0
Tuesday 31 Mar 2015 04:38

پاکستان کو یمن کی جنگ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے، فیصل کریم کنڈی

پاکستان کو یمن کی جنگ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے، فیصل کریم کنڈی
فیصل کریم خان کنڈی کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے کم عمر ترین ڈپٹی سپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ملکی سیاست میں ان کا نام جانا پہنچانا ہے۔ یکم جنوری 1975 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے، اعلی تعلیم تھامس ویلی یونیورسٹی لندن سے حاصل کی۔ زراعت اور قانون میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور خاندانی روایات کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 2008 کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کو ڈیرہ اسماعیل خان میں چالیس ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ انکا شمار شہید بی بی کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا ہے۔ انکے والد فضل کریم کنڈی نے بھی مولانا فضل الرحمن کو 1990 کے انتخابات میں این اے 24 ڈی آئی خان سے شکست دی تھی۔ انکے نانا جسٹس فیض اللہ خان کنڈی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے، جبکہ انکے پر دادا بیرسٹر عبدالرحیم کنڈی کو صوبہ سرحد کی پہلی صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ فیصل کریم کنڈی نے قومی اسمبلی کے کم عمر ترین ڈپٹی اسپیکر ہونے کے باوجود ایوان کو انتہائی احسن طریقے سے چلایا، جس کا اقرار حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے کیا۔ اسلام ٹائمز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ان سے نشست کا اہتمام کیا۔ ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو پیش خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت نے سعودی عرب کی فرمائش پر یمن میں فوج بھیجنے کا عندیہ دیا ہے، آپ کی کیا رائے ہے۔؟
فیصل کنڈی:
میرے خیال میں پاکستان کو یمن کی جنگ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ عربوں کا اندرونی مسئلہ ہے۔ انہیں خود اس مسئلہ کو نمٹانے دیا جائے۔ ویسے بھی یمن میں فوج بھیجنے سے پہلے ہمیں اپنے ملک کے حالات بھی سامنے رکھنے چاہیے۔ پاک فوج ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پہلے ہی کئی محاذوں پر نبرد آزما ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بڑی بہادری سے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج جو حالات وہاں پر جنم لے رہے ہیں، ہم تو ان حالات سے پہلے سے ہی گزر رہے ہیں۔ ہم خود حالت جنگ میں جبکہ اپنی افواج دوسروں کی جنگ میں بھیجنے کی بات کررہے ہیں۔ جو کسی طور درست نہیں ہے۔ میرے خیال میں پاک فوج کو یمن کے محاذ پر نہ بھیجا جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا یمن کے معاملے پر موجودہ حکمران جماعت نے دوسری پارٹیوں کو اعتماد میں لیا ہے۔؟
فیصل کنڈی:
جی نہیں، حکومت کو چاہیے کہ اس اہم مسئلہ پر فی الفور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے۔ جس میں ہونے والے فیصلے پر عوام کو اعتماد میں لے۔ تاکہ کسی کو بھی محرومی کا احساس نہ ہو۔ دراصل ہماری خارجہ پالیسی کی کوئی سمت واضح نہیں ہو رہی۔ وزیر خارجہ موجود نہیں ہیں۔ بیوروکریٹس کے ذریعے ملک کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو کہ حکومتی نالائقی کے سوا کچھ نہیں۔ یمن میں فوج یا وفد بھیجنے کے حوالے سے فیصلے حکومت تنہا کر رہی ہے۔ ویسے بھی نواز حکومت اس مسئلہ پر عوام کو اعتماد میں لینے کے حوالے سے پہلے ہی کافی دیر کرچکی ہے۔ میرے خیال میں اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: ڈیرہ اسماعیل خان آپ کا آبائی حلقہ ہے، یہاں کے عوام سرائیکی صوبے کے حق میں ہیں، آپ کی کیا رائے ہے۔؟
فیصل کنڈی:
ہم نے سرائیکی صوبے کے قیام کی جدوجہد شروع کی، مگر اب اس میں خاموشی آگئی ہے۔ ہمارا اب بھی مطالبہ ہے، کہ نوازحکومت کے پاس صوبہ پنجاب اور مرکزمیں دو تہائی اکثریت ہے، وہ سرائیکی صوبے کی قرارداد صوبائی اور قومی اسمبلی میں لائے، ہم حمایت کریں گے، مگر ایک شرط ہو گی کہ ڈیرہ کے بغیرسرائیکی صوبہ قبول نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ تاثر درست ہے کہ مولانا صاحب کے دور میں ترقیاتی کام زیادہ ہوئے، جبکہ آپ کے دور میں کم ہوئے ہیں ۔؟
فیصل کنڈی:
ہمار ے دور میں ڈی آئی خان کے اندر ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ آپ مولانا صاحب سے پوچھیں ان کے دور میں کتنے کام ہوئے ہیں۔ ہم نے لفٹ کینال کا 180 ارب کامنصوبہ شروع کرانے کی کوششیں کیں اب اگر وفاقی اورصوبائی حکومت اس مسئلہ پرخاموشی توڑ دیں تو ہم اب بھی ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ ہمارے دور میں گیس کنکشن ملتے تھے، مگر اب گیس کنکشن کسی کو نہیں مل رہے۔ دوسال میں گیس کا ایک انچ پائپ نہیں آیا۔ ڈیرہ ایئر پورٹ پانچ فلائٹس سے دو فلائٹس پر آگیا ہے۔ گومل یونیورسٹی میں بھرتیوں کے معاملہ پر گورنر  کا فیصلہ ڈیرہ اور یونیورسٹی کی دشمنی ہے، کسی کے گھرکے چولہے ٹھنڈے کرنا سیاست نہیں ہے۔ یہ منفی عمل ہے۔ ہماری اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے اب بھی درخواست ہے کہ وہ گومل یونیورسٹی کیساتھ سلیکشن بورڈز کی منسوخی کے ظلم کیخلاف آواز اٹھائیں، اب تو وزیر اعلٰی اور گورنر بھی ایک پیج پر ہیں۔

اسلام ٹائمز: بلدیاتی انتخابات اگر غیرجماعتی بنیادوں پر ہوں تو کیا اس کے بہتر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔؟
فیصل کنڈی:
پی پی پی ملک میں تمام انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کی حامی ہے۔ غیر جماعتی انتخابات تو آمریت کی سوچ اور آمریت کی پیداوار ہیں۔ اگر ملک میں جمہوری اور سیاسی سسٹم کو مضبوط کرنا ہے، تو پھر ہر قسم کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ ہم سہ فریقی اتحاد کے تحت الیکشن لڑنے کیلئے اضلاع کی سطح پر اختیارات دینے کی تجویز پر کام کر رہے ہیں، کہ مقامی جماعتیں آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کریں اور اگر اضلاع میں ایڈجسٹمنٹ نہ ہوسکی، تو تینوں جماعتوں کی صوبائی قیادت بیٹھ کر مسئلہ حل کریگی۔ اگرمسلم لیگ نواز بھی ہمارے ساتھ آنے کو تیار ہے، تو ویلکم کریں گے، مگر سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ نواز نے دوسری ترجیح کا ووٹ تحریک انصاف کو دیکر سیاسی جماعتوں پر بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔ 

اسلام ٹائمز: ملک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے، پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں توانائی کے منصوبوں کو عملی جامہ کیوں نہیں پہنایا۔؟
فیصل کنڈی:
ہمارے دور میں بھی ملک میں توانائی کا بحران شدید نوعیت کا تھا۔ ہم نے بحران کے خاتمے کیلئے متعدد ممالک سے رابطے کیئے، مگر امریکہ، سعودی عرب سمیت کسی ملک نے توانائی کی مد میں ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ ہم نے پاک ایران منصوبے کو بحال کیا۔ موجودہ حکومت پر بیرونی پریشر تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کو مکمل نہ کیا جائے۔ چنانچہ اس پر کام تاحال نہیں ہوا۔ موجودہ حکمرانوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ چھ ماہ میں توانائی کا بحران حل کر دیں گے، مگرطویل عرصہ گزر جانے کے بعد توانائی، لوڈشیڈنگ کے مسائل میں اضافہ ہوچکا ہے۔ میرے خیال میں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ ضرور پروان چڑھنا چاہیے، کیونکہ اسی میں پاکستان کا فائدہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 451058
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش