئرمین رہے ہیں۔ سابق سینیٹر اکرم ذکی انجمن فروغ تعلیم کے بانی صدر بھی ہیں۔ ان کو پاکستان یورپ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے بانی صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اہم فیصلوں میں ان کی رائے کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے اپنے قارئین کے لیے اکرم ذکی صاحب سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا جو کہ پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: وزیراعظم پاکستان کے حالیہ بیرونی دورے کے کیا اثرات و ثمرات دکھائی دیتے ہیں۔؟ 
محمد اکرم ذکی:
پاکستان افغانستان، پاکستان اور ہندوستان، ایران شام اور عراق کے درمیان تعلقات اور خطے کے حالات کی جانب پوری دنیا اس وقت متوجہ ہے۔ یہ سارا علاقہ بین الاقوامی سیاست کا مرکز ہے۔ ہندوستان میں جو نئی قدامت پسند، دائیں بازو کی پارٹی بڑی قوت بن کر ابھری ہے اور علاقائی بالادستی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کے لئے اگلے چند سالوں میں 130 بلین کا جدید اسلحہ خریدنے اور بڑی عسکری قوت بننے کا خیال ظاہر کرچکی ہے۔ چین کے ساتھ اچھے تعلقات کے اعلان اور تجارت بڑھانے کے باوجود چینی سرحد پر بھی نئی سڑکوں کی تعمیر اور سرحدی نقل و حرکت میں پیش قدمی پر مائل ہے۔ کافی غور طلب ہے۔ دوسری جانب افغانستان سے امریکہ کا انخلاء بھی بتدریج جاری ہے۔ ایسی صورتحال میں میرے نزدیک وزیراعظم کا دورہ چین انتہائی سود مند ہے۔ چین ہمارا ہمسایہ اور عظیم دوست ملک ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ پاکستان چین، افغانستان، چین ملکر خطے کو مستحکم بنائیں۔ چین نے نہ صرف افغانستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور خطے کے استحکام کے لیے چین چند سالوں سے پاکستان میں بھی بڑے بڑے منصوبے مکمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
چین کے صدر ستمبر میں پاکستان کا دورہ کرنیوالے تھے اور وہ مقام نزدیک تھا کہ وہ یہاں آکر چالیس بلین یا اس سے زیادہ کے منصوبوں پر دستخط کرتے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کے چند عاقبت نااندیش خود پرست اور مغرور لوگوں نے اپنے ذاتی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کیلئے اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال کو اس طرح خراب کیا کہ چینی صدر کو اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا، چونکہ چین ان منصوبوں کو آگے بڑھانے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لئے اس نے وزیراعظم پاکستان کو فوری طور پر چین آنے کی دعوت دی۔ وزیراعظم نواز شریف مختصر دورے پر چین گئے اور 21 دستاویزات پر دستخط کئے، جن میں سب سے زیادہ توانائی بحران حل کرنے کے ہیں۔ 21 میں سے 13 منصوبے بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کے ہیں۔ آنے والے سالوں میں چین نے بیالیس بلین سے زائد پاکستان میں خرچ کرنے ہیں۔
اگر چین ایشیا کا سب سے بڑا ملک اور اقتصادی پاور ہے تو جرمنی یورپ کا سب سے بڑا اور اقتصادی ملک ہے۔ اقتصادی ترقی کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم نے جرمنی کا دورہ کیا اور دورے میں جرمنی کیساتھ اقتصادی، تجارتی تعاون کو بڑھانے کی راہیں کھل گئیں اور وہاں کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس طرح انگلستان کا بھی دورہ کیا۔ سرمایہ کاری وہاں ہوتی ہے جہاں امن ہو۔ امن و امان کے قیام کے لئے افغانستان تعلقات میں انتہائی اہم اور مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ ملکی سربراہان کے دورے راستے کھولتے ہیں، ماحول کو سازگار بناتے ہیں اور امکانات کو روشن کرتے ہیں، پھر آگے اداروں نے منصوبے بناکر ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں وزیراعظم یا صدر کے دوروں کو شک کی نظر سے دیکھنے والے کم عقلی یا کم ظرفی کا ثبوت دیتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: افغانستان کے نومنتخب صدر نے چین کے بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے، اس دورے کو دونوں ملکوں کے اندرونی حالات کے تناظر میں کیسا پاتے ہیں۔؟
محمد اکرم ذکی:
پچھلے کچھ عرصے میں افغانستان میں کچھ مثبت تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں ہیں۔ صدارتی انتخابات کا مرحلہ انتہائی خوش آئند اور نازک تھا، مگر اس کے نتیجے میں ایک سنجیدہ اور دانشور تجربہ کار امیدوار سوئی کے سوراخ سے گزر کر صدرات کے مقام پر فائز ہوا اور دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے دوستوں کے مشورے پر عمل کرکے اپنے سنجیدہ حریف کو شریک اقتدار کر لیا اور ایک مشترکہ قومی حکمت عملی بنانے کی کوشش کی۔ اگر اس میں رضائے الٰہی بھی شامل ہے، تو امید کی جاسکتی ہے کہ افغان قوم اب سنجیدگی سے دوسرے ناراض ہم وطنوں کو بات چیت کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کرنے کا شائد کوئی راستہ نکالے گی۔ پاکستان بھی افغانستان میں امن و امان اور استحکام کا خواہشمند ہے۔ اس لئے پاکستان نے برادر ملک کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا، پہلے مشیر خارجہ سرتاج عزیز دورے پر گئے، وہاں رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے بعد پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف افغانستان گئے اور وہاں دونوں ملکوں نے امن و امان کے فروغ، دہشتگردی کے خاتمے میں تعاون، ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کے عزم کا اعادہ کیا اور سلامتی، دفاع کے حوالے سے تعاون کی نئی راہیں کھولیں۔ افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی عمرہ ادا کرنے کے بعد چین گئے اور پھر پاکستان کا دورہ کیا۔ تمام ملاقاتیں اتنے خوشگوار ماحول میں ہوئیں کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلانے میں بہت مدد ملی۔ دوسری جانب افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج جو جنگ میں براہ راست ملوث تھیں، ان کی تعداد میں مسلسل کمی کی جاری ہے، گرچہ امریکہ افغانستان سکیورٹی معاہدے میں انخلاء کے بعد 15000 امریکی فوجی اور کنٹریکٹرز موجود رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: ایک تجربہ پہلے عراق میں ہوا، جہاں امریکہ نے انخلاء کے بعد اپنی محدود موجودگی رکھی اور عراقی فورسز کیساتھ تعاون کیا، لیکن آج عراق کے حالات سب کے سامنے ہیں، کیا ایسے خدشات افغانستان میں امریکہ کی محدود موجودگی سے متعلق ہوسکتے ہیں۔؟
محمد اکرم ذکی:
بہت سے لوگوں کے خیال میں امریکہ کا مکمل انخلاء شائد ایسی صورتحال پیدا کر دیتا، جس میں امن و امان برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا۔ امریکہ کا افغانستان میں موجود رہنا کسی حد تک درست فیصلہ ہوا ہے۔ ان کی موجودگی کا تاثر ان قوتوں پر بھی بہرحال رہے گا، جو براہ راست جنگ میں ملوث ہیں۔ ایک رائے یہ تھی کہ امریکہ وہاں سے مکمل انخلاء کرے، مگر شائد یہ پاکستان کیلئے زیادہ سود مند نہیں تھا کیونکہ ہندوستان براہ راست افغانستان کا ہمسایہ نہیں ہے مگر پاکستان براہ راست ہمسایہ ہے، چنانچہ ایسی صورت میں وہاں ہندوستان کی عسکری موجودگی مثبت نہیں سمجھی جاسکتی تھی۔ امریکہ نے اس چیز کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان براہ راست ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ہمارے ملک میں ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردی کے نیٹ ورک توڑنے میں نہ صرف مدد ملی ہے بلکہ حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔ اسی آپریشن کے نتیجے میں کچھ گروپس افغانستان پر حملہ کرنے کی قوت کھو چکے ہیں۔ امریکہ پاکستان کے کردار کو مثبت سمجھتا ہے، جس کا اعتراف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ کے دوران بھی کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا اس دورے کے دوران یہ امکان بھی موجود ہے کہ امریکہ داعش کیخلاف بننے والے اتحاد میں پاکستان کی عملی شمولیت کی خواہش ظاہر کرے۔؟
محمد اکرم ذکی:
امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف تعاون جاری رہے گا۔
اسلام ٹائمز: ایک جانب طالبان کیخلاف آپریشن جاری ہیں اور دوسری جانب داعش کے چرچے شروع ہوچکے ہیں۔؟
محمد اکرم ذکی:
تحریک طالبان کے چھ سے زائد کمانڈروں نے داعش میں شمولیت کا اعلان کیا تھا، اسی طرح نائیجیریا کی تنظیم نے بھی داعش میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ دراصل دہشتگردوں کے گروپس اپنی شناخت بڑے نیٹ ورکس کیساتھ منسلک ہونے کے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے یہاں بھی وال چاکنگ اور پوسٹرز وغیرہ کی مہم جاری ہے۔

اسلام ٹائمز: مشرق وسطٰی میں داعش کی قوت کا راز کیا ہے۔؟
محمد اکرم ذکی:
مشرق وسطٰی میں شیعہ سنی تقسیم اور تصادم پھیلتا نظر آرہا ہے۔ شام کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد القاعدہ کی عراقی برانچ نے دیگر گروپوں کو ساتھ ملا کر داعش نے جنم دیا، جو کہ نہایت قدامت پسند اور ظالمانہ پالیسیوں کو اسلام کا لبادہ پہنا کر خلاف اسلام کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ مغربی قوتیں جو داعش کی سرپرستی کرتی رہیں، جس کی وجہ سے یورپ اور امریکہ سے نوجوان داعش کی صفوں میں شامل ہوئے۔ ان نوجوانوں کی تعداد سولہ ہزار سے متجاوز ہے۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد صدام کی فوج کے افراد ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ داعش ایک بڑی قوت بننے کے خبط میں مبتلا ہے۔ شام سے عراق کی جانب پیشقدمی کی وجہ بھی عراقی تیل کے ذخائر تھے۔ بڑی عسکری یا معاشی قوت بننے کے لئے وہ عراق یا سعودی عرب پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ مغربی طاقتیں پہلے اس کی سرپرستی کرتی رہیں، اب اسے دشمن قرار دیکر امریکہ ایران کیساتھ عسکری تعاون کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں صدر اوباما نے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مراسلہ بھی ارسال کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوٹرن کنٹینر پر کھڑے ہوئے صرف پاکستانی سیاستدان ہی نہیں لیتے۔
خبر کا کوڈ : 420303
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
پاکستان کے موجودہ یا سابق حکومتی، سیاسی، سرکاری ذمہ داران، عہدیدران، دانشوروں میں سے تقریباً سب نے ہی داعش کے خلاف بڑا واضح موقف اپنایا ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔ سوائے کالعدم دہشتگرد تنظیموں میں سے چند گروپوں کے کسی نے داعش کی حمایت نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا میں داعش کا بڑھتا چرچا غور طلب ہے۔ معلوم نہیں کیوں میڈیا سے وابستہ افراد پاکستان میں داعش کے وجود پر مصر ہیں اور یہاں پر اسے ایک قوت تسلیم کرانے پر کمربستہ ہیں۔
اللہ سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین