0
Sunday 27 Sep 2015 23:32

سعودی حکومت نااہل ثابت ہوچکی، حج کا انتظام مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے، علامہ عقیل انجم

سعودی حکومت نااہل ثابت ہوچکی، حج کا انتظام مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے، علامہ عقیل انجم
السید علامہ عقیل انجم، جنرل سیکرٹری جمعیت علماء پاکستان سندھ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکشن میں ایم اے کرنے کے ساتھ ساتھ درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور کراچی کی ایک معروف مسجد میں جمعے کی خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ دور طالب علمی میں ملک کی معروف طلبہ تنظیم کے مرکزی صدر رہے ہیں۔ حق گوئی، جرات مندی شعار ہے اور حق چاہے کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو، اس کے اظہار میں کسی لومتہ لائم سے نہیں شرماتے۔ اسلام ٹائمز نے سانحہ منیٰ کے بارے میں علامہ عقیل انجم کا انٹرویو کیا ہے، جو قارئیں کے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کرین حادثہ جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں کے بعد سانحہ منیٰ کا رونما ہونا، کیا سعودی حکام اس غفلت کے ذمہ دار نہیں۔؟
علامہ سید عقیل انجم :
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس اہم ترین موقع پر ہمیں یاد کیا، صورتحال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو خادم حرمین شریفین کہتے ہیں، اور جنہوں نے حج کی ذمہ داریاں قبول بھی کی ہوئی ہیں، اور جو حج کے نام پر اربوں ڈالر بھی کماتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری تھی اور ذمہ داری ہے اور جب تک وہ اس کا ذمہ لئے ہوئے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری رہے گی کہ وہ حجاج کرام کی جان و مال اور جتنے بھی حقوق اس عبادت کی ادائیگی کے حوالے سے ان پر عائد ہوتے ہیں، ان کے ذمہ دار سعودی ہیں۔ اگر ہم ان سیاستدانوں کے کردار کو دیکھیں، تو کسی شاعر نے خوب کہا تھا
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر
مجھے سب سے زیادہ افسوس میڈیا پر نواز شریف کے رویئے سے ہوا کہ جب نواز شریف نے شہید ہونے والے حاجیوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں اظہار افسوس کرنے کی بجائے کہا کہ ہم بادشاہ سلامت کے بہت شکر گزار ہیں کہ انہوں نے زخمیوں کی احوال پرسی کے لئے، اتنا انہوں نے کرم کیا کہ وہ ہسپتال تشریف لے گئے، لعنت ہے ایسے رویئے پر، ایسے غلامانہ طرز عمل کے اوپر، جسے اپنے ملک کے شہید ہونے والے سینکڑوں حاجیوں کا لحاظ نہیں ہے، اسے اپنے ان آقاوں کا خیال ہے جنہوں نے اس (نواز شریف) پر احسان کیا تھا اور جدہ میں ٹھہرایا تھا، ان کا خیال ہے کہ انہوں (سعودی) نے بڑا کرم کر دیا، ارے بھائی وہ فیل ہوگئے، اپنی ذمہ داریاں نہیں ادا کرسکے، اور ان کے ہاتھوں پر مظلوم شہیدوں کا لہو ہے، جیسا کہ اطلاعات آرہی ہے کہ محمد بن سلمان یا محمد بن نائف کا قافلہ وہاں موجود تھا اور اس کے پروٹوکول میں راستے بند کئے گئے اور پولیس کے رویئے سے یہ سانحہ پیش آیا ہے۔ میں اس سانحہ کی انتہائی مذمت کرتا ہوں اور اس سانحہ میں دنیا بھر کے جتنے بھی مسلمان حجاج کرام پاکستان، ایران اور ملائیشیا کے شہید ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: سعودی عالم دین سلمان بن عودہ کا ایک بیان آج سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے سعودی حکام اور سعودی عرب کے سرکاری مفتی عبدالعزیز آل شیخ کے اس بیان کو آڑے ہاتھ لیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی حکومت سانحہ منیٰ کی ذمہ دار نہیں بلکہ یہ واقعہ مشیت الہی کا نتیجہ ہے، آپ اس حوالہ سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ سید عقیل انجم:
یہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کا ایک بہانہ ہے، انتہائی افسوسناک صورتحال ہے، پھر تو کسی پر بھی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی، آپ قتل کر دیجئے اور کہہ دیں کہ یہ مشیت الہی میں تھا، مشیت الہی میں اس کا قتل ہونا لکھا تھا اور آپ نے اسے قتل کر دیا، یہ صرف اور صرف اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہے اور چونکہ یہ ملوکیت کا شکار لوگ ہیں، اور ملوکیت کے اندر سر تسلیم خم کیا جاتا ہے، سرکاری ملاں بھی سر تسلیم خم کر رہے ہیں اور اپنے بادشاہوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، انتہائی افسوسناک رویہ ہے سعودی حکمرانوں کا، سعودی حکمرانوں کے نمک خوار علماء کا، ٹوئیٹر پر طاہر اشرفی کا بیان تھا کہ یہ سانحہ اس لئے پیش آیا کہ ایرانی حجاج کرام مظاہرہ کر رہے تھے، انہوں نے راستہ روکا، انہوں نے شور مچایا اس لئے بھگدڑ مچی، یہ اس طرف بھی لوگ رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب طاہر اشرفی جیسے نمک خوار اپنے آقا کے حق میں ہی بیان دیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا سمجھتے ہیں کہ حج کا انتظام و انصرام سعودی حکومت سے لیکر او آئی سی یا دوسرے کسی بڑے مسلم معتبر ادارہ کے سپرد کر دیا جائے تو حج کے دوران پیش آنے والے ایسے سانحات کی روک تھام ہوسکے گی۔؟
علامہ سید عقیل انجم:
ضیاءالحق کے دور میں قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی نے مطالبہ کیا تھا، کہ یہ جو حرمین شریفین ہے، مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کو آزاد شہر بنا دیا جائے، اور یہاں کا انتظام و انصرام مسلم ممالک کے نمائندوں کے ہاتھ ہو، یہ مطالبہ مولانا شاہ احمد نورانی نے 1986ء میں کیا تھا، جس کے بعد مولانا شاہ احمد نورانی پر سعودی عرب نے پابندی عائد کر دی تھی، تو ہمارا بھی مطالبہ یہی ہے کہ یہ سعودی نااہل ثابت ہوچکے ہیں، اور اب حج کا انتظام و انصرام مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے، اور حرمین شریفین کو ویٹی کن سٹی کی طرز پر جسے ایک آزاد ریاست کی حیثیت حاصل ہے، بنا دیا جائے۔

اسلام ٹائمز: اس سانحہ کے بعد حجاج کرام کے جسد خاکی کی بے حرمتی کی گئی، دوسرا سوشل میڈیا پر بھی حجاج مرد و خواتین کی نیم برہنہ تصاویر پھیلائی گئیں، اسکی کیا مذمت نہیں ہونی چاہیئے۔؟
علامہ سید عقیل انجم:
یہ انتہائی افسوسناک رویہ ہے، اسلام کی تعلیمات نہ صرف زندوں کو عزت و تکریم عطا کرتیں ہیں بلکہ مردوں کو بھی عزت و تکریم کا درس دیا گیا ہے۔ غزوات کے موقع پر حضور (ص) نے مشرکین کی لاشوں کو مسخ کرنے کی ممانعت کی تھی، چہ جائیکہ مسلمانوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی جائے اور ان کی تصاویر کی نمائش کی جائے، یہ کام کرنے والوں کو خدا سے تونہ کرنی چاہیئے، جن کی دل آزاری ہوئی، ان سے بھی معذرت کرنی چاہیے، آخر میں یہ مطالبہ کرونگا کہ اور اس بات کا بھی اعادہ کرونگا کہ سعودی حکومت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، اور ایک کہاوت ہے کہ
عذر گناہ بدتر از گناہ
عذر گناہ، گناہ سے بدتر ہوتا ہے، انہیں اب عذر گناہ نہیں کرنا چاہیئے، کوتاہی اور مجرمانہ غفلت کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ ایسی تدبیر اختیار کرنی چاہیے کہ ایسے سانحات پیش نہ آئیں، دوسری بات یہ ہے ایرانی صدر حسن روحانی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے حجاج کی یاد میں یوم سوگ منایا اور یو این او کی سطح پر آواز بلند کی اور اپنے ملک کی سطح پر بھی، اور میں مذمت کرتا ہوں پاکستان کے ان حکمرانوں کی جو بادشاہوں کی غلامی کرتے ہیں، ہم پر الزام دھرا جاتا ہے کہ ہم پیروں کی غلامی کرتے ہیں، لیکن یہ وہابی بھی اپنے بڑوں کی غلامی کرتے ہیں، پیروں سے بھی بڑھ کر اپنے بادشاہوں کو سمجھتے ہیں اور وہ سیاہ کریں یا سفید کریں، ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 487706
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے