1
0
Friday 29 Jan 2016 20:16

داعش کوئی نئی مخلوق نہیں بلکہ نئے نام کیساتھ وہی پرانے مہرے ہیں، علامہ عابد الحسینی

داعش کوئی نئی مخلوق نہیں بلکہ نئے نام کیساتھ وہی پرانے مہرے ہیں، علامہ عابد الحسینی
علامہ سید عابد حسین الحسینی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ 1968ء کو گورنمنٹ کالج پاراچنار سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ ایف ایس سی کرنے کے بعد علوم دینی کے حصول کی غرض سے نجف اشرف اور اسکے بعد قم چلے گئے۔ انقلاب اسلامی سے صرف ایک سال قبل پہلوی حکومت نے حکومت مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں انہیں ایران سے نکال دیا۔ جسکے بعد انہوں نے مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں تدریس کا آغاز کیا۔ اسی زمانے میں شہید علامہ عارف الحسینی بھی اسی مدرسے میں انکے ساتھ شامل تدریس تھے۔ 1980ء کے عشرے میں پاراچنار میں وقت کے مضبوط مرکزی نظام کی مثلث کے ایک اہم عنصر تھے۔ پاراچنار میں مرکزی انجمن حسینیہ اور علمدار فیڈریشن کی بنیاد میں علامہ شہید عارف حسینی اور مرحوم شیخ علی مدد کے ہمراہ تھے۔ اپنے ایران سفر کے دوران تہران کی نماز جمعہ سے متاثر ہوکر پاراچنار میں نماز جمعہ کی ابتداء سب سے پہلے 1982ء میں علامہ عابد الحسینی ہی نے کی اور 1990ء تک مرکزی جامع مسجد کے امام جمعہ کے فرائض بھی وہی انجام دیتے رہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ میں صوبائی صدر اور سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 1997ء میں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے ممبر منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے علامہ عابد الحسینی کے ساتھ پاراچنار نیز سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جسے نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: کرم ایجنسی میں داعش کی سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔ اسکی کیا حقیقت ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
داعش کوئی نئی مخلوق نہیں بلکہ وہی پرانی دہشتگرد تنظیموں سے وابستہ لوگ ہیں۔ صرف نام تبدیل کیا ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ کوئی داعش واعش نہیں بلکہ حکومت کی اپنی ایک پالیسی ہے۔ شاید داعش کے نام سے لوگوں میں خوف ڈالنے کی ایک چال ہو یا یہ کہ چونکہ سرحد پر حالات بہت نازک ہیں، تو شاید کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے عوام کو تیار کرنے کا ارادہ ہو۔

اسلام ٹائمز: جب داعش ہے بھی نہیں تو حکومت کیجانب سے علاقے کے لوگوں کو تیار رہنے کی ہدایت کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
حکومتوں کی ایک اسٹریٹیجی ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ پہلے کہہ دیا کہ اس وقت افغانستان کے ساتھ سرحد پر حالات بہت ہی کشیدہ ہیں، جبکہ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ حکومت کو اطلاع مل گئی ہے کہ افغان اور انڈیا گورنمنٹ نے ہر ایجنسی خصوصاً کرم ایجنسی سے بڑی تعداد میں جوانوں کو اپنی خدمات کے لئے بھرتی کیا ہے، حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں۔ تاہم شک کی بنا پر یا تو حکومت علاقے کے لوگوں کو داعش سے ڈرا کر انہیں مصروف رکھنا چاہتی ہے یا پھر علاقے کو 1996ء کی طرح جنگ میں دھکیل کر خود اندر یا ملک سے باہر کوئی آپریشن کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: اسوقت حکومت کا رویہ خود آپ اور آپکے طوری بنگش قبائل کیساتھ کیسا ہے؟
علامہ سید عابد الحسینی:
حکومت کا رویہ حالیہ وقتوں میں ہمارے ساتھ بہت معاندانہ رہا ہے۔ طوری اقوام کو اپنے حقوق کے لئے پرامن جلسہ جلوس کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ گذشتہ دنوں لنڈا بازار میں دھماکے اور شیخ باقر النمر کی سزا کے خلاف احتجاج پر حکومت نے بڑی روکاوٹیں کھڑی کیں۔ بازار کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ اسکے باوجود لوگوں نے خود کو خطرے میں ڈال کر ایف سی اور فوج کی روکاوٹوں کو عبور کرکے پاراچنار شہر تک خود کو پہنچایا۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت ہمارے لوگوں کے ساتھ نہایت غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتی ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت کیجانب سے اکثر یہ اعتراض ہوتا رہا ہے کہ پاکستان بالخصوص کرم ایجنسی سے بھاری تعداد میں جنگجو شام، یمن اور عراق جنگ کیلئے بھرتی ہو رہے ہیں۔ کیا حکومت کے اس دعویٰ میں کوئی صداقت ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
حکومتی خدشات کا ہمیں علم ہے کہ وہ ایسے خدشات و تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، لیکن ہمیں اس حوالے سے کوئی خاص معلومات نہیں ہیں، تاہم اگر حکومت کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہوں تو وہ پیش کرے اور بتائے کہ کون لوگ کس مرکز سے بھرتیاں کر رہے ہیں، جبکہ جہاں تک ہمارے علم میں ہے، وہ یہ کہ اکثر لوگ محنت مزدوری کی غرض سے ایران اور عراق جا رہے ہیں، بعض پہلے جا چکے ہیں اور ویزہ ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طریقے سے وہاں پر مقیم ہیں۔ اپنے بال بچوں کے لئے محنت مزدوری میں مصروف ہیں۔ بعض افراد اپنی مزدوری سے مطمئن نہیں ہوتے تو وہ کبھی ترکی کے راستے یورپ کا سفر اختیار کر لیتے ہیں۔ کبھی کسی اور ملک کا۔ کوئی ایران سے غیر قانونی طریقے سے عراق میں داخل ہوتا ہے، تو کوئی بالعکس عراق سے ایران میں۔ کوئی شام کا سفر اختیار کر لیتا ہے تو کوئی کسی اور ملک کا۔ جتنا مجھے معلوم ہے، یہاں سے کوئی شخص باقاعدہ بھرتی ہوکر نہیں گیا۔

اسلام ٹائمز: شام اور عراق میں لڑنا کیسا ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
اگر کوئی شامی حکومت کے لئے لڑتا ہے تو یہ ٹھیک نہیں، تاہم مسلمانوں کے کچھ مشترکہ شعائر ہیں، کچھ شیعوں کے اپنے مخصوص شعائر ہیں۔ بندہ کوئی مفتی نہیں ہوں کہ جائز یا واجب کا فتویٰ صادر کرسکوں، تاہم اتنا کہوں گا کہ شعائر کا دفاع کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض اوقات خصوصاً قرب و جوار میں رہنے والے لوگوں پر شاید واجب ہو اور یہ بھی واضح ہو کہ مسئلہ صرف شام کا نہیں بلکہ اگر سعودی عرب میں موجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر کوئی ملک یا تنظیم حملہ کرے اور اسکا مقصد انکی اہانت اور انکو مسمار کرنا ہو تو اس کا دفاع کرنے والوں کی صف اول میں اور سب سے بڑھ کر آپ شیعان علیؑ ہی کو پائیں گے۔ تو بات لوگوں کی نیت پر موقوف ہے، لہذا جو لوگ شام کی حکومت کے لئے لڑتے ہیں، وہ ٹھیک نہیں کرتے، لیکن جو لوگ بی بی زینب سلام اللہ علیھا نیز اہلبیت علیھم السلام کے مزارات کی دفاع کی نیت سے شام میں لڑتے ہیں، یا عراق میں اسی نیت سے لڑتے ہیں۔ انکا صلہ انہیں اللہ ہی دیگا۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب اور ایران کے کشیدہ تعلقات کے حوالے سے بتائیں کہ کیا اسکا اثر مسلمانوں کے اتحاد پر ہوسکتا ہے؟ اور کیا اس سے شیعہ سنی مسئلہ تو پیدا نہیں ہوگا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
ہاں مسلمانوں کے بعض حلقوں پر ضرور اسکا منفی اثر ہوسکتا ہے۔ تاہم اکثر مسلمان اب سیاسی طور پر بالغ ہوچکے ہیں، انکو پتہ ہے کہ سعودی عرب کی حکمت عملی ہمیشہ سے مسلمانوں کے مفادات کی بجائے امریکہ، یورپ اور اسرائیل کے مفادات کیلئے ہوتی ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ سب کے علم میں ہے کہ سعودی عرب نے کبھی فلسطینیوں کے حقوق کی بات نہیں کی ہے، بلکہ یہاں تک کہ غزہ پر اسرائیلی حملہ کے دوران اس نے اسرائیل کو پیشکش کی کہ حماس کو ختم کر دو، تو جنگ پر جتنا خرچہ آئے، نیز غزہ مکمل طور پر منھدم ہونے کے بعد اسکی آباد کاری پر جتنا خرچہ آئے، وہ سب ہم برداشت کریں گے، جبکہ سعودی عرب نے کبھی مسلمان ملکوں کو ایسی پیشکش نہیں کی، جبکہ ایران کی پالیسی بھی دیکھیں کہ انہوں نے اسرائیل کے مقابلے میں ہمیشہ سے فلسطین، لبنان اور دیگر عرب ممالک کی حمایت کی ہے۔ کبھی شیعہ سنی کے حوالے سے بات نہیں کی، بلکہ ہمیشہ سے اسلام کی بات کی ہے۔ لہذا دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس حوالے سے سب کچھ معلوم ہے۔ وہ اسے کبھی شیعہ سنی مسئلہ قرار نہیں دیں گے بلکہ اسے امریکہ، اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کے مفادات کا مسئلہ قرار دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 516310
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Noor Syed
Pakistan
یہ سارا فساد امریکی، برطانوی، اسرائیلی اور سعودی ہے۔ دنیا بھر میں شیعہ ابادیوں کو پریشان کرنا، سعودی اور اسکی اتحادی فسادات اور مظالم کے خلاف اواز اٹھنے والی جگہوں کو خاموش کرنا اور جب سے شام کی لڑائی میں پاراچنار کے لوگوں کی رپورٹ جرمنی سے شائع ہوئی ہے، تب سے پاراچنار کا مسئلہ پیدا کیا جا رہا ہے اور اب منصوبہ بندی کے ساتھ داعش کے ذریعے یا حکومت کے ذریعے پاراچنار کے عوام کو انگیج کیا جائے گا، تاکہ شام سے مجاہدین واپس ائیں یا مزید اس جنگ شام کے دوران یہ اپنے ہی علاقے میں انگیج رہیں!
منتخب
ہماری پیشکش