0
Monday 1 Dec 2014 01:28
ملی یکجہتی کونسل کو نچلی سطح پر اتر کر عوام میں اتحاد و وحدت کے فروغ کیلئے کام کرنا چاہیئے

داعش نے دہشتگردانہ کارروائیوں کے ذریعے اسلام و مسلمانوں کے مفادات کیخلاف کام کیا، محمد حسین محنتی

منور حسن صاحب نے پاکستان میں قتال کی اور جہادی تنظیموں کی سرپرستی کی کوئی بات نہیں کی ہے
داعش نے دہشتگردانہ کارروائیوں کے ذریعے اسلام و مسلمانوں کے مفادات کیخلاف کام کیا، محمد حسین محنتی
محمد حسین محنتی جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر ہیں۔ وہ 1946ء میں کاٹھیاوار، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، تمام مذہبی اور سیاسی حلقوں میں وہ بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ 2002ء کے عام انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ محمد حسین محنتی جماعت اسلامی کراچی کے بھی امیر رہ چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے فتنہ داعش، اتحاد بین المسلمین سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نور حق میں ان کے ساتھ ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سکھر میں جے یو آئی سندھ کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو دہشتگردی کی نشانہ بنایا گیا، اس افسوسناک واقعہ کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
محمد حسین محنتی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ خالد محمود سومرو سندھ میں دینی قوتوں کی نمائندگی کرتے تھے، سندھ کے اندر انہوں نے سیکولر قوتوں کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، خالد محمود سومرو کی زندگی میں فرقہ واریت، لسانیت، قوم پرستی، صوبائیت نہیں تھی، صرف اسلام کی خدمت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی گزاری تھی، اس واقعہ کے بعد تمام دینی قوتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیئے کہ جس طرح علماء کرام کو مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو ان حالات میں کس طرح پاکستان میں دین کی حفاظت، علماء کی حفاظت، مدارس و مکاتب کی حفاظت کی جانی چاہیئے۔ نواز حکومت اور سندھ حکومت دونوں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوچکی ہیں، پورے ملک میں خصوصاً سندھ میں دہشتگرد دندناتے پھر رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، دہشتگردوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جا رہا، کریک ڈاؤن نہیں کیا جا رہا ہے، دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، وہ جس کو جب چاہے نشانہ بنا لیتے ہیں، یہ حکومت کی ناکامی اور غفلت ہے۔ حکومت اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

اسلام ٹائمز: اسلام دشمن قوتوں نے جب بھی اسلام و مسلمانوں کیخلاف سازش کی، کیا وجہ ہے کہ اسکے آلہ کار نام نہاد مسلمان ہی بنے۔؟
محمد حسین محنتی:
سب سے بنیادی وجہ یہ ہے مسلمانوں کا ایمان بہت کمزور ہوگیا ہے، دین کے حوالے سے بے عملی بہت بڑھ چکی ہے، انکی سوچ، فکر اور ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں، ایک مسلمان کی ترجیح بھلائی اور نیکی ہونے چایئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلمانوں کی ترجیح مال و دولت، ذاتی مفادات بن گئی ہے، اسی وجہ سے اسلام دشمن قوتیں کمزور ایمان، نفاق، بے عملی کے حامل لوگوں کو استعمال کرتے ہیں اور وہ پیسوں اور دیگر مادی چیزوں کی لالچ میں آکر اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں، لہٰذا ہمیں سوچنا چاہیئے کہ اگر ہم مسلمان ہوتے ہوئے اسلام اور امت کیخلاف استعمال ہوئے تو ہمارا دین کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے، امت مسلمہ سے درخواست کرونگا کہ دین پر عمل کو مضبوط بنائیں، کیونکہ جب تک دین پر صحیح معنٰی میں عمل نہیں کریں گے تو اس وقت تک نہ اسلام کی حفاظت ہوسکتی ہے، نہ امت مسلمہ کی حفاظت ہوسکتی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے خلاف کفر متحد ہے، چاہے وہ مغرب ہو، امریکہ ہو، برطانیہ ہو، ہندوستان ہو، تمام اسلام دشمن ایک ہوگئے ہیں، مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، اس وقت انتہائی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان اتحا و وحدت کو پروان چڑھایا جائے، تاکہ اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔

اسلام ٹائمز: تکفیری فتنے داعش اور اسکی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
محمد حسین محنتی:
داعش کی شروعات ہی قتل و غارتگری اور دہشتگردانہ کارروائیوں سے ہوئی ہے، داعش نے جو کچھ شام اور عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں کی ہیں، جس طرح اسلام و مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کیا ہے، سامنے نظر آتا ہے کہ اسلام اور امت مسلمہ کے مفادات کے خلاف ان کی سرگرمیاں جاری ہیں، پاکستان کے حوالے سے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان میں شاید اس بات کی گنجائش بہت کم ہے کہ لوگ داعش کی طرف جائیں، کیونکہ پاکستان میں دین کے احیاء کیلئے کام کرنے والی دینی جماعتیں موجود ہیں، امریکہ کے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیمیں بھی موجود ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ داعش کیلئے پاکستانی مسلمانوں میں کوئی کشش نہیں ہے، اس وقت ایسی کوئی چیز بھی سامنے نہیں آئی ہے کہ جس سے یہ تاثر آئے کہ عوام داعش کیلئے کشش رکھتی ہے، ماسوائے اس کے کہ طالبان کے چند لوگ طالبان سے جدا ہو کر داعش کی طرف گئے ہیں، جن کا وجود بھی خود پاکستان کے طول و عرض کے بجائے صرف قبائلی علاقوں تک محدود ہے اور آجکل فوجی آپریشن کا شکار ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ انشاءاللہ پاکستان داعش سے محفوظ ہے اور داعش کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کو پاکستانی عوام میں نہ پہلے پزیرائی حاصل تھی اور نہ آئندہ حاصل ہوگی۔

اسلام ٹائمز: داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہ اہلسنت کا نام استعمال کرتی ہیں، حقیقت کیا ہے۔؟
محمد حسین محنتی:
دین میں کوئی انتہا پسندی نہیں ہے، اسلام سلامتی کا مذہب ہے، اسلامی تعلیمات قتل و غارت گری اور دہشتگردی کے خلاف ہیں، لہٰذا جو بھی دہشتگردی کی طرف جاتا ہے، وہ دین سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، داعش جس نے انتہا پسندی اور دہشتگردی کا راستہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی غلط ہے، ہم اسکی مذمت کرتے ہیں، بڑی تعجب کی بات ہے کہ وہ نام تو سنی کا استعمال کرتے ہیں لیکن خبروں میں یہ بات آتی رہتی ہے کہ عراق اور شام میں مزاحمت اور تصادم کی وجہ سے داعش نے سنیوں کو بھی قتل کیا، شیعوں کو بھی قتل کیا، یزدیوں و دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کو بھی قتل کیا ہے، اسلام قتل و غارتگری اور دہشتگردی کے ذریعے نہیں پھیلایا جاسکتا، داعش اور ایسے دیگر گروہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دہشتگردی کے ذریعے اسلام پھیلایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے، رسول اکرم (ص) ہمارے لئے کامل نمونہ حیات ہیں کہ انہوں نے تبلیغ کی، دعوت کیلئے کام کیا، قربانیاں دیں، پرامن جدوجہد کی، اسی کے نتیجے میں دین پھیلا تھا، رسول اکرم (ص) بھی چاہتے تو انتہا پسندی کی طرف جاسکتے تھے لیکن انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا، دین صبر سکھاتا ہے، واقعہ کربلا، میدان کربلا میں امام حسین (ع) کی کا طرز عمل دیکھیں وہ بھی اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ دین پھیلانے کیلئے اصل چیز کردار ہے، اخلاق ہے، دعوت ہے، جدوجہد ہے، قربانی ہے اسی کے ذریعے سے دین پھیلتا ہے۔

اسلام ٹائمز: عالم اسلام کے تمام فرقوں میں اختلافات مشترکات کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہیں، پھر بھی مسلمان مشترکات کو چھوڑ کر اختلافات کے پیچھے کیوں نظر آ تے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی:
بہرحال یہ بڑی افسوسناک صورتحال ہے کہ عالم اسلام دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کے باوجود ہماری اپنی غفلت اور کمزوریوں کی وجہ سے، کچھ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی وجہ سے یہ مسلمان اس صورتحال سے دوچار ہیں، مجھے بہت افسوس ہے کہ کچھ مسلمان ممالک بھی فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنے مفادات کو عزیز دیکھتے ہیں، یہ امت کیلئے بہت ہی زیادہ خطرناک ہے، اسی لئے مغرب کامیاب ہو رہا ہے، ہمیں تقسیم کرکے آگے بڑھ رہا ہے، کہیں شیعہ سنی کو استعمال کرتا ہے، کہیں کردوں کو استعمال کرتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو دو ٹکوں کے عوض مغرب کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، پوری امت مسلمہ کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں، بہرحال امت کو چاہیئے کہ ایک ہو جائے، ہمارے دین اسلام کے مفادات ایک ہیں، اسلئے ہم سب کو ایک ہو کر کام کرنا چاہیئے، جتنی تنظیمیں فرقہ واریت کی بنیاد پر ہیں، اگر ان کو اسلام عزیز ہے تو انہیں فرقہ کے بجائے اسلام کو ترجیح دینی چاہیئے، فرقہ واریت کو چھوڑ کر دین اسلام کی طرف آنا چاہیئے، سب کو تفرقہ بازی سے نکل کے امت واحدہ کے تصور کی طرف آنا چاہیئے۔ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ امت کو علم کے زیور سے آراستہ کریں، دین کے علم سے آراستہ کریں، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر واضح کرنا ہوگا کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی ان کے دوست نہیں ہوسکتے، کبھی بھی مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے، ضروری ہے کہ کفر سے اپنا ناتا توڑ کر اللہ سے اپنا ناتا جوڑیں۔

اسلام ٹائمز: جس طرح ملی یکجہتی کونسل کی صورت میں تمام مکاتب فکر اور مسالک سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعتیں ایک جگہ جمع ہیں، بڑے حلقے کی رائے ہے کہ اسی طرح نچلی عوامی سطح پر مکاتب و مسالک کے درمیان اتحاد و وحدت کو فروغ دیئے بغیر دہشتگردی سمیت تمام مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں ہے، کیا کہیں گے۔؟
محمد حسین محنتی:
میرا خیال ہے کہ بہت عمدہ بات کی ہے، ملی یکجہتی کونسل بہت ہی خوشگوار عمل ہے، جس کے تحت ہماری تمام قیادت ایک دوسرے کو سمجھنے، ساتھ بیٹھنے اور امت مسلمہ و اسلام کے مفاد کیلئے کام کرنے کیلئے جمع ہوئی ہیں، لیکن یہ بالائی سطح پر ہوا ہے، بالکل اس بات کی ضرورت ہے کہ اتحاد و وحدت کو نچلی عوامی سطح تک فروغ دینے کیلئے کام کیا جائے، یہاں پر میں یہ بات واضح کر دوں کہ نچلی عوامی سطح پر بھی ہمارے ہاں ایک یکجہتی پائی جاتی ہے، ہاں کچھ مفاد پرست لوگوں کی وجہ سے شیعہ سنی تفرقہ بازی کی سازش ہو رہی ہے، اس میں عوام الناس کا کوئی مفاد نہیں ہے، جب کسی شیعہ مسجد پر حملہ ہوتا ہے تو تمام سنی شیعہ مسلمان جمع ہو جاتے ہیں، مدد کرتے ہیں، بیٹھتے ہیں، اسے اپنا نقصان سمجھتے ہیں، اسی طرح کسی سنی مسجد یا مدرسہ پر حملہ ہوتا ہے تو تمام مسلمان جمع ہو جاتے ہیں، لہٰذا نچلی عوامی سطح پر بھی تفرقہ بازی نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل کو نچلی عوامی سطح پر اتر کر عوام میں اتحاد و وحدت کے مزید فروغ کیلئے کام کرنا چاہیئے، مزید شعور بیدار کرنے کیلئے کام کرنا چاہیئے، تاکہ عوام کو مفاد پرستوں کی تمام سازشوں سے بچایا جاسکے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی پاکستان کے سہ روزہ اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی امیر منور حسن نے کہا کہ معاشرے میں جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت ہے، آپ اس بیان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد حسین محنتی:
منور حسن صاحب ہمارے ناصرف ملکی بلکہ ایک عالمی رہنما ہیں، انہوں نے اجتماع عام میں جو تقریر کی تھی، اس میں انہوں نے عالمی منظر نامہ کی بات کی تھی، خصوصاً کشمیر، فلسطین سمیت ان ممالک میں جہاں مسلمان کمزور ہیں، ظلم و زیادتی کا شکار ہیں، مارے جا رہے ہیں، محکوم ہیں، اس حوالے سے انہوں نے یہاں بات کی کہ وہاں جو جہادی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، وہ بالکل صحیح ہے، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، فلسطین میں جب مسلمانوں نے جہاد کا علم اٹھایا تو مسلمانوں کو طاقت ملی، انکی آواز دنیا بھر میں سنی گئی، اسی لئے آج دنیا بھر کے مختلف غیر مسلم ممالک کی پارلیمنٹ میں بھی فلسطین کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جب تک فلسطین کو اس کا صحیح مقام نہیں ملے گا، مشرق وسطٰی سمیت دنیا بھر میں امن قائم نہیں ہوسکتا، منور حسن صاحب نے پاکستان میں قتال کی اور جہادی تنظیموں کی سرپرستی کی کوئی بات نہیں کی ہے۔ جماعت اسلامی کا موقف آپ کو معلوم ہے کہ ہم جمہوری طریقے سے ہی ملک میں تبدیلی کیلئے جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیں گے، بہرحال منور حسن صاحب کا کبھی بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک میں جمہوریت کو ایک طرف رکھ کے قتال کی جدوجہد کی جائے اور ملک میں خانہ جنگی اور افراتفری پھیلائی جائے۔
خبر کا کوڈ : 422379
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب