0
Friday 26 Dec 2014 02:20
اداروں کو تحقیقات اور تفتیش کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا

دہشتگردوں کو جیلوں میں محفوظ رکھنے کے بجائے جہنم رسید کرنا چاہیئے، اکرم ذکی

ظالمان نے بچوں پر حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہماری آنیوالی نسلوں کے بھی دشمن ہیں
دہشتگردوں کو جیلوں میں محفوظ رکھنے کے بجائے جہنم رسید کرنا چاہیئے، اکرم ذکی
سینیٹر (ر) محمد اکرم ذکی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بہت بڑا کردار ہیں۔ ملکی تاریخ میں اب تک دو شخصیات کو فارن سیکرٹری جنرل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن میں ایک اکرم ذکی صاحب ہیں۔ انہوں نے چین، امریکہ، نائیجریا اور فلپائن کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان سے تربیت پانے والے وزارت خارجہ کے کئی افسران نے قابلیت کے بل بوتے پر اعلٰی ترین عہدوں پر رسائی حاصل کی۔ سابق سینیٹر اکرم ذکی 1991ء سے 1993ء تک وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے جو کہ وزیر مملکت کے برابر شمار کیا گیا۔ 1997ء سے 1999ء تک سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور نیشنل ایجوکیشن کمیشن کے وائس چیئرمین رہے ہیں۔ سابق سینیٹر اکرم ذکی انجمن فروغ تعلیم کے بانی صدر بھی ہیں۔ ان کو پاکستان یورپ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے بانی صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اہم فیصلوں میں ان کی رائے کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے اپنے قارئین کے لیے اکرم ذکی صاحب سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا جو کہ پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سانحہ پشاور اور اسکے ردعمل میں ہونے والے حکومتی اقدامات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد اکرم ذکی: سانحہ پشاور پوری قوم کے دلوں پر لگا ہوا وہ گہرا گھاؤ ہے، جو کہ کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ آرمی پبلک سکول پر درندہ صفت حملہ آوروں نے ظلم و بربریت کا وہ خوفناک مظاہرہ کیا کہ جس کو دیکھ کر وحشیوں کو بھی شرم آجائے۔ معصوم بے گناہ بچوں کے چھدے ہوئے گلے چیخ چیخ کر گواہی دے رہے تھے، کہ حملہ آور انسانی لبادے میں خونخوار بھیڑیئے تھے، کہ ظلم ان کی فطرت میں شامل تھا۔ پھولوں کے شہر میں خوشنما پھولوں کو بارود کی آگ میں جھونک دیا گیا، پشاور کا آرمی پبلک سکول جہاں انسانی جانیں بچانے کیلئے ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ بھی جاری تھی، وہاں شیطان صفت درندوں نے موت بانٹ دی۔ جو بچے زندگی بچانے کا درس لے رہے تھے انہی کی زندگیاں چھین لی گئیں، حالانکہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں، مگر ظالمان نے بچوں پر حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہماری آنیوالی نسلوں کے بھی دشمن ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے جو اقدامات بہت پہلے اٹھانے چاہیے تھے، وہ آج اٹھائے جا رہے ہیں۔ جس طرح ملک کی قومی، سیاسی و عسکری قیادت آج یوں سر جوڑ کر بیٹھی ہے، وہ خوش آئندہے، مگر یہی فیصلے اس وقت لینے چاہیے تھے جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا، نیول بیس نشانہ بنا، کامرہ پر حملے ہوئے۔ سخت سردی میں کوئٹہ کے لوگ جنازے لیکر بیٹھے رہے، مگر قوم سوئی رہی۔ دیر سے ہی سہی مگر جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، وہ بہتر ہیں۔ جو پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر صدق دل سے عملدرآمد کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ پشاور کے بعد پھانسی کی سزا بحال کرکے مختلف دہشتگردوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے؟ جسکے خلاف انسانی حقوق کے ادارے اور بیرونی کمیونٹی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پھانسی کے عمل کو روکا جائے۔؟ آپکا کیا خیال ہے۔؟
محمد اکرم ذکی:
سزائے موت پانے والے دہشتگردوں کو جیلوں میں رکھنے پر بھی ریاست کے وسائل خرچ ہوتے ہیںر اور دہشتگردوں کے ساتھیوں کے حوصلے بھی بڑھتے ہیں، چنانچہ دہشتگردوں کو بجائے محفوظ رکھنے کے جہنم رسید کرنا چاہیے۔ جن مجرموں کو ابھی پھانسیاں دی جا رہی ہیں، انہیں بہت پہلے لٹکا دینا چاہیے تھا۔ انسانی حقوق کی جو تنظیمیں دہشتگردوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں، انہیں بے گناہ شہریوں، معصوم بچوں کے حقوق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ویسے بھی جب کوئی شخص کے حقوق سلب کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اپنے انہی حقوق سے دستبرداری اختیار کرتا ہے۔ وہ دہشتگرد جو بلاتفریق شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان سے زندگی چھینتے ہیں۔ حقیقت میں اپنی زندہ رہنے کے حق سے دستبرداری اختیار کرتے ہیں۔ لہذا ان سے کسی طرح کی نرمی ریاستی کمزوری تو سمجھی جاسکتی ہے، لیکن حقوق کی علمبرداری ہرگز قرار نہیں پاسکتی۔ سانحہ پشاور اور دیگر سانحات کے ذمہ دار قومی مجرم ہیں۔ ان تمام کے خلاف یکساں کارروائی ہونی چاہیے، اور جن افراد یا تنظیموں کو پاکستانی شہریوں سے زیادہ دہشتگردوں کے حقوق اور انکے تحفظ کی فکر لاحق ہے، ریاست کو انکے خلاف بھی قانون کے مطابق ایکشن لینا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: ایک گلہ یہ بھی ہے کہ مختلف ادارے دہشتگردوں کو گرفتار کرکے انہیں عدالتوں میں پیش کرتے ہیں ، مگر وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرلیتے ہیں۔؟
محمد اکرم ذکی:
میرے خیال میں فوج، پولیس، میڈیا، حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پکڑے جانیوالے ملزموں کے مقدمات کے فوری فیصلے کرنے انتہائی ضروری ہیں۔ قانون کا خوف ہی مجرموں کو ارتکاب جرم سے باز رکھتا ہے۔ چنانچہ عدالتوں کو دہشتگردی کے مجرموں اور ذمہ داروں کے ساتھ قطعاً کوئی نرمی نہیں برتنی چاہیے۔ مقدمات کے فوری فیصلوں کے بعد سزاؤں پر بھی فوری عملدرآمد کرنا چاہیے۔ سزاؤں پر عملدرآمد میں اگر تعطل نہ آیا ہوتا تو شائد ڈیرہ اور بنوں جیل جیسے واقعات بھی نہ ہوتے۔ سزاؤں پر عملدرآمد کے حوالے سے اداروں یا عوام میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ موجودہ حالات میں دہشتگردی کے مقدمات کے فیصلوں کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام میں حرج نہیں ہے۔ اداروں کو تحقیقات اور تفتیش کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا، اور ٹھوس شواہد کے ساتھ مقدمات عدالتوں میں پیش کرنے چاہیے۔

اسلام ٹائمز: خارجہ پالیسی کے معاملات کو آپ بہتر انداز سمجھتے ہیں، سانحہ پشاو ر کے دوران ہی معلوم ہوگیا تھا کہ کنڑ میں موجود طالبان کا گروپ کارروائی میں ملوث ہے، فضائیہ کے لیے ۹منٹ کا راستہ ہے۔ کیا وہاں کی آرمی کو اعتماد میں لیکر وہاں ہماری افواج کارروائی نہیں کرسکتی تھیں۔؟
محمد اکرم ذکی:
پشاور میں بچوں پر حملے کا ایک بڑا مقصد افغانستان، پاکستان کے تعلقات کو بھی خراب کرنا تھا۔ ابھی حال ہی میں پاک افغان تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ افغانستان میں ابھی پاکستان دوست حکومت موجود ہے۔ دشمن کی کوشش یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر ہونے کے بجائے خرابی کی جانب جائیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل پاک افغان سرحد پر شیلنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ جس میں پاکستان نے بھرپور جواب دیا تھا۔ وہاں عوامی دباؤ کی فضا قائم کرکے دو افغان وزراء کو مستعفی ہونا پڑا، لہذا جو تعلقات ابھی بہتری کی جانب جانے لگے ہیں، تو ان میں بگاڑ پیدا کرنا دانشمندی نہیں، بلکہ بے وقوفی اور دشمن کے ارادوں کی کامیابی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی کے خلاف تعاون پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس اتفاق رائے کو سمجھوتے میں بھی تبدیل کیا جائے اور دہشتگردی کے خلاف دونوں ملکوں کو ملکر کارروائی کرنی چاہیے۔ ویسے بھی آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعد افغان فورسز نے سانحہ پشاور کے ذمہ داروں اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ پشاور سے قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکہ کا دورہ کیا تھا، آپکے خیال میں یہ دورہ کتنا کامیاب تھا، اور کیا ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔؟
محمد اکرم ذکی:
اس میں کوئی شک نہیں کہ آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی کامیاب تھا۔ اس دورے کے دوران پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اپنے موقف کو بہترین طریقے سے پیش کیا۔ زمینی حقائق اور بدلتے حالات نے آرمی چیف کے دورے کی اہمیت، حیثیت، افادیت اور اس کے اثرات میں انتہائی اضافہ کر دیا تھا۔ امریکہ میں دورے کے دوران جنرل راحیل شریف نے جن شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور جن مقامات کا دورہ کیا، ان سے بھی اس دورے کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اپنے طویل دورے کے دوران انہوں نے امریکہ کی سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ وہ سنٹرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر ٹمپافلوریڈا گئے۔ سنٹرل کمانڈ مشرق وسطٰی، پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکہ کے عسکری امور کا ذمہ دار ہے۔ عراق اور افغانستان جنگ سے متعلق معاملات یہیں سے طے پاتے ہیں۔ ٹمپا فلوریڈا میں سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل آسٹن سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سنٹرل کمانڈ میں ہونیوالی بات چیت میں امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔ جنرل راحیل امریکی فوج کے اعلٰی تربیتی مرکز ارون کیلیفورنیا میں گئے اور وہاں جدید ترین اسلحہ کی تربیت کا معائنہ کیا۔ امریکی آرمی کے سربراہ اور اپنے ہم منصب رئے اوریڈینو سے ملاقات کی۔
 
اس کے بعد پینٹا گان میں مشترکہ افواج کے سربراہ مائیکل ڈیمپسی سے ملے۔ پاکستان میں بھی جائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ ہوتا ہے مگر ان کے اختیارات آرمی چیف جتنے نہیں ہوتے، جبکہ امریکہ میں سب سے بااختیار مشترکہ افواج کا سربراہ ہوتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ کے دوران ڈپٹی ڈیفنس سیکرٹری مسٹر ورک سے بھی ملاقات کی۔ صدر اوبامہ کی سلامتی کی مشیر سوزن رائس سے بھی ملے اور وہاں سے اشارہ ملا کہ اگر صدر اوبامہ موجود ہوتے تو وہ بھی پاک سپہ سالار سے ملاقات کرتے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری سے ان کی طویل ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے پاکستانی فوج کو اتحاد اور سلامتی کی علامت قرار دیا۔ دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل کو ایک بڑے عسکری اعزاز لیجن آف میرٹ سے نوازا گیا۔ دورہ امریکہ کے دوران جنرل راحیل شریف نے یہ یقین دھانی بھی کرائی کہ آپریشن سے کلیئر ہونیوالے علاقوں میں شدت پسندوں کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ آرمی چیف کے دورے کے دوران مشرق وسطٰی کے حالات اور داعش کے موضوع پر بات ہوئی۔ جس میں دہشتگردی کے خلاف واضح موقف اپناتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان اور افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ امریکہ کے عسکری اور سیاسی قائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضرب عضب کے ذریعے پاکستان دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار اور قربانیوں کو سراہا گیا۔ 

اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹرٹیجک پوائنٹ سے پائی جانیوالی غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں بلکہ دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی تحفظ کیلئے باہمی تعاون کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے افغانستان میں نہ صرف کلیدی کردار پاکستان کو ملا ہے بلکہ تینوں ہمسائیہ دوست ملک چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ جس کا ایک مثبت اشارہ سارک کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے بھی ملا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارت افغانستان کا ہمسائیہ نہیں ہے۔ افغانستان سے بھارت کا جو اسٹریٹیجک معاہدہ طے پایا تھا اور روس سے خریدے جانیوالے اسلحہ کی ادائیگی بھی بھارت نے کی تھی، مگر اب موجودہ افغان حکومت نے مزید ایسے اسلحہ کی خریداری میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کی ادائیگی بھارت کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے سے کئی گنا بڑے ہمسائیہ دشمن کے عزائم کے آگے بند باندھنے میں پاکستان کی سلامتی کے ضامن ادارے نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے، اور انشاءاللہ ہمیشہ کرتے رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 428165
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب